برائے اصلاح

الف عین صاحب

دنیا سے چوٹ دل کی چھپانا ہے زندگی
ہر دور -غم میں خود کو ہنسانا ہے زندگی

ڈر کے ستم سے مرنے کی تو آرزو نہ کر
تند آندھی میں چراغ جلانا ہے زندگی

موجوں کو دیکھ کر تو پریشان ہو گیا
طوفاں سے کشتی پار لگانا ہے زندگی

رہتے ہیں مردے ہی سبھی موسم کی قید میں
فصل -خزاں میں پھول کھلانا ہے زندگی

لگتا ہے غم گراں تجھے کیوں اپنی ذات کا
اوروں کے غم یہاں پہ اٹھانا ہے زندگی
 

الف عین

لائبریرین
دنیا سے چوٹ دل کی چھپانا ہے زندگی
ہر دور -غم میں خود کو ہنسانا ہے زندگی
.. دوسرا مصرع پسند نہیں آیا، مصرع بدل دیں

ڈر کے ستم سے مرنے کی تو آرزو نہ کر
تند آندھی میں چراغ جلانا ہے زندگی
... مرنے کی، آندھی کی 'ی' کے اسقاط کی وجہ سے اچھا نہیں لگ رہا ۔ دوسرے مصرع کو یوں کیا جا سکتا ہے
تند آندھیوں میں دیپ جلانا......

موجوں کو دیکھ کر تو پریشان ہو گیا
طوفاں سے کشتی پار لگانا ہے زندگی
... کشتی کی ی گر رہی ہے اس کی جگہ ناؤ استعمال کرو

رہتے ہیں مردے ہی سبھی موسم کی قید میں
فصل -خزاں میں پھول کھلانا ہے زندگی
...مردے کی ے کا اسقاط اور ' سبھی' کا استعمال اچھا نہیں لگتا. پہلے مصرع کے الفاظ بدل دو

لگتا ہے غم گراں تجھے کیوں اپنی ذات کا
اوروں کے غم یہاں پہ اٹھانا ہے زندگی
.... یہاں پہ؟ اس کی جگہ 'خوشی سے' کیا جا سکتا ہے
 
دنیا سے چوٹ دل کی چھپانا ہے زندگی
ہر دور -غم میں خود کو ہنسانا ہے زندگی
.. دوسرا مصرع پسند نہیں آیا، مصرع بدل دیں

ڈر کے ستم سے مرنے کی تو آرزو نہ کر
تند آندھی میں چراغ جلانا ہے زندگی
... مرنے کی، آندھی کی 'ی' کے اسقاط کی وجہ سے اچھا نہیں لگ رہا ۔ دوسرے مصرع کو یوں کیا جا سکتا ہے
تند آندھیوں میں دیپ جلانا......

موجوں کو دیکھ کر تو پریشان ہو گیا
طوفاں سے کشتی پار لگانا ہے زندگی
... کشتی کی ی گر رہی ہے اس کی جگہ ناؤ استعمال کرو

رہتے ہیں مردے ہی سبھی موسم کی قید میں
فصل -خزاں میں پھول کھلانا ہے زندگی
...مردے کی ے کا اسقاط اور ' سبھی' کا استعمال اچھا نہیں لگتا. پہلے مصرع کے الفاظ بدل دو

لگتا ہے غم گراں تجھے کیوں اپنی ذات کا
اوروں کے غم یہاں پہ اٹھانا ہے زندگی
.... یہاں پہ؟ اس کی جگہ 'خوشی سے' کیا جا سکتا ہے

بہت شکریہ سر۔۔ کوشش کرتا ہوں پھر
 
Top