تمہاری محبّت ہے درکار مجھ کو-------برائے اصلاح

الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری محبّت ہے درکار مجھ کو
تمہیں بھول جانا ہے دشوار مجھ کو
-------------
میں رہتا تھا چوکس محبّت سے پہلے
کیا ہے اسی نے ہی بیکار مجھ کو
------------
نشہ یہ محبّت کا ایسا چڑھا ہے
بھلایا ہے اپنا ہی گھر بار مجھ کو
-----------
کبھی تم نہ بھولو گے الفت کو میری
یہی تم سے سننا ہے اقرار مجھ کو
----------
یہ کہنا نہ مجھ سے کہ مجبور ہو تم
بہانے سے کرنا نہ انکار مجھ کو
----------
بسی ہے مرے دل میں الفت تمہاری
اسی کا ہی کرنا ہے اظہار مجھ کو
------------
کبھی تم سے چھوٹے نہ رستہ خدا کا
اسی کا ہی کرنا ہے پرچار مجھ کو
-------
ہمیشہ یہ کرتا ہے ارشد دعائیں
بچانا گناہوں سے غفّار مجھ کو
---------------
 

الف عین

لائبریرین
تمہاری محبّت ہے درکار مجھ کو
تمہیں بھول جانا ہے دشوار مجھ کو
------------- درست

میں رہتا تھا چوکس محبّت سے پہلے
کیا ہے اسی نے ہی بیکار مجھ کو
------------ چوکس فصیح لفظ نہیں لگ رہا،... ہشیار الفت سے پہلے... کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا بھی روانی میں کمزور لگتا ہے

نشہ یہ محبّت کا ایسا چڑھا ہے
بھلایا ہے اپنا ہی گھر بار مجھ کو
----------- بھلایا لفظ شاید تم کو پسند ہے جب کہ مجھے یہ بے حد کنفیوزنگ لگتا ہے۔ خاص کر 'مجھ کو' کے ساتھ۔ پہلے مصرع میں بھی نشّہ لاؤ تو درست تلفظ ہو
محبت کا نشّہ کچھ ایسا چڑھا ہے

کبھی تم نہ بھولو گے الفت کو میری
یہی تم سے سننا ہے اقرار مجھ کو
---------- درست

یہ کہنا نہ مجھ سے کہ مجبور ہو تم
بہانے سے کرنا نہ انکار مجھ کو
---------- درست

بسی ہے مرے دل میں الفت تمہاری
اسی کا ہی کرنا ہے اظہار مجھ کو
------------ 'اسی کا ہی' رواں نہیں، 'بس اس کا ہی' کر دو

کبھی تم سے چھوٹے نہ رستہ خدا کا
اسی کا ہی کرنا ہے پرچار مجھ کو
------- یہ دعا ہے یا پرچار؟

ہمیشہ یہ کرتا ہے ارشد دعائیں
بچانا گناہوں سے غفّار مجھ کو
--------------- درست
 
Top