انٹر نیٹ سے چنیدہ

سید عمران

محفلین
حضرت خواجہ حسن بصری رحمة الله عليه سے کسی نے پوچھا کہ
_*آپ کے تقوی اور پرہیزگاری کا راز کیا ہے؟*_

آپ نے فرمایا .... میں نے چار چیزیں سمجھ لیں.

پہلی مجھ سے *میرا رزق کوئی چھین نہیں سکتا میرا دل مطمئن ہو گیا.*

دوسری میں نے سمجھ لیا *میں نے خود عبادت کرنی ہے کوئی دوسرا میرے لئے عبادت نہیں کر سکتا تو میں نے عبادت شروع کر دی.*

تیسری میں نے سمجھ لیا کہ ﷲ مجھے دیکھ رہا ہے *چنانچہ مجھے گناہ سے شرمندگی محسوس ہوئی.*

چوتھی میں نے سمجھ لیا *کہ موت میرا انتظار کر رہی ہے تو بس میں نے ﷲ سے ملاقات کی تیاری شروع کر دی.*
 

سید عمران

محفلین
اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔
۔
* پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق سے برکت اٹھا دی جاتی ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتے ہیں۔

* دوسرا دروازہ استغفار ہے۔ جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔

* تیسرا دروازہ صدقہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا

* چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

* پانچواں دروازہ کثرتِ نفلی عبادت ہے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے

٭ چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے

٭ ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا۔ ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔

٭ آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے۔ غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے

٭ نوواں دروازہ اللہ پر توکل ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا

٭دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے۔ انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا

٭ گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے

٭بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا

٭ تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے۔ جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی

٭چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے۔ حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندگستی کو دور بھگاتی ہے

٭ پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے

٭ سولواں دروازہ ہے اللہ سے دعا مانگنا۔ جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے
۔
 

سید عمران

محفلین
ذہنی دباؤ سے نپٹنے کے سادہ طریقے
ڈاکٹر سٹتھ گلیہان

(ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)
کیا آپ تشویش سے بھرے رہتے ہیں اور دباؤ آپ پر حاوی رہتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں۔ تشویش ایک عام نفسیاتی حالت ہے جس سے لوگ نپٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس کے بعد اکثر شدید ذہنی دباؤ کا مرحلہ آتا ہے۔ آپ غالباً شدید تشویش کے منفی اثرات سے واقف ہوں… پورے جسم میں کھچاؤ، سونے میں مشکل، مسلسل پریشانی اور تشویش کی طرف مائل کرنے والی چیزوں سے دور بھاگنا۔ اکثر نظرانداز ہونے والی علامات میں اپنی ذات پر شکوک و شبہات، بڑی مصیبت کا خوف، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور چڑچڑا پن شامل ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ بعض طریقے اپنا کر آپ اپنی تشویش کم کر سکتے ہیں اور زندگی میں ذہنی دباؤ سے بہتر انداز میں نپٹ سکتے ہیں۔ سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت بھی درکار نہیں ہوتا۔ بہت سے ایسے مختصر اور آسان طریقے ہیں جوبہتری لا سکتے ہیں۔ یہاں جنہیں پیش کیا جا رہا ہے، ان کی بنیاد تحقیقی شواہد پر ہے۔ روزمرہ کے ذہنی دباؤ اور تشویش سے نپٹنے کے لیے میں نے ذاتی طور پر بھی انہیں مفید پایا ہے۔ علی الصبح، اپنے دن کا آغاز حال سے (30 سیکنڈ): دن بھر کے رخ کا تعین کرنے کے لیے اپنی صبح کا آغاز حال سے جوڑنے والی ورزش سے کریں۔ آپ اس کی شروعات جاگنے کے ساتھ کر سکتے ہیں… اپنی آنکھ کھولنے سے قبل بھی… یا صبح کی روٹین میں (شاور کے نیچے، چائے کی تیاری کے دوران وغیرہ وغیرہ۔) اپنی آنکھیں بند کریں اور اندر جانے اور باہر آنے والی سانسوں کی طرف توجہ دیں۔ جوں ہی آپ سانس اندر لیں، اپنے بارے میں سوچیں، ’’میں ہوں‘‘۔ جب آپ سانس باہر نکالیں تو سوچیں ’’یہاں‘‘۔ سانس لیتے ہوئے اسے دہراتے جائیں: ’’میں …یہاں ہوں۔ میں یہاں ہوں۔‘‘ آپ کے جسم اور ذہن کے اس سادہ اعلان سے پیداشدہ ردعمل پر توجہ دیں۔ بند آنکھوں کے ساتھ دن کے دوران یہ طریقہ پھر آزمائیں۔ صبح اور دوپہر کا درمیانی وقت، سانسوں کا ساتھ (60 سیکنڈ): سانسوں پر توجہ مرکوز کرنا اپنی تشویش کم کرنے اور ذہنی دباؤ سے نپٹنے کے سب سے قابلِ بھروسہ طریقوں میں سے ایک ہے، اور اس کی وجہ بھی ہے۔ سانس کے ساتھ ہو لینے سے عصبِ شش و معدہ (vagus nerve) سے ربط قائم ہوتا ہے، جس سے نظام اعصاب کا وہ حصہ متحرک ہوتا ہے جس کا تعلق پُرسکون کرنے سے ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آ پ کو پُرسکون ہونے کا جتن کرنے کی ضرورت نہیں، آپ نے صرف سانسیں لینی ہیں۔ آپ کا نظامِ اعصاب باقی کام خود کرے گا۔ ایک منٹ کا ٹائمر لگائیں۔ ایک اچھا تسکین دینے والا سانس لیں، باہر نکالنے کا عمل آہستہ ہو۔ ایک منٹ میں کتنی بار سانس لیا، اسے شمار کریں۔ تعداد جو بھی نکلے یہ آپ کا ’’سانس نمبر‘‘ ہو گا۔ مثلاً میرا نمبر سات ہے۔ دن میں جب بھی آپ کو ذہنی دباؤ کا احساس ہو، رکیں اور اسی نمبر میں تسکین آور سانسیں لیں۔ اس میں ایک منٹ لگے گا اور آپ کو ٹائمر کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔ یہ بات نوٹس کریں کہ صرف سانس لینے سے ذہن میں ٹھہراؤ آ رہا ہے۔ یہ طریقہ اس وقت بالخصوص معاون ہے جب آپ کو لگے کہ آپ دباؤ میں ہیں یا پریشان ہیں۔ اسے کہیں بھی آزمایا جا سکتا ہے…گھر اور کام کے دوران۔ لنچ ٹائم، آرام اور انہضام (30 سیکنڈ): کھانے کے دوران ہمارے نظام اعصاب کے اس حصے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جو لڑنے مرنے یا بھاگنے کے دوران متحرک ہوتا ہے اور دباؤ کے ہارمونز کے اخراج کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ہم اکثر جلدی جلدی کھانا کھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہماری توجہ ادھر اُدھر پریشان کن امور پر رہتی ہے، جیسا کہ کام یا کوئی ہنگامی خبر۔ کھانا پُرسکون حالت میں کھانے سے دباؤ کو کم کریں اور ہاضمے کو بہتر بنائیں۔ جس حد تک ممکن ہو کھانا میز یا دسترخوان پر کھائیں اور کام اور دوسری نوع کے دباؤ کو ایک طرف رکھ دیں۔ اس سادہ طریقے پر عمل کریں اور اپنے جسم اور ذہن کو کھانے کے لیے تیار کریں۔ جب آپ کھانے کے لیے بیٹھیں، تین آہستہ، بیٹھ کر سانسیں لیں۔ ٭ پہلی سانس کے ساتھ اپنے پاؤں کو فرش پر اور وزن کو کرسی پر پڑا ہوا محسوس کریں۔ یہ محسوس کریں کہ جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر آپ کہاں ہیں۔ ٭ دوسری سانس کے ساتھ اپنے اردگرد کو سمجھیں، زندگی میں شامل چیزوں کو نوٹس کریں ۔ پھر اس فرد کی طرف توجہ دیں جس کے ساتھ مل کر آپ کھانا کھا رہے ہیں۔ اپنے اردگرد کا جائزہ لیں۔ ٭ تیسری سانس کے ساتھ اپنے سامنے غذا پر توجہ دیں، اس کے رنگ، ساخت اور خوشبو پر۔ شام سے پہلے، کھچاؤ کو خیرباد کہیں (دو منٹ): ہمارا جسم بھی دن بھر دباؤ جمع کرتا رہتا ہے، جو تشویش میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ دن میں چند باراس دباؤ کو خارج کرنے کی پریکٹس کریں۔ ایک سے دوسرے کام میں قدم رکھتے ہوئے ایسا کرنا خاص طور پر مفید ہو گا جیسا کہ ملازمت سے گھر لوٹتے ہوئے گھروالوں سے ملاقات سے پہلے۔ اس ورزش میں آپ نے عضلات میں تناؤ پیدا کر کے انہیں پُرسکون کرنا ہے۔ کسی خاموش جگہ پر بیٹھیں۔ تین تسکین آور سانس لیں اور آہستہ باہر نکالیں۔ اپنے ہاتھوں کو اپنی مٹھی میں لمحہ بھر کے لیے دبائیں، پھر اسے مکمل ڈھیلا کر دیں۔ تین بار پھر تسکین آور سانس لیں۔ اب اپنے کندھوں کو اوپر کانوں کی طرف اٹھائیں، کھچاؤ پیدا کریں اور پھر کندھوں کو ڈھیلا کر دیں۔ توجہ دیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ سونے کا وقت، شب بخیر (تین منٹ): بستر پر جاتے وقت ہمارے اذہان دن میں غلط ہونے والے اور پریشان کن کاموں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس سے دباؤ اور تشویش ہمارے بستر میں گھس جاتی ہے۔ اس کے بجائے ان امور پر توجہ دیں جو ٹھیک رہے، وہ جن پر آپ کو شکرگزار ہونا چاہیے۔ اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر توجہ دیں۔ اپنے ساتھ کاغذ پنسل رکھیں۔ بتی بند کرنے سے پہلے تین ایسی چیزیں لکھیں جن کے لیے آپ شکرگزار ہیں، ان میں آپ کو چاہنے والے، اچھا کھانا، جو ٹھیک کیا وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ جو لکھا اسے ذہن میں لائیں اور بتی بجھا کر سو جائیں۔
 

سید عمران

محفلین
*Die empty*

The most beautiful book to read is "Die Empty" by Todd Henry.
The author was inspired and got this idea of writing this book while attending a business meeting.
When the director asked the audience: "Where is the richest land in the world?"
One of the audience answered: "Oil-rich Gulf states."
Another added: "Diamond mines in Africa."
Then the director said: "No it is the cemetery. Yes, it is the richest land in the world, because millions of people have departed/died and they carried many valuable ideas that did not come to light nor benefit others. It is all in the cemetery where they are buried."

Inspired by this answer, Todd Henry wrote his book, "Die empty" where he did his best to motivate people to pour out their ideas and potential energies in their communities and turn them into something useful before it is too late.

The most beautiful of what he said in his book is: "Do not go to your grave and carry inside you the best that you have.
*Always choose to die empty.*

The TRUE meaning of this expression, is to die empty of all the goodness that is within you. Deliver it to the world, before you leave.

If you have an idea perform it.
If you have knowledge give it out.
If you have a goal achieve it.
Love, share and distribute, do not keep it inside.

Let’s begin to give. Remove and spread every atom of goodness inside us.

Start the race.
Let us Die Empty.​
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
#SOCIALISM: You have two cows, and you give one to your neighbor.

#COMMUNISM: You have two cows, the government takes both and gives you milk.

#FASCISM: You have two cows, the government takes both and sells you milk.

#NAZISM: You have two cows, the government takes them and kills you.

#CAPITALISM: You have two cows, you sell one and buy a male. You multiply your cows and there is economic growth. You sell them, you retire and you live on your profits.

#MODERN_CAPITALISM:You have two cows, you sell one and buy a male. You multiply your cows and you buy those of your neighbors. Then your neighbors become your shepherds, you pay them in monkey currencies and they die poor.

#AMERICAN_SOCIETY: You have two cows, you sell one and you have to make the other one to produce milk like 4 cows. By stress of producing beyond her capacity, she dies. You hire a consultant to understand this death.

#FRENCH_SOCIETY: You have two cows, you go on strike because you want a third cow.

#GERMAN_SOCIETY: You have two cows, you modify them so that they live 100 years, eat once a month and take care of themselves.

#CHINESE_SOCIETY: You have two cows, you sell milk to your compatriots and you produce plastic milk to export to the rest of the world. You become rich.

#BLACK_AFRICAN_SOCIETY: You have two cows, you eat them all in one month, and you dream that donors or the international community give you more cows. When that doesn't happen, you go to a church and hope for miracle cows. You fast 40 days and 40 nights without eating or drinking so that the cows will fall from Heaven. At last You die in extreme poverty​
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
*Singular & Plural*

Rule- 01ঃ UM ➡➡➡ "A"

Singular ----------Plural
Agendum ------ agenda
Dictum --------- dicta/ data
Optimum -------- optima
Addendum ------ addenda
Erratum -------- errata
Referendum ---- referenda
Medium --------- media
Memorandum -- memoranda
Spectrum ------- spectra
Bacterium ------- bacteria
Maximum ------- Maxima
Minimum -------- minima
Ovum --------- ova

Rule 2ঃ IS ➡➡➡ "ES"

Singular ----------- Plural
Analysis --------- analyses
Crisis --------- crises
Oasis --------- oases
Synopsis -------- synopses
Basis -------- bases
Thesis -------- theses
Hypothesis ----- hypotheses
Axis ----- axes
Synthesis ------ syntheses

Rule 3ঃ US➡➡➡"I"
Singular ---------- Plural
Alumnus -------- alumni
Focus -------- foci
Radius --------- radii
Genius ---------- genii/ geniuses
Syllabus --------- syllabi/ syllabuses
Magus ---------- magi
Fungus ---------- fungi
Locus --------- loci

Rule 4ঃ U➡➡➡ "UX"

Singular -------- Plural
Adieu --------- adieux
Bureau -------- bureaux

Rule 5ঃ A➡➡➡ "AE"

Singular -------- Plural
Alumna ------ alumnae
Vertebra ------ vertebrae
Formula ----- formulae / formulas

Rule 6ঃ ON ➡➡➡"A"

Singular ----- Plural
Criterion ------ criteria
Phenomenon -- phenomena

Rule 7ঃ IX/ EX➡➡➡"ICES"

Singular ------- Plural
Index -------- indices
Vertex -------- vertices
Appendix ----- appendices
Radix -------- radices
Apex -------- apexes

Rule 8ঃ Without any formation ;

Singular ----- Plural
Ox -------- oxen
Louse ------- lice
Tooth ------- teeth
Mouse ------ mice
Foot ------- feet
Self ------- selves
Loaf -------- loaves
Bureau ------ bureaus/ bureaux
Cherub ----- cherubs/ cherubim
Genus ----- genera
Bandit ----- banditti
Dis ------ dicee​
 
ابا جان! مجھے قرآن نہیں, گاڑی چاہئیے تھی"
ایک نوجوان اپنے کالج سے گریجوایٹ ہونے والا تھا۔ پچھلے کچھ مہینوں سے اسے قریب ہی موجود ایک گاڑیوں کے شوروم میں موجود سپورٹس کار بہت پسند تھی۔ چونکہ اس کے ابا جان وہ کار لے کر دے سکتے تھے تو اس نے اپنے ابا جان کو کہہ رکھا تھا کہ اسے گریجوایشن کے تحفے میں وہی کار چاہئیے
جیسے جیسے گریجوایشن کی تقریب کا دن قریب آ رہا تھا ویسے ویسے نوجوان کا اپنے تحفے کا انتظار بھی اپنے عروج پہ جا رہا تھا۔ بلآخر تقریب کے دن کی صبح کو اس کے ابا نے اس کو اپنے خاص مطالعے کے کمرے میں بلایا۔ اس کے والد نے اس کو بتایا کہ ایسے ذہین اور محنتی بیٹے کے باپ ہونے پہ ان کو کتنا فخر ہے اور یہ بھی کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتے ہیں۔
پھر انہوں نے اس کو ایک غلاف میں لپٹا ہوا ڈبہ تحغے میں دیا۔ کچھ مایوسی اور کچھ تجسس کے ساتھ اس نے وہ تحفہ کھولا تو اس میں ایک نہایت خوبصورت چمڑے کے دستے والا قرآن شریف موجود تھا۔ یہ دیکھنا تھا کہ غصے کے مارے اس کی رنگت سرخ پڑ گئی اور وہ اپنے ابا پہ چلا اٹھا "اپنی اتنی ساری دولت ہونے کے باوجود آپ نے مجھے صرف یہ قرآن تحفے میں دیا؟" اور پھر وہ اس انمول تحفے کو وہیں رکھ کر نکلا اور گھر چھوڑ کر چلا گیا
بہت سال گزر گئے وہ پلٹ کر اپنے ابا کے گھر نہیں گیا۔ اب وہ ایک کامیاب بزنس مین تھا اور اس کے پاس نہایت خوبصورت بنگلا تھا اور بہت اچھی بیوی تھی۔ اب اسے کبھی کبھی اپنے ابا کی یاد ستاتی تھی کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہونگے اور شاید انہیں اس کی ضرورت بھی ہو گی۔ وہ سوچتا کہ اسے اپنے ابا کو ملنے جانا چاہئیے۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے ابا کو ملنے جاتا ایک دن اسے اطلاع ملی کہ اس کے ابا انتقال کر گئے ہیں اور وصیت میں اپنا سب کچھ اس کے نام کر گئے ہیں۔ اسے افراتفری اور غم کے عالم میں ابا کے گھر جانا پڑ گیا۔
جب وہ ابا کے گھر پہنچا تو اس کا دل غم کی شدت سے بھر گیا اور ایک پچھتاوے کا احساس اس کے سینے میں جاگ اٹھا۔ تدفین سے فراغت کے بعد وہ اپنے ابا کے ضروری سامان کا جائزہ لے رہا تھا تو تبھی اسے وہی تحفے والا قرآن ویسے ہی بالکل نئی حالت میں پڑا ہوا ملا جیسا وہ سالوں پہلے اسے چھوڑ کر گیا تھا۔
آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ اس نے قرآن شریف کو کھولا اور اس کے اوراق پلٹنے لگا۔ یونہی اوراق پلٹتے ہوئے اس نے ایک صفحے پہ دیکھا کہ اس کے ابا نے ایک آیت پہ نشان لگایا ہوا تھا۔ وہ "سورہ رعد" کی اٹھائسویں آیت تھی۔
"بے شک اللہ کی یاد دلوں کو سکون بخشتی ہے"
اس نے یہ آیت پڑھی۔ تبھی قرآن کی پچھلی جانب سے کوئی چیز نیچے گری۔ وہ ایک کار کی چابی تھی۔ اسی کے پسند کردہ شوروم میں موجود کار کی چابی, رسید کے ساتھ ۔ چابی کے ساتھ موجود رسید میں اس کی گریجوایشن والی تاریخ لکھی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ مکمل قیمت ادا کر دی گئی ہے۔
"زندگی میں کتنی ہی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم اللہ پاک کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں کو صرف اس وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں کیونکہ وہ ہماری توقعات کے مطابق لبادے میں نہیں ہوتیں۔.
گرچہ مراسلہ مرقوم بالا پر تاثر تو ' غمناک ' کا بنتا ہے ، تاہم درجہ بندی ' زبردست ' کی مناسب لگی ۔:):)
 
صرف 2 ماہ میں پورا ملک مسلمان ہوا !

مالدیب بحر ھند میں واقع ایک سیاحتی ملک ہے،یہ ملک 1192 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف 200 جزیروں پر انسانی آبادی پائی جاتی ہے.

مالدیب کی 100% آبادی مسلمان ہے جب کہ یہاں کی شہریت لینے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے.

عجیب بات یہ ہے کہ مالدیب بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک تھا صرف 2 ماہ کے اندر اس ملک کا بادشاہ،عوام اور خواص سب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے.

مگر یہ معجزہ کب اور کیسے ہوا ؟

یہ واقعہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے مالدیب کی سیاحت کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے ابن بطوطہ ایک عرصے تک
مالدیب میں بطور قاضی کام کرتے بھی رہے ہیں.

وہ اپنی کتاب ' تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأمصار ' میں لکھتے ہیں کہ

مالدیب کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور حد درجہ توہم پرست بھی اسی بدعقیدگی کے باعث ان پر ایک عفریت(جن) مسلط تھا،وہ عفریت ہر مہینہ کی آخری تاریخ
کو روشنیوں اور شمعوں کے جلو میں سمندر کی طرف سے
نمودار ہوتا تھا اور لوگ سمندر کے کنارے بنے بت خانہ میں ایک دوشیزہ کو بناؤ سنگھار کرکے رکھ دیتے وہ عفریت
رات اس بت خانے میں گزارتا اور صبح وہ لڑکی مردہ
پائی جاتی اور لوگ اس کی لاش کو جلاتے.

عفریت کے لئے دوشیزہ کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا اس بار قرعہ اندازی میں ایک بیوہ بڈھیا کی بیٹی کا نام
نکلا تھا رو رو کر بڈھیا نڈھال ہوچکی تھی گاؤں کے لوگ بھی بڈھیا کے گھر جمع تھے ،دور سے آئے اس مسافر نے بھی
بڈھیا کے گھر کا رخ کیا اس کے استفسار پر اسے سب کچھ بتایا گیا کہ عفریت کے مظالم کتنے بڑھ گئے ہیں.

مسافر نے بڈھیا کو دلاسہ دیا اور عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ آج رات آپ کی بیٹی کی جگہ بت خانے میں مجھے بٹھایا جائے،پہلے تو وہ لوگ خوف کے مارے نہ مانے کہ عفریت غصہ ہوئے تو ان کا انجام بد ہوسکتا ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا وہ راضی ہوگئے،مسافر نے وضو کیا اور بت خانے میں داخل ہو کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی
عفریت آیا اور کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا،لوگ صبح نہار بت خانہ کے باہر جمع ہوئے تاکہ لاش جلائی جا سکے لیکن مسافر کو زندہ دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے.

یہ مسافر مشہور مسلم داعی،مبلغ اور سیاح ابو البرکات
بربری تھے،ابو برکات کی آمد اور عفریت سے دو دو ہاتھ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی بادشاہ نے
شیخ کو شاہی اعزاز کے ساتھ اپنے دربار میں بلایا شیخ ابو برکات نے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور صرف 2 کے اندر مالدیب کے سب لوگ بدھ مت سے تائب ہو کر مسلمان ہوچکے تھے.

یہ 1314ء کی بات ہے اس مبلغ اور داعی نے مالدیب کو اپنا مسکن بنایا لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی، ہزاروں مسجدیں تعمیر کیں،اور مالدیب میں ہی فوت ہوئے اسی مٹی پر ہی دفن ہوئے.

کہنے کو ابو البرکات بربری ایک شخص لیکن تنہا ایک امت کا کام کر گئے،آج بھی ان کو برابر اجر مل رہا ہوگا۔“
متاثر کن
 

سید عمران

محفلین
ہم اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟

نیا ڈنر سیٹ خریدا ہے تو کھانا پرانے میں کیوں کھایا جائے؟

نئے کپڑے سلوائے ہیں تو اُنہیں عام حالات میں بھی پہننے میں کیا مضائقہ ہے؟

گھر میں ڈیڑھ لٹر والے کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلوں کے انبار لگتے جارہے ہیں لیکن پھینکنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا۔

نیا بلب خرید لیا ہے تو پرانے کو سٹور میں کیوں سنبھال کے رکھ دیا ہے؟

باتھ رو م میں نیا شیونگ ریزر موجود ہے تو پرانے پندرہ ریزر کا انبار کیوں لگا رکھا ہے؟

پانچ سو روپے والا لائٹر خرید ہی لیا ہے تو اُسے استعمال کیوں نہیں کرتے؟

نئی بیڈ شیٹ کیوں سوٹ کیس میں پڑی پڑی پرانی ہوجاتی ہے؟

جہیز میں ملی نئی رضائیاں کیوں بیس سال سے استعمال میں نہیں آئیں؟

باہر سے آیا ہوا لوشن کیوں پڑا پڑا ایکسپائر ہوگیا ہے؟؟؟

دل چاہیے۔۔۔! نئی چیز استعمال کرنے کے لیے پہاڑ جتنا دل چاہیے ‘جو لوگ اس جھنجٹ سے نکل جاتے ہیں ان کی زندگیوں میں عجیب طرح کی طمانیت آجاتی ہے۔ یہ شرٹ خریدیں تو اگلے دن پورے اہتمام سے پہن لیتے ہیں۔

یہ ہر اوریجنل چیز کو اُس کی اوریجنل شکل میں استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے دیکھنے والوں کو لگتاہے جیسے یہ بہت امیر ہیں حالانکہ یہ سب چیزیں ہمارے پاس بھی ہوتی ہیں لیکن ہماری ازلی بزدلی ہمیں ا ن کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی۔

دن پہ دن گذرتے جاتے ہیں لیکن ہم نقل کی محبت میں اصل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

کسی کے گھر سے کیک آجائے تو خود کھانے کی بجائے سوچنے لگتے ہیں کہ آگے کہاں دیا جاسکتا ہے۔
ہر وہ کیک جس پر لگی ٹیپ تھوڑی سی اکھڑی ہوئی ہو‘اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل خانہ نے ڈبہ کھول کر چیک کیا ہے اور پھر اپنے تئیں کمال مہارت سے اسے دوبارہ پہلے والی حالت میں جوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔پتانہیں کیوں ہم میں سے اکثر کو ایسا کیوں لگتاہے کہ اچھی چیز ہمارے لیے نہیں ہوسکتی۔

اور تو اور ہم بچے سے جوان ھو گئے مگر اپنے ناپ کے کپڑے اور جوتے نصیب نہ ھوئے ، جوتا احتیاطاً ایک دو نمبر بڑا لیا جاتا، لاکھ پہن کر رو کر بھی دکھایا کہ دیکھو اماں میری ایڑھی تو اس جوتے کی کمر تک جا رھی ھے مگر ایک ہی جواب کہ پاؤں بڑھ رھا ھے اگلے سال پورا ھو جائے گا اور قسم سے اگلا سال آیا بھی نہ ھوتا اور جوتا لیرو لیر ھو جاتا ، کپڑے ہمیشہ ایک بالشت بڑے رکھوانے ہیں تا کہ اگلے سال چھوٹے بھائی کو بھی پورے ھو جائیں ۔ ،،

ہم ساری زندگی اچھے لباس کے میلا ہونے کے ڈر سے جیتے ہیں اور پھر ایک دن دودھ کی طرح اجلا لباس پہن کر مٹی میں اتر جاتے ہیں۔۔۔

'خوش رھیے اور خوشیاں بانٹیے .....!!!
اپنی چیزوں کو وقت پر استعمال کریں زندگی کا ایک پل بھی بھروسہ نہیں ہے. سب کچھ ادھر ہی چھوڑ جانا ہے
 

سید عمران

محفلین
ایک پاکستانی نے سویڈش لڑکی سے شادی کر لی۔ شادی کے بعد اسے اسلام اور اسلام کی تعلیمات کے بارے میں بتاتا رہتا۔

اسے بتاتا کہ اسلام محبت کا دین ہے، عفو و درگزر کا مذہب ہے۔ حسن سلوک اور حسن معاملہ کا مذہب ہے۔ نفرت اور قطع تعلقی کو اچھا نہیں سمجھتا، رحم اور برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔

بالآخر، ایک دن لڑکی نے ان تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔

پاکستانی صاحب، ایک بار چھٹیاں گزارنے پاکستان تشریف لائے تو اپنی سویڈش بیوی کو بھی ساتھ لیتے آئے۔ کوئی ایک ہفتہ اپنے خاوند کے گھر والوں کے ساتھ رہنے کے بعد سویڈش بی بی کہنے لگی: تم اپنی گھر والوں کو بھی اسلام کی تبلیغ کرو، تاکہ یہ بھی مسلمان ہو جائیں۔
 

سید عمران

محفلین
جلد چہارم مشکوۃ شریف نرمی و مہربانی حیاء اور حسن خلق کا بیان
مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ نرمی و مہربانی حیاء اور حسن خلق کا بیان ۔ حدیث 996

خرچ میں میانہ روی زندگی کا آدھا سرمایہ ہے

راوی:

وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الاقتصاد في النفقة نصف المعيشة والتودد إلى الناس نصف العقل وحسن السؤال نصف العلم روى البيهقي الأحاديث الأربعة في شعب الإيمان

" اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اخراجات میں میانہ روی اختیار کرنا نصف معیشت ہے انسانوں سے دوستی نصف عقل ہے اور خوبی کے ساتھ سوال کرنا آدھا علم ہے ان چار روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
 

سید عمران

محفلین
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا

’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔


صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔

ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘

مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘

مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘

مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں-

سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘

مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘

سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں

جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘

صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘

ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘

دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
 

سید عمران

محفلین
ریاضى میں کمزور دو دوست انٹرویو کیلئے تیار بیٹھے تھے، پہلے کا نمبر آیا تو وه اندر داخل ہُوا....

آفیسر: آپ ٹرین سے سفر کر رہے ہوں اور اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟

امیدوار: میں کھڑکى کھول دُوں گا۔

آفیسر : بہت خُوب، اَب بتاؤ کہ اگر وه کھڑکى 1.5 اسکوئر میٹر ہے اور ڈبے کا رقبہ 12x90 فٹ ہے اور ٹرین 80 کلومیٹر فى گھنٹہ کى رفتار سے جنوب کى طرف جا رہى ہو اور ہوا جنوب سے 5 میل فى سیکنڈ کی رفتار سے ڈبے میں داخل ہو رہى ہو تو پُورا ڈبه ٹھنڈا ہونے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟

امیدوار نے کوشش کى مگر جواب نہ دے سکا اور وه فیل ہو گیا۔

باہر آ کر اُس نے وہ سوال اپنے دوست کو بتایا
اب اس کى بارى آئی۔۔۔

آفیسر : آپ ٹرین میں سفرکر رہے ہوں، اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے ؟

امیدوار : میں اپنا کوٹ اُتار دُوں گا۔۔
آفیسر : پھر بھى آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟

امیدوار : میں اپنی شرٹ اُتار دُوں گا۔
آفیسر : (چڑ کر) پھر بھى آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟

امیدوار : میں اپنی بُنیان اُتار دُوں گا۔

آفیسر :(غُصے میں) اگر پھر بھى گرمى لگے تو؟

امیدوار : توں پاویں مینوں قتل کر دے میں کھڑکی نئیں او کھولنی..........
 

سید عمران

محفلین
لفظوں کا استعمال۔۔۔۔۔!

یونیورسٹی کے دنوں کی بات ہے مجھے اخراجات پورے کرنے کیلیے ایک ہوم ٹیوشن پڑھانے جانا پڑتا تھا.. ِ چھوٹی اقصی چوتھی میں پڑھتی تھی جبکہ عباس چھٹی میں پڑھتا تھا۔ بچے بہت ذہین تھے اکثر ہی خاموش کر دیتے تھے
ایک دن اقصی کہنے لگی :
"سر خُسرے کسے کہتے ہیں؟۔"

میں خاموش کہ بچے کو کیا کہوں...
"بیٹا یہ جو شادیوں میں ناچتے ہیں.."
"سر وہ تو بابا اور ماموں بھی ناچتے ہیں کیا وہ خُسرے ہیں"

"نہیں بیٹا یہ عورتوں جیسے ہوتے ہیں..."
میں نے فورا وضاحت پیش کی..
"اچھا اچھا ہماری پھپھو بھی شادی میں خُسرا لگتی ہیں ایک دن ممانی کہہ رہی تھی کہ شائستہ ایسے تیار ہوتی ہے جیسے خُسرا ہو"
وہ اپنے گھر کے حالات بیان کرنے لگی ۔

"نہیں بیٹا یہ وہ مرد ہوتے ہیں جو زنانہ لباس میں ڈھول پر ناچتے ہیں"
"سر سب ہی ڈھول کی آواز پر ناچتے ہیں واشنگ مشین کی آواز پر کون ناچتا ہے"
عباس بھی فیصل آبادی آباؤاجداد کا تھا...

میں ایک دفعہ پھر لاجواب ہونے لگا... پھر یکدم ایک بات ذہن میں آئی
"بیٹا یہ لفظ سنا کہاں سے ہے؟" میں نے سوچا انکو اسی حساب سے جواب دوں..
"سر وہ باہر دیوار پر لکھا ہوا تھا
"یہاں خسرے کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں"
اب واقعی میں خاموش ہوگیا
"بیٹا یہ خُسرا نہیں خَسرہ ہوتا ہے۔"
 

سید عمران

محفلین
ایئر ہوسٹس جب باربار مجھے چاچا جی کہتی تو جہاز میں بیٹھے لوگ مسکرانا شروع کردیتے۔ اُس نے ایک دفعہ پھر کہاچاچا جی میں جب آپ کو چاچا جی کہتی ھُوں آپ مائنڈ تو نہیں کرتے؟
میں نے کہا، بی بی تُو مجھے چاچا جی کہہ یا دادا جی کہہ اندر سے جو میری نیت ھے وہ تو نہیں بدلنی.

مستنصر حسین تارڑ
 

سید عمران

محفلین
احساس کمتری

" ایک شخص " ماہر نفسیات کے پاس گیا اور کہا کہ وہ شدید احساس کمتری کا شکار ہے اوراسے اپنا اپ گھٹیا لگتا ہے ۔

ماہر نفسیات نے 2 گھنٹے تک اسکے خیالات اور نظریات پر گھل کے بات چیت کی اور مسلسل نوٹس لیتا رہا۔

گفتگو ختم کرتے ہوئے ماہر نفسیات نے اسکے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔

بات یہ ہے بھائی ۔ تمہیں کوئی احساس کمتری نہیں ہے ۔۔
بلکہ تم ہو ہی گھٹیا انسان ۔
 

سید عمران

محفلین
ایک آدمی فلسفہ کی تعلیم مکمل کر کے گھر آیا،
ناشتہ کرتے ہوئے بیوی نے پوچھا، تم نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، اتنا پیسہ خرچ کیا، اس فلسفے کا کوئی فائدہ ہمیں بھی بتاؤ،
شوہر نے سامنے پڑے ہوئے انڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
میں اس انڈے کو اپنے فلسفے کے ذریعے دو انڈے ثابت کر سکتا ہوں،
بیوی نے وہ انڈہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا،
جو انڈہ تم اپنے فلسفے سے ثابت کرو گے، وہ تم خود کھا لینا ۔
 

سید عمران

محفلین
شاہ اسماعیل رح
کچھ لڑکیاں سب سے بے نیاز اپنی اداؤں سے سب کو گھائل کرتی مدرسہ عزیزیہ کے سامنے سے گزر رہی تھیں کہ حضرت شاہ محمد اسماعیل رحمہ اللہ کی نظر ان پر پڑ گئی!
حضرت نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون ہیں؟ ساتھیوں نے بتایا کہ یہ طوائفیں ہیں اورکسی ناچ رنگ کی محفل میں جا رہی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب نے فرمایا. اچھا یہ تو بتاؤ کہ یہ کس مذھب سے تعلق رکھتی ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ یہ دین اسلام ہی کو بدنام کرنے والی ہیں. اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں۔
شاہ صا حب نے جب یہ بات سنی تو فرمایا:
مان لیا کہ بدعمل اور بدکردار ہی سہی لیکن کلمہ گو ہونے کے ناطے ہوئیں تو ہم مسلمانوں کی بہنیں ہی. لہٰذا ہمیں انھیں نصیحت کرنی چا ہیے، ممکن ہے گناہ سے باز آجائیں...
ساتھیوں نے کہا ان پر نصیحت کیا خاک اثر کرے گی؟ انہیں نصیحت کرنے والا تو الٹا خود بدنام ہو جائے گا
شاہ صاحب نے فرمایا: تو کیا ہوا؟. میں تو یہ فریضہ ادا کر کے رہوں گا خواہ کوئی کچھ سمجھے!
ساتھیوں نے عرض کیا۔ حضرت! آپ کا ان کے پاس جانا قرین مصلحت نہیں ہے. آپ کو پتا ہے کہ شہر کے چاروں طرف آپ کے مذہبی مخالفین ہیں. جو آپ کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے..
آپ نے فرمایا مجھے ذرہ بھر پروا نہیں. میں انہیں ضرور نصیحت کرنے جاؤں گا!
اس عزم صمیم کے بعدآپ تبلیغ حق و اصلا ح کا عزم صادق لے کر گھر تشریف لائے. درویشانہ لباس زیب تن کیا اور تن تنہا نائیکہ کی حویلی کے دروازے پر پہنچ کر صدا لگائی..
اللہ والیو! دروازہ کھولو اور فقیر کی صدا سنو!
آپ کی آواز سن کر چند لڑکیاں آئیں. دروازہ کھولا تو دیکھا باہر درویش صورت بزرگ کھڑا ہے...
انھوں نے سمجھا کہ کوئی گداگر فقیر ہے سو چند روپے لا کر تھما دیے، لیکن اس نے اندر جانے پر اصرار کیا اور پھر اندر چلے گئے۔
شاہ صاحب نے دیکھا کہ چاروں طرف شمعیں اور قندیلین روشن ہیں. طوائفیں طبلے اور ڈھولک کی تھاپ پر تھرک رہی ہیں. ان کی پازیبوں اور گھنگھروؤں کی جھنکار نے عجیب سماں باندھ رکھا ہے..
جونہی نائیکہ کی نگاہ اس فقیر بے نوا پر پڑی اس پرہیبت طاری ھو گئی..
وہ جانتی تھی کہ اس کے سامنے فقیرانہ لباس میں گداگر نہیں بلکہ شاہ اسماعیل کھڑے ہیں. جو حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر کے بھتیجے ہیں..
نائیکہ تیزی سے اپنی نشست سے اٹھی اور احترام کے ساتھ ان کے سامنےجا کھڑی ہوئی. بڑے ادب سے عرض کیا:
حضرت آپ نے ہم سیاہ کاروں کے پاس آنے کی زحمت کیوں کی؟. آپ نے پیغام بھیج دیا ہوتا تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتیں!
آپ نے فرمایا: بڑی بی تم نے ساری زندگی لوگوں کو راگ و سرور سنایا ہے. آج کچھ دیر ہم فقیروں کی صدا بھی سن لو!
جی سنائیے ہم مکمل توجہ کے ساتھ آپ کا بیان سنیں گی!
یہ کہہ کر اس نے تمام طوائفوں کو پازیبیں اتارنے اور طبلے ڈھولکیاں بند کرکے وعظ سننے کا حکم دے دیا..
وہ ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ گئیں۔
شاہ اسماعیل (رحمہ اللہ) نے حمائل شریف نکال کر سورۃ التين تلاوت فرمائی، آپ کی تلاوت اس قدر وجد آفریں اور
پرسوز تھی کہ طوائفیں بے خود ہو گئیں...
اس کے بعد آپ نے آیات مبارکہ کا دلنشین رواں ترجمہ بیان فرمایا، یہ خطاب زبان کا کانوں سے خطاب نہ تھا بلکہ یہ دل کا دلوں سے اور روح کا روحوں سے خطاب تھا. یہ خطاب دراصل اس الہام ربانی کا کرشمہ تھا جو شاہ صاحب جیسے مخلص دردمندوں اور امت مسلمہ کے حقیقی خیرخواہوں کے دلوں پر اترتا ہے!
جب طوائفوں نے شاہ صاحب کے دلنشین انداز میں سورت کی تشریح سنی تو ان پر لرزہ طاری ہو گیا. روتے روتے اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
شاہ صاحب نے جب ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑیاں دیکھیں تو انہوں نے بیان کا رخ توبہ کی طرف موڑ دیا اور بتایا کہ جو کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر اللہ سے اس کی معافی مانگ لے تو اللّٰہ بڑا رحیم ہے. وہ معاف بھی کر دیتا ہے بلکہ اسے تو اپنے گنہگار اور سیاہ کار بندوں کی توبہ سے بے حد خوشی ہوتی ہے..
آپ نے توبہ کے اتنے فضائل بیان کیے کہ ان کی سسکیاں بندھ گئیں...
کسی ذریعے سے شہر والوں کو اس وعظ کی خبر ہو گئی. وہ دوڑے دوڑے آئے اور مکانوں کی چھتوں دیواروں چوکوں اور گلیوں میں کھڑے ہو کر وعظ سننے لگے، تاحدِنگاہ لوگوں کے سر ہی سر نظر آنے لگے!
شاہ صاحب نے انھیں اٹھ کروضو کرنے اور دو رکعت نوافل ادا کرنے کی ہدایت کی۔
راوی کہتا ہے کہ جب وہ وضو کر کے قبلہ رخ کھڑی ہوئیں اور نماز کے دوران سجدوں میں گریں تو شاہ صاحب نے ایک طرف کھڑے ہو کر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے اور عرض کیا:
اے مقلب القلوب!
اے مصرف الاحوال!
میں تیرے حکم کی تعمیل میں اتنا کچھ ہی کر سکتا تھا یہ سجدوں میں پڑی ہیں، تو ان کے دلوں کو پاک کر دے، گناہوں کو معاف کردے اور انہیں آبرومند بنا دے تو تیرے لیے کچھ مشکل نہیں،ورنہ تجھ پر کسی کا زور نہیں، میری فریاد تو یہ ہے کہ انھیں ہدایت عطا فرما انھیں نیک بندیوں میں شامل فرما!
ادھر شاہ صاحب کی دعا ختم ہوئی اور ادھر ان کی نماز...
وہ اس حال میں اٹھیں کہ دل پاک ہو چکے تھے!
اب شاہ صاحب نے عفت مآب زندگی کی برکات اور نکاح کی فضیلت بیان کرنی شروع کی اور اس موضوع کو اس قدر خوش اُسلوبی سے بیان کیا کہ تمام طوائفیں گناہ کی زندگی پر کفِ افسوس کرنے لگیں اور نکاح پر راضی ہو گئیں. چنانچہ ان میں سے جوان عورتوں نے نکاح کرا لیے اور ادھیڑ والیوں نے گھروں میں بیٹھ کر محنت مزدوری سے گزارا شروع کر دیا۔
کہتے ہیں کہ ان میں سے سب سے زیادہ خوبصورت موتی نامی خاتون کو جب اس کے سابقہ جاننے والوں نے شریفانہ حالت اور سادہ لباس میں مجاہدین کے گھوڑوں کے لیے ہاتھ والی چکی پر دال پیستے دیکھا تو پوچھا:
وہ زندگی بہتر تھی جس میں تو ریشم و حریر کے ملبوسات میں شاندار لگتی اور تجھ پر سیم وزرنچھاور ہوتے تھے یا یہ زندگی بہتر ہے جس میں تیرے ہاتھوں پر چھالے پڑےہوئے ہیں؟
کہنے لگی اللہ کی قسم! مجھے گناہ کی زندگی میں کبھی اتنا لطف نہ آیا جتنامجاہدین کے لیے چکی پر دال دلتے وقت ہاتھوں میں ابھرنے والے چھالوں میں کانٹے چبھو کر پانی نکالنے سے آتا ہے!
(یہ قصہ تذکرہ الشہید سے ماخوذ ہے)
 

سید عمران

محفلین
’’ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘
ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ، ﺍﻟﻢ ﻧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺗﮩﻠﮑﮧ ﺧﯿﺰ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﻃﻠﺒﮧ ﮐﻮ ﮨﺪﻑ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮐﮯ ﭘﻮﺵ ﻋﻼﻗﮯ ’’ ﮈﯾﻔﻨﺲ ‘‘ ﮐﮯ 10 ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺎﻟﯽ ﺷﺎﻥ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ 50 ﮐﺮﻭﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﻮ۔ ﺍﻥ 10 ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ : ’’ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﺍﺱ ﺳﺮﻭﮮ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ۔ ﺟﺐ ﺳﺮﻭﮮ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺗﮭﮯ۔ 50 ﮐﺮﻭﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ ﻋﺮﯾﺾ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﻥ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﯽ ﺷﺎﻥ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮨﯽ ﺭﮎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮔﺰﺍﺭﯾﮟ ﺗﻮ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﭘﻮﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﭘﮍﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﭘﺘﯽ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﻧﭽﮑﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ؟ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﺎﻟﺞ ﺁﻑ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﻃﻠﺒﮧ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻼ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺷﺘﮧ 24 ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ ﻋﺮﯾﺾ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﺧﺮﭺ 25 ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ 24 ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 17 ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻮﭨﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎﮨﻮﮞ؟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ، ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ؟ ﺑﯿﻮﯼ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﺤﻨﺖ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﮨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻟﯿﮟ۔ ﻋﺰﯾﺰ، ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯿﺎﮞ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺁﭖ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺍﻣﯿﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻼﭦ ﻧﮧ ﺑﮑﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﻨﮏ ﺍﮐﺎﺅﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﻧﺌﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺗﮓ ﻭ ﺩﻭ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮﻭﻗﺖ ﺍﮐﺎﺅﻧﭧ ﺑﮭﺮﮮ ﺭﮨﯿﮟ، ﮐﺌﯽ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﭘﻼﭦ ﻣﻠﮑﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺁﺋﯿﮯ ! ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺠﺌﮯ ! ۔
ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﺩﮮ۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻟﯿﺘﺎ ‏( ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ‏) ‏( ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻟﻤﺎﻝ ﻻﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺩﻧﯿﺎ، ﺑﺎﺏ ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻟﻤﺎﻝ، ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ : 49 ‏)
 

سید عمران

محفلین
اگر آپ کی شادی قریب ہے تو لیجئیے پری کاشن۔

شادی کے بعد جو تبدیلی سب سے پہلے آپ محسوس کریں گے وہ لوگوں کا آپ سے ایک ہی سوال پوچھنا ہوگا۔۔جو نکاح کے ایک گھنٹے بعد سے لے کر 3 مہینے تک پوچھا جائیگا کہ "شادی کہ بعد کیا چینج آیا یے زندگی میں "

شادی کے بعد الماری کے 6 8 خانوں میں سے شائد آپ کو ایک یا آدھا خانا نصیب ہو جائے اپنے کپڑے لتے رکھنے کے لئے جن کی ترتیب آپ کی بیگم کے مطابق ہوگی، اپنی ٹانگ اڑانے سے گریز کریں ورنہ لنگڑاتے پھریں گے!

کوشش کریں جو چیز بھی استعمال کریں اُسے واپس اپنی جگہ پر رکھیں جیسے گیلا تولیہ، ورنہ آپ کو اسکول کا دور اور ماں کی ڈانٹ یاد آئے گی مگر یہ کڑوی ہوگی۔

اگر کبھی آپ کی کوئی چیز آپ کی بیگم بے ترتیبی سے رکھ دے تو اچھے بچوں کی طرح خود ہی اسے اہنی جگہ پر رکھ دیں۔۔بیگم سے شکائیت کرنے پر وہ آپ کو دن، تاریخ اور وقت کے ساتھ یاد کروا دے گی کہ کب کب آپ نے کون سی چیز ادھر اُدھر پھینکی تھی!

آتے جاتے بیگم کی تعریف کرتے جائیے زندگی میں سکون بنا رہے گا۔

آپ شوہر ہیں اور کوئی بھی کام آپ کبھی ٹھیک سے نہیں کر سکتے اس بات کو مان لیجیئے، بحث کرنے اور اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے پر زمہ دار آپ خود ہونگے! اس کے نتیجے میں آپ کو معافی کے ساتھ تحفہ اور باہر کھانا بھی کھلانا پڑھ سکتا ہے۔

شادی کے بعد آپ کو صابن، فیس واش، کنڈیشنر، شیمپو میں تمیز کرنا آ جائے گی اور نیلے پیلے لال کالے سفید کے علاوہ بہت سے نئے رنگوں کے نام بھی یاد ہو جائیں گے!

اگر کبھی آپ کو یہ گمان گزرے کہ آپ اپنی بیگم کو سمجھتے ہیں تو آپ بیوقوف ہیں۔۔
اور کبھی ایسا لگے کہ آپکی بیوی آپ کو نہیں سمجھتی تو آپ سے بڑا احمق کوئی نہیں۔۔


یہ میرا ذاتی تجربہ نہیں میری زندگی تو گلزار ہے! یہ تو ایک دوست کی کہانی سن کر یہ تجزیہ اخذ کیا یے۔❣❣
 
Top