غزل

ناصر عزیز

محفلین
عشق جس کو جناب ہوتا ہے
اس کا خانہ خراب ہو تا ہے
عقل پر سو نقاب پڑتے ہیں
حسن جب بے نقاب ہوتا ہے
جن کی قسمت خراب ہو جائے
ان کا اچھا خراب ہوتا ہے
اک قیامت ہے ان سے ملنا بھی
اگلا پچھلا حساب ہوتا ہے
میرے دل میں سوال اٹھتے ہیں
ان لبوں پر جواب ہوتا ہے
گفتگو جاہلوں سے کرنا بھی
بس خدا کا عذاب ہوتا ہے
ہم نے ناکام ہوتے دیکھے ہیں
خود کا جب احتساب ہوتا ہے
جس سے اللہ ہو گیا راضی
بس وہی کامیاب ہوتا ہے
جس نے عزت سڑک پہ جا پھینکی
پھر وہ عزت مآب ہوتا ہے
مسکراتا ہے اک بزرگ عزیز
ذکرِ عہدِ شباب ہوتا ہے

ناصر عزیز ایڈوکیٹ
 
عشق جس کو جناب ہوتا ہے
اس کا خانہ خراب ہو تا ہے
عقل پر سو نقاب پڑتے ہیں
حسن جب بے نقاب ہوتا ہے
جن کی قسمت خراب ہو جائے
ان کا اچھا خراب ہوتا ہے
اک قیامت ہے ان سے ملنا بھی
اگلا پچھلا حساب ہوتا ہے
میرے دل میں سوال اٹھتے ہیں
ان لبوں پر جواب ہوتا ہے
گفتگو جاہلوں سے کرنا بھی
بس خدا کا عذاب ہوتا ہے
ہم نے ناکام ہوتے دیکھے ہیں
خود کا جب احتساب ہوتا ہے
جس سے اللہ ہو گیا راضی
بس وہی کامیاب ہوتا ہے
جس نے عزت سڑک پہ جا پھینکی
پھر وہ عزت مآب ہوتا ہے
مسکراتا ہے اک بزرگ عزیز
ذکرِ عہدِ شباب ہوتا ہے

ناصر عزیز ایڈوکیٹ
اس خوبصورت غزل کے ساتھ اردو محفل فورم پر خوش آمدید۔ عمدا!
 
Top