ہم کریں گے پیار کا اظہار دیکھا جائے گا غزل نمبر 81 شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین
ہم کریں گے پیار کا اظہار دیکھا جائے گا
وہ کریں اقرار یا انکار دیکھا جائے گا

جانتے ہیں راہ ہے دشوار دیکھا جائے گا
آنکھ ہونے دو صنم سے چار دیکھا جائے گا

چاہے اب ہو راہ میں کوہسار دیکھا جائے گا
ہم گرادیں گے ہر اک دیوار دیکھا جائے گا

جانتے ہیں آپ کے عاشق یہاں ہیں سینکڑوں
ایک انار اور سو بیمار دیکھا جائے گا

چل پڑے ہیں عشق کی اب راہ پر ہم بے خطر

اب مقدر جیت ہو یا ہار دیکھا جائے گا

دیکھتے ہیں کس کی ہوتی ہے یہاں فتح وشکست
حُسن و عشق ہیں برسرِ پیکار دیکھا جائے گا

قیس اور فرہاد بھی کب عشق میں فاتح رہے؟
آپ نہ دل ہاریئے سرکار دیکھا جائے گا

خود کو کچھ قابل بنالوں پھر کروں گا شوق سے
عشق، الفت، چاہ، محبت، پیار، دیکھا جائے گا

دل، جگر، آنکھیں، کلیجہ، سر،سبھی حاضر ہیں اور
ان کے نازک ہاتھ میں تلوار دیکھا جائے گا

بےکسی بتائے گی کہ کون ہیں یہ مخلص لوگ
دوست ہے یا دشمنِ عیار دیکھا جائے گا

حشر میں نہ کام آئے شوکت و مال و متاع
آپ کے اعمال اور کردار دیکھا جائے گا


مشکلیں جتنی بھی ہوں اور آفتیں جیسی بھی ہوں
ہم اگر متحد ہیں تو ہر بار دیکھا جائے گا

آخرت ہے منسلک ہر ایک کی دنیا سے ہی
اس طرف بس خیر ہو اُس پار دیکھا جائے گا

فیصلے ہوتے رہیں گے وقت کی گردش کے ساتھ
جو بھی قسمت میں لکھا ہے یار دیکھا جائے گا


لوگ چاہتے خامشی ہیں تم بھی شارؔق چپ رہو
کیا لگا رکھی ہے یہ تکرار " دیکھا جائے گا "
 

صابرہ امین

لائبریرین
ہم کریں گے پیار کا اظہار دیکھا جائے گا
وہ کریں اقرار یا انکار دیکھا جائے گا

جانتے ہیں راہ ہے دشوار دیکھا جائے گا
آنکھ ہونے دو صنم سے چار دیکھا جائے گا

چاہے اب ہو راہ میں کوہسار دیکھا جائے گا
ہم گرادیں گے ہر اک دیوار دیکھا جائے گا

جانتے ہیں آپ کے عاشق یہاں ہیں سینکڑوں
ایک انار اور سو بیمار دیکھا جائے گا

چل پڑے ہیں عشق کی اب راہ پر ہم بے خطر

اب مقدر جیت ہو یا ہار دیکھا جائے گا

دیکھتے ہیں کس کی ہوتی ہے یہاں فتح وشکست
حُسن و عشق ہیں برسرِ پیکار دیکھا جائے گا

قیس اور فرہاد بھی کب عشق میں فاتح رہے؟
آپ نہ دل ہاریئے سرکار دیکھا جائے گا

خود کو کچھ قابل بنالوں پھر کروں گا شوق سے
عشق، الفت، چاہ، محبت، پیار، دیکھا جائے گا

دل، جگر، آنکھیں، کلیجہ، سر،سبھی حاضر ہیں اور
ان کے نازک ہاتھ میں تلوار دیکھا جائے گا

بےکسی بتائے گی کہ کون ہیں یہ مخلص لوگ
دوست ہے یا دشمنِ عیار دیکھا جائے گا

حشر میں نہ کام آئے شوکت و مال و متاع
آپ کے اعمال اور کردار دیکھا جائے گا


مشکلیں جتنی بھی ہوں اور آفتیں جیسی بھی ہوں
ہم اگر متحد ہیں تو ہر بار دیکھا جائے گا

آخرت ہے منسلک ہر ایک کی دنیا سے ہی
اس طرف بس خیر ہو اُس پار دیکھا جائے گا

فیصلے ہوتے رہیں گے وقت کی گردش کے ساتھ
جو بھی قسمت میں لکھا ہے یار دیکھا جائے گا


لوگ چاہتے خامشی ہیں تم بھی شارؔق چپ رہو
کیا لگا رکھی ہے یہ تکرار " دیکھا جائے گا "
کافی مزے مزے کے اشعار ہیں۔ ماشااللہ
 
عشق، الفت، چاہ، محبت، پیار، دیکھا جائے گا
مصرع وزن میں نہیں۔ چاہ کو آپ نے چہ باندھا ہے۔

بےکسی بتائے گی کہ کون ہیں یہ مخلص لوگ
دوست ہے یا دشمنِ عیار دیکھا جائے گا
پہلا مصرع وزن میں نہیں۔

حشر میں نہ کام آئے شوکت و مال و متاع
آپ کے اعمال اور کردار دیکھا جائے گا
پہلے مصرع میں مستقبل کے بجائے ماضی کی بات کی گئی ہے۔ کام آئے کے بعد 'گی' حذف ہے۔

مشکلیں جتنی بھی ہوں اور آفتیں جیسی بھی ہوں
ہم اگر متحد ہیں تو ہر بار دیکھا جائے
دوسرا مصرع وزن میں نہیں۔
لوگ چاہتے خامشی ہیں تم بھی شارؔق چپ رہو
کیا لگا رکھی ہے یہ تکرار " دیکھا جائے گا "
چاہتے کو آپ نے 'چہتے' باندھا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
خلیل بھائی کے مشوروں کے علاوہ
چاہے اب ہو راہ میں کوہسار دیکھا جائے گا
ہم گرادیں گے ہر اک دیوار دیکھا جائے گا
... کوہسار نہیں، کہسار وزن میں بھی آتا ہے اور لکھا بھی جاتا یے
یہاں ردیف بے معنی لگ رہی ہے

جانتے ہیں آپ کے عاشق یہاں ہیں سینکڑوں
ایک انار اور سو بیمار دیکھا جائے گا
.. دوسرا مصرع بحر سے خارج

چل پڑے ہیں عشق کی اب راہ پر ہم بے خطر
اب مقدر جیت ہو یا ہار دیکھا جائے گا
.. پہلے مصرع کے الفاظ کی ترتیب بدلو

دیکھتے ہیں کس کی ہوتی ہے یہاں فتح وشکست
حُسن و عشق ہیں برسرِ پیکار دیکھا جائے گا
. دوسرے مصرعے میں عشق کا ش یا ق وزن میں نہیں

قیس اور فرہاد بھی کب عشق میں فاتح رہے؟
آپ نہ دل ہاریئے سرکار دیکھا جائے گا
.. نہ کا استعمال
آپ دل مت ہارئیے....
بہتر ہے

حشر میں نہ کام آئے شوکت و مال و متاع
آپ کے اعمال اور کردار دیکھا جائے گا
... وہی نہ! ردیف بھی غلط ہے، جمع کا صیغہ ہونا تھا یہاں یعنی "دیکھے جائیں گے" کا محل ہے
 
Top