میں پرائیویٹ سکول بنانا چاہتا ہوں

رضا

معطل
خرم بھائی! اس جانب(سکول بنانے کی طرف) میری توجہ نہیں تھی۔ لیکن میرے ایک دوست ہیں اور انکی اہلیہ وہ اسی شعبے کے وابستہ ہيں۔ان کے اکسانے پر یہ کام کرنے کا سوچ رہا ہوں۔بقول ان کے یہ خدمت بھی ہے۔اور معقول آمدن بھی نکل آتی ہے۔
ان کے پاس مزید سکول بنانے کے وسائل نہیں تھے۔اس لئے وہ ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے۔
 

خرم

محفلین
بھیا صرف کسی کے اکسانے پر تعلیم و تدریس کو کاروبار بنانا تو آپ کو بالکل نااہل بنا دیتا ہے اس کام کے کرنے کا۔ میری رائے تو یہی ہے کہ آپ اس کی بجائے کوئی اور کام سوچئے۔
 

ساجد

محفلین
رضا صاحب ، آپ سکول بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے لئیے بنیادی ضرورت ہے کہ بچوں کی جبلت کے قریب بقریب ان کو تعلیم دی جائے۔ تمام ماہرین تعلیم اس بات پہ متفق ہیں کہ بچوں کی بہتر تعلیم کے لئیے کھیل کود اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ کتابیں۔
اگر آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ چند کمروں میں بچوں کو بٹھا کر ان کو تعلیم دی جا سکتی ہے تو یہ خیال ٹھیک نہیں۔ کھیل کے میدان ، ہم نصابی سرگرمیاں اور مختلف اقسام کے تعلیمی و ادبی مقابلوں کے لئیے دڑبہ نما سکول بالکل موزوں نہیں ہیں۔ میں آپ کو بڑی ذمہ داری سے بتا سکتا ہوں کہ کوئی پرائیویٹ سکول کہ جو کھیل کے میدان اور ہم نصابی سرگرمیوں کے لئیے درکار سہولتوں سے عاری ہو وہ بچوں کو تعلیم تو نہیں دے سکتا ہاں ان کی شخصیت نا مکمل رکھنے کا سبب ضرور بنتا ہے۔ میں خود بھی محکمہ تعلیم سے وابستہ رہا ہوں میرے سابقہ کولیگز میں سے بہت سارے خواتین و حضرات پاکستان میں انگلش میڈیم اور امریکن نظام تعلیم کے علم بردار معیاری کہلائے جانے والے سکولوں میں معلم ہیں لیکن میں نے اپنے بیٹے کو سرکاری سکول میں داخلہ دلوایا اور میں مطمئن ہوں۔ وجہ صرف ایک تھی کہ ان پرائیویٹ سکولوں میں بچہ اپنے فطری ماحول سے دور ہو جاتا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ میں ان سکولوں سے کوئی پرخاش رکھتا ہوں لیکن آپ نے چونکہ مشورہ مانگا ہے تو میرا فرض ہے کہ خلوص دل سے سچی بات کہوں۔
اگر آپ ایک مستند معلم ہیں تو آپ کو چاہئیے کہ بجائے اپنا سکول بنانے کے کسی اچھے تعلیمی ادارے میں اپنی خدمات پیش کیجئیے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں سے قوم کے مستقبل کی آبیاری کیجئیے اور اگر آپ معلم نہیں ہیں تو صرف روزی روٹی کے لئیے سکول بنانے کا ارادہ ترک کر دیجئیے۔
ہمارے سرکاری سکولوں میں جو سہولتیں دستیاب ہیں وہ باوجود گورنمنٹ کی غفلت کے پرائیویٹ سکولوں سے بدرجہا بہتر ہیں ۔ اگر ہمارے اساتذہ کرام خلوص ، دلجمعی ، محنت اور ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں پرائیویٹ سکولوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے۔ آپ سے یہی کہنا ہے کہ صلاحیت ہے تو اسے پوری ہمت سے تعلیم پھیلانے کے لئیے استعمال کیجئیے بصورت دیگر سکول مت بنائیں۔
 
Top