کمپیوٹر کلاس

قیصرانی

لائبریرین
آج کل کے اکثریت آپریٹنگ سسٹمز اور اپیلی کیشن پروگراموں کایوزر انٹرفیسعموماًگرافیکلیاتصویریہے۔ پرانے دور میںکمانڈ لائنانٹرفیس ہوتا تھا، جس پر کام کرنے کے لیے ہمیں ہر کمانڈ کو بالکل ایک جیسے حروف کے ساتھ یاد کرنا پڑتا تھا

گرافیکل یوزر انٹرفیس کوجی یو آئیبھی کہتے ہیں۔ اس طرح کے انٹر فیس میں ہم سکرین پر تصاویر اور مختلف اجزا کو استعمال کرتے ہیں:

ونڈوز: سکرین پر ہر کام کے لیے ایک علیحدہ سے مستطیل خانہ بنایا جاتا ہے۔ اس خانے کو ونڈو کا نام دیتے ہیں۔ ونڈوز نامی آپریٹنگ سسٹم کا نام بھی اسی وجہ سے ونڈوز پڑا
آئکن: وہ چھوٹی چھوٹی تصاویر جو کسی بھی پروگرام یا ڈیٹا کو ظاہر کرے، مثلا فائل کا آئکن
پُل ڈاؤن مینیو: ونڈو کے ایسے حصے جن کے اندر ایک سے زائد کمانڈز چھپی ہوں
سکرول بارز: ونڈو پر کام کرنے کے دوران اس کے دکھائی دینے والے حصے کو حرکت دے کر دیگر حصوں کو دیکھنا
بٹن: ایسے چوکور ڈبے جن کو ہم دبا کر کسی کمانڈ یعنی حکم کی تکمیل کریں

گرافیکل یوزر انٹرفیس یعنی تصویری ماحول میں ماؤس کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے تصویری ماحول کوبعض اوقاتپوائنٹ اینڈ کلک انٹرفیسبھی کہا جاتا ہے۔ یعنی ماؤس کی مدد سے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا اور پھر کلک کرکے اسے منتخب یا استعمال کر لیا

آپریٹنگ سسٹم یا پروگرام کے انٹرفیس کی بہت اہمیت ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ حصہ ہوتا ہے جو یوزر کو براہ راست دکھائی دیتا ہے اور اسی حصے کو ہی یوزر استعمال کرتا ہے۔ یعنی ہم کہ سکتے ہیں کہ اسی انٹرفیس کو ہی استعمال کنندہ پورا پروگرام سمجھتا ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
ڈیجیٹل کمپیوٹر
عموما ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے لیے دو طریقہ کار اختیار کیے جاتے ہیں: اینالاگاورڈیجیٹل

اینا لاگ قسم میں ڈیٹا مسلسل شکل میں ہوتا ہے اور یہ لہریں سورس یعنی ماخذ کے راست متناسب ہوتی ہیں۔ مثلاً تھرما میٹر کا پارہ درجہ حرارت کے راست متناسب ہوتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھے گا تو پارہ چڑھنا شروع ہو جائے گا۔ درجہ حرارت میں کمی سے پارہ بھی نیچے آجائے گا۔ اینا لاگ کوتغیر پذیربھی کہتے ہیں کیونکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اسی طرح آواز کو جب ہم کسی کیسیٹ ریکارڈر میں ریکارڈ کرتے ہیں تو وہ بھی مسلسل لہروں کی شکل میں محفوظ ہوتا ہے


اینا لاگ سگنل کی ایک مثال​
 

قیصرانی

لائبریرین
ڈیجیٹل سگنلمیں ڈیٹا کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ہر حصہ ایک مخصوص نمبر سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سی ڈی میں محفوظ ہونے والا میوزک اسی طرح سے ڈیجیٹلی محفوظ ہوتا ہے، یعنی نمبروں کی ایک سیریز یا تسلسل کی شکل میں۔ ہر نمبر ریکارڈنگ کی ایک خاص لمحاتی مقدار کو ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر آواز کی ریکارڈنگ کے لیے ایک سیکنڈ میں چالیس ہزار مختلف پیمائشیں لی جاتی ہیں۔ یہ پیمائشسیمپل ریٹکہلاتی ہیں۔ اس رفتار سے لی جانے والی پیمائش جب سگنل کو دوبارہ سے اینا لاگ میں تبدیل کرکے ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو ہمیں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔



آواز کی ڈیجیٹل شکل میں تبدیلی



ٹیکسٹ یعنی لکھائی کی ڈیجیٹل شکل میں تبدیلی
 

ijaz1976

محفلین
او بھائی ’’جاوا ‘‘ کدھر گیا ہے کچھ پتہ نہیں چل رہا مسجد میں اعلان کرانے کے باوجود بھی کوئی جاوا کو پکڑ کر نہیں لایا لگتا ہے اب تو کوئی چلہ ہی کاٹنا پڑے گا اس کو قابو کرنے کے لئے :confused::confused::confused:
 

ijaz1976

محفلین
استادان کرام کہاں تشریف فرما ہیں، شاگردان رشید تو انتظار کرتے کرتے سوکھ ہی گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔:rolleyes:
کیا شاگردوں کو سُکھا کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ :confused:
 

ijaz1976

محفلین
اتنے عرصے کے بعد شکر ہے آپ کا جواب تو پڑھنے کو ملا۔ امید ہے کہ اب یہ سلسلہ دوبارہ زندہ ہوجائے گا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
فی الوقت تو میں کچھ بھی کہنے کی کوشش نہیں کر سکتا۔ اگر چند دن تک آمد و رفت برقرار رہ سکی تو پھر انشاء اللہ یہ سلسلہ بھی چلے گا۔ دعا کیجئے
 

نقاش

محفلین
کیا آپ آن لاین اسٹیڈی کرنا چاہتے ہیں آنلاین استادوں کی موجودگی میں وہ آپ کو برایراست لیکچرس بھی دیں گے بلکل فری وہ بھی آپ کے پسندیہ سبجیکٹ پر ؟ ؟ ؟
 
Top