برائے اصلاح: ۔۔۔ مانگنا اچھا لگا

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
اور دیگر اساتذہ کرام

چند ہفتے پہلے میں نے متعدد متفرق اشعار کہے تھے ۔ ان میں سے کچھ اشعار کو ایطا کا سقم دور کرنے کے بعد غزل کی شکل مل گئی تھی۔ باقی اشعار کو بھی غزل کی صورت دینے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ ایک کوشش یہاں اصلاح کے لیے پیش کر رہا ہوں

آہ و زاری کی نہ پہلے مانگنا اچھا لگا
جب پڑی سر پرمُصیبت تو خدا اچھا لگا

دشمنی بھی جس سے کی تو انتہا پر جاکے کی
جو ہمیں اچھا لگا ، بے انتہا اچھا لگا

حسن پر مغرور ہونا بھی سر آنکھوں پر مگر
عاجزی کے بوجھ سے جب وُہ جھکا اچھا لگا

خوش ہوا میرا پڑوسی، حال میرا پوچھ کر
پھول ہمسائے کو مجھ کو بھیجنا اچھا لگا

میں وطن سے ہوں الگ مقبول یہ ممکن نہیں
کیا کبھی ہے گوشت سے ناخن جدا اچھا لگا
 
آہ و زاری کی نہ پہلے مانگنا اچھا لگا
جب پڑی سر پرمُصیبت تو خدا اچھا لگا

قوافی تو درست ہوگئے ہیں۔ مطلعے کے پہلے مصرعے میں ’’کبھی‘‘ کے بغیر مجھے بیان ادھورا سا لگ رہا ہے۔ مزید یہ کہ آہ و زاری سے خدا کے آگے ہاتھ پھیلانے کا مفہوم اتنی اچھی طرح ادا نہیں ہوتا۔
دوسرے یہ کہ دونوں مصرعوں میں فاعل کی کمی محسوس ہو رہی ہے، بہتر ہوگا کہ فاعل کا تذکرہ ہو یا اس کی جانب کوئی اشارہ ہو۔

دشمنی بھی جس سے کی تو انتہا پر جاکے کی
جو ہمیں اچھا لگا ، بے انتہا اچھا لگا
پہلے مصرعے میں تو کا طویل کھنچنا اچھا نہیں۔ اس کے علاوہ ’’اور‘‘ کے ذریعے دنوں مصرعوں کا ربط مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ مثلاً
دشمنی بھی کی اگر ہم نے تو کی بے انتہا
اور جو اچھا لگا، بے انتہا اچھا لگا

حسن پر مغرور ہونا بھی سر آنکھوں پر مگر
عاجزی کے بوجھ سے جب وُہ جھکا اچھا لگا
عاجزی کا بوجھ اچھی ترکیب نہیں لگی ۔۔۔ عاجزی تو قابلِ تعریف صفت ہے، اس کو بوجھ سے تعبیر کرنا نامناسب سا لگتا ہے، واللہ اعلم۔

خوش ہوا میرا پڑوسی، حال میرا پوچھ کر
پھول ہمسائے کو مجھ کو بھیجنا اچھا لگا
بھرتی کا شعر لگتا ہے!

میں وطن سے ہوں الگ مقبول یہ ممکن نہیں
کیا کبھی ہے گوشت سے ناخن جدا اچھا لگا
ایک تو یہ کہ دوسرے مصرعے میں تعقید بہت زیادہ ہے۔ دوسرے یہ اندازِ بیان بھی انتہائی کرخت معلوم ہوتا ہے۔ غزل کی زبان جتنی نفیس ہو، اتنی اچھی ہوتی ہے۔ ہاں اگر علی زریون اور تہذیب حافی وغیرہ کی طرح عوامی واہ واہ مطلوب ہو تو اور بات ہے :)
 

مقبول

محفلین
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
تفصیلی تجزیے اور رہنمائی کے لیے بہت شُکریہ
قوافی تو درست ہوگئے ہیں۔ مطلعے کے پہلے مصرعے میں ’’کبھی‘‘ کے بغیر مجھے بیان ادھورا سا لگ رہا ہے۔ مزید یہ کہ آہ و زاری سے خدا کے آگے ہاتھ پھیلانے کا مفہوم اتنی اچھی طرح ادا نہیں ہوتا۔
دوسرے یہ کہ دونوں مصرعوں میں فاعل کی کمی محسوس ہو رہی ہے، بہتر ہوگا کہ فاعل کا تذکرہ ہو یا اس کی جانب کوئی اشارہ ہو۔
مطلع کچھ تبدیل کیا ہے۔ اب دیکھیے

جب پڑی مجھ پر مُصیبت تو خدا اچھا لگا
کب کسی سے کچھ تھا ورنہ مانگنا اچھا لگا
ہلے مصرعے میں تو کا طویل کھنچنا اچھا نہیں۔ اس کے علاوہ ’’اور‘‘ کے ذریعے دنوں مصرعوں کا ربط مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ مثلاً
دشمنی بھی کی اگر ہم نے تو کی بے انتہا
اور جو اچھا لگا، بے انتہا اچھا لگا
بہت مہربانی۔ ایسے کر دیا ہے

عاجزی کا بوجھ اچھی ترکیب نہیں لگی ۔۔۔ عاجزی تو قابلِ تعریف صفت ہے، اس کو بوجھ سے تعبیر کرنا نامناسب سا لگتا ہے، واللہ اعلم۔
یہ دیکھیے

حسن پر مغرور ہونا بھی سر آنکھوں پر مگر
وُہ مجھے غمخوار سا معصوم سا اچھا لگا
بھرتی کا شعر لگتا ہے!
جی، ہمارے کلچر کے لحاظ سے ایسا محسوس ہو سکتا ہے مگر دنیا میں کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ وہاں ہمسائے کو ہمسائے کا پتہ نہیں ہوتا یا جہاں آبادی محدود ہوتی ہے تو وہاں پر ایسا ہو جاتا ہے۔
کچھ بدلنے کی سعی کی ہے۔ اگر درست نکلا تو مطلع ثانی بنا دوں گا

پھول میرا اس کے بالوں میں سجا اچھا لگا
پھول کو ہی پھول مجھ کو بھیجنا اچھا لگا
ایک تو یہ کہ دوسرے مصرعے میں تعقید بہت زیادہ ہے۔ دوسرے یہ اندازِ بیان بھی انتہائی کرخت معلوم ہوتا ہے۔ غزل کی زبان جتنی نفیس ہو، اتنی اچھی ہوتی ہے۔ ہاں اگر علی زریون اور تہذیب حافی وغیرہ کی طرح عوامی واہ واہ مطلوب ہو تو اور بات ہے
آپ نے علی زریون اور تہذیب حافی کے بارے میں خوب کہا ہے۔ علی زریون کو میں نہیں جانتا ۔ تہذیب حافی کو تھوڑا سا سنا ہے۔ اتفاقاً، جس دن میں نے یہ اشعار اصلاح کے لیے پوسٹ کیے اس سے ایک گھنٹہ پہلے ایک محفل میں کسی نے تہذیب کی شاعری پر آپ کی ہی طرح کا تبصرہ کیا تو تہذیب کے جو چاہنے والے موجود تھے انہوں نے کافی ناک بھوں چڑھائی۔:)

خیر یہ تو بات سے بات نکل آئی۔ میں نے جب شعر میں گوشت سے ناخن جدا ہونے والا محاورہ استعمال کیا تو میرا دھیان اس کی کرختگی کی طرف نہیں گیا۔ آپ کے تبصرے کے بعد میں اس شعر کو نکالنے لگا تھا تو خیال آیا کہ کیوں نہ چیک کر لوں کہ اگر یہ محاورہ کسی شاعر نے پہلے استعمال کیا ہے تو کس طرح کیا ہے۔
کچھ اشعار ملے جن میں غالب اور شیفتہ بھی شامل ہیں

غالب نے کہا

دِل سے مِٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جانا

شیفتہ نے فرمایا

اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا
دل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا

آپ سے مزید رہنمائی چاہتا ہوں

استادِ محترم الف عین صاحب بھی اگر نظرِ عنایت فرمائیں گے تو شکر گُذار ہوں گا
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
تفصیلی تجزیے اور رہنمائی کے لیے بہت شُکریہ

مطلع کچھ تبدیل کیا ہے۔ اب دیکھیے

جب پڑی مجھ پر مُصیبت تو خدا اچھا لگا
کب کسی سے کچھ تھا ورنہ مانگنا اچھا لگا

بہت مہربانی۔ ایسے کر دیا ہے


یہ دیکھیے

حسن پر مغرور ہونا بھی سر آنکھوں پر مگر
وُہ مجھے غمخوار سا معصوم سا اچھا لگا

جی، ہمارے کلچر کے لحاظ سے ایسا محسوس ہو سکتا ہے مگر دنیا میں کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ وہاں ہمسائے کو ہمسائے کا پتہ نہیں ہوتا یا جہاں آبادی محدود ہوتی ہے تو وہاں پر ایسا ہو جاتا ہے۔
کچھ بدلنے کی سعی کی ہے۔ اگر درست نکلا تو مطلع ثانی بنا دوں گا

پھول میرا اس کے بالوں میں سجا اچھا لگا
پھول کو ہی پھول مجھ کو بھیجنا اچھا لگا

آپ نے علی زریون اور تہذیب حافی کے بارے میں خوب کہا ہے۔ علی زریون کو میں نہیں جانتا ۔ تہذیب حافی کو تھوڑا سا سنا ہے۔ اتفاقاً، جس دن میں نے یہ اشعار اصلاح کے لیے پوسٹ کیے اس سے ایک گھنٹہ پہلے ایک محفل میں کسی نے تہذیب کی شاعری پر آپ کی ہی طرح کا تبصرہ کیا تو تہذیب کے جو چاہنے والے موجود تھے انہوں نے کافی ناک بھوں چڑھائی۔:)

خیر یہ تو بات سے بات نکل آئی۔ میں نے جب شعر میں گوشت سے ناخن جدا ہونے والا محاورہ استعمال کیا تو میرا دھیان اس کی کرختگی کی طرف نہیں گیا۔ آپ کے تبصرے کے بعد میں اس شعر کو نکالنے لگا تھا تو خیال آیا کہ کیوں نہ چیک کر لوں کہ اگر یہ محاورہ کسی شاعر نے پہلے استعمال کیا ہے تو کس طرح کیا ہے۔
کچھ اشعار ملے جن میں غالب اور شیفتہ بھی شامل ہیں

غالب نے کہا

دِل سے مِٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جانا

شیفتہ نے فرمایا

اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا
دل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا

آپ سے مزید رہنمائی چاہتا ہوں

استادِ محترم الف عین صاحب بھی اگر نظرِ عنایت فرمائیں گے تو شکر گُذار ہوں گا
محاورہ تو بالکل درست ہے لیکن راحل نے بھی محاورے پر کب اعتراض کیا تھا؟ محض تعقید، جسے میں اکثر مخدوش روانی کا نام دیتا ہوں اور انداز بیان پر خیال ظاہر کیا تھا ۔ روانی تو مجھے
بھی اچھی نہیں لگی
 

الف عین

لائبریرین
جب پڑی مجھ پر مُصیبت تو خدا اچھا لگا
کب کسی سے کچھ تھا ورنہ مانگنا اچھا لگا
پہلے مصرع میں تنافر کے علاوہ 'تو' کا طویل کھنچنا اچھا نہیں۔ دوسرا بھی روانی کی رو سے اچھا نہیں

حسن پر مغرور ہونا بھی سر آنکھوں پر مگر
وُہ مجھے غمخوار سا معصوم سا اچھا لگا
دوسرے مصرعے میں 'بھی' اچھا لگا کی ضرورت ہے۔ مغرور ہونے کے علاوہ، دوسرے مصرعے میں 'غمخوار' تو کوئی نظر نہیں آ سکتا، ہاں، غمگین نظر آ سکتا ہے

پھول میرا اس کے بالوں میں سجا اچھا لگا
پھول کو ہی پھول مجھ کو بھیجنا اچھا لگا
.. دو لخت ہے، 'سنگ دل کوسنگ لے کر سنگ دل' والی بات لگتی ہے!
 

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب

سر، جن قوافی کو پہلے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا انہیں فی الحال ایک طرف رکھ کے غزل کو revamp کیا ہے۔ آپ کو پھر سے اصلاح کی زحمت دے رہا ہوں ۔ شکریہ

کر دیا انکار اس نے برملا اچھا لگا
کہہ گیا میری غریبی کو خطا اچھا لگا
یا
کہہ گیا ہوگی خدا کی یہ رضا اچھا لگا

میں تو مہرہ تھا فقط اک پیار کی شطرنج میں
جس حسیں نے جس بھی گھر میں رکھ دیا اچھا لگا

قتل میرا کر دیا مہندی لگانے کے لیے
ہاتھ اس کا خون میں رنگا ہوا اچھا لگا

دوست چاہے تھا وُہ میرا یا تھا میرا وہ حریف
گاؤں کا پردیس میں جو بھی ملا اچھا لگا

دشمنی بھی کی اگر ہم نے تو کی بے انتہا
اور جو اچھا لگا ، بے انتہا اچھا لگا

ہر کسی کا تھا گریباں جب کسی کے ہاتھ میں
خیر سب کی مانگتا دستِ دُعا اچھا لگا

وُہ جو منکر تھے، نہ جن کو تھا دُعاؤں پر یقیں
جب کوئی مشکل پڑی ،ان کو خدا اچھا لگا

میں وطن سے ہوں الگ مقبول یہ ممکن نہیں
گوشت سے بھی ہے بھلا ناخن جدا اچھا لگا
یا
اس سے ہو جاؤں الگ ،مقبول یہ ممکن نہیں
پھول سے خوشبو کا بھی ہونا جدا اچھا لگا
یا
پھول سے بھی ہو کبھی خوشبو جدا اچھا لگا
 

الف عین

لائبریرین
کر دیا انکار اس نے برملا اچھا لگا
کہہ گیا میری غریبی کو خطا اچھا لگا
یا
کہہ گیا ہوگی خدا کی یہ رضا اچھا لگا
.. پہلا متبادل ہی بہتر ہے لیکن اچھا لگا سے پہلے کوما لگاؤ، کیونکہ 'یہ مجھے اچھا لگا' کی بجائے صرف اچھا لگا اچھا نہیں لگا!

میں تو مہرہ تھا فقط اک پیار کی شطرنج میں
جس حسیں نے جس بھی گھر میں رکھ دیا اچھا لگا
.. پہلے مصرع کی روانی بہتر کی جا سکتی ہے تاکہ 'اک پیار' سے بچ سکو
میں تو اک مہرہ ہی تھا بس پیار....

قتل میرا کر دیا مہندی لگانے کے لیے
ہاتھ اس کا خون میں رنگا ہوا اچھا لگا
... رنگا میں نون معلنہ نہیں، غنہ ہے، اسے 'رگا' تقطیع ہونا تھا

دوست چاہے تھا وُہ میرا یا تھا میرا وہ حریف
گاؤں کا پردیس میں جو بھی ملا اچھا لگا
.. درست

دشمنی بھی کی اگر ہم نے تو کی بے انتہا
اور جو اچھا لگا ، بے انتہا اچھا لگا
... درست

ہر کسی کا تھا گریباں جب کسی کے ہاتھ میں
خیر سب کی مانگتا دستِ دُعا اچھا لگا
درست

وُہ جو منکر تھے، نہ جن کو تھا دُعاؤں پر یقیں
جب کوئی مشکل پڑی ،ان کو خدا اچھا لگا
... اگر 'ان کو بھی خدا...' لا سکو تو بہتر ہے

میں وطن سے ہوں الگ مقبول یہ ممکن نہیں
گوشت سے بھی ہے بھلا ناخن جدا اچھا لگا
یا
اس سے ہو جاؤں الگ ،مقبول یہ ممکن نہیں
پھول سے خوشبو کا بھی ہونا جدا اچھا لگا
یا
پھول سے بھی ہو کبھی خوشبو جدا اچھا لگا
.... پہلا متبادل ہی بہتر لگ رہا ہے
 

مقبول

محفلین
کر دیا انکار اس نے برملا اچھا لگا
کہہ گیا میری غریبی کو خطا اچھا لگا
یا
کہہ گیا ہوگی خدا کی یہ رضا اچھا لگا
.. پہلا متبادل ہی بہتر ہے لیکن اچھا لگا سے پہلے کوما لگاؤ، کیونکہ 'یہ مجھے اچھا لگا' کی بجائے صرف اچھا لگا اچھا نہیں لگا!

میں تو مہرہ تھا فقط اک پیار کی شطرنج میں
جس حسیں نے جس بھی گھر میں رکھ دیا اچھا لگا
.. پہلے مصرع کی روانی بہتر کی جا سکتی ہے تاکہ 'اک پیار' سے بچ سکو
میں تو اک مہرہ ہی تھا بس پیار....

قتل میرا کر دیا مہندی لگانے کے لیے
ہاتھ اس کا خون میں رنگا ہوا اچھا لگا
... رنگا میں نون معلنہ نہیں، غنہ ہے، اسے 'رگا' تقطیع ہونا تھا

دوست چاہے تھا وُہ میرا یا تھا میرا وہ حریف
گاؤں کا پردیس میں جو بھی ملا اچھا لگا
.. درست

دشمنی بھی کی اگر ہم نے تو کی بے انتہا
اور جو اچھا لگا ، بے انتہا اچھا لگا
... درست

ہر کسی کا تھا گریباں جب کسی کے ہاتھ میں
خیر سب کی مانگتا دستِ دُعا اچھا لگا
درست

وُہ جو منکر تھے، نہ جن کو تھا دُعاؤں پر یقیں
جب کوئی مشکل پڑی ،ان کو خدا اچھا لگا
... اگر 'ان کو بھی خدا...' لا سکو تو بہتر ہے

میں وطن سے ہوں الگ مقبول یہ ممکن نہیں
گوشت سے بھی ہے بھلا ناخن جدا اچھا لگا
یا
اس سے ہو جاؤں الگ ،مقبول یہ ممکن نہیں
پھول سے خوشبو کا بھی ہونا جدا اچھا لگا
یا
پھول سے بھی ہو کبھی خوشبو جدا اچھا لگا
.... پہلا متبادل ہی بہتر لگ رہا ہے
محترم الف عین صاحب

سر، بہت شُکریہ

قتل میرا کر دیا مہندی لگانے کے لیے
ہاتھ اس کا خون میں رنگا ہوا اچھا لگا
... رنگا میں نون معلنہ نہیں، غنہ ہے، اسے 'رگا' تقطیع ہونا تھا
سر، رنگ کی تقطیع پر میں بہت کنفیوز ہوں۔ میں بھی رنگ کو فا اور رنگا کو فعَل کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن اردو محفل میں ایک دھاگے میں اساتذہ نے فرمایا ہے کہ رنگ فارسی کا لفظ ہے جس میں ن ناطق ہے ۔ اس لیے رنگ کی تقطیع فعࣿل کے طور پر ہو گی فا کے طور پر نہیں۔ اس طرح رنگا فعلن ہو جائے گا۔ عروض بھی رنگا کی تقطیع فعلن کے طور پر ہی کرتی ہے

سر، آپ فرمائیے اب کیا کروں۔

وُہ جو منکر تھے، نہ جن کو تھا دُعاؤں پر یقیں
جب کوئی مشکل پڑی ،ان کو خدا اچھا لگا
... اگر 'ان کو بھی خدا...' لا سکو تو بہتر ہے
یہ دیکھیے

وُہ جو منکر تھے، نہ جن کو تھا دُعاؤں پر یقیں
جب پڑی مشکل تو ان کو بھی خدا اچھا لگا
 

الف عین

لائبریرین
خدا والا شعر بہتر ہو گیا
رنگ ضرور فارسی کا لفظ ہے جسے ہندی اردو میں اپنا لیا گیا ہے۔ رنگ جب بطور فارسی لفظ استعمال ہو جیسے رنگِ سخن، رنگ و نور، تو فاع تقطیع ہو گا لیکن اس کے ہندی مشتق جیسے رنگا، رنگائی، رنگنا، یہ سب معلنہ ن کے ساتھ ہوں گے۔ رنگ اور رنگا کو دو الگ الگ الفاظ کے طور پر سلوک کرنا چاہیے
 

مقبول

محفلین
خدا والا شعر بہتر ہو گیا
رنگ ضرور فارسی کا لفظ ہے جسے ہندی اردو میں اپنا لیا گیا ہے۔ رنگ جب بطور فارسی لفظ استعمال ہو جیسے رنگِ سخن، رنگ و نور، تو فاع تقطیع ہو گا لیکن اس کے ہندی مشتق جیسے رنگا، رنگائی، رنگنا، یہ سب معلنہ ن کے ساتھ ہوں گے۔ رنگ اور رنگا کو دو الگ الگ الفاظ کے طور پر سلوک کرنا چاہیے
محترم الف عین صاحب
سر، بہت شکریہ

یعنی رنگا، رنگائی میں ن کو غنہ سمجھا جائے

رنگا والے شعر کو درست کرتا ہوں
 
Top