سزا تجویز کریں

محمدصابر

محفلین
کچھ دن پہلے کسی جھگڑے میں ایک بندے کا موقف سننے کا اتفاق ہوا جس میں وہ بتا رہا تھا کہ کیسے اس نے دوسرے بندے سے بیس لاکھ قرض لیا اور اب تک چھہتر 76 لاکھ صرف سود کی مد میں ادا کر چکا ہے۔ اور ابھی دس لاکھ باقی ہے۔ بہت تکلیف ہوئی۔
لیکن آج یہ خیال آیا کہ اس طرح کی بہت سی برائیاں معاشرے کا حصہ ہیں ان کی ایک ڈیٹا بیس بننی چاہیے۔ گوگل کی طرح کھیل ہی کھیل میں اس طرح کا کام کرنا بہترین ہو سکتا ہے۔
اس لئے آپ برائی کی سزا تجویز کریں اور نئی برائی برائے سزا پیش کر دیں۔ سوائے موت کی سزا کے آپ ہر سزا تجویز کر سکتےہیں۔
جیسے اُوپر والی برائی کے لئے میرا تجویز کردہ سزا ہے کہ ایسے ثابت ہو جانے شخص کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لینی چاہیے سوائے اس گھر کے جس میں رہتا ہو۔

یاد رہے کھیل کا مقصد صرف لسٹ بنانا ہے۔

میرے بعد آنے والاجعلی ادویات بنانے والوں کے لئے سزا تجویز کر ے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میرے بعد آنے والاجعلی ادویات بنانے والوں کے لئے سزا تجویز کر ے۔

ان کیلیے صرف اور صرف موت کی سزا تجویز ہو سکتی ہے جس پر آپ نے پابندی لگا دی ہے سو میں نہیں کھیلتا، لیکن یہ نہیں کہتا کہ "نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے"۔ :)
 

محمدصابر

محفلین
ان کیلیے صرف اور صرف موت کی سزا تجویز ہو سکتی ہے جس پر آپ نے پابندی لگا دی ہے سو میں نہیں کھیلتا، لیکن یہ نہیں کہتا کہ "نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے"۔ :)
موت کی سزا اس لئے بند کی ہے کہ یہ سزا بہت زیادہ تجویز ہو گی۔ اور سزاؤں کی ڈیٹا بیس بھی بننا چاہیے۔ ویسے بھی موت کے بعد بہت کچھ بھول جاتا ہے۔ سزا ایسی ہو کہ بندہ زندہ بھی رہے اور نشان عبرت بھی بنے۔
 

کاظمی بابا

محفلین
میرے بعد آنے والاجعلی ادویات بنانے والوں کے لئے سزا تجویز کر ے۔

ان کیلیے صرف اور صرف موت کی سزا تجویز ہو سکتی ہے جس پر آپ نے پابندی لگا دی ہے سو میں نہیں کھیلتا، لیکن یہ نہیں کہتا کہ "نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے"۔ :)

متفق علیہ
-----------
 
بات سود کی ہو یا جعلی ادویات کی، سزائیں تو پہلے سے موجود ہیں۔ اصل بات اس پر عمل درآمد کی ہے۔
سود جس کو قرآن کریم نے حرام قرار دیا اگر ہم نے اپنے معاشرے میں رائج بلکہ لازم کر رکھا ہے تو پھر ایسے کئی ہزار مظلوم نکلیں گے، کہ غلط عمل کا نتیجہ بھی غلط اور آگے غلط در غلط۔ وہ جو سود پر قرض لینے والا شخص ہے غلطی تو اُس نے بھی کی! مان لیجئے کہ اُس کی کوئی ایسی مجبوری تھی کہ اُسے یہ قبیح چیز لینی پڑی، قرض دینے والے میں انسانیت ہوتی تو وہ قرض حسنہ دے دیتا، سود کا معاہدہ نہ لکھواتا۔
یہاں کسی نے کہہ دیا کہ سود حرام ہے، بغیر سود کا نظام لایا جائے تو جواباَ کہہ دیا گیا کہ فی زمانہ سود کے بغیر معیشت چل ہی نہیں سکتی۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ اللہ کے خلاف اعلان جنگ کیا جا رہا ہے۔
پھر تو ایسا ہی ہو گا اور ہوتا رہے گا۔ آپ سزائیں تجویز کر کے خوش ہوتے رہئے۔
ہاں سزائے موت تجویز کرنے پر پابندی لگانے کی وجہ آپ نے عجیب بیان کی کہ مرنے کے بعد تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ ارے صاحب، شروعات ہی مرنے کے بعد ہوتی ہیں! اگر مجھے مرنے کا یقین ہو۔
سو جناب ایسوں کے لئے سزائیں نہیں دعائیں تجویز کیجئے کہ میں آپ کسی کو سزا دے ہی نہیں سکتے، دے سکتے ہیں تو دعا یا بد دعا (وہ بھی تو دعا ہی ہے)۔
جب قومیں بے بس ہو جائیں تو یہی کچھ ہوا کرتا ہے۔


جی، جعلی ادویات بنانا اور بیجنا، کیا یہ زہر بیچنا نہیں؟ پیسے لے کر موت فروخت کرنے والا ایک ہزار بار بھی مارا جائے تو کم ہے۔ ویسے کرنی کی بھرنی کا ایک واقعہ لاہور میں پیش آیا بھی تھا، اگر کسی کو یاد ہو۔
ایک دواساز کا جوان بیٹا بیمار ہو گیا اور ایمرجنسی میں مریض کو اُسی دواساز کی بنائی ہوئی دوا دے دی گئی۔ (کسی قسم کا ٹیکا تھا)۔ بڑے میاں نے خالی وائل یا ڈبی دیکھی تو چکرا کر رہ گیا، تب تک جوان کی روح پرواز کر چکی تھی۔ اس کے بعد راوی خاموش ہے۔ کون جانے بڑے میاں تائب ہوئے یا اپنے کفر میں اور پختہ ہو گئے۔
سوچنے کی بات ہے کہ کسی نے اس واقعے سے عبرت حاصل کی؟ یہاں تو عبرت والا خانہ ہی خالی ہے۔ قوموں کی تباہی سے آج کل عبرت کی بجائے کلچر برآمد ہوتا ہے۔
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے ٹنوں کے حساب سے

ہمارا قومی حافظہ بہت کمزور واقع ہوا ہے۔ 2005 کا زلزلہ کس کو یاد نہیں؟ زلزلے کے بعد کتنے اٹیچی کیسوں سے زیورات بھرے بازو برآمد ہوئے !!!؟ عبرت کہاں صاحب، یہاں تو قومی رویہ ہی قارونی بن گیا ہے۔ 2010 کا سیلاب جس کا ابھی پانی بھی پوری طرح نہیں اترا، اپنے ساتھ کتنی کہانیاں لایا تھا جو ہمارے روایتی بھلکڑ حافظے نے بھلا ڈالیں۔
مجھے یہ تو یاد رہتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں موقع پر مجھے گالی دی تھی، یا میرے فلاں ماتحت نے میری مرضی کے خلاف مجھ سے کہا تھا، سر یہ حکم رولز کے خلاف ہے ۔۔۔ سو میں اُس کو کیسے معاف کر دوں؟ مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ سب معاف کرنے والوں سے بڑا ایک معاف کرنے والا ہے وہ جس کی گرفت ایسی ہے کہ کسی کی گرفت کیا ہو گی۔
اگر آپ کو کچھ تجویز ہی کرنا ہے تو قومی ضمیر کو زندہ کرنے کے نسخے تجویز کیجئے۔ مگر وہاں از خود ایک بہت کڑی شرط موجود ہے، پہلے خود کو ٹھیک کرنے کی، اور یہی بات مجھ پر اور میرے جیسے بہتوں پر بہت بھاری ہے کہ خود کو بھی ٹھیک کرنا ہو گا؟
مجھے جو بھی برا بھلا کہنا چاہے، کہہ لے مگر سوچے ضرور۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔ میرا نہ سہی، آپ کا نہ سہی، کسی اور کا سہی۔
 

arifkarim

معطل
سزا؟ سزا سے کیاہوگا؟ اگر سزا سے معاشرہ میں جرائم کم ہو سکتے تو آج دنیا میں کوئی گناہ نہ ہوتا :)
ڈنڈے کے زور سے انصاف و عدل قائم کروانا 1400 سال پرانا فلسفہ ہے۔ آجکل کے دور میں یہ سب نہیں چلے گا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ڈنڈے کے زور سے انصاف و عدل قائم کروانا 1400 سال پرانا فلسفہ ہے۔ آجکل کے دور میں یہ سب نہیں چلے گا۔

غلط سرا سر غلط بات، تاریخی حقائق سے ناواقفیت یا جان بوجھ کر "تجاہلِ جاہلانہ" برتا گیا ہے کہ جزا و سزا کی تعلیم کو 1400 سو سال پرانا (یعنی اسلام کی ابتدا) سے جوڑا گیا ہے، یہ نظریہ بہت پرانا ہے، تعصب کی عینک ہٹا کر دیکھیں۔
 

محمدصابر

محفلین
بات سود کی ہو یا جعلی ادویات کی، سزائیں تو پہلے سے موجود ہیں۔ اصل بات اس پر عمل درآمد کی ہے۔
سود جس کو قرآن کریم نے حرام قرار دیا اگر ہم نے اپنے معاشرے میں رائج بلکہ لازم کر رکھا ہے تو پھر ایسے کئی ہزار مظلوم نکلیں گے، کہ غلط عمل کا نتیجہ بھی غلط اور آگے غلط در غلط۔ وہ جو سود پر قرض لینے والا شخص ہے غلطی تو اُس نے بھی کی! مان لیجئے کہ اُس کی کوئی ایسی مجبوری تھی کہ اُسے یہ قبیح چیز لینی پڑی، قرض دینے والے میں انسانیت ہوتی تو وہ قرض حسنہ دے دیتا، سود کا معاہدہ نہ لکھواتا۔
یہاں کسی نے کہہ دیا کہ سود حرام ہے، بغیر سود کا نظام لایا جائے تو جواباَ کہہ دیا گیا کہ فی زمانہ سود کے بغیر معیشت چل ہی نہیں سکتی۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ اللہ کے خلاف اعلان جنگ کیا جا رہا ہے۔
پھر تو ایسا ہی ہو گا اور ہوتا رہے گا۔ آپ سزائیں تجویز کر کے خوش ہوتے رہئے۔
ہاں سزائے موت تجویز کرنے پر پابندی لگانے کی وجہ آپ نے عجیب بیان کی کہ مرنے کے بعد تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ ارے صاحب، شروعات ہی مرنے کے بعد ہوتی ہیں! اگر مجھے مرنے کا یقین ہو۔
سو جناب ایسوں کے لئے سزائیں نہیں دعائیں تجویز کیجئے کہ میں آپ کسی کو سزا دے ہی نہیں سکتے، دے سکتے ہیں تو دعا یا بد دعا (وہ بھی تو دعا ہی ہے)۔
جب قومیں بے بس ہو جائیں تو یہی کچھ ہوا کرتا ہے۔


جی، جعلی ادویات بنانا اور بیجنا، کیا یہ زہر بیچنا نہیں؟ پیسے لے کر موت فروخت کرنے والا ایک ہزار بار بھی مارا جائے تو کم ہے۔ ویسے کرنی کی بھرنی کا ایک واقعہ لاہور میں پیش آیا بھی تھا، اگر کسی کو یاد ہو۔
ایک دواساز کا جوان بیٹا بیمار ہو گیا اور ایمرجنسی میں مریض کو اُسی دواساز کی بنائی ہوئی دوا دے دی گئی۔ (کسی قسم کا ٹیکا تھا)۔ بڑے میاں نے خالی وائل یا ڈبی دیکھی تو چکرا کر رہ گیا، تب تک جوان کی روح پرواز کر چکی تھی۔ اس کے بعد راوی خاموش ہے۔ کون جانے بڑے میاں تائب ہوئے یا اپنے کفر میں اور پختہ ہو گئے۔
سوچنے کی بات ہے کہ کسی نے اس واقعے سے عبرت حاصل کی؟ یہاں تو عبرت والا خانہ ہی خالی ہے۔ قوموں کی تباہی سے آج کل عبرت کی بجائے کلچر برآمد ہوتا ہے۔
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے ٹنوں کے حساب سے

ہمارا قومی حافظہ بہت کمزور واقع ہوا ہے۔ 2005 کا زلزلہ کس کو یاد نہیں؟ زلزلے کے بعد کتنے اٹیچی کیسوں سے زیورات بھرے بازو برآمد ہوئے !!!؟ عبرت کہاں صاحب، یہاں تو قومی رویہ ہی قارونی بن گیا ہے۔ 2010 کا سیلاب جس کا ابھی پانی بھی پوری طرح نہیں اترا، اپنے ساتھ کتنی کہانیاں لایا تھا جو ہمارے روایتی بھلکڑ حافظے نے بھلا ڈالیں۔
مجھے یہ تو یاد رہتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں موقع پر مجھے گالی دی تھی، یا میرے فلاں ماتحت نے میری مرضی کے خلاف مجھ سے کہا تھا، سر یہ حکم رولز کے خلاف ہے ۔۔۔ سو میں اُس کو کیسے معاف کر دوں؟ مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ سب معاف کرنے والوں سے بڑا ایک معاف کرنے والا ہے وہ جس کی گرفت ایسی ہے کہ کسی کی گرفت کیا ہو گی۔
اگر آپ کو کچھ تجویز ہی کرنا ہے تو قومی ضمیر کو زندہ کرنے کے نسخے تجویز کیجئے۔ مگر وہاں از خود ایک بہت کڑی شرط موجود ہے، پہلے خود کو ٹھیک کرنے کی، اور یہی بات مجھ پر اور میرے جیسے بہتوں پر بہت بھاری ہے کہ خود کو بھی ٹھیک کرنا ہو گا؟
مجھے جو بھی برا بھلا کہنا چاہے، کہہ لے مگر سوچے ضرور۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔ میرا نہ سہی، آپ کا نہ سہی، کسی اور کا سہی۔
پہلی بات :
جس طرح آپ نے بیان کیا کہ ہم لوگ جلد بھول جاتے ہیں اسی طرح میں نے لکھا کہ مرنے کے بعد لوگ مرنے والے کو اور اس کی کرتوتوں کو بھول جاتے ہیں۔
دوسری بات:
یہ دھاگہ میں نے کھیل ہی کھیل میں اسی لئے شروع کیا تھا کہ مجھے اس طرح کے معاشرتی رویوں کی فہرست بنانی ہے۔ اس کے مختلف انداز دیکھنے ہیں بس۔ مذہبی معاملے یا فتوے یا اٹل فیصلوں کو اس دھاگے میں شامل نہیں کرنا۔
 

محمدصابر

محفلین
جعلی ادویات بنانے والوں کو یہ ادویات کھلائی جائیں۔ :sick4:
اس کے ساتھ ساتھ انہیں ادویات کی تیاری کرنے والوں کے حوالے بطور ’سیمپل ٹیسٹر‘ کردینا چاہیے تاکہ جانوروں پر تجربات کی بجائے سیدھے انسان پر ہی تجربات ہو سکیں۔
آپ نے سزا کے لئے اگلی برائی کا تذکرہ نہیں کا۔

موبائل فون کے بہت زیادہ سستا اور عام ہونے سے دوسری بہت سی سہولتوں کے ساتھ کیمرہ کی سہولت بھی صارفین تک پہنچی ہے جس کا ہم نہایت بے دردی سے استعمال کر رہے ہیں گھرکے کاموں،باہر کے واقعات،سکول، دفتر ،نجی تقریبات، کھیل کود، مستی ،مذاق الغرض ہر جگہ پر ہم ویڈیو اور تصاویر بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اور یہی موبائل فون جب مارکیٹ میں کسی خرابی کے نتیجے میں پہنچتے ہیں تو مکینک حضرات سب سے پہلا کام جو کرتے ہیں وہ یہ کہ اس موبائل موجود تصاویر اور ویڈیوز کی کاپی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو مارکیٹ میں ریلیز کر دیا جاتا ہے ۔ جو میرے نزدیک ناقابل معافی معاشرتی برائی ہے۔ ان کو ریلیز کرنے والوں کے لئے کوئی سزا تجویز کریں۔
 

عثمان

محفلین
اس کے ساتھ ساتھ انہیں ادویات کی تیاری کرنے والوں کے حوالے بطور ’سیمپل ٹیسٹر‘ کردینا چاہیے تاکہ جانوروں پر تجربات کی بجائے سیدھے انسان پر ہی تجربات ہو سکیں۔
آپ نے سزا کے لئے اگلی برائی کا تذکرہ نہیں کا۔

موبائل فون کے بہت زیادہ سستا اور عام ہونے سے دوسری بہت سی سہولتوں کے ساتھ کیمرہ کی سہولت بھی صارفین تک پہنچی ہے جس کا ہم نہایت بے دردی سے استعمال کر رہے ہیں گھرکے کاموں،باہر کے واقعات،سکول، دفتر ،نجی تقریبات، کھیل کود، مستی ،مذاق الغرض ہر جگہ پر ہم ویڈیو اور تصاویر بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اور یہی موبائل فون جب مارکیٹ میں کسی خرابی کے نتیجے میں پہنچتے ہیں تو مکینک حضرات سب سے پہلا کام جو کرتے ہیں وہ یہ کہ اس موبائل موجود تصاویر اور ویڈیوز کی کاپی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو مارکیٹ میں ریلیز کر دیا جاتا ہے ۔ جو میرے نزدیک ناقابل معافی معاشرتی برائی ہے۔ ان کو ریلیز کرنے والوں کے لئے کوئی سزا تجویز کریں۔

قصوروار مکینک حضرات کی ایک قابل اعتراض ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر نشر کردی جائے۔ اور یہی سزا ویڈیو بنانے والے کو بھی دی جائے :filmstrip:
 

عثمان

محفلین
صابر صاحب۔۔۔
آپ جو بھی جرم بتائیں گے۔ میں آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر مجرم کے لئے ایسی ہی سزا تجویز کروں گا۔
کچھ ایسا لائیں کہ مذکورہ اصول قابل عمل نہ رہے۔ پھر آئے گا مزا کھیل کا۔ :boxing:
گیند پھر آپ ہی کے کورٹ میں ہے۔
 

محمدصابر

محفلین
قصوروار مکینک حضرات کی ایک قابل اعتراض ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر نشر کردی جائے۔ اور یہی سزا ویڈیو بنانے والے کو بھی دی جائے :filmstrip:

اگر شہر کے مرکزی چوک میں ایک چبوترہ (جسے میں اعزازی چبوترہ کہوں گا)بنا کراس بندے کو صبح جب وہاں رش اپنے عروج پر ہوتا ہے اپنے جرم کے اعلان کے ساتھ اس طرح کھڑا کیا جائے کہ وہ اپنی شناخت کو چھپا نہ سکے اور پھر اس کی لائیو ویڈیو نشر کی جائے تو کیسا رہے گا؟کچھ دن یا کچھ ہفتے مسلسل یہ عمل دہرایا جائے۔تو سونے پہ سہاگا۔

انتہائی ضروری خوردنی اشیاء جیسے آٹا یا چینی کےذخیرہ اندوز کے لئے سزا تجویز کریں۔ :)
 

عثمان

محفلین
اگر شہر کے مرکزی چوک میں ایک چبوترہ (جسے میں اعزازی چبوترہ کہوں گا)بنا کراس بندے کو صبح جب وہاں رش اپنے عروج پر ہوتا ہے اپنے جرم کے اعلان کے ساتھ اس طرح کھڑا کیا جائے کہ وہ اپنی شناخت کو چھپا نہ سکے اور پھر اس کی لائیو ویڈیو نشر کی جائے تو کیسا رہے گا؟کچھ دن یا کچھ ہفتے مسلسل یہ عمل دہرایا جائے۔تو سونے پہ سہاگا۔

انتہائی ضروری خوردنی اشیاء جیسے آٹا یا چینی کےذخیرہ اندوز کے لئے سزا تجویز کریں۔ :)

ذخیرہ اندوز کا کاروبار ضبط کر کے مذکورہ اشیاء اس کے لئے تاحیات ممنوع قرار دے دی جائیں۔

حال ہی میں ایک ساتھی بلاگر کا بلاگ ہیک ہوگیا ہے۔ ہیکروں کے لئے سزا تجویز کریں۔ سزا تجویز کرتے وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ ہیکر کی اپنی ویب سائٹ نہیں ہے۔
 

خواجہ طلحہ

محفلین
سب سے پہلے تو میں ذخیرہ کی طرف آتا ہوں۔ کہ کچھ اشیاء کے پیدا ہونے کا ایک سیزن ہوتا ہے۔ اس سیزن میں یہ اجناس پورے سال کے لیے گوداموں میں ذخیرہ کی جاتی ہے۔ جیسا کہ چینی کہ 4 سے 5 ماہ میں بنا کر ملوں کے گوداموں میں سٹور کی جاتی ہیں یہ حال گندم کا ہے۔ہمارے ہاں مسئلہ ذخیرہ اندوزی کا نہیں غلط کاروباری نظام ہے جس میں سب سے اہم کردار سٹا کا ہے۔ جس کی درستی ضروری ہے۔
اور جہاں تک ہیکروں کا تعلق ہے تو یہ بندے کی اپنی غلطیاں جو ہیکروں کوراستہ دیتی ہے۔ اور ویسے بھی بلاگستان کے بکواس قسم کے بلاگ ہیک کرکے کسی نے کیا حاصل کرلینا۔
 

کاشفی

محفلین
طالبان ، القائدہ، اسلام دشمن اور پاکستان دشمن کے لیئے کوئی بہتر سزا تجویز کر سکتے ہیں تو کریں
 
Top