زیرک کی پسندیدہ اردو نظمیں

زیرک

محفلین
سنو
اے موم کی گڑیا
اب اس دور میں
کوئی مجنوں نہیں بنتا
کوئی رانجھا نہیں ہوتا
قدم دو چار چلنے سے
سفر سانجھا نہیں ہوتا
تو ان بیکار لمحوں پہ
سنو
رونے کا ڈر کیسا؟
جسے پایا نہیں تم نے
اسے کھونےکا ڈر کیسا؟​
 

زیرک

محفلین
ذرا دیکھ کے چال ستاروں کی
کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا
کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ
جو کر دے بخت سکندر سا

کوئی چِلہ ایسا کاٹ کہ پھر
کوئی اس کی کاٹ نہ کر پائے
کوئی ایسا دے تعویذ مجھے
وہ مجھ پر عاشق ہو جائے

کوئی فال نکال کرشمہ گر
مِری راہ میں پھول گلاب آئیں
کوئی پانی پھُوک کے دے ایسا
وہ پیئے تو میرے خواب آئیں

کوئی ایسا کالا جادو کر
جو جگمگ کر دے میرے دن
وہ کہے مبارک جلدی آ
اب جیا نہ جائے تیرے بِن

کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے
جس راہ سے وہ دلدار ملے
کوئی تسبیح دم درود بتا
جسے پڑھوں تو میرا یار ملے

کوئی قابو کر بے قابو جن
کوئی سانپ نکال پٹاری سے
کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا
کوئی منکا اِکشا دھاری سے

کوئی ایسا بول سکھا دے نا
وہ سمجھے خوشگفتارہوں میں
کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے
وہ جانے، جان نثار ہوں میں

کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستُوری لا
اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں
جو مرضی میرے یار کی ہے
اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں

کوئی ایسا اسمِ اعظم پڑھ
جو اشک بہا دے سجدوں میں
اور جیسے تیرا دعویٰ ہے
محبوب ہو میرے قدموں میں

پر عامل رک، اک بات کہوں
یہ قدموں والی بات ہے کیا؟
محبوب تو ہے سر آنکھوں پر
مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا

اور عامل سن یہ کام بدل
یہ کام بہت نقصان کا ہے
سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں
جو مالک کل جہان کا ہے​
 

زیرک

محفلین
سائیں
حق سائیں
برحق سائیں
ہم بد رنگے
عاجز
جھوٹے
تم
سچ سائیں

زین شکیل​
 

زیرک

محفلین
لوگو
اپنے قدم گِنا کرو
آہستہ آہستہ چلا کرو
جھک جھک کر دیکھا کرو
کوئی کُچلا تو نہیں گیا
کچھ مَسلا تو نہیں گیا
پیروں میں چھالوں کی زنجیر پہنا کرو
چونک چونک کر
پلٹ پلٹ کر دیکھا کرو
یہ جو پیچھے پیچھے چلا آرہا ہے
تمہیں ترازو میں تولتا آ رہا ہے
کوئی اور نہیں
خدا ہے

نور الہدیٰ شاہ​
 

زیرک

محفلین
لوگو
آؤ
ایک بار
فقط ایک بار
صدقِ دل سے
خود پر ماتم کریں
بال نوچیں
دیواروں سےسر ٹکرائیں
مٹھی بھر بھر مٹی
بالوں میں بھریں
کوئلے کی راکھ منہ پر ملیں
لعنت بھیجیں خود پر
دھاڑیں مارمار روئیں
سینہ کوبی کریں
ہائے ہائے ہم مرگئے
وائے کہ بدبودار لاشیں نکلےہم
فرشتے بھی ہمیں چھوڑگئے

نور الہدیٰ شاہ​
 

زیرک

محفلین
ٹھیلے پر رکھا ہے ملک
ملک لے لو
رعایا لے لو
سب سے سستی رعایا لے لو
نہ آہ بھرے گی نہ فریاد کرے گی
ری سیل ویلیو ہے
بار بار بکے گی
ملک جس قیمت پر چاہے لے لو
ہر کام میں کام آئے گا
جس طرف چاہو گے مڑ جائے گا
استعمال ہوتا چلا جائے گا
بازار میں ایسا سستا مال نہیں ملے گا
ملک لے لو
رعایا لے لو

نور الہدیٰ شاہ​
 

زیرک

محفلین
میرے خاموش خدا کو کہنا
شور بڑھ گیا ہے کتنا تو
شہر کا شہر ہو گیا ہے بہرا
گونگے الفاظ تڑپ رہے ہیں حلق میں
کون ہے کون، جو بات کرے؟
وحشتوں کو بندھی ہوئی ہیں پگڑیاں
زندہ جہنم کی کھانی ہے
یہ جو زور سے بج رہے ہیں لاؤڈ اسپیکر
بھڑکا رہا ہے آگ ان میں سے کوئی​
 

زیرک

محفلین
عید آنے کو ہے

میں نے سوچا بہت
پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اسے
چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لیے
اس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
خوبصورت لگیں گے اسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں
اس کے عارض کہاں؟ گُل کی پتیاں کہاں؟
اس کے آنسو کہاں؟ شبنم کے قطرے کہاں؟​
 

زیرک

محفلین
رات کے غلافوں میں
خواب تم نہیں رکھنا
چاند سے نہیں کہنا کچھ ہمارے بارے میں
چغلیاں ستاروں کے بس میں ہیں تو کرنے دو
خاموشی کی چادر کو سر پہ تان کر تنہا
شاعری پڑھا کرنا
شاعری بھی میری ہو
اور آئینے جیسی
جس کو تم جہاں سے بھی
پڑھ کے دیکھ لو تو بس
خود کو تم نظر آؤ​
 

زیرک

محفلین
شام کا وقت
بارش کی ٹِپ ٹِپ
سُونا کمرہ
چائے کا کپ
تیری یاد
خاموشی
اداسی
شاعری کی کھلی کتاب
اور اک آنسو​
 

زیرک

محفلین
بول کنارے

کانچ کی چُوڑی ہاتھ پہ توڑ کے
ٹکڑوں میں اک خواب سجایا
بادل میں اک شکل بنا کر
پورے سال کی بارش آنکھ سے برسا دی
رخساروں سے پلک اٹھا کر
اس کے تیز کنارے سے اک چھید کیا اور
ایک لکیر لپک کر آئی
رات کی کالی چادر پر اک تارا ٹوٹا
اپنی دعا میں انجانا اک نام لیا
اور لمبے بالوں کی اک سیڑھی
شام کی کھڑکی سے لٹکائی
کتنے بوجھل پہر گزارے
جانے کس بے درد سے پل میں
اپنے پانو کو خواب کی بہتی جھیل میں دَھر کر
نیند کی ایک صدی سے ڈر کر
کھڑکی کے کونے کو چھوڑا
اور سڑک سے ریزہ ریزہ جسم اٹھایا
ایک سہیلی باغ میں بیٹھ کے کبھی نہ روئی
لیکن دل ہی دل میں کھیل بہت یہ کھیلا
بات کوئی جو ساتھ کسی کے یکدم کہہ دی
لکڑی کو دھیرے سے چھوا
اور اپنے نام کو اس کے نام کے ساتھ ملا کر ریت پہ لکھا
ایک اک حرف کو درد کے نوکیلے نشتر سے کاٹ دیا
دوری کے اک دھندلے پل میں
پھول کی ایک اِک پتی توڑ کے طاق میں رکھی
خوابوں سے تعبیر نکالی
کاغذ سے اک ناﺅ بنائی
آنسو کی گہری بارش سے جل تھل کو اک سار کیا
کشتی میں اس دل کو رکھا
بول کنارے
کتنا پانی آج کی شب دریا میں آیا؟

عنبرین صلاح الدین​
 

زیرک

محفلین
تمثیل

کتنی صدیوں کے انتظار کے بعد
قربتِ یک نفس نصیب ہوئی
پھر بھی تو چپ اداس کم آمیز

اے سلگتے ہوئے چراغ بھڑک
درد کی روشنی کو چاند بنا
کہ ابھی آندھیوں کا شور ہے تیز

ایک پل مرگِ جاوداں کا صلہ
اجنبیت کے زہر میں مت گھول
مجھ کو مت دیکھ لیکن آنکھ تو کھول

احمد فراز​
 

زیرک

محفلین
کنیز
حضور آپ اور نصف شب مِرے مکان پر؟
حضور کی تمام تر بلائیں میری جان پر
حضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیں
حضور بولیے کہ وسوسے وبالِ ہوش ہیں
حضور، ہونٹ اس طرح کپکپا رہے ہیں کیوں؟
حضور آپ ہر قدم پہ لڑکھڑا رہے ہیں کیوں؟
حضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہے
حضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہے
حضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پر
حضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پر
حضور منہ سے بہہ رہی ہے پیک صاف کیجیے
حضور آپ تو نشے میں ہیں، معاف کیجیے
حضور کیا کہا، میں آپ کو بہت عزیز ہوں
حضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوں
حضور چھوڑیے ہمیں ہزار اور روگ ہیں
حضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں

احمد فراز​
 

زیرک

محفلین
اگر
دو، چار دن
ہفتہ، مہینہ
میرا کوئی لفظ
مرا کوئی شعر
نظر تم کو نہ آ پائے
کوئی دکھ سکھ کا لمحہ
کوئی شکوہ شکایت بھی
آپ اپنی موت ہی مر جائے
تو مجھ کو جان کر مُردہ
مجھے اک بات بتلاؤ
خوشی کتنی مناؤ گے؟
غم کتنا مناؤ گے؟​
 

زیرک

محفلین
اکثر

آنسو راہ بھٹک جاتے ہیں
آنکھیں بنجر ہو جاتی ہیں
سپنے مردہ ہو جاتے ہیں
نیندیں ماتم کر لیتی ہیں
اکثر ایسا ہو جاتا ہے
بھولی بسری یادیں آ کر
دل میں درد جگا دیتی ہیں
روح کو زخم لگا دیتی ہیں
بے چینی کے اس عالم میں
ساری رات گزر جاتی ہے
آنکھیں سرخ رہا کرتی ہیں
سر میں درد رہا کرتا ہے
اکثر

زین شکیل​
 

زیرک

محفلین
شاعروں کے بختوں میں
رونقیں نہیں ہوتیں
یہ عجیب ہوتے ہیں
جنگلوں، پہاڑوں میں اک نگر بساتے ہیں
خواب کے سہارے پر
شہر میں تو رہتے ہیں
بَس مگر نہیں پاتے

زین شکیل​
 

زیرک

محفلین
کس طرح کہیں تجھ سے
تیرے روٹھ جانے سے
ہم دکھوں کے ماروں پر
دو ٹکے کے لوگوں نے
انگلیاں اٹھائی ہیں

زین شکیل​
 

زیرک

محفلین
سنو محبت کے صاف مُنکر
بجا کہا کہ، کہیں‌ نہیں ہوں
تمہارے دل کے کسی بھی گوشے میں‌ یاد بن کر
نہیں ہوں اب میں
غبارِ ہجراں‌ کے سلسلوں نے
وصال رُت کی تمام یادیں
تمہارے دل سے دھکیل دی ہیں‌
مگر میری جاں‌
سمے ملے تو یہ غور کرنا
تمہاری آنکھوں کی سرحدوں پر
ابھرنے والی ہر ایک نس میں‌
یہ سرخ ڈورے جو بُن رہا ہے
لہو نہیں‌ ہے
وہ میں‌ ہوں جاناں
کہ جس لہو کو طواف کر کے
تمہارے دل میں ہی لوٹنا ہے

عاطف جاوید عاطف​
 

زیرک

محفلین
منتظر ایوبی کے
غزنوی کی آمد کے
بِن سروں‌ کے لاشوں‌ پر
بین کرتے جاتے ہیں‌
اپنے اپنے بچوں‌ کے
چھید چھید جسموں‌ کو
بے یقین آنکھوں‌ سے
دیکھتے ہی جاتے ہیں‌
اور دعائیں‌ کرتے ہیں‌
ربِ ذوالجلال تُو، عدل کرنے والا بھی
منصف و مدبر بھی
رحمتوں‌ کا ہالہ بھی
ہم پہ تنگ ہو گیا
آخری نوالہ بھی
مشرقی ایوانوں ‌سے، مغربی ایوانوں ‌تک
امن کے سفیروں‌ نے
ہونٹ سی لیے اپنے
آج چپ ملالہ بھی؟
ربِ ذوالجلال ہم
منتظر ایوبی کے
غزنوی کی آمد کے

عاطف جاوید عاطف​
 
Top