نفیس نستعلیق کی مدد سے لگیچر بیسڈ فانٹ کی تیاری

محمد سعد

محفلین
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
السلام علیکم۔

پتا نہیں کہ اس سے پہلے کبھی کسی کے ذہن میں یہ خیال آیا ہے یا نہیں۔ چونکہ کبھی اس کا ذکر نظر سے نہیں گزرا تو لگا کہ اپنی تجویز یہاں ارسال کر دینی چاہیے۔
تجویز یہ ہے کہ ایک نیا نستعلیق فانٹ ایسا تیار کیا جائے جس کے ترسیمہ جات نفیس نستعلیق کی مدد سے تیار کیے گئے ہوں۔ اس سے ایک تو موجودہ لگیچرز بیسڈ فانٹس کے قانونی مسائل سے جان چھوٹ جائے گی کہ نفیس نستعلیق آزاد سافٹ وئیر ہے، اور دوسرا یہ کہ فانٹ تیار کرنے والے کو ماہر خطاط ہونے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی اور کم محنت میں ایک زبردست فانٹ تیار ہو جائے گا۔

وضاحت کے لیے انک سکیپ (InkScape) کی یہ تصویر ملاحظہ فرمائیے۔

nafeesnastaleeqinkscape.png


یعنی کہ (اس مثال میں) انک سکیپ میں ایک لفظ نفیس نستعلیق فانٹ میں لکھا جائے اور اسے SVG کی صورت میں محفوظ کر کے فانٹ فورج (FontForge) میں بطور ترسیمہ (ligature) درآمد کر لیا جائے۔
اس طرح ایک کریکٹر بیسڈ فانٹ سے ہم ایک لگیچر بیسڈ فانٹ حاصل کر لیں گے اور نئے سرے سے خطاطی کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ کیا خیال ہے؟
کم از کم ایک فانٹ تو ایسا بنانا ہی چاہیے کیونکہ اس وقت ہمیں قانونی مسائل سے مکمل طور پر آزاد ایک لگیچر بیسڈ نستعلیق فانٹ کی اشد ضرورت ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
شکریہ محمد سعد۔ شاکر القادری صاحب پہلے ہی اس آئیڈیا پر عمل کر رہے ہیں اور ایک نیا نستعلیق فونٹ تیار کر رہے ہیں۔ ان کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہے کہ وہ کیریکٹر بیسڈ فونٹ کے ذریعے ترسیمہ جات کو کورل میں لے جا کر ان کی درستگی کرتے ہیں اور پھر اس گلف کو فونٹ میں شامل کرتے ہیں۔ کیریکٹر بیسڈ فونٹ کی بنیادی اشکال بھی انہوں نے خود تیار کی ہیں۔ یہ سب کافی طویل اور محنت طلب پراسیس ہے۔

میں کچھ عرصے سے اس سے ملتے جلتے آئیڈیا پر غور کرتا رہا ہوں۔ میرا آئیڈیا یہ تھا کہ اگر کسی طرح پہلے سے موجود کسی کیریکٹر بیسڈ نستعلیق فونٹ سے خود کار طریقے سے ترسیمہ جات جنریٹ کروا لیے جائیں تو اس طرح لگیچر بیسڈ فونٹ کی تیاری قدرے آسان ہو سکتی ہے۔ اس طریقے میں یہ مسئلہ ضرور ہوگا کہ اس طرح جنریٹ کردہ ترسیمہ جات کی اشکال کی درستگی کی ضرورت پیش آئے گی۔ تقریباً تمام موجودہ کیریکٹر بیسڈ نستعلیق فونٹس میں لک اپس اور نقطہ پلیسمنٹ کے کوئی نہ کوئی مسائل موجود ہیں۔

میں نے نوٹ کیا ہے کہ انک سکیپ اور فونٹ فورج دونوں میں سکرپٹنگ کی فیچر موجود ہے، یعنی انہیں بیرونی پائتھون یا شیل سکرپٹس کے ذریعے استعمال کرنا ممکن ہے۔ اس طرح ان پروگرامز کے ذریعے بیچ آپریشنز بھی پرفارم کرنا بھی ممکن ہوگا۔ یوں اس طرح کا خیالی منظرنامہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ انک سکیپ کی سکرپٹنگ کے ذریعے کسی کیریکٹر بیسڈ نستعلیق فونٹ جیسے کہ نفیس نستعلیق پر مبنی ترسیمہ جات کی svg فائلیں جنریٹ کی جائیں۔ اس کے بعد فونٹ فورج میں‌ یہ تمام svg فائلیں ایک فونٹ میں امپورٹ کر لی جائیں۔ اگر یہ کام کامیابی سے ہو جاتا ہے تو اس کے بعد اس فونٹ کو دوسرے ٹولز کے ذریعے پراسیس کیا جا سکے گا۔ میں نے اس تحریر میں شاید کا صیغہ اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ یہ سب کچھ صرف تھیوری ہے، ابھی اس کے قابل عمل ہونے کے بارے میں درست طور پر پتا نہیں ہے۔ اس کے بارے میں تجربات کرکے ہی پتا چل سکے گا۔ ان تجربات کے لیے ایک مسئلہ پوری ٹول چین سیٹ اپ کرنے کا بھی ہو گا کیونکہ فونٹ فورج بنیادی طور پر یونیکس/لینکس پر چلنے والا پروگرام ہے۔ اسے ونڈوز پر چلانے کے لیے خصوصی سیٹ اپ کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اگرچہ میں اس کام میں دلچسپی رکھتا ہوں لیکن بد قسمتی سے آج کل میں دوسری کئی مصروفیات کے باعث خود سے اس پر تجربات کرنے کا وقت نہیں نکال پاؤں گا۔ اگر ٹائپوگرافی کے ماہرین مل کر ان آئیڈیاز کو رو بہ عمل لانے کی کوشش کریں تو اس سے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
 

محمد سعد

محفلین
فیڈورا 12 پر Pango استعمال کرنے والے کئی اطلاقیوں میں میں نے مختلف جگہوں سے نقل کیا گیا متن استعمال کر کے نفیس نستعلیق کی آزمائش کی ہے اور مجھے ابھی تک شکل کے خراب ہونے کا یا نقطوں کے الٹ پلٹ ہونے کا کوئی واقعہ نظر نہیں آیا۔ شاید پانگو میں ہونے والی حالیہ ترقی کا نتیجہ ہے۔ آپ بھی دیکھ لیں۔ اگر واقعی اس میں ونڈوز کی نسبت کم مسائل آتے ہیں تو پھر یہ کام فیڈورا کے تازہ ترین نسخے پر ہی کر لینا چاہیے (کیونکہ پانگو کا تازہ ترین نسخہ فیڈورا میں ملنے کا امکان دوسری ڈسٹربیوشنز کی نسبت زیادہ ہے)۔ اس طرح کام کی رفتار بہت تیز ہو جائے گی کیونکہ اشکال کے درست کرنے کی ضرورت بھی کم پڑے گی اور سکرپٹنگ والا کام بھی آسان ہو جائے گا۔ ویسے بھی فیڈورا کا استعمال اب عام گھریلو صارف کے لیے اتنا مشکل نہیں رہا۔

اضافہ: ایک مسئلے کی طرف ابھی ابھی توجہ پڑی ہے کہ جن الفاظ کے آخر میں "ے" آتا ہے، ان میں ے سے پہلے والے حروف ے کے کچھ اندر تک گھس آتے ہیں۔ یعنی مسائل اتنے کم بھی نہیں ہیں۔ :biggrin: پہلے توجہ شاید اس لیے نہیں پڑی کہ کچھ جگہوں پر خوب صورتی کے لیے بھی اس سے ملتا جلتا انداز اختیار کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر منسلک کی گئی تصویر میں لفظ "طریقے" کی شکل دیکھیں۔
 

Attachments

  • tareeqay.png
    tareeqay.png
    2.7 KB · مناظر: 110

نبیل

تکنیکی معاون
محمد سعد، آپ کی فراہم کردہ مثال اس لیے درست نہیں ہے کیونکہ یہ ترسیمہ نہیں، مکمل لفظ ہے جس میں ایک سے زائد ترسیمہ جات استعمال ہو رہے ہیں۔ ذاتی طور پر میں ان تجربات کے لیے ٹول چین ونڈوز پر ہی سیٹ اپ کرنا چاہوں گا۔ اگر مختلف آپریٹنگ سسٹمز میں کام کرنا پڑا تو بار بار ڈیٹا ایک آپریٹنگ سسٹم سے دوسرے میں شفٹ کرنے کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ اگر cygwin کے ذریعے براہ راست ونڈوز میں کام کرنا ممکن ہوا تو بہتر ہے ورنہ ورچوئل مشین میں لینکس پر کام کرنا بہتر رہے گا۔
 

محمد سعد

محفلین
کیا ونڈوز کے لیے EXT3 اور EXT4 کے ڈرائیور ابھی تک دستیاب نہیں ہوئے؟ :confused:

اگر پانگو کی کارکردگی واقعی اتنی بہتر ہوئی ہے جتنی مجھے محسوس ہو رہی ہے، تو پھر تو شاید ورچول مشین والا طریقہ ہی بہتر رہے گا تاکہ اس کی صلاحیتوں کا پورا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
محمد سعد، اگر ونڈوز میں لینکس فائل سسٹم کے ڈرائیور موجود ہوں بھی تو بار بار بوٹ تو کرنا ہی پڑے گا۔ بہرحال میں نے صرف اپنی ترجیح کا ذکر کیا تھا۔ آپ چاہیں تو شوق سے لینکس میں ہی اپنی تحقیق جاری رکھیں۔ اگر کچھ لوگ مل کر اس پر کام کریں تو یہ کافی کارآمد آئیڈیا ثابت ہو سکتا ہے۔
 
کئی آپریٹنگ سسٹمز بلکہ کئی مشینوں پر ایک ہی فائل ایکسس کرنا ہو تو ڈراپ باکس کی خدمات کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
 

arifkarim

معطل
اس پراجیکٹ پر تو محترم فاروق سرور خان صاحب کافی عرصہ پہلے کام کر رہے تھے۔ لیٹسٹ پراگریس انسے بذریعہ پیغام ہی پوچھی جا سکتی ہے۔ ویسے نفیس نستعلیق واحد اردو فانٹ ہے جو اڈوبی انڈیزائن پر کافی حد تک چل جاتا ہے۔ البتہ اسکی سست رفتار ہر جگہ مسئلہ پیدا کرتی ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
عارف، یہاں کچھ اور آئیڈیا ڈسکس ہو رہا ہے۔ فاروق بھائی نفیس نستعلیق میں انپیج کے لگیچر ڈلوا رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ اب وہ کام اتنا ضروری نہیں رہا ہے۔ محمد سعد نے نفیس نستعلیق یا کسی اور کیریکٹر بیسڈ نستعلیق فونٹ ہی سے لگیچر تیار کرنے اور انہیں استعمال کرنے کا آئیڈیا پیش کیا ہے۔ محمد سعد نے انک سکیپ اور فونٹ فورج کو استعمال کرکے ایک ورک فلو تجویز کیا ہے جو تھیوری کی حد تک درست لگتا ہے، لیکن اس پر تجربات کرکے ہی اس کے کارآمد ہونے کے بارے میں پتاچل سکے گا۔
 
میں یہ تجربے امیج میجک لائبریری میں کر رہا تھا لیکن لگتا ہے کہ یہ لائبریری پینگو کا استعمال نہیں کرتی اور نہ ہی کوئی آپشن ملا کہ مینولی اس رینڈرنگ انجن کے استعمال کی کمانڈ دے سکتا۔ اگر یہ ہو پاتا تو ایک چھوٹی سی شیل اسکرپٹ اور لگیچرس کی فہرست کی ایک ٹیسٹ فائل تمام گلفس جینریٹ کر دیتی۔ فی الحال تجربے کا نتجہ یہ نکلا کہ کیریکٹر کی ڈائریکشن درست نہیں نیز کیریکٹر ایک دوسرے سے جڑ بھی نہیں رہے۔

"اللہ" ٹیکسٹ سے امیج بنانے کی کوشش کی تو "ہ ل ل ا" حاصل ہوا۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
ابن سعید، کیا امیج میجک لائبریری سے ویکٹر گرافک جنریٹ ہو سکتے ہیں؟ اوپن ٹائپ فونٹس کے لیے ویکٹر ڈیٹا درکار ہوگا۔ اگر ترسیمہ جات کی svg یا eps جنریٹ کرنے کا طریقہ معلوم ہو جائے تو اس سے کافی مدد مل سکتی ہے۔ میرے ذہن میں ایک آئیڈیا ہے کہ کس طرح پائتھون کی ttx لائبریری کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اوپن ٹائپ فونٹ کی گلفس میں ڈیٹا quadratic bezier splines کی شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ ٹی ٹی ایکس لائبریری کے ذریعے گلف کے ڈیٹا کو ایکس ایم ایل فائل میں ایکسپورٹ اور امپورٹ کرنا ممکن ہے۔ اس طرح اگر کسی ترسیمہ میں شامل حروف کی اشکال کا سپلائن ڈیٹا حاصل کرکے اسے ایکس ایم ایل فارمیٹ میں لکھ دیا جائے تو اسے ٹی ٹی ایکس لائبریری کے ذریعے فونٹ میں امپورٹ کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ بہرحال یہ میدان تحقیق کے لیے کھلا ہے۔
 
ہم کوئی ماہر تو نہیں البتہ فیض لاہوری ‌نستعلیق کے ترسیمہ جات کو ہمنے قریبا ً اسی طرز پر حاصل کیا تھا جیسا کہ سعد صاحب نے بیان کیا ہے۔ اسکے لئے انپیج ۳ اور فانٹ لیب کے بٹ فانٹر ۳ کی مدد لی گئی تھی۔
طریقہ کار کچھ یوں تھا:
۱۔ انپیج ۳ میں ۲۵ * ۲ کا خالی خانوں والا جدول بنایا گیا۔ جس میں تمام ممکن ترسیموں کی لسٹ کو امپورٹ کر لیا گیا۔ اس پر فیض لاہوری نستعلیق اپلائی کر دیا۔
۲۔ ہر انپیج کی فائل میں اس قسم کے دس جدول رکھے گئے یوں کل تعداد فی فائل ۵۰۰ ترسیمے بنی۔ نمونہ۔
۳۔ اس فائل کو پی ڈی ایف کی شکل میں بر آمد کر دیا جاتا اور وہاں سے ای پی ایس کی شکل میں کنورٹ کر دیا۔
۴۔ ان فائلوں کو بٹ فانٹر ۳ میں کھول کر ایک پری ڈیفانئنڈ الگوردھم کے ذریعے آٹو الگ الگ کرکے ایک فانٹ میں ڈھال دیا جاتا۔ جسے بعد ازاں پراسیسنگ کیلئے فانٹ لیب میں بھیج دیا جاتا۔
۵۔ اس طریقہ میں صرف ایک خامی یہ ہے کہ ترسیمہ جات کی کوالٹی اصل کے مقابلہ میں تھوڑی کم ہو جاتی ہے۔ اور اسکی اہم وجہ پری ڈیفائنڈ ٹیمپلیٹ استعمال کرنا ہے۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

نبیل

تکنیکی معاون
جمیل نستعلیق، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے فیض نستعلیق کے ترسیمہ جات براہ راست فونٹ فائلز سے نہیں بلکہ مذکورہ بالا طریقے سے حاصل کیے ہیں؟
آپ نے پہلے سے موجود ترسیمہ جات کو حاصل کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے جبکہ اس تھریڈ میں کیریکٹر بیسڈ فونٹ کے ذریعے ترسیمہ جات تشکیل دینے اور ان سے گلفس بنانے کے طریقے پر بات ہو رہی ہے۔
 
جمیل نستعلیق، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے فیض نستعلیق کے ترسیمہ جات براہ راست فونٹ فائلز سے نہیں بلکہ مذکورہ بالا طریقے سے حاصل کیے ہیں؟
آپ نے پہلے سے موجود ترسیمہ جات کو حاصل کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے جبکہ اس تھریڈ میں کیریکٹر بیسڈ فونٹ کے ذریعے ترسیمہ جات تشکیل دینے اور ان سے گلفس بنانے کے طریقے پر بات ہو رہی ہے۔

جی ہاں۔ براہ راست فانٹ فائلز سے ترسیمے اٹھانے میں بے تحاشا وقت صرف ہونا تھا کیونکہ فیض لاہوری نستعلیق اس انداز میں‌بنایا گیا ہے کہ نکتے اور کشتیاں الگ الگ مقامات پر موجود ہیں۔ نیز فانٹ فائلوں کی مکمل تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔
اگر آپ نمونہ فائل کا مطالعہ کریں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ تمام ترسیمے مکمل ترسیمے نہیں‌ ہیں بلکہ بعض فیض کیریکٹر نامی فانٹ کے جوڑوں سے بنے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن میں‌نکتوں اور جوڑوں کی غلطیاں موجود ہیں اور جنہیں بعد میں فانٹ کریٹر میں پراسیسنگ کے دوران درست کیا گیا تھا۔ یعنی یہی طریقہ تمام حرفی خطوط سے ترسیمے حاصل کرنے کیلئے استعمال ہو سکتا ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
شکریہ جمیل نستعلیق۔ یہ طریقہ کارآمد معلوم ہوتا ہے۔
اگر آپ اس پراسیس کی مزید تفصیل فراہم کر دیں تو دوسرے فونٹ ساز بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
 

محمد سعد

محفلین
ایک بات جس کی وجہ سے میری امیدیں کافی بڑھی ہیں، وہ یہ ہے کہ شروع میں جب نفیس نستعلیق کے ساتھ تعارف ہوا تھا تو میرے پاس اس میں لکھا گیا متن ٹوٹا پھوٹا حاصل ہوتا تھا۔ غالباً اس کی وجہ میرے کمپیوٹر کا سست رفتار ہونا ہے (733 میگاہرٹز) کیونکہ میرے ایک دو رشتہ داروں کے پاس، جن کے پاس عموماً اپنے وقت کے بہترین کمپیوٹر ہوتے ہیں، نستعلیق متن بالکل درست حاصل ہوتا تھا۔ اس زمانے میں میں بنیادی طور پر ونڈوز استعمال کرتا تھا۔ یاد نہیں کہ لینکس میں بھی اسے آزمایا تھا یا نہیں۔
اب میں نے کل جو نفیس نستعلیق کو انک سکیپ میں چلایا تو معلوم ہوا کہ نہ تو الفاظ پہلے کی طرح ٹوٹ رہے ہیں اور نہ ہی یہ پراسیسر پر اتنا بوجھ بن رہا ہے اگرچہ کمپیوٹر وہی پہلے والا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پڑھی ہوئی پانگو اور حرف باز پر لکھی گئی اس تحریر کا خیال آیا کہ شاید یہ ان میں ہونے والی حالیہ ترقی کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ اس عمل میں پانگو کی مدد لینا ہمارے کام کو تیز تر اور آسان تر کر دے گا۔
جن لوگوں کے پاس ونڈوز اور لینکس (پانگو کے تازہ ترین نسخے کے ساتھ) دونوں موجود ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ دونوں میں اس فانٹ کی کارکردگی کا موازنہ کریں تاکہ پوری طرح تسلی کی جا سکے کہ کون سا ماحول اس کام کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
مجھے ابھی خیال آیا ہے کہ ترسیمہ جات کی اشکال حاصل کرنے کا جمیل نستعلیق کا بیان کردہ طریقہ کارآمد ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس سے ترسیمہ جات کی اشکال کی کوالٹی واقعی متاثر ہوگی کیونکہ اس طریقے میں پہلے بٹ میپ جنریٹ کیے جا رہے ہیں اور بعد میں ان سے آؤٹ لائن حاصل کی جا رہی ہے۔ اگر براہ راست ویکٹر ڈیٹا سے ہی ترسیمہ جات کی گلفس حاصل کرنے کا کوئی طریقہ دریافت ہو جائے تو یہ غالباً زیادہ بہتر رہے گا، ورنہ جمیل نستعلیق کا بتایا ہوا طریقہ تو موجود ہے ہی۔
 
نبیل بھائی امیج میجک میں راسٹر گرافکس سے ویکٹر گرافکس میں تبدیلی کے لئے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں۔ لیکن یہ راستہ بھی پہلے ٹیکسٹ سے راسٹر امیج اور پھر ویکٹر گرافکس والا ہے۔
 
مجھے ابھی خیال آیا ہے کہ ترسیمہ جات کی اشکال حاصل کرنے کا جمیل نستعلیق کا بیان کردہ طریقہ کارآمد ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس سے ترسیمہ جات کی اشکال کی کوالٹی واقعی متاثر ہوگی کیونکہ اس طریقے میں پہلے بٹ میپ جنریٹ کیے جا رہے ہیں اور بعد میں ان سے آؤٹ لائن حاصل کی جا رہی ہے۔ اگر براہ راست ویکٹر ڈیٹا سے ہی ترسیمہ جات کی گلفس حاصل کرنے کا کوئی طریقہ دریافت ہو جائے تو یہ غالباً زیادہ بہتر رہے گا، ورنہ جمیل نستعلیق کا بتایا ہوا طریقہ تو موجود ہے ہی۔

ہمارے طریقے سے بٹ میپس نہیں بلکہ ویکٹر امیجز ہی درآمد ہوتے ہیں۔ کیونکہ ای پی ایس ایک ویکٹر فارمیٹ ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے، جب ان فائلوں کو بٹ فانٹر میں امپورٹ کرکے ایک پری ڈیفائنڈ سرچنگ الگوردھم اپلائی کی جاتی ہے۔ چونکہ وہ الگودرھم مختلف ترسیموں‌کی لمبائی اور چوڑائی کو درست طور پر حل نہیں کر سکتی۔ یوں ایکسپورٹ کرتے وقت ہلکا سا کوالٹی لاس آتا ہے۔
 
یار کیوں‌نہ ہم کسی خطاط سے کشتیاں‌لکھوا کر فونٹ بنائیں‌، !!!!!!!!!!!!!!!!!!
بڑا مشکل کام ہے ؟
اتنا بھی نہیں‌شائد، اگر ہم مل کر کوشش کریں تو ۔
میرے پاس لگیچر کی ایک فائل ہے اس میں 37،38 ہزار لگیچر ہیں‌ان سے کشتیاں نکالی جائیں‌تو ان کی تعداد 16،17 ہزار بنتی ہے،اب اگر ہم یہ کشتیاں‌کسی خطاط سے لکھوائیں‌ تو اس پر کتنا خرچ ہوگا؟
فرض کریں ہم یہ پراجیکٹ شروع کرتے ہیں‌اورتقریباً یہ چھ ماہ میں‌مکمل ہوگا
‌اگر ایک لگیچر 3 سے 5 روپے کا لکھا جائے تو ہمارے پاس اگر 20 ہزار کشتیاں‌ بھی ہوں‌تو خرچ 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ہوگا۔
اگر 10 آدمی ایک ہزار ماہانہ اس میں اپنا حصہ ڈالیں‌( اگر کوئی ایک ساتھ دینا چاہیے تو زیادہ اچھا ہے ورنہ ماہانہ دے دے تاکہ اس پر ایک ساتھ بوجھ نہ پڑے )تو وہ بھی 60 ہزار ہو جائیں‌گے ، اور پندرہ ،سولہ ساتھی ہونے کی صورت میں‌ ایک لاکھ بھی ہو سکتے ہیں‌۔
اگر ہم مکمل ،آزاد اور بہترین کوالٹی کا فونٹ تیار کرنا چاہتے ہیں‌تو میرے خیال میں‌یہ کوئی برا سودا نہیں‌ہے،
اور اگر ہم دو ہندسی ڈونیٹر نہیں‌ڈھونڈ‌سکتے تو پھر میرے خیال میں‌ہمیں‌اسی پر ہی گذارہ کر لینا چاہیے،کیونکہ فری کا مال تو جیسا مل جائے ،اسی پر گذارہ کرنا پڑتا ہے۔
ویسے اگر ساتھی اس میں انٹرسٹڈ ہوں تو ان کیلیے ایک خوشی کی خبر کہ یہ تجویز مذاق مذاق میں‌میں‌نے ایک دوست سے شیئر کی تو اس نے کہا کہ ایک حصہ میری طرف سے بھی رکھ لیں‌(حالانکہ وہ محفل کا ممبر نہیں‌ہے) ، دوسرا تجویز دینے والا اور تیسرا نام کس کا لکھوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
Top