سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ۔ رام پرساد بسمل

فرخ منظور

لائبریرین
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اے شہیدِ ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمّت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

وائے قسمت پاؤں کی اے ضُعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

رَہ روِ راہِ محبت! رہ نہ جانا راہ میں
لذّتِ صحرا نوردی دوری منزل میں ہے

شوق سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادہ منزل میں ہے

آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے

مر نے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کفِ قاتل میں ہے

مانعِ اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو اَدب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

میکدہ سُنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے

(رام پرساد بسملؔ)
 

فرخ منظور

لائبریرین
اس غزل کا ایک ہی شعر سب سے زیادہ مشہور ہے- اور سب سے اچھا شعر بھی یہی لگتا ہے-

دراصل اس غزل کے ساتھ عجیب معاملہ ہے۔ معلوم نہیں کہ رام پرساد بسمل نے ہی اسے بدل کر نظم بنا ڈالا یا کسی اور شاعر نے۔ یہ کلام اس شکل میں زیادہ مشہور ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
کیوں نہیں کرتا ہے کوئی دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسمان
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
کھینج کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچہِ قاتل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہے لئے ہتھیار دشمن تاک میں بیٹھا ادھر
اور ہم تیار ہیں سینہ لئے اپنا ادھر
خون سے کھیلیں گے ہولی گر وطن مشکل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہاتھ جن میں ہو جنوں کٹتے نہیں تلوار سے
سر جو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکا ر سے
اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ہم جو گھر سے نکلے ہی تھے باندھ کے سر پہ کفن
جاں ہتھیلی پر لئے، لو لے چلے ہیں یہ قدم
زندگی تو اپنی مہماں موت کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

یوں کھڑا مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
کیا تمنا ئے شہادت بھی کِسی کے دِل میں ہے
دل میں طوفانوں کی ٹولی اور نسوں میں انقلاب
ہوش دشمن کے اڑا دیں گے ہمیں روکو نہ آج
دور رہ پائے جو ہم سے دم کہاں منزل میں ہے

جسم بھی کیاجسم ہے جس میں نہ ہو خونِ جنوں
طوفانوں سے کیا لڑے جو کشتیِ ساحل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
 
دراصل اس غزل کے ساتھ عجیب معاملہ ہے۔ معلوم نہیں کہ رام پرساد بسمل نے ہی اسے بدل کر نظم بنا ڈالا یا کسی اور شاعر نے۔ یہ کلام اس شکل میں زیادہ مشہور ہے۔

فرخ بھائی دونوں ہی صورتوں میں (یعنی غزل ہو یا نظم) مجھے تو یہ ایک شعر باقی تمام اشعار پر فائق لگا- نظم میں تو کچھ اشعار ایسے بھی نظر آرہے ہیں کہ لگتا ہے کسی نے فقط بھرتی کے لیے ڈالے ہیں -
 

فرخ منظور

لائبریرین
فرخ بھائی دونوں ہی صورتوں میں (یعنی غزل ہو یا نظم) مجھے تو یہ ایک شعر باقی تمام اشعار پر فائق لگا- نظم میں تو کچھ اشعار ایسے بھی نظر آرہے ہیں کہ لگتا ہے کسی نے فقط بھرتی کے لیے ڈالے ہیں -

ذاتی طور پر مجھے مطلع کی بجائے یہ تین اشعار زیادہ پسند ہیں۔

وائے قسمت پاؤں کی اے ضُعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

مانعِ اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو اَدب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

میکدہ سُنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے
 
ذاتی طور پر مجھے مطلع کی بجائے یہ تین اشعار زیادہ پسند ہیں۔

وائے قسمت پاؤں کی اے ضُعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

مانعِ اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو اَدب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

میکدہ سُنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے

جی واقعی اچھے اشعار ہیں یہ بھی -
میری پسندیدگی کی وجہ مطلع میں پُر جوش انداز ہے -
 

arifkarim

معطل
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اے شہیدِ ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمّت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

وائے قسمت پاؤں کی اے ضُعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

رَہ روِ راہِ محبت! رہ نہ جانا راہ میں
لذّتِ صحرا نوردی دوری منزل میں ہے

شوق سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادہ منزل میں ہے

آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے

مر نے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کفِ قاتل میں ہے

مانعِ اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو اَدب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

میکدہ سُنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے

(رام پرساد بسملؔ)

شکریہ۔ یہ مشہور بھارتی فلم 'رنگ دی بسنتی' میں فلمائی گئی تھی:

آج اسکا پورا متن بھی مل گیا :)
 

arifkarim

معطل
دراصل اس غزل کے ساتھ عجیب معاملہ ہے۔ معلوم نہیں کہ رام پرساد بسمل نے ہی اسے بدل کر نظم بنا ڈالا یا کسی اور شاعر نے۔ یہ کلام اس شکل میں زیادہ مشہور ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
کیوں نہیں کرتا ہے کوئی دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسمان
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
کھینج کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچہِ قاتل میں ہے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
فلم رنگ دی بسنتی میں یہی اشعار دہرائے گئے ہیں۔ اب پتا نہیں اصل متن کیا ہے؟
 
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے

شوق سے راہ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے

آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے

مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے

مانع اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو ادب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت اچھا انتخاب ہے خلیل بھائی !
اس غزل کے دوسرے شعر کا مصرع اول مجھے ہمیشہ ہی سے غیر شاعرانہ لگتا ہے ۔ اصل محاورہ تو کسی پر نثار ہونا ہے ۔ کسی کے اوپر نثار ہونا تو انتہائی غریب ہے ۔ کبھی سنا نہ پڑھا ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
 
بہت اچھا انتخاب ہے خلیل بھائی !
اس غزل کے دوسرے شعر کا مصرع اول مجھے ہمیشہ ہی سے غیر شاعرانہ لگتا ہے ۔ اصل محاورہ تو کسی پر نثار ہونا ہے ۔ کسی کے اوپر نثار ہونا تو انتہائی غریب ہے ۔ کبھی سنا نہ پڑھا ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اس غزل کی شعری اہمیت تو ایک طرف، پچھلے دنوں فیض فیسٹیول میں اس کی صدائے بازگشت سنائی دی۔
 

بافقیہ

محفلین
بہت اچھا انتخاب ہے خلیل بھائی !
اس غزل کے دوسرے شعر کا مصرع اول مجھے ہمیشہ ہی سے غیر شاعرانہ لگتا ہے ۔ اصل محاورہ تو کسی پر نثار ہونا ہے ۔ کسی کے اوپر نثار ہونا تو انتہائی غریب ہے ۔ کبھی سنا نہ پڑھا ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ولی دکنی، قلی قطب شاہ ، ملا نصرتی اور غواصی وغیرہ کے ہاں لفظ ’’اوپر‘‘ بہ مکان ’’پر‘‘ اکثر ملتا ہے۔۔۔
جیسے

آج تجھ یاد نے اے دلبر شیریں حرکات
آہ کو دل کے اپر تیشۂ فرہاد کیا


وغیرہ دسیوں مثالیں ملتی ہیں۔۔۔

لیکن دبستان دہلی اور لکھنؤ کے متقدمین شعرا کے یہاں بھی ملتا ہے۔۔۔

جیسے میؔر کا شعر:۔

تیری گلی سے جب ہم عزم سفر کریں گے
ہر ہر قدم کے اوپر پتھر جگر کریں گے

اور یہ ستم بھی دیکھیں:۔

ایک بوسے پر تو کی ہےصلح، پر اے زود رنج
تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے

باوجود تلاش بسیار متوسطین میں غالب کے یہاں نہ مل سکا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ دکن کے اثرات متقدمین پر رہے ہونگے ۔۔۔ مجھے قطعا یاد نہیں البتہ میں نے متوسطین اور متأخرین کے ہاں ضرورت شعری کیلئے بارہا پر کے بجائے اوپر استعمال کرتے دیکھا ہے۔۔۔
مکمل تحقیق اگر کوئی ارسال فرمادے تو ہم جیسے نو واردین اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھیں گے۔۔۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ولی دکنی، قلی قطب شاہ ، ملا نصرتی اور غواصی وغیرہ کے ہاں لفظ ’’اوپر‘‘ بہ مکان ’’پر‘‘ اکثر ملتا ہے۔۔۔
جیسے

آج تجھ یاد نے اے دلبر شیریں حرکات
آہ کو دل کے اپر تیشۂ فرہاد کیا


وغیرہ دسیوں مثالیں ملتی ہیں۔۔۔

لیکن دبستان دہلی اور لکھنؤ کے متقدمین شعرا کے یہاں بھی ملتا ہے۔۔۔

جیسے میؔر کا شعر:۔

تیری گلی سے جب ہم عزم سفر کریں گے
ہر ہر قدم کے اوپر پتھر جگر کریں گے

اور یہ ستم بھی دیکھیں:۔

ایک بوسے پر تو کی ہےصلح، پر اے زود رنج
تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے

باوجود تلاش بسیار متوسطین میں غالب کے یہاں نہ مل سکا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ دکن کے اثرات متقدمین پر رہے ہونگے ۔۔۔ مجھے قطعا یاد نہیں البتہ میں نے متوسطین اور متأخرین کے ہاں ضرورت شعری کیلئے بارہا پر کے بجائے اوپر استعمال کرتے دیکھا ہے۔۔۔
مکمل تحقیق اگر کوئی ارسال فرمادے تو ہم جیسے نو واردین اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھیں گے۔۔۔
بافقیہ بھائی ، اوپر اور پر کے باہم متبادل ہونے کا تو مجھے بخوبی علم ہے ۔ قدیم اردو میں اوپر ہی بولا جاتا تھا اور آج بھی بعض علاقوں اور عوام میں اس کا استعمال مل جاتا ہے ۔ میں تو "نثار ہونا" کے محاورے کے متعلق بات کررہا تھا ۔
 
Top