شاہین باغ دہلی کے احتجاج میں چند گھڑیاں:

فاخر

محفلین
شاہین باغ میں :
اولوالعزم معزز ماؤں اور بہنوں کے احتجاج کے تعاون میں چند گھڑیاں
ابو حمدان فاخرؔ ، نئی دہلی

shaheen-bagh.jpg

ملک بھر میں مودی -شاہ کی جوڑی نے اپنے آقا (آر ایس ایس )کے دیومالائی ؛بلکہ ہٹلرزم منشور سے متأثر ہوکر جو سی اے اے (CAA) کو ظالمانہ قانون بنانے کے بعد این آرسی (NRC) نافذ کئے جانے کا اعلان کیا ہے ،اور این پی آر کے چور دروازے سے این آرسی کیلئے راہیں ہموار بھی کرنے کی کوشش میں ہے، اس کیخلاف ملک بھر میں جو احتجاج کی آندھی اور ہنگامۂ رستخیز چل پڑاہے ، اس کا اصلی مرکز شاہین باغ ، واقع جامعہ نگر اوکھلا ، دہلی ہے ، اور اب تو پورا ہندوستان ہی ’’شاہین باغ‘‘ بن گیا ہے۔گلی کوچے ، چوراہے اورہر ایک چوراہے پر ’’NO CAA‘‘اور’’ NO NRC‘‘ کا نعرہ درج کیا جارہا ہے ۔ کتنے احمق ہیں وہ جو ہمیں جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ، ان کی خطا اور حماقت ہے کہ وہ بھول رہے ہیں کہ ہم تو وہ ہیں، جنہوں نے انگریزوں کو’’ لُنڈورے‘‘ ہی بھگا دیا تھا ۔ بڑے بڑے اقتدار و حکومت کے ’’بتانِ عجم‘‘ کے غرور و تمکنت کو خاک میں ملا کر چھوڑا ہے،ہم نے ہی پہاڑوں کا سینہ چاک کرکے ظلم کے ہر آہنی شجر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے ، ہم نے دشت و جبل میں’ اذانِ حق ‘دی ہے اور ہمیں ہی سمندر نے مسکراتے ہوئے دست بستہ ’’راستہ ‘‘ دیا ہے ۔یہ ان کی حماقت ہے کہ وہ ہمیں اور کارنامے کو بھول کر اپنی نامرادی اور زیاں کاری کا سامان کررہے ہیں۔

گنہ گار شاہین باغ کے علاقہ میں مقیم بھی ہے ، بنا بریں ہمارے کئی عزیز دور دراز علاقے سے بطورخاص شاہین صفت خواتین کے احتجاج کے تعاون اوراس میں اپنی شراکت ادا کرنے کے لیے آئےتھے، ان کی معیت میں راقم کو بھی شرکت و تعاون کا موقعہ ملا ۔ تقریباً دو سے تین کیلو میٹر تک پورا علاقہ ہی سراپا احتجاج ہے ۔ جدھرنظر ڈالیں،انسانی سرہی سر نظر آرہا ہے، کیا پیرکیا مرشد اور کیامیکش اور کیا ساقی۔ کیا خواتین اور کیا بچے اور بچیاں ، گویا پوری خلقت ہی اس کالے قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اس صف میں پوری انسانیت ہی کھڑی ہے ، نہ کوئی ہندو ہے اور نہ کوئی مسلمان صرف اور صرف ہندوستانی ہیں جو منوادی سوچ اور دیومالائی ، ہٹلرزم نقطۂ نظر اور اس کے اقدام کیخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں ۔ شہر کے دیوار و در بھی #NO_CAAاور #NO-NRCکا اعلان کرر ہے ہیں ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ کسی منچلے نے ’بکرے ‘کو بھی ان انقلابی نعروں سے رنگ دیا ۔

ہم اپنے مہمانوں کے ساتھ جائے احتجاج کی طرف بڑھ رہے تھے تو جائے احتجاج سے قبل میں ہی انقلابی نعروں کی گونج سماعت سے ٹکرانے لگی اور سرکار مخالف پوسٹر اور بینر آویزاں نظر آنے لگے ۔ اس جگہ یہ تصویر بھی نظر کے سامنے سے گزری کہ موجودہ پی ایم کی انتخابی تشہیرکے بینر پر تصویر تھی ، جس پر مظاہرین نے اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کالک پو ت کر چاکنگ کے ذریعہ ( NO CAA اور NO NRC) کا نعرہ درج کردیا تھا ،حتیٰ کہ اس احتجاج میں دہلی کے موجودہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی تصویر بھی ’انقلابی دست درازی ‘ سے محفوظ نہ رہی ۔ ہم جوں جوں جائے احتجاج کی طرف بڑھ رہے تھے ، انقلابی نعروں کی گونج ہماری سماعتوں سے ٹکرانے لگی ۔جب ہم احتجاج کے پنڈال کے قریب پہنچے تو وہاں کا منظر ہی قابل دید تھا ، مگر اس کے بیان و اظہار کے لیے الفاظ کم پڑ رہے تھے ۔ میں پنڈال کے قریب مقررین کی تقریر سننے لگا ۔ مقررین کی کوئی قید نہیں تھی، نہ حسب کی نہ نسب ، نہ ذات کی نہ برادری کی ۔ نہ مذہب کی نہ دھرم کی ۔ ہر ایک ہندوستانی جوسرکار کے ظالمانہ پالیسی ، سی اے اے اور سرکار کے مجوزہ این آرسی کا ادراک اور اس کی کامل فہم رکھتا ہو، تقریر کا اہل اور مجاز ہے ۔ اسی احتجاج میں کئی مرد حضرات بھی خواتین کے جائے احتجاج سے الگ سی اے اے کیخلاف نعرہ بازی کر رہے تھے ، ان کا واضح مطالبہ تھا کہ حکومت سی اے اے کو واپس لے اور این آرسی سے ہمیشہ کے لیے تائب ہوجائے ۔جب میں نے ان کا یہ نعرہ سنا تو یکلخت اپنا ہی یہ شعر یادآگیا ، جسے گنہ گار نے سی اے اے کے اعلان کے وقت کہا تھا ؎
رگوں میں شہیدوں کا خوں ہے جو شامل٭تو پھر کیوں ہمیں بل یہ منظور ہوگا


طرۂ ستم تو یہ ہے کہ سرکار بھی ضد پر اڑی ہے ، چوں کہ سرکار اکھنڈ بھارت کے قیام کے لیے ہی اقتدار پر ووٹ کے شعبدہ بازی کے ذریعہ مسلط کی گئی ہے ، گرچہ اس’’ اکھنڈ بھارت‘‘ کے قیام میں انسانی لاشوں سے کیوں نہ گزرنا پڑجائے اور موجود ہ ’’اہل حکم ‘‘کا دامن اس دھبہ سے تہی دامن نہیں! مجھے 2014سے ہی علم ہوچکا تھا کہ یہ سرکار اپنے فیصلے کو بزور بازو و اسلحہ مسلط کرے گی ،گرچہ سڑکو ں پر انسانی خون کی ندیاں ہی کیوں نہ بہہ جائے،یوپی کی صورتحال اس ’’سفاکی‘‘ کو بیان کرتی ہے ۔میرٹھ ، مظفرنگر ، رام پور ، وارانسی ،بجنور کے علاوہ ریاست اتر پردیش کے تمام اضلاع کی یہی کیفیت ہے ،مگر آفریں اور سلام کی مستحق ہیں،شاہین صفت معزز خواتین ، جو اپنے فیصلہ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ’’بنیان مرصوص‘‘ کی عملی تفسیر بیان کر رہی ہیں ۔ ان کی ہمت ، اولوالعزمی ، جاں سپاری اور دلیری کو تہہ دل سے سلام ۔میں ان ماؤں اور بہنوں میں اُس’’ فاطمہ بنت عبداللہ‘‘ کو دیکھ رہا ہوں ، جوجنگ بلقان 1912ء میں اپنے غازی بھائیوں کو پانی پلاتے ہوئے جان جاں آفریں کے سپرد کردی تھیں ۔جب میں ان ماؤں اور بہنوں کو دیکھتا ہوں ،تو بے ساختہ کہنا پڑ جاتا ہے ، بقول اقبالؔ ؎

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی ٭ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

جب میں شاہین باغ کی ان ماؤں اور بہنوں کودیکھا جو سرکار کو للکار رہی تھیں ، جھنجور رہی تھیں اور کالے قانون CAAکیخلاف اپنا احتجاج درج کرارہی تھیں تو ان کی تقاریر سن کر یہ اندازہ ہوگیا کہ ہم (روایتی مولوی ) جو آج تک یہی سمجھتے رہے کہ خواتین سماجی امور میں اپنی شراکت ادا نہیں کرسکتیں ، اس خوش گمانی کے ’’تارِ عنکبوت ‘‘ کی طرح بکھر گئے ۔ ہم نے ایک خیال ازل سے اپنی گرہ میں باندھ رکھا تھا کہ خواتین ’’خواتین‘‘ ہی ہوتی ہیں ، لیکن احوال معاصر نے انہیں سرپر کفن باندھنے پر مجبور کردیا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ میدانِ کارزار میں کو د پڑیں اور ہمارے وہم کی دھجیاں بکھیردیں ۔’’تیرا میرا رشتہ کیا،لاالٰہ الا اللہ‘‘ ان ہی احتجاج میں گونجا تھا اورفیض احمد فیضؔ کی انقلابی نظم ’ ہم دیکھیں گے ،لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ حبیب جالب کی نظم ’دستور‘ ’’میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا ‘‘ کا ترانۂ انقلابی بھی ان ہی احتجاجات میں گونج رہا ہے ۔ خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کا اصلی راز شاہین باغ جاکر معلوم ہوا کہ اگرہماری یہ مائیں اور بہنیں تعلیم یافتہ نہ ہوتیں تو پھر شاہین باغ سے حکومت وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے والی کوئی اولوالعزم اور شاہیں صفت بہن نہ ہوتی ۔ ایک بہن اپنی احتجاجی تقریر میں فرما رہی تھیں کہ:

’’ ہم حکومت ِوقت کو بتادینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک گاندھی ، نہرو، مولانا آزاد ،مولانا جوہر، شہیداشفاق اللہ خان ،شہید بھگت سنگھ، رام پرساد بسملؔ ، کھودی رام بوس اور ان جیسے لاکھوں جانبازوں اور ویر سپوتوں کا ہے ،اس لیے اس ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنا حکومت کی بزدلی اور ’حماقت‘ ہے، حکومت اپنے قدم پیچھے کرلے، ہم اپنا لہو دے کر کل بھی اس ملک کو سینچا تھا ، آج بھی لہو دے کر اس ملک کے آئین ، تحفظ، سالمیت ، بقا اور گنگا جمنی تہذیب کو بچائیں گے ، گرچہ ہمیں اپنی گردنیں کیوں نہ کٹانی پڑجائیں‘‘۔

جب ان کلمات کو سنا تو، فرطِ محبت اور اظہارِ تشکر میں آنکھیں اشکبار ہوگئیں کہ یا اللہ! تو نے ہماری ماؤں اور بہنوں کو شاہین صفت بنایاہے ، جو’ کلمہ ٔ حق‘جابر ِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال بیان کررہی ہیں ،یا اللہ تو ان آنچلوں کی لا ج رکھنا ۔ان پردہ نشیں بہنوں کی ہمت و ولولہ کا صلہ ضرور عطا کرنا آمین ۔
اس احتجاج میں سب سے اہم ان معزز خواتین کے ساتھ ان کے معصوم بچے اور بچیاں ہیں ، جن کو مائیں اور بہنیں اپنے ساتھ لے کر آئی ہیں ۔کتنے معصوم اور پھول جیسے ہیں ،سبحان اللہ !دل گواہی دیتا ہے کہ خلدبریں سے یہ معصوم بچے اتر کر آئے ہیں ۔ ان کے پھول جیسے چہرے ایسے لگ رہے ہیں کہ اگر ان چہروں کو جنت کے’’ ولدان مخلدون‘‘ بھی دیکھ لیں تو پانی بھریں ۔ اس پرطرہ یہ ہے کہ ان معصوم کے شگفتہ رو گالوں پر ’’ترنگا‘‘ کی پینٹنگ کی گئی ہے ، جو ان کی خوبصورتی کو سہ آتشہ کررہی ہے ۔اسی احتجاج میں راقم نے ایک معصوم بچی کو دیکھا، چوں کہ میرے یہاں بھی نیانیا مہمان ’حمدان ‘ آیا ہے ، اس لیے پدرانہ شفقت جوش میں آگئی ، اس بچی کے ساتھ فوٹو بھی کھنچوایا اس معصوم بچی کا نام ’’ارم پروین‘‘ ہے۔ (بطور یادرگار اس فوٹو کو اس تحریر کے ساتھ منسلک کررہا ہوں) ماؤں اور بہنوں کا ان معصوم بچوں کے ساتھ احتجاج میں آنا ، اس بات کی واضح علامت ہے کہ :’ مائیں اپنے ان معصوم بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مندہیں ، اور اسی لیے ان کا یہ احتجاج بے تکان مسلسل جاری ہے، ماشاء اللہ اللہم زد فزد ۔ شاہین باغ ایک تاریخ رقم کررہا ہے ،جس میں ہر کوئی شہید بھگت سنگھ ہے تو ہر کوئی شہید اشفاق اللہ خان ! ہر کوئی(مائیں اور بہنیں) سروجنی نائیڈو بن کر اپنا احتجاج کررہی ہیں تو ہر کوئی والدۂ ’’علی برادران ‘‘کا کردار ادا کررہی ہیں ۔آفریں ہے کہ دہلی کی یخ بستہ سر د ہوائیں ،نقطۂ انجماد کو چھولینے والی سرد راتیں، بارش کے جھکڑ ،اور طوفان بھی ان کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کرسکے ۔وہ آہنی دیوار بن کر کالے قانون کیخلاف ڈٹی ہوئی ہیں ، شیرنی بن کر آئین کی دھجیاں بکھیرنے والے ’’بھیڑیوں اور روباہوں‘‘ کو للکار رہی ہیں ۔ پورے ملک میں صرف ایک شاہین باغ نہیں ہے؛بلکہ پورا ملک ہی ’’شاہین باغ‘‘ بنا ہوا ہے ۔ الہ آباد کا روشن باغ ، پٹنہ کا سبزی باغ جیسے تقریباً کئی ’’ایسے باغات ‘‘ ہیں ، جہاں ملک کی سا لمیت ، بقا ، جمہوریت کے تحفظ اور انسانی مساوات کے لیے ماؤں اور بہنوں کی جانب سے لازوال او ربے مثال قربانیاں پیش کی جارہی ہیں ۔ان شا ءاللہ الرحمن ان ماؤں اور بہنوں کی یہ جہد ِ مسلسل ، قربانیاں ، اولوالعزمی، جاں سپاری ،تگ و دو اور تاریخی مزاحمت کامرانی و کامیابی سے ہمکنار ہوگی ۔ ان ماؤں اور بہنوں کو دل کی عمیق گہرائیوں سے سلام ۔ آنے والی نسلیں ان ماؤں ، بہنوں ، بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کی قرض خو ار ہوں گی ۔
ع ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
b086c6db-6795-4626-b39c-d1fb62c585a5.jpg
 
مدیر کی آخری تدوین:
Top