مجھ سے حالات نے چھینا ہے نہ جانے کیا کیا

خاورچودھری

محفلین
ایک تم ہو کہ بدلتے ہو ٹھکانے کیا کیا
ایک ہم ہیں کہ سناتے ہیں فسانے کیا کیا

تیرے گیسو ، ترے عارض وہ بدن کی خوش بو
مجھ سے حالات نے چھینا ہے نہ جانے کیا کیا
 
Top