کمزور لمحہ

سحرش سحر

محفلین
وہ شاید ہر نماز پڑھنے کے بعد ' مختصر سی دعا مانگنے کے دوران ایک بات ضرور کہا کرتی تھی اور آج بھی فجر پڑھنے کے بعد اس نے قصدًا اپنی امی کو دیکھ کر وہ بات دہرائی تھی اور پھر ناشتہ بنانے کچن میں چلی گئ تھی ۔ بروقت سکول کے لیے بھی تو نکلنا تھا ۔ اسکی وہی پرانی بات ...... "یہ نمازیں تو وہ امی کے کہنے پر ہی پڑھتی تھی ورنہ وہ تو اپنے اللہ جی سے سخت ناراض تھی اسے تو اس سے سخت گلہ تھا کیونکہ زمانے کی ساری ی ی ی محرومیاں اسی کے حصے میں ڈال دی گئی تھیں ۔"

وہ جب چھوٹی سی تھی تو اس کی کوئی محرومی نہ تھی، سوائے والد کی کمی کے ...لیکن اوائل جوانی میں اس کا احساس محرومی نہ صرف شدید تر ہو گیا تھا بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا ۔ اس کی محرومیوں کی لسٹ بہت طویل تھی ۔ وہ معاشرے کے محروم طبقے کی طرح دوسروں کی آسائشوں بھری زندگی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا کرتی تھی اور آہیں بھرا کرتی تھی ۔ اس کے پاس نہ بینک بیلنس تھا.... نہ گاڑی.... نہ بڑےےےےےے لان والابنگلہ..... نہ ہی نئے ماڈل کا سمارٹ فون .....مہنگے مہنگے کپڑے اور میچنگ جوتے....ہائے محرومیوں کی بنا پر اس کے چلنے پھرنے کا انداز بھی ماڈلز اور امیر لڑکیوں کی طرح نہیں تھا ۔ اس کی ناک بھی تو بہت پتلی اور اٹھی ہوئی تھی اور اس کا منہ بھی تو بہت چھوٹا سا تھا اورشاید اس کی آنکھیں بھی تو کچھ چھوٹی سی تھیں ۔ زیادہ بڑی ی ی ی......نہیں تھیں لیکن بقول اس کے اس کی اسکول و کالج کی سہیلیاں بہت ہی پاگل تھیں جو 'اس کی اس بری سی صورت کو دیکھ کر آہیں بھرا کرتی تھیں اسےلیڈی ڈیانا کہا کرتی تھیں اور ادھر یہ شہزادی اکثر شام کے وقت اپنے کمرے میں لگے ہوئے قدِ آدم آئینے کے سامنے کھڑ ے ہو کر لئیرزمیں کٹے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اور خو د سے مخاطب ہو کر طنزیہ انداز میں کہتی تھی......... ہاو آر یو مائی ڈئیر پرنسز!....

پھر اپنے کمرے پر ایک حقارت بھری نگاہ ڈال کر آئینے سے مخاطب ہو کر بڑے نخرے سے منہ بنا بنا کراور دانت بھینچ کر ، طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجا کرکہتی: پرنسز گل رخ..... 'کوئین مسرت جہان....... کے ساتھ دو چھوٹے چھوٹے کمروں کےمحل میں لائف انجوئے کررہی ہے ۔ اور اس محل سے کچی پکی گلیوں کے ریڈ کارپٹ پر چل کر گندی نالیوں کی مسحور کن خوشبووں میں باہر شاہی گزرگاہ پر منتطر شاہی سواریوں یعنی بگھی نما رکشوں میں بیٹھ کر سفر کرتی ہے' اور پھر ناک سکیڑ کر افسوس کے ساتھ کہتی تھی "تجھے اور کیا چاہیے پاکستانی شہزادی! !!"

اور اکثر افسوس سے سر دھنتےہوئے کہتی :ہائے افسوس....شہزادی! تو تو ایویں رُل گئی .... سیٹھ صاحب اور اسکے سگے عیش کر رہے ہوںگے ....زندگی کے مزے لو ٹ رہے ہونگے ۔

وہ اکثر یہ شعر گنگناتی رہتی تھی اور اپنا سر ہلا ہلا کر گنگناتی تھی ۔

چند خوابوں کی بات تھی مولٰی
پورے ہوتے تو کیا قیامت تھی ؟

"کیا قیامت تھی" کو خاص معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ادا کرتی تھی ۔

چل شہزادی .....سپنوں کی دنیا سے لوٹ آ اس محل کا میلا کچیلا شاہی باورچی خانہ تیرا منتطر ہے ۔

پھرمسکراتے ہوئے آئینے کو آنکھ مار کر اس کے سامنے سے ہٹ جاتی تھی ۔اور کمرے سے باہر قدم رکھتے ہی دروازہ کی چوکھٹ پر رک کر اپنے چھوٹے سے گھر کو حقارت سے دیکھتی اور ایک غضب ناک و قہر آلود نگاہ اپنے کچن پر اور کچن ہی کی دیوار کے ساتھ رکھے ہوئے دو دو خستہ حال' کنارہ ٹوٹے گملوں پر بھی ڈال لیتی تھی ۔اور منہ پر مصنوعی مسکراہٹ سجائےسر اٹھا کر ایک پرشِکوہ نگاہ اوپر آسمان والے پر بھی ڈال کر کہتی تھی ....پیارےاللہ جی ...! تجھے کچھ احساس ہے؟ ؟؟؟کہ تیری وجہ سے اور سیٹھ صاحب کی وجہ سے میں کس قدر احساس کمتری کا شکار ہوں ۔ اس کباڑ خانہ کو بلکہ اس ڈربے کو تو دیکھ...

اصل میں وہ شرم کے مارے اپنی اسٹیٹس زدہ سہیلیوں کو اپنے گھر کا پتہ نہیں دے سکتی تھی کہ وہ اس کے گھر کی حالت زار کو دیکھ کر اس پر ہنسیں گی ۔ یہی وہ سوچ تھی جس کی بنا پر وہ بے سکون سی رہتی تھی ۔
سکول آتے جاتےہوئے، جب بھی وہ کسی نئی ماڈل گاڑی کو دیکھتی تو بس ماشاللہ ماشاللہ ماشاللہ........ کہتے کہتے دیر تک اسے تکتی ہی چلی جاتی یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ۔ماشاللہ کہنے کی عادت اس میں امی نے ڈالی تھی ۔ اور کبھی اس گاڑی چلانے والے کو کن انکھیوں سےدیکھ دیکھ کر اور جل جل کر ناک سکیڑ کرکہتی : اپنی شکل ذرا دیکھ ...کیسا غرور سے بیٹھا ہے ...ہونہہ! ........بچُّو!یہ کسی کی دین ہے .... اس میں تیرا کمال ہی کیا ہے .....جا عیش کر بیٹا!

اور پھر سر اٹھا کراوپر آسمان والے سے مخاطب ہو کر کہتی..

""کب صلح کر رہا ہے ... ...؟؟؟پر شرط یاد رکھنا ۔" اس شرط والی بات پر وہ ایک خاص مسکراہٹ لبوں پر سجا کر اپنی دائیں انکھ مار دیتی ۔

اسکی یہ باتیں جب اس کی امی سنتیں تو انھیں سخت تکلیف ہوتی او ر شدید احساس جرم کا شکار ہوتیں کیونکہ خود اپنی اور اپنی بیٹی کی محرومیوں کی زمہ دار تھیں....نہ ہی اس کا والد اور شاید نہ ہی اس کی تقدیر ... اگر وہ اپنی ضدی طبیعت کے ہاتھوں مجبور نہ ہوتی تو ہر حال میں وہ شادی کا بندھن نبھاتی ... اگراپنی بیٹی کے مستقبل کا اسے ذرا بھی خیال ہوتا تو وہ شوہر کے چوکھٹ پر پڑی رہتی....کبھی اسے ٹھوکر مار کر نہ آتی ۔

پر ان اسائشوں بھری زندگی کو ٹھوکر مار کر آنے والی کو کیا پتہ تھا کہ زندگی کی محرومیاں کھڑی اس کی منتطر ہیں ۔

اپنی امی کا اعتراف جرم سننے کے باوجود بھی وہ اپنے دل کی عدالت میں انہیں با عزت بری کر دیتی تھی اسلیے کہ وہ تو پہلےہی سےعمر قید کی سزا کاٹ رہی تھیں بلکہ قید بامشقت!

چلیے....!اس کی امی خود غرض تھیں ...ضدی تھیں ..پر سیٹھ صاحب نے کون سا مصلحت سے کام لیا تھا۔ وہ غصہ بھرے ترنگ میں آ کر اپنے والد کو سیٹھ صاحب کہہ کر پکارتی تھی

..سیٹھ صاحب بیٹھ کر عیش کر رہےہوں گے.... انھیں کیا؟؟؟؟ ادھر ہم جیئں یا مریں ...دوسری شادی رچا لی ہو گی ۔ ان مردوں کا کیا ہے ...دوسری عورت مل جائے تو بس.....گئے کام سے ۔

اس کی سہیلی نورین اس کی محرومیوں بھرے دکھڑے سننے کے بعد ایک ہی لفظ کہتی تھی ..."بکواس"
خاص طور پر جب اس کے منہ سے وہ اللہ سے ناراضگی....اس سےصلح........ اور صلح کی شرط والی بات سننتی تواسے اس پر سخت غصہ آتا تھا اور اسے ڈانٹ دیتی تھی اور کبھی پیار سے سمجھایا کرتی تھی کہ داناؤں کا قول ہے: زندگی میں ہمیشہ اپنے سے کمتر کو دیکھنا چاہیے اپنے سے برتر کو دیکھنے سے انسان احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے اور زیادہ کی خواہش انسان کو بے سکون رکھتی ہے ۔

عقلمندی یہی ہے کہ اللہ کی تقسیم پر انسان راضی ہو جائے.......................................... ۔ نورین کے خیال میں اس کی یہ باتیں گستاخانہ تو تھیں ہی مگر...... یہ باتیں اس خالق و مالک کے ہونے کا یقین کامل اور اس کی قدرتوں کا اعتراف کی دلیل بھی تھیں اور یہی یقین واعتراف ہی انسان کو اس سے کچھ کہنے یا مانگنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔ وہ پاگل لڑکی اسی نعمت سے مالامال تھی' پر اسے مانگنے کا سلیقہ نہیں آتا تھا ۔اس لیے تو اس کے ِگلے میں ایسی شوخی وگستاخی آ گئی تھی ۔

نورین کے پاس اچھا سا گھر بار اور گاڑی تھی پر اس کی ماں نہیں تھی اور پولیو سے اس کی ایک ٹانگ تھوڑی سی متاثر تھی ۔زیادہ سے زیادہ وہ اسے اپنی مثال دے کر شکر گزار رہنے کی تلقین کرتی تھی ۔

آج بھی ایک خوشگوار صبح کا آغاز ہو چکا تھا ۔ ایک نئی پر رونق اور روشن صبح ۔ آسمان پر اکا دکا بادل کے کچھ ٹکڑے بھی تیرتے ہوئے نظر آرہے تھے سڑک پر گاڑیاں تواتر سے رواں دواں تھیں ۔ ہر لمحہ گاڑیوں کا شور بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔ بے شک آج کی صبح روشن اور پررونق تھی مگر اس کے اندر کا موسم نا خوشگوار اور بے رونق سا تھا ۔ آج اس نے کسی بھی گاڑی کو رشک بھری نگاہ سے نہیں دیکھا تھا ۔ ناشتہ بنا چکنے کے بعد وہ تیار ہو کر ٍبنا ناشتہ کیے گھر سے نکلی تھی اور سکول کی جانب بوجھل قدموں کے ساتھ رواں دواں تھی ۔ صبح ہی سے اس کا جی متلا رہا تھا اور چکر آرہے تھے آج اس کا سکول سے چھٹی کرنے کا ارادہ تھا پر امی...!!!وہ چھٹیاں کرنے کے سخت خلاف تھیں ۔

وہ رات والی ممانی جان کی کڑوی کسیلی باتیں بھی اس کے دماغ میں گردش کر رہی تھیں ۔ اپنی تینوں بیٹیاں بیاہنے کے بعد آج کل انھیں اپنی نند کی بیٹی کی بڑی فکر لاحق ہو گئی تھی ۔ بقول ممانی جان کے' جب وہ ابھی چھ سال کی تھی تو ایک دن کھیلنے کے دوران اس کا بیٹا' بدتمیییییز بیٹا سامر روتا ہوا اپنے والد کے پاس آیا تھا کہ گل رخ نے اسے ناخن مارا ہے .... اور وہ کتنا ہنسے تھے اور ہنس ہنس کر کہا تھا کہ" یہی لڑکی اس کے ٹکر کی ہےورنہ یہ تو اپنی تین تین بہنوں کو ستاتا اور رلاتاہے "۔ اور ساتھ میں ممانی جان صاحبہ نے ایک اور بھی انکشاف کیا کہ اب تو سا مر بھی اسے بہت پسند کرتا ہے اور بچپن سے ضدی بھی بہت ہے ۔ اتنا ضدی کہ جب بھی اس کی ضد پوری نہیں کی جاتی تھی تو وہ اس چیز کو دلوانے پر بھی توڑ دیتا تھا ۔..........اور اب تو وہ بچہ نہیں بلکہ بڑا ہو گیا ہے اور بدمعاش بھی ۔

یقینا ا نہی باتوں کی بنا پر اس کی امی کی
طبیعت بھی آج کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی. ۔
آج تو اس کے لیے یہ پنتالیس منٹ کا رستہ طے کرنا ناممکن ہو گیا تھا ۔ اتنے میں اس کے ہاتھوں میں موجود کتابوں پر اس کی گرفت کمزور پڑ گئی اور اسے چکر آنے لگے ۔ اسی دوران اس کے پاس سے ایک سرخ رنگ کی چمکتی ہوئی کار فراٹے بھرتے ہوئے گزرگئی مگر وہ اس کی طرف رشک سےنگاہ بھر کر دیکھ بھی نہ سکی ۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ ابھی وہ گرنے ہی کو تھی کہ سامنے سے آنے والی سفید چمکتی ہوئی گاڑی کے ڈرائیور کی نظر اس پر پڑی اس نے فوراَ ہی اپنی گاڑی روکنے کی کوشش کی پر اس کی گاڑی کا رخ اس کی جانب ہو گیا اور وہ گاڑی کے سامنے ہی گر پڑی ۔

ڈرائیور بدحواس ہو کر گاڑی سے اترا اور لوگوں کے جمع ہونے سے پہلے ہی اسے اٹھایا اور گاری میں ڈال کر ہسپتال لے گیا ۔

شاید یہ اس کی امی کی دعا تھی اور اس کے اللہ جی کی مہربانی کہ وہ کسی بڑے حادثہ سے بچ گئی اور صرف سر پر معمولی سی چوٹ ائی ۔ وہ تو ویسے بھی نا زک اور دبلی پتلی سی تھی مگر اس حادثہ کے بعد اس کی رنگت پیلی پڑ گئی تھی پر اتنا تھا کہ سر پر پٹی باندھےہوئےوہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی ۔

شجاع آ کر اس کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنی عینک درست کرتے ہوئے اسے دیکھ کر سوچنے لگا کہ یہ بیچاری ہے کون ....؟؟؟ اچانک اسے خیال ایا کہ اس کا والٹ اور کتابیں اس نے اٹھا کر گاڑی میں رکھ لی تھیں ۔۔ شاید اس کے والٹ میں اس کا اتہ پتہ اور فون نمبر وغیرہ ہوں لہذا وہ اسے لینے کے لیے ابھی اٹھا ہی تھا کہ ادھراس نے کچھ حرکت کی اور آنکھیں کھولنے لگی...شجاع نے اس وقت جانا مناسب نہ سمجھا اور واپس بیٹھ گیا ۔ اوراسےدیکھنے لگا ۔

لیٹے لیٹے اس نے جیسے ہی اپنی بند آنکیھیں کھولیں تو دھیرے سے کہا.... میں کہاں ہوں؟

"آپ ہستال میں ہیں..آپ بے ہوش ہو کر روڈ پر گر کر زخمی ہو گئی تھیں -"

"آپ کون ہیں؟؟؟ " اس نے حیرت سے اپنے قریب کرسی پر بیٹھے ہوئےاجنبی کو دیکھ کر کہا اور اپنے چادر نما دوپٹے سے اپنا منہ ڈھانپنے کی ناکام کوشش کی۔

جی....میرا نام شجاع ہے! میں ہی آپ کو ہاسپٹل لے کر آیا ہوں دراصل آپ میری ہی گاڑی کے سامنے آ گئی تھیں ۔

یہ سن کر اس نے جیسے ہی اٹھنے کی ناکام کوشش کی تو شجاع نے آگے بڑھ کر اٹھنے میں اس کی مدد کرنی چاہی مگر اسے تو کسی کے سہارا کی ضرورت نہ تھی ۔ اسلیے اس نے بڑی رکھائی سے جواب دیا ...مجھے ہاتھ مت لگائیں ۔ میں خود اٹھ سکتی ہوں ....یہ سن کر شجاع زیرِ لب مسکرایا کیونکہ انہیں ہاتھوں سے تو وہ اسے اٹھا کرہاسپٹل لایا تھا ۔ اتنے میں ایک نرس ائی اور شجاع سے اس کی طبیعت کا پوچھنے لگی ...شجاع نے آہستہ سے کہا شاید اب بہتر ہے ۔

پھر نرس نے مسکرا کر اس کی طبیعت کا پوچھنے کے بعد اس کے نام کے بارے میں پوچھا ...

جی ...جی میرا نام.....مگر

اسی لمحہ اس نے شجاع کی طرف دیکھا کہ شاید یہ بھی اس کا نام سننے کا مشتاق ہے اسلیے اتنا ہی کہہ سکی.... کچھ نہیں...... بس ایک زخمی .....نرس نے ہنستےہوئے اسے گھر جانے کی خوشخبری سنائی ۔ یہ سن کر وہ پھر سے اٹھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی کہ اتنے میں شجاع نے کہا

....چلیں آئیں...

جی شکریہ میں خود جا سکتی ہوں.

..اس حالت میں آپ کیسے جا سکتی ہیں ۔

...اگر اپ چاہیں تو مجھے نمبر بتادیں ۔ میں آپ کے گھر کال کر سکتا ہوں .... یا آپ خود ہی کال ملا لیں...."یہ لیں "

اس نے اپنا فون آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔

مگر اسے کسی کی بھی ہمدردی کی ضرورت نہ تھی ۔ اٹھ کر اس نےدو قدم اتھائے ہی تھے کہ وہ چکرا کر گرنے لگی ۔

شٌجاع نے آخر دبے لہجے میں دانت بھینچ کر کہا ....مس زخمی ...ضد مت کریں.... آئیں! میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں ۔ وہ تو اپنی انا کے ہاتھوں مجبور تھی ۔ورنہ وہ تو چاہتی یہی تھی کہ اسے کوئی فورا اسکول چھوڑ آئیں اور گھر پر امی کو کچھ پتہ نہ چلے ...لہذا اب کہ وہ انکار نہ کر سکی ...اور آہستہ سے کہا ....چلیں ۔

یہ سن کر شجاع نےایک گہری لمبی سانس لے کر کہا ....چلیں...

ابھی وہ بیرونی گیٹ سے کچھ فاصلے پر تھے کہ اتنےمیں گیٹ سے ایک ایمبولینس داخل ہوئی اور اس میں سے فورا ہی ایک مریض کو اتارا جانے لگا ان لوگوں میں سے ایک ان کا پڑوسی بھی تھا ۔ وہ حیرت سے انھیں دیکھنے لگی ۔ مریض کو اتارنے پر پتہ چلا کہ وہ تو اس کی امی ہے ۔ امی ! امی !.... پکارتے ہوئےوہ دیوانوں کی طرح بھاگی مگر ان تک پہنچنے سے پہلے ہی گر گئی ۔

کئی لوگ اور شجاع دوڑ کر اس کے پاس گئے اتنے میں شجاع کے والد کا فون آیا۔ اس ہنگامے میں وہ ان کو اتنا ہی بتا سکا کہ وہ قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی میں ہے اور بعد میں ان سے بات کرے گا ....... اس کے پڑوسی چچا نے اسے امی امی پکارتے ہوئےدیکھ لیا تھا سو وہ بھی بھاگا بھاگا اس کی طرف آیا ۔ اس کے ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی ۔

گل رخ! گل رخ بیٹا...! ہمت کرو ...ہوش میں آؤ ۔انہیں سن کر اس نے نیم وا انکھوں سے انہیں دیکھا ۔ شجاع حیرت زدہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔

..چاچا! امی......؟ اس نے منحنی سی آواز میں کہا ۔

ارے بیٹا! میں نے تمھیں بہت فون ملایا ۔ مگر شاید تم......اس نے اس کے ماتھے کی پٹی کو دیکھا ۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے سبزی والے سے سبزی لیتے ہوئے دروازہ ہی میں گر کر بے ہوش ہو گئی تھیں ... بیٹا دیکھنا! ابھی وہ ٹھیک ہو کر تمھارے ساتھ گھر جائیں گی..... مگر تم تو ہمت کرو ۔

شجاع اور پڑوسی چاچا نے اسے اٹھایا اور لے جا کر ایک سیٹ پر بٹھا دیا۔ شجاع نے اسے پانی پلا کر دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا ... مس زخمی! آپ ہمت کریں ورنہ آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی امی کی ذمہ داری بھی مجھے ہی اٹھانی پڑے گی ۔ یہ سن کر اس نے اسے بے بسی سے گھورا....اور کچھ نہ کہہ سکی ۔

وہ اور شجاع ابھی امی کا پتہ کرنے چند قدم بڑھے ہی تھےکہ اتنے میں شجاع کے والد خالد ملک آن پہنچے...اور آتے ہی خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے گلے لگا لیا ...ان کا خیال تھا کہ شاید اس کے بیٹے کا کوئی ایکسیدنٹ وغیرہ ہو چکا ہے ...اتنے میں ایک نرس آئی اور پوچھا کہ مریضہ مسرت جہاں کے ساتھ کو ن ہے ؟ گل رخ نے فورا ہی کہا: میں ۔ خالد ملک حیران وپریشان اپنے بیٹے اور ساتھ میں کھڑی لڑکی کو دیکھ رہے تھے کہ سب کیا چکر ہے....شجاع نےتو گھر پر کبھی بھی اس لڑکی کا ذکر تک نہیں کیا تھا ۔

ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد وہ اپنی امی کی صحت کے حوالے سے مطمئن ہو تو گئی تھی مگر کچھ ٹسٹ ابھی باقی تھے ۔ شجاع اور دیگر لوگوں کے کہنے پر اس کی امی کو پرائیویٹ روم میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔ اسے انکی یہ ہمدردی نہ صرف بری لگی تھی بلکہ ساتھ میں فکر مند بھی ہو گئی تھی کیونکہ ہسپتال کا بھاری بل بھی آنا تھا جو اسی نے ہی بھرنا تھا کیونکہ وہ لوگ تو چلے گئے تھے ۔ شجاع نے جاتے جاتے اس کا والٹ اس کے حوالے کردیا تھا مگر اس میں بھی تو تین سو چالیس روپے تھے ۔ اسے گھر جا کر ہی کچھ پیسے جوڑنے تھے تاکہ ہسپتال کا بل بروقت ادا کر سکے ۔

گھر سے واپس لوٹتے ہوئے وہ بڑی مشکل سے 'ضبط کا دامن تھامے ہوئے تھی ۔ پر ہاسپٹل کے گیٹ کو عبور کرتے ہوئے اس کا ضبط اس کے ساتھ گیٹ عبور نہ کر سکا ۔ وہ دبی دبی چیختی چلاتی اپنی امی کے کمرے کی طرف ایسے دوڑ کر گئی جس طرح صحرا میں سفر کرتاہواایک مایوس مسافر کسی نخلستان کو دیکھ کر' دوڑ کر وہاں پہنچنا چاہتاہےآج اسے بھی ظالم اور بےحس زمانے کے تپتے صحرا میں اپنی امی کی صورت میں شجر سایہ دار نظر آ گیا تھا ۔

اس کے ایسے اچانک امی کے کمرے میں وحشت کے عالم میں اور روتے ہوئے داخل ہونے پر نرس چونک پڑی تھی ۔ پر گل رخ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ کہنے اورپوچھنے سے منع کر دیا تھا۔ مگر وہ نرس ابھی بھی اسے سوالیہ نظروں سے گھورتے ہوئی کمرے سے نکل گئی تھی ۔ وہ اپنی امی کے بستر سے لگ کر منہ کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کر موسلادھار بارش کی طرح تر تر آنسو برسانے لگی تھی وہ بھی گرج چمک کے بغیر خاموشی سے ۔۔ ادھراس کی امی پر سکون سو رہی تھیں..... ۔
۔
اللہ اس سامر کے بچہ کو غارت کرے ۔کیسے وہ گلی کے موڑ سے ہی اس کا تعاقب کرتا کرتا گھر کے اندر تک آیا تھا اور کیسےوہ کمینہ دروازہ کے چھوکھٹ پر بد معاش بن کر کھڑا ہو گیا تھا ... آخراس کو یہ غلط فہمی کب سے ہو گئی ہے کہ وہ اس کی منگ ہے......یہ تواچھا ہواکہ اس کے دوست کے فون کال کی بنا ء پر وہ گھر سے باہر نکل گیا ....ورنہ اگر آج پولیس محلہ کی بجائےاسے اس کی موجودگی میں اس کے گھر سے پکڑ لیتی تو......اور کمینہ اسے کیسے ایک طرح سے دھمکا کر نکلا تھا کہ اس کے آنے تک "وہ

وہ گھر سے قدم باہرنہ نکالے ۔

اس کے نکلتے ہی وہ گھر کے دروازہ کو کھلا چھوڑ کر بھاگ نکلی تھی ۔گھر میں پڑے ہوئے دو چار ہزار روپے اٹھانا بھی بھول گئی تھی اور اب تو شام ہونے والی تھی ۔ دوبارہ وہاں جانے کی ہمت کہاں سے لاتی ۔ وہ پھر سے زارو قطار رونے لگی ۔ اتنے میں اس کی نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے ٹکڑےپر پڑی جو اسے گھر کے قریب دکاندار نے پکڑایا تھا ۔ وہ مالک مکان قریشی صاحب کی طرف سے قانونی نوٹس تھا کہ اگر آج شام تک پچھلے دو مہینے کا کرایہ ادا نہ ہوا توان کا سامان باہر پھنکوا دیا جائے گا ۔

اسے یاد تھا کہ انہیں اگلے مہینے کی دس تاریخ کو قسط کے پیسے ملنے تھے اور آج تو ۲۰ تاریخ تھی ۔ پر مالک مکان قریشی صاحب سے کون بات کرے کہ اب اتنا انتطار کر لیا ہے تو بیس دن اور سہی ۔وہ تو وقت پر کرایہ دینے کے پابند لوگ تھے ۔پر پچھلے مہینے بجلی اور گیس کے بل زیادہ آنے کی بنا پر کرایہ ادا نہ کر سکے تھے اور امی کی دوائیں بھی تو ............

اگر آج شام تک کرایہ ادا نہ ہوا یا ان سے چند دن مزید مہلت مانگنے کی بات نہ ہوئی تو وہ امی کو لے کر جائے گی کہاں؟؟؟

اس نے اٹھ کر آنسو پونچھے اور جلدی سے پڑوسی چچا کو کال ملائی کہ وہ ان سے جا کر بات کر لیں پر انھوں نے فون اٹھایا ہی نہیں ۔ اپنی سہیلی نورین کو باربار کال ملا کر دیکھا کہ اس سے کچھ رقم ادھار لے لے مگراسے اپنی کزن کی شادی کے ہنگامے میں صاف آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔اسے یاد آیا کہ وہ تو چکوال گئی ہوئی ہے اب کیا کیا جائے....؟؟؟

مایوسی کیا ہے اور محرومی کس بلا کا نام ہے، آج اسے احساس ہوا کیونکہ آج ماں کے ہوتے ہوئے وہ بالکل بے سہارا اور اکیلی تھی ۔ ماں کی موجودگی میں وہ جس چھوٹے سے گھر کی چار دیواری میں محفوظ زندگی بسر کررہی تھی ۔ آج وہ چار دیواری بھی اس کی حفاظت سے قاصر تھی ۔اس کا وہ گھر جس کو وہ کباڑ خانہ سمجھتی تھی ۔ آج وہ بھی نہیں رہا ......

دیر تک کھڑی بہتے آنسووں کے ساتھ اپنی ماں کے چہرے پر نظریں گاڑیں ان کو دیکھتی رہی آخرکا ر اس نے مایوس و بے بس ہو کر نگاہ اوپر اٹھا کر فیصلہ کن انداز میں اپنے اللہ جی کو مخاطب کیا: "....جب تجھے پرواہ نہیں تو میں آج ہی اپنی امی کو لے کر دارالامان جا رہی ہوں ....تو دیکھنا! ۔" اور روتے روتے پھر کمرے سے باہر نکل آئی ۔

ابھی تک اس کے ماتھے پر پٹی بندھی تھی وہ ایک طرف دیوار کے ساتھ لگی ہوئی سیٹ پراپنی سوجی ہوئی آنکھیں موندے مایوس بیٹھ گئی ۔

"صلح کرنا تو دور کی بات ....لگتا ہے اب تُو ناراض ہو گیا ہے .... جو تھا وہ بھی تو نے چھین لیا ۔ اچھا کیا.....! میں تھی ہی اس قابل ...میری حیثیت ہی کیا تھی..."وہ اشک ندامت بہاتے بہاتے بے بسی کے عالم میں سوچنے لگی ۔

اج وہ اپنے اللہ جی سے نہایت ہی شرمندہ تھی اتنا سب کچھ پاس ہونے کے باوجود وہ کس قدر ناشکری کیا کرتی تھی ۔شاید وہ ایک کمزور لمحہ تھا جب وہ پہلی دفعہ احساس محرومی کا شکار ہو گئی تھی ۔اور اپنی خود ساختہ محرومیوں کے دلدل میں دھنستی ہی چلی گئی تھی ۔

آج رہ رہ کر اسے اپنی سہیلی کی باتیں یاد آ رہی تھیں ۔ وہ ٹھیک ہی تو کہتی تھی کہ انسانوں کا بڑا المیہ یہی ہے کہ اپنے پاس موجود اشیاء کی بجائے وہ غیر موجود اشیاء کے متعلق سوچتے رہتے ہیں اور یوں ہر وقت خفا رہتے ہیں اور بے سکون رہتے ہیں ۔ ویسے بھی یہ دنیا انسان کا عارضی ٹھکانہ ہے ایک مسافر خانہ ہے ہمیشہ رہنا تو ہے نہیں ۔ بس اتنا کچھ ہونا چاہیے کہ انسان زندگی کی یہ چند گھڑ یاں اس کی رضا کے مطابق بس گزار سکے ۔ اس کے باوجود اللہ تعالی نے ہر انسان کو بہت کچھ دیا ہوا ہے ۔وہ کسی کو دے کر یا کچھ چھین کر آزماتا ہے سو عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی خود ساختہ محرومیوں کے متعلق سوچ سوچ کر پریشان رہنے کی بجائے اپنے پاس موجود نعمتوں پر غور کر کے خوش ہونا چاہیے ۔ اور اس ذات کا زیادہ سے زیادہ شکر گزار ہونا چاہیے جس نے ہر انسان کو بیش بہا نعمتوں صلاحیتوں اور قابلیتوں سے نوازا ہے ۔ شکر گزاری سے اللہ تعالی ہمیشہ نعمتوں میں برکت ڈالتا ہے انھیں بڑھاتا ہے اور انسان پر سکون رہتا ہے ۔ جب کہ ناشکری سے نعمتیں گھٹتی ہیں اور پریشانیاں بڑھتی ہیں ۔ اس نے اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو پونچھے اور پھرسر گوشی میں اس سے مخاطب ہوئی:

""لیکن میرے پیارےاللہ! تیرے پاس تو کسی شے کی کمی نہیں ہے .. .. کیا تجھ سے طلب کرنا گستاخی ہے ...... یا پھر...... نورین ٹھیک ہی کہتی تھی ۔ میرا مانگنے کا انداز معقول نہیں تھا ۔اسلیے آج میری تیری اتنی بگڑ گئی ہے ۔ حالانکہ تو خوب جانتا ہے میں نے صرف تجھ سے مانگا ہے کبھی کسی کے اگے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ اور اس تھوڑے دیے ہوئے کو کبھی تیرے بندوں سے مقدم نہیں جانا ۔ کسی مسکین کسی سائل کو میں نے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا اسلیے کہ میں بھی تیری بہت مسکیں بندی ہوں ۔ تجھے تو یاد ہو گا میں نے پچھلے مہینے اسی ہسپتال میں ایک ضرورت مند خاتون کواپنے سونے کےٹاپس اتار کر دے دیے تھے کیونکہ اس کا بیٹا آپریشن کے بغیر مر جاتا ۔ آج مجھے ان ٹاپس کی اشد ضرورت ہے ۔ اج میری امی بیمار ہے ....چلیں وہ تو دے دیتے .......خیر! اب تو کیا مدد کرے گا اور کیا جواب دے گا ..تُو تو ناراض ہے ..اور ناراضگی میں سب رابطے ختم ہو جاتے ہیں ۔ میں نا شکری جو تھی ۔ مجھ کم ظرف کو دے کر تو آزما چکا ہے جس میں میں بری طر ح ناکام ہو چکی ہون ۔ اب چھین کر آزما رہا ہے مگر اب میں نے فیل نہیں ہونا ۔اس نے آنسو پونچھے.... میں اس بار اس شکر و ناشکری کے امتحان مین اے ون گریڈ میں پاس ہو کر تجھے دکھاوں گی ۔ میں آئندہ کبھی بھی ناشکری نہیں کرونگی ۔ یہ آج میرا تجھ سے وعدہ ہے ۔ اس معمولی سی کمزور لڑکی کا پکا پکا وعدہ ۔ ""

وہ سر اوپر اٹھائے دونوں ہاتھوں کو منہ پر رکھ کر مسلسل روتے روتےاپنے ناراض اللہ جی سے مخاطب تھی ۔ ہھر اپنی ٹانگیں سیٹ پر اٹھا کر آنکھیں بند کر کےاپنا سر گھٹنوں پر رکھے مایوسی کے عالم میں بیٹھی رہی ۔

یہ کس کی آواز ہے ؟؟؟ یہ کون ہے؟ ؟؟جو اسے مسلسل مخاطب کر رہا ہے یہ آواز اسے جانی پہچانی محسوس ہو رہی تھی ۔گل رخ.... !گل رخ....! ار ے اٹھیں مس زخمی ! آنکھیں کھولیں ۔

یہ سنتے ہی اس نے ایک دم سے آنکھیں کھولیں تو اپنے سامنے شجاع کو پایا ۔اور یوں ہی بیٹھے بیٹھے اپنی سوجی ہوئی آنکھوں سے اسےگھورتی چلی گئی جیسے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماؤف ہو گئی ہو ۔جیسے وہ یاد داشت کھو بیٹھی ہو وہ کون ہے ؟وہ کہاں ہے؟ یہ سب کیا ہے؟ ؟؟؟

ادھر شجاع اسے حیرت سے تکے جا رہا تھا ۔ ایک دم سے اس کی یادداشت واپس آگئی ۔ اور وہ سمٹ کر بیٹھ گئی اور اپنی تر پلکوں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا ۔ نیند کے اس غوطہ کی بنا پر اس کی آنکھیں اور بھی سوج گئی تھیں ۔

جی آپ؟ ؟؟اس نے آہستہ سے نگاہیں نیچے فرش پر گاڑکرکہا ۔ اسے کسی کی بھی ہمدردی سے سخت نفرت تھی ۔ جی! میں یہاں اپنے ایک مریض سے ملنے آیا تھا ۔آپ کو یہاں بیٹھے دیکھ کر اس طرف چلا آیا ۔ اب آپ کی امی کی طبیعت کیسی ہے اور آپ کیسی ہیں؟؟ اس نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر بندھی ہوئی پٹی کو دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا ۔

اسے اس کا یوں ساتھ میں بیٹھنا اور بات کرنا برا لگا تھا اس کے خیال میں وہ اسے ایک لاوارث، مجبور و بے کس لڑکی سمجھ کر اپنی ہمدرد ی کے جال میں پھنسانا چاہتا ہے ۔

ابھی اسے کچھ کہنے کے لیے اس نے منہ کھولا ہی تھا کہ شجاع کی زبانی اسے علم ہوا کہ ابھی ابھی ایک نرس اس کی امی کے بلانے پر اس کے پیچھے آئی تھی ۔

یہ سن کر وہ فورا اٹھی اور بھا گی بھاگی کمرے میں داخل ہوئی ۔اس کی امی جاگ گئی تھیں وہ اس سے لپٹی اور لپٹ لپٹ کر روتی رہی ۔اس کی امی بھی لیٹے لیٹےممتا کے مارے روتی ہوئی اسے سہلانے لگیی ۔ جب چند منٹ کے بعد وہ اپنی امی کے سینے پر سر رکھے ہوئے تھی تو انھوں نے پہلے کی طرح آج بھی اعتراف جرم کیا ۔
وہی تو اپنی بیٹی کی محرومیوں کی ذمہ دار تھیں اور بیٹی وہ تو ایسے ہی اپنے اللہ جی اور والد سے ناراض رہتی تھی ۔اصل مجرم تو وہ تھیں اس نے کسی کو سکھ نہ دیا تھا۔ وہ جب گھر چھوڑ کر میکے آگئی تھی ۔ تو اس کا شوہر شاہد ملک کوئی دو مہینے کے بعد اپنی بیٹی گلرخ کو لینے آئے تھے اس وقت تو اسے ٹرخا دیا گیا تھا مگر جلد ہی اس کے بھائی نے خاموشی سے وہ مکان چھوڑ دیا تھا تاکہ گل رخ کا والد اسے ماں سے جدا نہ کر سکے ۔ وہ آنکھیں بند کیے یہ تلخ حقائق سنتی رہی اور دل ہی دل میں کہتی رہی کہ اب یہ سب بتانے کا کیا فائدہ؟ اسی اعتراف جرم کے ساتھ ساتھ امی نے آج پہلی دفعہ ایک اور انکشاف بھی کیا ۔ یہی کہ اس کے سیٹھ صاحب زندہ تھے انھوں نے دوسری شادی بھی نہیں کی تھی وہ آج بھی اپنی بیٹی کے منتظر تھے مگر چند سال پہلے ایک روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو کر ایک ٹانگ سے معذور تھے اس لیے انہیں لینے نہیں آ سکے تھے ۔

یہ سنتے ہی اس نےاپنی آنکھیں کھولیں اور امی کے سینے سے سر اٹھایا اور جھنجھلا کر پوچھا آپ کو کیسے پتہ؟؟؟؟اسی لمحے امی نے اسکا کسی سے تعارف کرواد یا۔

یہ تمھارے تایا یعنی تمھارے خالد ملک انکل ہیں اور یہ ان کے بیٹے شجاع ملک !۔ اس نے حیرت سے پیچھے مڑ کر شجاع اور اس کے والد کو دیکھا ۔اپنی امی کے بلانے پر وہ جذباتی ہو کر ایسے پاگلوں کی طرح اندر کمرے میں بھاگی بھاگی گئی تھی کہ اسے اندازہ ہی نہ ہو سکا کہ اندر کوئی اور بھی ہے ۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ۔

"جی ہاں بیٹا ....!تمہارے سیٹھ صاحب آج بھی تمھارے منتظر ہیں ۔ ہم تمھیں لینے ائے ہیں ۔ خالد ملک نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

وہ کبھی اپنی امی کبھی اپنے تایا اور کبھی شجاع کو دیکھتی، جیسے اسے یقین ہی نہ آرہا ہو کہ یہ سب اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہےیہ آج صبح سے شام تک اس کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔ چند گھنٹے پہلے تک اس کا سب کچھ چھن گیا تھا وہ بھری دنیا میں بالکل خالی ہاتھ کھڑی تھی ...اور اب......! اب تو اسے جھولی بھر کر ملا تھاشاید اس کی بساط سے بھی زیادہ ۔ وہ ایک دم سے بھرائی ہوئی آواز میں ""اللہ """.....پکار کر کمرے سے بھاگ کر باہریوں نکل کر گئی جیسے کافی عرصہ بعد اس کا اللہ جی اسے منانے کے لیےآیا ہواور باہر کھڑا منتظر ہو ....کہیں وہ واپس نہ لوٹ جائے ۔

وہ اس لمحہ بنچ تک پہنچنے سے پہلے ہی گر گئی ۔

ا.... اللہ .... مجھے معاف کرنا ۔ میں تیری اِن عنایتوں کے قابل نہیں ۔ اگر واقعی میں تو نے مجھ سے صلح کر لی ہے اور ناراضگی ختم کی ہے تو مجھے بس وہ چھوٹا سا میرا مکان دے دے اسلیے کہ بیمار امی کو لے کر کہاں جاوں گی مجھے اور کچھ نہیں چاہیے ۔ کچھ بھی نہیں ..... ۔اور ہاں اج کے بعد میں تجھ سے اور اپنے سیٹھ صاحب سے کوئی گلہ نہیں کروں گی ۔ یا اللہ میں راضی ....میں تجھ سے راضی ...میں راضی..... .. ۔ وہ اشک ندامت بہاتے ہوئے فرش پر سجدے میں پڑے پڑے کہے جا رہی تھی ۔

" اور سیٹھ صاحب سے کب صلح کر رہی ہیں؟ ؟؟ اگرآپ آج نہ گئیں تو وہ سخت ناراض ہو جائیں گے اور باپ کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے ۔ کیا اپنے اللہ جی کو پھر سے ناراض کرنا چاہتی ہو ؟"

شجاع نے دروازہ میں کھڑے ہو کراسے مخاطب کیا کیونکہ اس کی اپنے اللہ جی سے کی گئی ساری گفتگو اس نے بھی سن لی تھی ۔

گل رخ نے خاموشی سے سر اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنےآنسو پو نچھنے ہوئے اٹھی اور اندر کمرے میں اپنی امی اور تایا کے پاس چلی گئی ۔
سحرش سحر
 
مدیر کی آخری تدوین:

لاريب اخلاص

لائبریرین
قلم سے نکلے سچے جذبوں کے خوبصورت لفظ شہکار بن جاتے ہیں۔ آپ نے بہت اچھا لکھا ہم اچھا لکھنے اور اچھا بولنے والوں کے مداح ہیں:)
اور تدوین میں جا کے کچھ لفظوں کی درستی کر لیں
 

سحرش سحر

محفلین
لاریب بہت شکریہ !

افسوس کہ تدوین کا دروازہ مجھ پر ایسے بند ہو گیا ہے جیسے موت کے بعد توبہ کا دروازہ ...:)
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
لاریب بہت شکریہ !

افسوس کہ تدوین کا دروازہ مجھ پر ایسے بند ہو گیا ہے جیسے موت کے بعد توبہ کا دروازہ ...:)
چلیں کوئی بات نہیں ہم نے پڑھ لی گر تحریر تو باقی بھی پڑھ ہی لیں گے۔
ویسے اتنی جلدی دروازہ بند ہونا نہیں چاہیے تھا
 

سحرش سحر

محفلین
ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ اگر تدوین کا دروازہ بند ہو ہی گیا ہے تو کیا ہوا ..یہی مراسلہ دوبارہ سے میں ارسال کئے دیتی ہوں اگر ایڈمن کو اعتراض نہ ہو ...
اصل میں ہوا یہ تھا کہ یہ طویل افسانہ مجھے ازسر نو ٹائپ کرنا پڑا تھا وہ بھی بد دلی سے کیونکہ پہلی دفعہ کا ٹائپ شدہ فون میں مسئلہ کی بناء پرکہیں غائب ہو گیا تھا اور بیک اپ سے بھی کام نہیں ہو رہا تھا ۔
 
ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ اگر تدوین کا دروازہ بند ہو ہی گیا ہے تو کیا ہوا ..یہی مراسلہ دوبارہ سے میں ارسال کئے دیتی ہوں اگر ایڈمن کو اعتراض نہ ہو ...
اصل میں ہوا یہ تھا کہ یہ طویل افسانہ مجھے ازسر نو ٹائپ کرنا پڑا تھا وہ بھی بد دلی سے کیونکہ پہلی دفعہ کا ٹائپ شدہ فون میں مسئلہ کی بناء پرکہیں غائب ہو گیا تھا اور بیک اپ سے بھی کام نہیں ہو رہا تھا ۔
اگر مراسلہ میں کوئی تبدیلی کروانی ہو تو مذکورہ مراسلہ کو رپورٹ کر کے اس میں بتا دیجیے۔
یا اسی پوسٹ پر دوبارہ کمنٹ کی صورت میں بھیج دیجیے۔ اوپر تحریر میں تبدیلی کر دی جائے گی۔ :)
 

سحرش سحر

محفلین
تابش بھائی ...رپورٹ والے اپشن کو میں نے چھیڑ تو دیا ہے اب اگے دیکھتے ہیں البتہ پوسٹ پر دوبارہ کمنٹ کرنا....کیسے..؟؟؟؟
 
خوبصورت تحریر۔ اللہ مزید برکت عطا فرمائے۔

اردو محفل پر اس قدر اچھے لکھاری اور ایسی تحریر۔۔۔۔ قارئین کی راہ تک رہے ہیں۔۔۔ یہاں ہزاروں مراسلوں کی آباد لڑیاں ہمارے ذوق کی نشاندہی کر رہی ہیں۔۔۔۔!!!
 
Top