آزادیِ نسواں۔۔۔ آخری حد کیا ہے؟؟؟

محمد سعد

محفلین
3 - آپ نے ذكر كيا ہے كہ آپ ملازمت اور تدريس يا پڑھائى كي رغبت اور قدرت ركھتى ہيں، تو يہ ايك اچھى چيز ہے، شائد آپ اسے اللہ تعالى كى اطاعت ميں صرف كريں، وہ اس طرح كہ سابقہ اصولوں اور ضوابط كو سامنے ركھتے ہوئے اپنے گھر يا اسلامك سينٹر ميں آپ مسلمان لڑكيوں كو تعليم ديں، يا ايسا كام كريں جو آپ كو بھى اور آپ كے خاندان كو بھى فائد دے، مثلا سلائى كڑھائى وغيرہ كريں، جو آپ كے ليے فراغت اور اكتاہٹ كے احساس سے نكلنے كا باعث اور وسيلہ ہو گا.

اور اسى طرح آپ كے ليے يہ بھى ممكن ہے كہ آپ كسى اوپن اسلامى يونيورسٹى سے التحاق كرليں، جو آپ كو گھر بيٹھے تعليم حاصل كرنے كى سہولت دے، تا كہ آپ علم اور فقہ حاصل كر سكيں، اور اس كے ساتھ ساتھ اس ميں اللہ تعالى كے ہاں قدر و منزلت اور اجروثواب بھى حاصل ہو.

كيونكہ شرعى علم حاصل كرنے والے طالب علم كے ليے فرشتے اپنے پر پھيلاتے ہيں، اور عالم دين كے ليے آسمان و زمين ميں پائى جانے والى ہر چيز دعاء استغفار كرتى ہے، حتى كہ پانى ميں رہنے والى مچھلياں بھى، جيسا كہ ترمذى كى حديث نمبر ( 2682 ) اور سنن ابو داود كى حديث نمبر ( 3641 ) اور سنن نسائى كى حديث نمبر ( 158 ) اور سنن ابن ماجۃ كى حديث نمبر ( 223 ) ميں بيان ہوا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اس حديث كو صحيح ترمذى ميں صحيح قرار ديا ہے.

یعنی کہ علماء خواتین کے کسی مفید کام یا روزگار سے وابستہ ہونے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ معلومات میں اضافے کا شکریہ۔
 

عدنان عمر

محفلین
جو حکم الٰہی خصوصا رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات کیلئے اترا ہے وہ تمام مومنین کی ازواج پر لاگو نہیں ہوتا۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت کیجیے کہ (آپ کی دانست میں) کون کون سے احکامات صرف ازواجِ مطہرات پر اترے تھے اور دیگر مومنات ان کی پابند نہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت کیجیے کہ (آپ کی دانست میں) کون کون سے احکامات صرف ازواجِ مطہرات پر اترے تھے اور دیگر مومنات ان کی پابند نہیں۔
یہاں میری بات نہیں ہو رہی۔ اس حکم الٰہی کی ہو رہی ہے جو رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرہ سے متعلق ہے۔ اور جسے علما کرام نے زبردستی تمام مومنین کی ازواج پر لاگو کر دیا ہے۔
اگرچہ اس آيت ميں خطاب تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ازواج مطہرات كو ہے
اسی رسول کی بیبیوں کو اللہ تعالی نے واضح حکم دے دیا تھا
 

عدنان عمر

محفلین
یعنی کہ علماء خواتین کے کسی مفید کام یا روزگار سے وابستہ ہونے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ معلومات میں اضافے کا شکریہ۔
2 - اگر مندرجہ ذيل اصول اور ضوابط پائے جائيں تو عورت كے ليے ملازمت اور پڑھانا جائز ہے:

- يہ كام اور ملازمت عورت كى طبيعت اور اس كى تكوين اور خلقت كے موافق ہو، مثلا طب، اور تيمار دارى، اور تدريس، اور سلائى كڑھائى وغيرہ.

- يہ كہ عورت كا كام صرف عورتوں كے متعلق ہى ہو، جس ميں مرد و عورت كا اختلاط نہ پايا جائے، لھذا عورت كے ليے مخلوط سكول جس ميں لڑكے اور لڑكياں اكٹھى تعليم حاصل كر رہے ہوں پڑھانا جائز نہيں ہے.

- عورت اپنے كام ميں شرعى پردے كا اہتمام كرے.

- اس كى ملازمت اور كام اسے بغير محرم سفر كرنے كى طرف نہ لے جاتا ہو.

- عورت كا كام كاج اور ملازمت كى طرف نكلتےہوئے كسى حرام كام كا ارتكاب نہ ہوتا ہو، مثلا ڈرائيور كے ساتھ خلوط، يا خوشبو لگانا جے اجنبى مرد سونگھيں.

- يہ كہ اس ملازمت اور كام ميں اپنے واجبات ميں سے كسى چيز كا ضياع نہ ہوتا ہو، مثلا گھر كى ديكھ بھال، اور اپنے خاوند اور اولاد كے كام وغيرہ كرنا.
یاد رکھنے کی بات۔
اور يہ ياد ركھيں كہ معصيت و نافرمانى كے علاوہ ہر كام ميں خاوند كى اطاعت و فرمانبردارى واجب ہے، تو اس بنا پر اگر خاوند اپنى بيوى كو كہتا ہے كہ وہ ملازمت يا پڑھائى كے ليے نہ جائے تو بيوى كو اس كى بات تسليم كرنى واجب ہے، اور اسى ميں اس كى سعادت اور كاميابى بھى ہے.
 

فہد مقصود

محفلین
مسلمان بیویوں کی بات ہورہی ہے۔۔۔
دہریوں کی نہیں!!!

تجارت میں اور دوسروں کی غلامی میں بہت فرق ہے...
آج تک مسلمان خواتین نے اپنے گھر کے سربراہ کی اطاعت کو غلامی نہیں کہا...
لیکن دہریوں کا عورتوں کو گھر سے باہر نکال پھینکنے کا فلسفہ یہ گل بھی کھلانے لگا...
دوسروں کی نوکری کا مسئلہ ایسا عذاب جاں ہوگیا کہ عورتوں کو اس مصیبت میں ڈالنے کے لیے گھر والوں سے بغاوت پر اکسایا جانے لگا...
عورت کو نوکری کے نام پر گھر سے نکال کر دوسروں کی غلامی میں دینے کا منہ کو لگا چسکا کہاں چھوٹے گا؟؟؟
کیا عورتوں کو گھروں سے نکالنے والوں نے مردوں کو حسب ضرورت ملازمتیں دے دیں یا عورت کو دوسروں کا غلام بنانے کے جھانسے میں وہی بے حیائی پھیلانے والا ذوق کارفرما ہے؟؟؟

اسی رسول کی بیبیوں کو اللہ تعالی نے واضح حکم دے دیا تھا:
و قرن فی بیوتکن
اپنے گھر میں جم کر بیٹھ جاؤ...
اس آیت پر عمل نہ دہریوں کے مرد کریں گے نہ ان کی عورتیں!!!

جی تو آپ کا کہنا یہ ہے کہ آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں اور دہریوں میں کیا فرق ہے؟ ہے نا؟
حضرت آپ ہی تو مسلمان ہیں جبھی تو آپکے پاس یہ حق ہے کہ آپ منہ اٹھا کر کسی کو بھی مسلمان کہیں اور کسی کو بھی دہریہ!!! اور آپکے علماء اور ان کے اکابرین کو تو کسی قسم کی ہدایت کی ضرورت ہی نہیں ہے! سورۃ فاتحہ کو پیشاب اور خون سے لکھنے کے فتاویٰ دینے والے تو سب سے بڑے مسلمان ہیں!!! یہی تو پوری طرح راہ راست پر ہیں! اور ان کے پیروکار سوشل میڈیا پر مذہب کا نام استعمال کر کے معصوم عوام کے عقائد خراب کرنے پر لگے رہتے ہیں!

اب ذرا آجاتے ہیں پیشاب اور خون سے سورۃ فاتحہ کا لکھے جانے کے بارے میں فتاویٰ کی جانب پھر دیکھیں گے کہ آپ کی غیرتِ ایمانی کا اس بارے میں کیا حال ہے؟؟؟ کیا آپ ان اکابرین پر کھل کر تنقید کرنے کی ہمت کرسکیں گے یا نہیں؟؟؟
 

جاسم محمد

محفلین
اور يہ ياد ركھيں كہ معصيت و نافرمانى كے علاوہ ہر كام ميں خاوند كى اطاعت و فرمانبردارى واجب ہے، تو اس بنا پر اگر خاوند اپنى بيوى كو كہتا ہے كہ وہ ملازمت يا پڑھائى كے ليے نہ جائے تو بيوى كو اس كى بات تسليم كرنى واجب ہے، اور اسى ميں اس كى سعادت اور كاميابى بھى ہے.
خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے پارٹنر ہیں۔ رشتہ ازدواج برابری اور مساوات کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس واضح اُصول کے آجانے کے بعد بھی بیوی کو اسلام کے نام پر خاوند کی فرمانبرداری کیلئے پابند کرنا احکام الٰہیہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
 

فہد مقصود

محفلین
مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی دیوبندی نے اپنی کتاب فقہی مقالات، جلد چہارم میں لکھتے ہیں ""اسی طرح صاحب ہدایہ نے تجنیس میں اسی کو اختیار فرمایا ہے، چناچہ فرمایا کہ اگر کسی کی ناک سے خون بہہ پڑے اور وہ اس خون سے اپنی ناک اور پیشانی پر سورہ فاتحہ لکھے تو شفاء کے حصول کے لئے بطور علاج ایسا کرنا جائز ہے۔"" واضح رہے کہ یہ کتاب ہدایہ ہمارے درس نظامی کا حصہ ہے اور ہر مدرسے میں پڑھائی جاتی ہے.

یہی بات فتاویٰ قاضی خان میں بھی لکھی ہے. اصل کتابوں کے سکین ساتھ لگا رہا ہوں.
فتاویٰ عالمگیری، البحر الرائق اور الرد المختار میں بھی یہی بات موجود ہے۔

صاحب ہدایہ کی یہی عبارت فقہ حنفی کی معتبر اور مشہور کتاب الرد المحتار میں بھی نقل ہوئی ہے۔
وکذا اختارہ صاحب الھدایۃ فی التجنیس فقال: لو رعف فکتب الفاتحۃ بالدم علی جبھتہ واٗنفہ جاز للا ستشفاء و بالبول اٗیضا ان علم فیہ شفاء لاباٗس بہ: لکن لم ینقل و ھذا لان الحرمۃ ساقطۃ عندالا ستشفاء کحل الخمر والمتیۃ للعطشان والجائع اھ من البحر۔ واٗ فاد سیدی عبدالغنی اٗ نہ لا یظھر الا ختلاف فی کلامھم لا تفامھم علی الجواز للضرورۃ، (الرد المحتار جلد ۱، صفحہ ۲۱۰، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
ترجمہ: اسی طرح صاحب الھدایہ نے التجنیس میں اسی مسئلے کو اختیار کیا ہے پس کہا کہ اگر کسی کی نکسیر پھوٹے تو وہ سورہ فاتحہ خون سے اپنی پیشانی اور ناک پر لکھے تو شفاء حاصل کرنے کے لئے یہ جائز ہے اور اگر اسے یہ معلوم ہو کہ اس میں میرے لئے شفاء ہے تو پیشاب سے لکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔لیکن یہ بات منقول نہیں اور وجہ اس کے (جائز کہنے کی) یہ ہے کہ شفاء حاصل کرنے کے لئے حرمت ساقط ہو جاتی ہے جیسے پیاسے کے لئے شراب پینا اور بھوکے کیلئے مردار کھانا۔ میرے سید عبدالغنی نے یہ افادہ فرمایا کہ ضرورت کے وقت اسکے جواز پر ان (فقہاء) کے اتفاق ہونے کی وجہ سے ان کی اس بات میں اختلاف ظاہر نہیں ہوا۔

پیشاب سے سورہ فاتحہ لکھنے کا جواز مستند ترین حنفی علماء سے منقول ہے اور انتہائی معتبر حنفی کتابوں میں درج ہے ملاحظہ فرمائیں:

۱۔ امام فخرالدین حسن بن منصور المتوفی ۲۹۵ھ بحوالہ فتاویٰ قاضی خان
۲۔ ابوبکر الاسکاف بحوالہ فتاویٰ قاضی خان
۳۔ صاحب الھدایہ علی بن ابی بکر المتوفی ۵۹۳ھ بحوالہ البحرالرائق والرد المحتار
۴۔ ابن نجیم الحنفی المتوفی ۹۸۰ ھ بحوالہ البحرالرائق والرد المحتار
۵۔ علامہ ابن عابدین الشامی کے استاد عبدالغنی بحوالہ الرد المحتار
۶۔ علامہ ابن عابدین الشامی المتوفی ۱۲۵۲ھ بحوالہ الرد المحتار
۷۔ الشیخ نظام و جماعت علماء ھندوستان ۱۱۰۰ھ بحوالہ فتاویٰ عالمگیریہ

وکیل احناف، مناظر اسلام جناب امین اوکاڑوی صاحب کے سامنے جب کسی صاحب کا فقہ حنفی کے مسئلے پیشاب سے سورہ فاتحہ لکھنے سے متعلق اعتراض سامنے آیا تو جناب انتہائی برہم ہوئے اور یوں جواب دیا: آخر علماء نے پوچھا کہ آپ کے مذہب میں خون پاک ہے، منی پاک ہے تو کیا ان سے قرآن لکھنا جائز ہے یا نہیں۔ کیا کسی حدیث میں آتا ہے کہ پاک چیز سے قرآن لکھنا حرام ہے آپ کے مذہب میں حلال جانوروں کا پیشاب اور دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے اور پاک چیز سے قرآن لکھنا نہ قرآن میں منع ہے نہ حدیث سے (مجموعہ رسائل ج۱ ص ۴۶۰، تصیح شدہ جدید ایڈیشن مطبوعہ ادارہ خدام احناف لاہور)

17884265_10158512687120228_7448193473724972236_n.jpg


17757381_10158512687300228_6328718209674339493_n.jpg


17904346_10158512687505228_5911186233765799614_n.jpg


تقی عثمانی صاحب کو جب سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا کہ وہ آیاتِ کریمہ کو کسی بھی قسم کی نجاست سے لکھنا حرام سمجھتے ہیں لیکن انھوں نے اپنے اکابرین کے لئے ایک لفظ نہ بولا!!!!
اور ان کے پیروکار آج تک ان کے دفاع میں لگے ہوئے ہیں۔ جس سے بھی آج تک اس مسئلے پر بات ہوئی ہے وہ ڈھٹائی سے ان کا دفاع ہی کرتا آیا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہاں بھی کوئی ان کے اس عمل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے تو میں پہلے ہی ابوالاسجد صاحب کا تحریر کردہ بہت ہی جامع جواب یہاں پیش کرنا چاہوں گا۔

مفتی تقی عثمانی کا رجوع

اگر یہ سب کسی غیر مسلم نے کیا ہوتا یا ان جیسے توحید کے علم برداروں کے نزدیک دہریوں نے کیا ہوتا تو یہ سب کیا کرتے؟؟؟؟ ہڑتالیں کرتے، جلوس نکالتے، توڑ پھوڑ کرتے!!! لیکن ان کے اگر علماء اور اکابرین کریں تو خاموشی چھا جاتی ہے!!!
اگر یہ سب اتنے ہی متقی و پرہیزگار مسلمان ہیں تو ان کو کیا کرنا چاہئے تھا؟؟؟ پھاڑ پھینکنے چاہئے تھے اپنے علماء کی کتابوں سے ایسے صفحات!!! عوام کے سامنے سچ لا کر خبردار کرتے کہ کوئی ایسا غیر اسلامی اور شیطانی عمل اگر پڑھے تو ہرگز اس پر عمل نہ کرے! لیکن ان میں سے کسی نے ایسا کیا؟ یہ ۲۰۰۴ کا واقعہ ہے کیا آپ میں سے کبھی کسی نے ان 'مسلمان حضرات' کی طرف سے اس بارے میں آگہی پیدا کرنے کی کوشش دیکھی؟ نہیں دیکھی ہوگی کیونکہ معاملہ تو ان کے علماء کا ہے تو پردہ تو یہ ان کے کرتوتوں پر ڈالیں گے!!! بلکہ الٹا عام مسلمانوں کو دہریہ قرار دینے میں اپنی طاقت صرف کرنے میں لگے رہتے ہیں!!!
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
کیونکہ معاملہ تو ان کے علماء کا ہے
جب معاشرہ کے سب سے جاہل ترین لوگ "علما" بن بیٹھیں اور اس بنیاد پر اپنےڈھیروں فالورز بھی بنا لیں۔ تو اس کے سنگین نتائج ایسے ہی نکلیں گے جیسا کہ آپ نے اوپر بیان کئے ہیں۔
 

عدنان عمر

محفلین
یہاں میری بات نہیں ہو رہی۔ اس حکم الٰہی کی ہو رہی ہے جو رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرہ سے متعلق ہے۔ اور جسے علما کرام نے زبردستی تمام مومنین کی ازواج پر لاگو کر دیا ہے۔
یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ آپ کیسے ثابت کریں گے کہ یہاں مخاطب صرف ازواجِ مطہرات ہیں۔ علماء کی تو آپ مانتے نہیں ورنہ ان کی پوری بات ماننے کے بجائے اپنے مطلب کا ایک ٹکڑا لے کر خود ساختہ رائے پیش نہ کرتے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ آپ کیسے ثابت کریں گے کہ یہاں مخاطب صرف ازواجِ مطہرات ہیں۔ علماء کی تو آپ مانتے نہیں ورنہ ان کی پوری بات ماننے کے بجائے اپنے مطلب کا ایک ٹکڑا لے کر خود ساختہ رائے پیش نہ کرتے۔
قرآن پاک کی آیات کو اگر آپ خود بھی تاریخ اور سیاق سباق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر لیں۔ تو واضح ہو جائے گا کہ مذکورہ آیات ایک خاص واقعہ کے تناظر میں رسول اللہ کی ازواج مطہرہ کیلئے اُتری تھیں۔ اس کا دیگر مومنین کی ازواج سے دور دور تک بھی کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔
 

عدنان عمر

محفلین
قرآن پاک کی آیات کو اگر آپ خود بھی تاریخ اور سیاق سباق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر لیں۔ تو واضح ہو جائے گا کہ مذکورہ آیات ایک خاص واقعہ کے تناظر میں رسول اللہ کی ازواج مطہرہ کیلئے اُتری تھیں۔
مستند حوالوں کے ساتھ اپنی رائے کے حق میں دلائل پیش کیجیے۔
 
مستند حوالوں کے ساتھ اپنی رائے کے حق میں دلائل پیش کیجیے۔
عدنان بھائی یہ صرف جاسم بھائی کی رائے نہیں بلکہ اس بارے میں مسلمان علما کی بھی دو مخلتف آرا ہیں ۔ ایک طبقہ اسے صرف امہات المومنین کے لیے حکم تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عام حکم تصور کرتا ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
عدنان بھائی یہ صرف جاسم بھائی کی رائے نہیں بلکہ اس بارے میں مسلمان علما کی بھی دو مخلتف آرا ہیں ۔ ایک طبقہ اسے صرف امہات المومنین کے لیے حکم تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عام حکم تصور کرتا ہے۔
جتنی آسانی سے یہاں کسی پر دہریے یا ق۔۔۔۔۔۔ کا لیبل لگتا ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ بھی خطرے میں نظر آتے ہیں۔ :p
 

محمد سعد

محفلین
اگر انسان اپنی مرضی سے ایک مستحسن کام بھی نہ کر سکے تو اسے میرے خیال میں غلامی ہی کہتے ہیں۔ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کے مطابق اسلام میں عورت ایک مکمل انسان نہیں بلکہ ایک پیدائشی غلام ہے؟
 

عدنان عمر

محفلین
عدنان بھائی یہ صرف جاسم بھائی کی رائے نہیں بلکہ اس بارے میں مسلمان علما کی بھی دو مخلتف آرا ہیں ۔ ایک طبقہ اسے صرف امہات المومنین کے لیے حکم تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عام حکم تصور کرتا ہے۔
محترم خلیل بھائی! براہِ مہربانی ان چند علمائے کرام کی تشریحات پیش کیجیے جو سمجھتے ہیں کہ سورہِ احزاب کی آیت نمبر 33 کی مخاطب صرف امہات المومنین ہیں اور یہ احکام عام مسلمان خواتین کے لیے نہیں ہیں۔
مزید آسانی کے لیے میں یہاں قرآن لائبریری کا ربط پیش کر رہا ہوں جس میں قدیم و جدید تفسیرات موجود ہیں۔ آپ خود ملاحظہ فرما لیجیے۔
دوسری بات یہ کہ میری معلومات کے مطابق ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک پوری امت بشمول جمہور علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ دینِ اسلام کے تحت عورتوں کا اصل مقام اور شعبہ گھر ہے۔ کیا آپ اس بات سے متفق نہیں؟
 

عرفان سعید

محفلین
یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ آپ کیسے ثابت کریں گے کہ یہاں مخاطب صرف ازواجِ مطہرات ہیں۔
لڑی کی بحث سے قطع نظر، زیرِ نظر آیت سے پہلے والی آیت واضح قرینہ ہے کہ یہاں ازواج مطہرات کو ہی خطاب کیا جارہا ہے۔

اس وقت سورۃ الاحزاب کی 33 ویں آیت زیرِ بحث ہے۔

وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَ۔۔بَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا
اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہلِ بیت ِ نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔

اب اس سے پہلے والی آیت کو دیکھیں تو قرینہ بالکل واضح ہے۔

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِنِ اتَّ۔۔قَيْتُنَّ فَلَا تَخْ۔ضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
نبی ﷺ کی بیویوں ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے ، بلکہ صاف سیدھی بات کرو ۔

آیت 28 سے ازواجِ مطہرات سے خطاب شروع ہوتا ہے۔ سلسلۂ کلام کو دیکھا جائے تو ازواجِ مطہرات ہی کو مخاطب ماننا کلام کے سیاق سے مناسبت رکھتا ہے۔ آسانی کے لیے سارے سلسلہ کلام کا صرف ترجمہ نقل کرتا ہوں۔

اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں سے کہو ، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رُخصت کر دوں ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور دارِ آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے ۔ نبی ﷺ کی بیویوں ، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اُسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اُس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیّا کر رکھا ہے ۔نبی ﷺ کی بیویوں ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے ، بلکہ صاف سیدھی بات کرو ۔اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہلِ بیت ِ نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔ (آیات 28 تا 33)

اس کے علاوہ سورۃ کے آغاز میں ہی اللہ نے ایک لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ یہاں ازواجِ مطہرات کی بابت کوئی خاص بات آگے کی جائے گی۔

اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ
بلاشبہ نبی تو اہلِ ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ (آیت 6)

اس مراسلے کا مقصد صرف یہ بات واضح کرنا تھا کہ آیات کا براہ راست مخاطب کون ہے۔
اس کے بعد ان آیات کا اطلاق عام مسلمان عورتوں پر بھی ہوگا یا نہیں ہوگا، یہ ایک الگ موضوع ہے جس سے میں تعرض نہیں کر رہا۔
 
آخری تدوین:

عدنان عمر

محفلین
لڑی کی بحث سے قطع نظر، زیرِ نظر آیت سے پہلے والی آیت واضح قرینہ ہے کہ یہاں ازواج مطہرات کو ہی خطاب کیا جارہا ہے۔

اس وقت سورۃ الاحزاب کی 33 ویں آیت زیرِ بحث ہے۔

وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَ۔۔بَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا
اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہلِ بیت ِ نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔

اب اس سے پہلے والی آیت کو دیکھیں تو قرینہ بالکل واضح ہے۔

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِنِ اتَّ۔۔قَيْتُنَّ فَلَا تَخْ۔ضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
نبی ﷺ کی بیویوں ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے ، بلکہ صاف سیدھی بات کرو ۔

آیت 28 سے ازواجِ مطہرات سے خطاب شروع ہوتا ہے۔ سلسلۂ کلام کو دیکھا جائے تو ازواجِ مطہرات ہی کو مخاطب ماننا کلام کے سیاق سے مناسبت رکھتا ہے۔ آسانی کے لیے سارے سلسلہ کلام کا صرف ترجمہ نقل کرتا ہوں۔

اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں سے کہو ، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آئو ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رُخصت کر دوں ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور دارِ آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے ۔ نبی ﷺ کی بیویوں ، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اُسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اُس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیّا کر رکھا ہے ۔نبی ﷺ کی بیویوں ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے ، بلکہ صاف سیدھی بات کرو ۔اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہلِ بیت ِ نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔ (آیات 28 تا 33)

اس کے علاوہ سورۃ کے آغاز میں ہی اللہ نے ایک لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ یہاں ازواجِ مطہرات کی بابت کوئی خاص بات آگے کی جائے گی۔

اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ
بلاشبہ نبی تو اہلِ ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ (آیت 6)

اس مراسلے کا مقصد صرف یہ بات واضح کرنا تھا کہ آیات کا براہ راست مخاطب کون ہے۔
اس کے بعد ان آیات کا اطلاق عام مسلمان عورتوں پر بھی ہوگا یا نہیں ہوگا، یہ ایک الگ موضوع ہے جس سے میں تعرض نہیں کر رہا۔
میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔ میرا سوال تو ان صاحب سے تھا جو ایک طرف تو علماء کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے اور دوسری طرف اپنی رائے ثابت کرنے کے لیے علماء کی ہی رائے (وہ بھی نامکمل) پیش کر رہے تھے۔
 

عدنان عمر

محفلین
اگر انسان اپنی مرضی سے ایک مستحسن کام بھی نہ کر سکے تو اسے میرے خیال میں غلامی ہی کہتے ہیں۔ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کے مطابق اسلام میں عورت ایک مکمل انسان نہیں بلکہ ایک پیدائشی غلام ہے؟
کیا آپ تھوڑا وقت نکال کر سنجیدگی سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں اور ان پر کیا ذمہ داریاں عائد کی ہیں؟
 

فاخر رضا

محفلین
عورتوں کے لیے بار بار غلامی کا لفظ استعمال ہورہا ہے. مجھے اس پر سخت اعتراض ہے
صحیح لفظ کنیزی ہے
 
آخری تدوین:

محمد سعد

محفلین
کیا آپ تھوڑا وقت نکال کر سنجیدگی سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں اور ان پر کیا ذمہ داریاں عائد کی ہیں؟
جاننا تو چاہوں گا لیکن اب تک کی گفتگو سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایسا کچھ سیکھنے کے لیے آپ اور سید عمران صاحب غلط استاد ثابت ہوں گے، معذرت کے ساتھ۔
 
Top