آن لائن ڈائری لکھیں!!!

سیما علی

لائبریرین
قال علی علیہ السلام:التوبة علی اربعة دعائم :ندم بالقلب ، استغفار باللسان وعمل بالجوارح وعزم ان لا یعود ( ۸)

ترجمہ:

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
حقیقت توبہ چار ستونوں پر استوار ھے :
  • دل سے پشیمان ھونا،
  • زبان سے استغفار کرنا ،
  • اعضاء کے عمل کے ذریعے اور
  • دوبارہ ایسا گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا ۔
 

شمشاد

لائبریرین
ایک اچھی چیز کی تلاش میں تو زندگی گزاری جا سکتی ہے بہ نسبت اس کے کہ بُری چیز کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔
 
ایک دوست اپنے دوسرے دوست کے پاس گیا اور اپنی مشکلات کا اظہار کر کے کچھ رقم کا تقاضا کیا۔ دوست نے فوراً سے پیشتر اس کی ضرورت پوری کر دی۔ وہ رقم لے کر چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد یہ رونے لگا۔ اس کی بیوی نے کہا کہ جب تمہیں یہ معلوم تھا کہ یہ رقم ڈوب جائے گی، واپس نہیں ملے گی، تو تم انکار کر دیتے۔ اسے رقم نہ دیتے۔

اس نے کہا، "میں اس لیے نہیں رہ رہا کہ میری رقم واپس ملے گی یا نہیں ملے گی، بلکہ اس لیے رو رہا ہوں کہ میرے دوست کے حالات اس نہج پر آ گئے اور مجھے اس کا علم ہی نہیں۔"
بہت خوب... خواب غفلت میں سوئے ہوئے معاشرےکی عکاسی ہے.
 
ایک دوست اپنے دوسرے دوست کے پاس گیا اور اپنی مشکلات کا اظہار کر کے کچھ رقم کا تقاضا کیا۔ دوست نے فوراً سے پیشتر اس کی ضرورت پوری کر دی۔ وہ رقم لے کر چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد یہ رونے لگا۔ اس کی بیوی نے کہا کہ جب تمہیں یہ معلوم تھا کہ یہ رقم ڈوب جائے گی، واپس نہیں ملے گی، تو تم انکار کر دیتے۔ اسے رقم نہ دیتے۔

اس نے کہا، "میں اس لیے نہیں رہ رہا کہ میری رقم واپس ملے گی یا نہیں ملے گی، بلکہ اس لیے رو رہا ہوں کہ میرے دوست کے حالات اس نہج پر آ گئے اور مجھے اس کا علم ہی نہیں۔"
بہت خوب... خواب غفلت میں سوئے ہوئے معاشرےکی عکاسی ہے.
 

سیما علی

لائبریرین
اما م جعفر صادق علیہ السلام علی ابن عثمان ہجویری کی نظر میں:
علی ابن عثمان نے امام ؑکے بارے میں کہا:آپ سنت الٰہی کی تلوار،اللہ کاراستہ،معرفت خدا کاوسیلہ،نیک سیرت،آپ کا ظاہر وباطن یکسان تھا،آپ کے علوم اور افکارعلماء سلف وخلف میں مشہور ہیں۔
مروی ہے کہ دائود طائی ایک مرتبہ اما مؑ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: مولا مجھے نصیحت فرمادیجئے میرا دل سیاہ ہوچکاہے۔
امامؑ نے فرمایا: اے ابو سلیمان! تم خود اس زمانے کے سب سے بڑے زاہد ہو تمہیں نصیحت کی کیا ضرورت ہے ؟ابوسلیمان نے عرض کیا: اے فرزند رسول آپ مخلوقات عالم پر فوقیت رکھتے ہیں اور آپ پر واجب ہے کہ ہم کو نصیحت فرمائیں۔امامؑ نے فرمایا:اے ابوسلیمان مجھے ڈر ہے کہ کہیں روزقیامت میرےجدمجھ سے سوال نہ کریں کہ تم نے حق کی پیروی کیوں نہیں کی؟توابو سلیمان نے کہا کہ اے پروردگار جس شخص کی خلقت میں آب نبوت استعمال کیا گیا اور جو دنیا میں سب سے بلند ہےجب اس کا یہ حال ہے تو میری کیا حیثیت ہے۔
(کشف المحجوب۔۱۳۸۴۔ص۱۱۶۔۱۱۸)
 
پہلے جب ہم چوری چپکے کہانیاں یا ڈائجسٹ پڑھتے تو درسی کتاب کھول کر اس کے بیچ رکھ دیتے. اج کل بچے موبائل فون رکھتے ہیں.
ماں نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا کتاب سے روشنی کس چیز کی آرہی ہے؟
بیٹا بولا. ماں جی!علم کی روشنی ہے.
 

سیما علی

لائبریرین
پہلے جب ہم چوری چپکے کہانیاں یا ڈائجسٹ پڑھتے تو درسی کتاب کھول کر اس کے بیچ رکھ دیتے. اج کل بچے موبائل فون رکھتے ہیں.
ماں نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا کتاب سے روشنی کس چیز کی آرہی ہے؟
بیٹا بولا. ماں جی!علم کی روشنی ہے.
یہ تو پروفیسر صاحب آپکی ہماری والی عادت ہے ہم نے تو چاند کی روشنی میں کتابیں پڑھیں ہیں :):) اماّں کی ڈانٹ سے بچنے کے لئیے۔۔
 
اج کل دن بدن ٹھنڈ میں اضافہ ہو رہا ہے. کمبل اور رضائیاں پیٹیوں سے گرم کپڑوں اور جرسیوں کےساتھ نکل کے آ رہی ہیں.
ہم لوگوں کی نورانیت میں اتنا اضافہ ہوگیا ہے کہ رات کو کمبل،رضائیوں اور تکیوں کے نیچے سے بھی روشنی باہر نظر آتی ہے.
 

سیما علی

لائبریرین
علامہ اقبال ؒنے خود شناسی کو خودی سے تعبیر کیا ہے اور اپنی تحریروں میں جا بجا لفظ خودی کی تشریح فرمائی۔ انھوں نے غرور و تکبر کی بجائے اس لفظ سے مراد احساسِ نفس اور تعیّنِ ذات کے مفہوم کا احاطہ کیا۔

فرماتے ہیں:

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں
جو ناز ہو بھی، تو بے لذّتِ نیاز نہیں

’’اقبال کے ہاں خودی کا تصور درحقیقت قرآن کریم کے نیابتِ الٰہی کے تصور کا آئینہ ہے۔ خدا کی ذات لامتناہی قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ خدا کی مشیت اور قوتوں کے سامنے خاک و افلاک، ذرہ و خورشید، سب سربسجود ہیں۔ قرآنِ کریم میں جس نصب العینی آدم کا تصور پیش کیا گیا ہے وہ بھی مسجودِ ملائک ہے۔ اس ظاہری تضاد سے توحید میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ جب کسی بادشاہ کا وزیر یا نائب پوری طرح سے اس کی سیاست کو سمجھنے والا اور تہِ دل سے اس کے احکام کو بجا لانے والا ہو تو اگرچہ سرچشمۂ اقتدار بادشاہ ہوتا ہے لیکن رعایا کو نائب کی اطاعت اس طرح کرنی پڑتی ہے جس طرح بادشاہ کی۔ انسان کا نصب العین یہ ہے کہ شمس و قمر، شجر و حجر اور کائنات کی وہ قوتیں جنھیں ملائکہ کہتے ہیں، سب کے سب اس کے لیے مسخر ہوں اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مشیتِ ایزدی کے عرفان سے اپنی خودی کو استوار کرتا چلا جائے۔ اس کی قوتِ تسخیر کی کوئی حد نہ ہوگی۔ نباتات و حیوانات اور اجرا مِ فلکیہ پر اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ ملائکہ، انبیا اور آخر میں خدا کے ساتھ ہم کنار ہو سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
مولائے کائنات امام ابن ابی طالب علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ:
*♦خداوند عالم نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہیں کریں گے♦
* نہج البلاغہ #حکمت_نمبر 467
مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ
 
آخری تدوین:
"تلخ حقیقت“

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟

جواب۔۔۔۔۔۔

میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔

۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بولتے ہیں۔۔

ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (سواگہ) لگایا کرتے تھے۔۔

(سلیٹ) پر سیاہی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (سیل کا سکہ) استمعال کرتے تھے۔

اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہ صرف عید پر لیتے تھے۔

اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔

کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے۔۔

جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔

اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا۔۔

گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے۔۔

آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ھے۔۔

مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ھے۔ ۔

آج تو اسکول کے بچوں کے ہفتے کے سات دنوں کے سات جوڑے استری کر کے گھر رکھے ہوتے ہیں۔ ۔

روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں۔

آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں۔۔

ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی۔۔

آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل،کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا،گلے میں سونے کی زنجیر ہاتھ پہ گھڑی۔۔

غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...

آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ھے..

اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ھے میں
غریب ہوں۔

*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے.*

ہم ناشکرے ہوگئے ہیں

(کاپی)
 
دو ماہ سے کوئی میرے دروازے پر روزانہ کچرا پھینک کر چلا جاتا، بڑی کوشش کے باوجود وہ پکڑ میں نہیں آیا.
اہلیہ نے کہا کہ یقیناً یہ محلے کا کوئی ایسا بندہ ہے جو فجر کی نماز باقاعدگی سے پڑھتا ہوگا اور مسجد جاتے ہوئے یہ کارنامہ سرانجام دیتا جاتا ہوگا، اب مسئلہ تھا میرا اپنا، میں پکا نہیں کچا مسلمان تھا.
روزانہ دس بجے اٹھ کر فجر قضا پڑھا کرتا تھا، بیس دن قبل میں نے اہلیہ سے فجر میں اٹھانے کا کہا تو اہلیہ حیران کہ یہ آج سورج مشرق کے بجائے مغرب سے کیسے نکل رہا ہے، خیر انہوں نے مجھے اگلے روز فجر کے وقت اٹھادیا. میں نے اٹھتے ہی کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا تو دروازے پر کچرا موجود نہیں تھا.
فٹافٹ وضو کیا کھڑکی کے پاس ہی مصلیٰ بچھایا اور دو رکعت سنت کھٹاکھٹ پڑھ کر پھر سے جھانک کر دیکھا تو کچرا دروازے پر پڑا میرا منہ چڑارہا تھا.
خیر پھر دو رکعت فرض پڑھ کر دوبارہ سوگیا. اگلے دن سنت کے بجائے فرض پڑھتے کچرا پھینک دیا گیا. چار دن اسی طرح گزرگئے لیکن کچرا پھینکنے والے کو پکڑ نہیں پایا. پانچویں دن اہلیہ کہنے لگیں، ماشاءاللہ آپ اب فجر کی نماز پڑھنے لگے ہیں تو مسجد میں باجماعت نماز پڑھ لیا کیجیے، بات دل کو لگی، اور پانچویں دن سنت گھر میں پڑھ کر جماعت سے پندرہ منٹ پہلے دروازے پر کرسی لگا کر بیٹھ گیا اور محلے کے نمازی حضرات کو آتے دیکھنے لگا کہ کس نمازی کے ہاتھ میں کچرے کا شاپر ہے لیکن افسوس سارے خالی ہاتھ آتے دکھائی دیے، نماز پڑھ کر آیا تو دروازے پر کچرا موجود نہیں تھا-
ایک ہفتے مسلسل پابندی سے باجماعت نماز پڑھنے کے بعد میں نے اہلیہ سے کہا، بیگم اب کچرا پھینکنے والا شاید ڈر گیا ہے جب ہی کچرا نہیں پھینک رہا. اب آپ مجھے فجر کے وقت نہیں اٹھانا، اہلیہ کچھ نہیں بولیں. اگلے دن اہلیہ نے تو مجھے نہیں اٹھایا، البتہ میری خود آنکھ کھل گئی. کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو کچرا دروازے پر موجود تھا. ٹائم دیکھا تو فجر کا وقت تو باقی تھا لیکن جماعت نکل چکی تھی. اب اگلے دن پھر وہی معمول تھا-
دو ہفتے مسلسل فجر کی نماز باجماعت پڑھتا رہا اور دروازہ صاف ستھرا ملتا رہا. دو ہفتے بعد اب میری جماعت سے فجر کی نماز پڑھنے کی عادت ہوچکی تھی -
دو دن قبل رات کے کھانے میں اس کچرا پھینکنے والے کا ذکر آگیا. میں اسے برابھلا کہنے لگا، علی بولا، ابو آپ اسے برا تو نا کہیں بلکہ وہ تو آپ کا محسن ہے جس کی وجہ سے آپ فجر کی نماز باجماعت پابندی سے پڑھنے لگے ہیں؛؛ علی کی بات سن کر میرے دماغ کو جھٹکا سا لگا، اور سب کو غور سے دیکھنے لگا-
مجھے یوں اپنی طرف دیکھتے ہوئے سارے ہنسنے لگے، عمر کہنے لگا، ابو آپ کی وہ محسن اور کوئی نہیں بلکہ امی ہیں.
آپ امی کا شکریہ ادا کیجیے-
میں نے اہلیہ کو دیکھا تو کہنے لگیں،
جب گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو ٹیڑھی انگلی سے نکالنا پڑتا ہے -
 

بزم خیال

محفلین
زندگی ایک گھورکھ دھندہ ہے لفظوں کی بناوٹ کا، پلکوں کی جنبش کا، زبان کی حلاوٹ کا، آنکھوں کے انتظار کا،سوچ کے غبار کا، بھوک و پیاس کے اوقات کا اور سانس سے گردش خون کی روانی کا۔
کسی کے لئے بند آنکھوں کے بعد دنیا ختم ہوتی ہے اور کسی کے لئے کھلی آنکھوں میں۔
 
ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ .ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ 10 ﺻﻔﺎﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ وه بزرگی تک پہنچ جاتا ہے۔

1- ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻌﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺑﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

2- ﮐﺘﺎ ﺍﮐﺜﺮ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

3- ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺘﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻏﺎﻟﺐ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺭﺍﺿﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

4-ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﮧ ﺻﺎﺩﻗﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

5- ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﯿﻨﺘﺎ، ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

6-ﺟﺐ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺭ ﺟﻮﺗﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺩﻧﯽٰ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﻓﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

7- ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﭘﮭﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭨﮑﮍﺍ ﮈﺍﻝ ﺩﮮ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺁ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﺧﺎﺷﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ

8- ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﮐﻠﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

9- ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺤﺒﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

10- ﺟﺐ ﻣﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﯾﮧ ﺯﺍﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
 
ساگ اصل میں گھاس ہی تھا...
ہندوستانیوں نے جب یہ گھاس پکا کر چکھی تو بہت اچھی لگی...
لیکن کوئی پوچھتا کہ کیا کھایا ہے؟ تو بتاتے ہوئے شرم آتی کہ ہم نے گھاس کھائی ہے..
چنانچہ ایک دن ایک دانا بابا جی نے کچھ دیر غوروفکر کے بعد لفظ گھاس کو الٹ دیا...
اب اس کا نام ساگھ پڑ گیا...
پھر زمانے کے گزرنے کے ساتھ نام میں تخفیف ہوئی تو ساگھ سے ساگ ہو گیا...
اج کل یہ ایک معزز سبزی کے طور پر کھایا جاتا ہے... جبکہ اسکی اصل وہی ہے جو پہلی سطر میں مذکور ہے.
 
ایک دِن میں محلے میں باورچی کے پاس بیٹھا تھا ، دِل بہت بے چین تھا ، میں نے باورچی سے سوال کیا :

یار میں نمازیں پڑھتا ہوں ، روزے رکھتا ہوں ، کوئی بُرا کام نہیں کرتا ، پھر بھی تنگدستی رہتی ہے ، رب کے ہاں بات نہیں بنتی ،

باورچی کہنے لگا : باؤ جی ذرا ہنڈیا پکا لیں پھر اِس پر بات کرتے ہیں ، یہ کہہ کر باورچی نے ہنڈیا چولہے پر رکھی ، پیاز ڈالا ، لہسن ڈالا ، ٹماٹر نمک مرچ مصالحہ سب کچھ ڈال کر میرے پاس آ کر بیٹھ گیا ، اور باتیں کرنے لگا ، باتیں کرتے کرتے اچانک میری نظر چولہے پر پڑی ، دیکھا باورچی آگ جلانا بُھول گیا ، میں نے اُسکی توجہ دلائی ،تو کہنے لگا ، باؤ جی ہنڈیا میں سب کچھ تو ڈال دیا ہے پَک جائے گی ، میں نے کہا آگ نہیں جلائی تو ہنڈیا کیسے پَک جائے گی ؟ جواب میں کہنے لگا ، باؤ جی جس طرح ہنڈیا میں سب کچھ موجود ہونے کے باوجود آگ لگائے بغیر ہنڈیا نہیں پَک سکتی بالُکل اسی طرح نماز ، روزہ ، زکواہٌ ، خیرات کرنے سے اُس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہو گا جب تک اپنے وجود کوتقویٰ اور پرہیزگاری کی آگ پر نہیں چڑھاؤ گے اور یہ آگ آپکے ضمیر اور کردار نے لگانی ہے ،

غُصہ ، غیبت ، حِرص ، منافقت ، ہوس اور بُغض سے جان چھڑاؤ ، اپنی ذات کو مخلوق کی خدمت کا تڑکا لگاؤ تب جا کر وجود کی ہنڈیا پَکے گی ، پھر بات بنے گی پھر اللہ سے رابطہ ہو گا

ربِ کریم سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کے دینی و دُنیاوی معاملات سیدھے رکھے. امین
 
Top