کبھی ہم بھی خوبصورت تھے

محمداحمد

لائبریرین
نیلم آپا..........کیا چیز شئیر کر دی آپ نے...........
اندازہ لگائیے ....لوگ آزاد نظم اور نثری نظم کو عجب نطروں سے دیکھتے ہیں..........احمد شمیم بھارت کا ایک نیم گمنام شاعر.........دور جدید کے بڑے بڑے غزل گو ، جو پینتیس پینتیس کتابیں شائع کروا چکے ہیں.....................شاید اُن کے کل کلام میں سے ایک شعر بھی ایسا نہ نکلے، جو سچا شعر کہلانے کا حق رکھتا ہے............
اور نیرہ نور...........سبحان اللہ...........

تو ہم کہتے تھے۔۔۔ ۔۔امی!
تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں
ناسٹلجیا اور سچے شعر کی گندھی کیفیت..........طاری ہو تو جی چاہے.........اسی نشہ میں آدمی پڑا رہے..............
ایک لائن بھی کسی کو نصیب میں مل جائے تو .......کیا نصیب ہیں
کیا کہا تھا کراچی کے شاعر نے
کوئی قہر نہیں، کوئی مہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا..............

میں نے یہ جانا کہ گویا "یہ سب" بھی میرے دل میں تھا۔۔۔۔!

ایک ایک بات سے متفق ہوں اور اب الگ سے تبصرے کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اتنی مشہور نظم کا اتنا مشہور مصرع تو غلط نہیں لکھنا چاہئے ۔ بلکہ یہاں تو عنوان بھی غلط لکھا گیا ہے ۔ درست مصرع یوں ہے : کبھی ہم خوبصورت تھے
"کبھی ہم بھی خوبصورت تھے" کہنے سے نہ صرف یہ کہ مصرع وزن سے خارج ہوجاتا ہے بلکہ اس کے معنی بھی آسمان سے پاتال میں جاگرتے ہیں ، انتہائی بدصورت ہوجاتے ہیں ۔
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی
خوشبو کی صورت
سانس ساکن تھی
بہت سے ان کہے لفظوں سے
تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے
لوگوں کو سناتے تھے
جو ہم سے دور تھے
لیکن ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ
آنگن میں اترتی تھی
تو ہم کہتے تھے
امی تتلیوں کے پر
بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت
رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
احمد شمیم
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ریت پر سفر کا لمحہ!

کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی
خوشبو کی صورت
سانس ساکن تھی
بہت سے ان کہے لفظوں سے
تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے
لوگوں کو سناتے تھے
جو ہم سے دور تھے
لیکن ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ
آنگن میں اترتی تھی
تو ہم کہتے تھے
امی تتلیوں کے پر
بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت
رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
احمد شمیم

بہت شکریہ پوری نظم پوسٹ کرنے کا ۔ صرف اس کے پہلے مصرع اور عنوان ہی میں غلطی تھی ۔ لفظ "بھی" زائد تھا ۔
لیکن اس نظم کا عنوان "ریت پر سفر کا لمحہ" نہیں بلکہ اس کی پہلی سطر ہی اس کا عنوان ہے ۔ "ریت پر سفر کا لمحہ" تو احمد شمیم کے شعری مجموعے کا نام ہے کہ جس میں یہ نظم موجود ہے ۔
 
Top