بن کر خدا کی رحمت بارات آ رہی ہے---برائے اصلاح

الف عین
محمّد خلیل الر حمن
یاسر شاہ
فلسفی
------------
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
---------------
بن کر خدا کی رحمت بارات آ رہی ہے
رمضان میں ہی ایسی اک رات آ رہی ہے
-----------
رحمت نہیں ہے دیکھی باقی دنوں میں ایسی
اک رحمتوں کی جیسے برسات آ رہی ہے
-----------
اللہ کی طرف سے رحمت ہے یہ مہینہ
بخشش کے سب خزانے قدرت لٹا رہی ہے
---------------
دینے پہ آ گیا ہے اپنا خدا تو یارو
دن رات اُس کی رحمت ہم کو بُلا رہی ہے
--------------
جو مانگتے ہیں اُس سے وہ دے رہا ہے اُن کو
بخشش کے ہم کو قدرت نغمے سُنا رہی ہے
---------------
داتا خدا ہے سب کا ہم ہیں فقیر سارے
دنیا اُسی کے در پر لینے کو آ رہی ہے
-------------
ارشد خدا سے مانگو ہاتھوں کو اُٹھا کر
یہ مختصر سی مدّت بیتی ہی جا رہی ہے
 

الف عین

لائبریرین
اور کوئی آج کل میری مدد کو نہیں آ رہا ہے؟ عظیم محمد خلیل الرحمٰن فلسفی یاسر شاہ
بن کر خدا کی رحمت بارات آ رہی ہے
رمضان میں ہی ایسی اک رات آ رہی ہے
----------- مطلع میں ایطا کی غلطی ہے، دونوں قوافی 'رات' پر ختم ہوتے ہیں جب کہ یہ التزام پوری غزل میں نہیں، دوسری غلطی بیان کی بھی ہے۔ پہلے مصرع کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بارات کا ذکر ہو رہا ہے جس پر خدا کی رحمت نازل ہو رہی ہے حالانکہ مفہوم یہ نہیں ہے

رحمت نہیں ہے دیکھی باقی دنوں میں ایسی
اک رحمتوں کی جیسے برسات آ رہی ہے
----------- ایک ہی لفظ دونوں مصرعوں میں استعمال کرنے سے بچیں، بیانیہ پر بھی غور کریں
رحمت نظر نہ آئی...... بہتر نہیں؟
دوسرے مصرعے میں بخشش استعمال کر سکتے ہیں
بخشش کی جیسے کوئی برسات...

اللہ کی طرف سے رحمت ہے یہ مہینہ
بخشش کے سب خزانے قدرت لٹا رہی ہے
--------------- ٹھیک

دینے پہ آ گیا ہے اپنا خدا تو یارو
دن رات اُس کی رحمت ہم کو بُلا رہی ہے
-------------- درست

جو مانگتے ہیں اُس سے وہ دے رہا ہے اُن کو
بخشش کے ہم کو قدرت نغمے سُنا رہی ہے
--------------- وہی بات بار بار کیوں دہرا رہے ہیں؟

داتا خدا ہے سب کا ہم ہیں فقیر سارے
دنیا اُسی کے در پر لینے کو آ رہی ہے
------------- دوسرا مصرع رواں نہیں

ارشد خدا سے مانگو ہاتھوں کو اُٹھا کر
یہ مختصر سی مدّت بیتی ہی جا رہی ہے
.. پہلا مصرع بحر میں نہیں، کچھ چھوٹ گیا ہے
دوسرے میں 'ہی' بھرتی ہے
دونوں مصرعوں میں ربط کی کمی ہے
 
مطلع میں ایطا کی غلطی ہے، دونوں قوافی 'رات' پر ختم ہوتے ہیں جب کہ یہ التزام پوری غزل میں نہیں

اس بات کی جانب ہم کئی مرتبہ ارشد چوہدری بھائی کی توجہ مبذول کرواچکے ہیں کہ مطلع میں شاعر قافیوں کا اعلان کرتا ہے۔ پھر باقی غزل میں یہی قوافی رکھے جاتے ہیں۔
 

فلسفی

محفلین
اور کوئی آج کل میری مدد کو نہیں آ رہا ہے؟ عظیم محمد خلیل الرحمٰن فلسفی یاسر شاہ
بن کر خدا کی رحمت بارات آ رہی ہے
رمضان میں ہی ایسی اک رات آ رہی ہے
----------- مطلع میں ایطا کی غلطی ہے، دونوں قوافی 'رات' پر ختم ہوتے ہیں جب کہ یہ التزام پوری غزل میں نہیں، دوسری غلطی بیان کی بھی ہے۔ پہلے مصرع کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بارات کا ذکر ہو رہا ہے جس پر خدا کی رحمت نازل ہو رہی ہے حالانکہ مفہوم یہ نہیں ہے

رحمت نہیں ہے دیکھی باقی دنوں میں ایسی
اک رحمتوں کی جیسے برسات آ رہی ہے
----------- ایک ہی لفظ دونوں مصرعوں میں استعمال کرنے سے بچیں، بیانیہ پر بھی غور کریں
رحمت نظر نہ آئی...... بہتر نہیں؟
دوسرے مصرعے میں بخشش استعمال کر سکتے ہیں
بخشش کی جیسے کوئی برسات...

اللہ کی طرف سے رحمت ہے یہ مہینہ
بخشش کے سب خزانے قدرت لٹا رہی ہے
--------------- ٹھیک

دینے پہ آ گیا ہے اپنا خدا تو یارو
دن رات اُس کی رحمت ہم کو بُلا رہی ہے
-------------- درست

جو مانگتے ہیں اُس سے وہ دے رہا ہے اُن کو
بخشش کے ہم کو قدرت نغمے سُنا رہی ہے
--------------- وہی بات بار بار کیوں دہرا رہے ہیں؟

داتا خدا ہے سب کا ہم ہیں فقیر سارے
دنیا اُسی کے در پر لینے کو آ رہی ہے
------------- دوسرا مصرع رواں نہیں

ارشد خدا سے مانگو ہاتھوں کو اُٹھا کر
یہ مختصر سی مدّت بیتی ہی جا رہی ہے
.. پہلا مصرع بحر میں نہیں، کچھ چھوٹ گیا ہے
دوسرے میں 'ہی' بھرتی ہے
دونوں مصرعوں میں ربط کی کمی ہے
ارشد بھائی سے انتہائی معذرت کے ساتھ۔
سر الف عین، اصل میں ارشد بھائی کچھ مخصوص غلطیاں بار بار دہرا رہے ہیں۔ ان سے پہلے بھی دو بار گذارش کی تھی کہ غزل لکھنے کے بعد اس کو کچھ وقت خود تنقیدی نگاہ سے دیکھیں لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ (جیسا پہلے ہم بھی کرتے تھے) ارشد بھائی غزل لکھ کر فورا پوسٹ کردیتے ہیں۔ سچی بات ہے کہ یہ آپ کا بڑا پن اور حوصلہ ہے کہ آپ بہت سی اغلاط کے بارے میں بار بار خندہ پیشانی سے لکھتے ہیں۔ مجھ جیسے نکمے کو جہاں کچھ نیا معلوم ہوتا ہے وہاں اپنی گذارشات پیش کر دیتا ہوں۔

ارشد بھائی آپ سے ایک بار پھر معذرت لیکن آپ اس بات پر ضرور غور کیجیے گا۔
 

الف عین

لائبریرین
یہی بات میں بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ہر مصرع کو الفاظ بدل بدل کر دیکھا کریں کہ واقعی کون سا بہتر ہوتا ہے اور جب تک خود مطمئن نہ ہوں، اس غزل پر محنت کرتے رہیں، لیکن ارشد بھائی کو جلدی ہی رہتی ہے
 

عظیم

محفلین
مجھے تو ٹیبلیٹ نے تنگ کر رکھا ہے، ان شاء اللہ عید کے بعد نیا لینے کا ارادہ ہے۔ پھر ان شاء اللہ جہاں تک ہو سکا ضرور اپنے مشورے دیا کروں گا
 
یہی بات میں بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ہر مصرع کو الفاظ بدل بدل کر دیکھا کریں کہ واقعی کون سا بہتر ہوتا ہے اور جب تک خود مطمئن نہ ہوں، اس غزل پر محنت کرتے رہیں، لیکن ارشد بھائی کو جلدی ہی رہتی ہے

استادِ محترم!
ارشد بھائی پر ہی کیا موقوف، ادھر اپنا بھی یہی حال ہے۔ جوں ہی لکھنا ختم کرتے ہیں وفورِ شوق میں چاہتے ہیں کہ فوراً اردو محفل پر پیش کردیں۔

ہمارے چھوٹے بھائی محمد حفیظ الرحمن اکثر ہم سے کہتے ہیں، " خلیل بھائی! تمہاری تو وہی مثال ہے، کاتا اور لے بھاگی."
ہم جب اس صورتِ حال کو خیال میں لاتے ہیں تو خود ہی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

ادھر جو مضامین یا منظومات موبائل پر ٹائپ کرتے ہیں ان میں آٹو کریکٹ کی صریح ناانصافیوں کے باعث تحریر مزید باعثِ ندامت بنتے ہیں۔
 

فلسفی

محفلین
استادِ محترم!
ارشد بھائی پر ہی کیا موقوف، ادھر اپنا بھی یہی حال ہے۔ جوں ہی لکھنا ختم کرتے ہیں وفورِ شوق میں چاہتے ہیں کہ فوراً اردو محفل پر پیش کردیں۔

ہمارے چھوٹے بھائی محمد حفیظ الرحمن اکثر ہم سے کہتے ہیں، " خلیل بھائی! تمہاری تو وہی مثال ہے، کاتا اور لے بھاگی."
ہم جب اس صورتِ حال کو خیال میں لاتے ہیں تو خود ہی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

ادھر جو مضامین یا منظومات موبائل پر ٹائپ کرتے ہیں ان میں آٹو کریکٹ کی صریح ناانصافیوں کے باعث تحریر مزید باعثِ ندامت بنتے ہیں۔
لو جب اساتذہ کا یہ حال ہے تو ہم جیسے نکمے تو سدھرنے سے رہے۔ :p
 

انس معین

محفلین
استادِ محترم!
ارشد بھائی پر ہی کیا موقوف، ادھر اپنا بھی یہی حال ہے۔ جوں ہی لکھنا ختم کرتے ہیں وفورِ شوق میں چاہتے ہیں کہ فوراً اردو محفل پر پیش کردیں۔

ہمارے چھوٹے بھائی محمد حفیظ الرحمن اکثر ہم سے کہتے ہیں، " خلیل بھائی! تمہاری تو وہی مثال ہے، کاتا اور لے بھاگی."
ہم جب اس صورتِ حال کو خیال میں لاتے ہیں تو خود ہی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

ادھر جو مضامین یا منظومات موبائل پر ٹائپ کرتے ہیں ان میں آٹو کریکٹ کی صریح ناانصافیوں کے باعث تحریر مزید باعثِ ندامت بنتے ہیں۔
استاد محترم آپ تو پھر بھی کچھ وقت اپنی غزل گنگناتے رہتے ہوں گے ۔۔۔۔۔
 
لو جب اساتذہ کا یہ حال ہے تو ہم جیسے نکمے تو سدھرنے سے رہے۔ :p
ذرا دھیرے سے بولیے ! فلسفی بھائی! اساتذہ نے سن لیا تو یک بینی دوگوش محفل سے باہر کردیں گے ہمیںُ۔ ہم تو ابھی مبتدی ہیں۔ ہم ایک ایسے کندۂ ناتراش ہیں کہ ہمارا سدھرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ لیکن ایک امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ اردو محفل میں اتنے خوب صورت اساتذہ موجود ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو بن ہی جائے گا ہمارا!
 
الف عین
@خلیل الر حمن
فلسفی
------------
تصحیح کے بعد دوبارا
------------
اپنی طرف خدا کی رحمت بُلا رہی ہے
بخشش کی سب نویدیں ہم کو سنا رہی ہے
------------------
رمضان کی عبادت ستّر گنا ملے گا
رب کی رضا ہے اس میں قدرت سکھا رہی ہے
-------------
اک رات کی عبادت سالوں سے ہے زیادہ
کہتے ہیں قدر جس کو وہ رات آ رہی ہے
-----------
رحمت نظر نہ آئی باقی دنوں میں جیسی
رمضان میں تو ایسی ہر رات آ رہی ہے
-------------
اللہ کی طرف سے رحمت ہے یہ مہینہ
بخشش کے سب خزانے قدرت لٹا رہی ہے
--------------- ٹھیک

دینے پہ آ گیا ہے اپنا خدا تو یارو
دن رات اُس کی رحمت ہم کو بُلا رہی ہے
-------------- درست
مانگے گا جو بھی اُس سے دے کا خدا اسی کو
بخشش کے ہم کو قدرت نغمے سُنا رہی ہے
------------
داتا ہے وہ ہمارا ہم ہیں فقیر اُس کے
خلقت اُسی کے در پر لینے کو آ رہی ہے
-------------
ارشد خدا سے مانگو ہاتھوں کو اب اُٹھا کر
ہو رات قدر کی شاید جو کہ جا رہی ہے
..-------------
 

الف عین

لائبریرین
اپنی طرف خدا کی رحمت بُلا رہی ہے
بخشش کی سب نویدیں ہم کو سنا رہی ہے
------------------ مطلع اب چل سکتا ہے

رمضان کی عبادت ستّر گنا ملے گا
رب کی رضا ہے اس میں قدرت سکھا رہی ہے
------------- بات مکمل نہیں ہو سکی۔ رمضان کی عبادت کا اجر ستر گنا ملے گا، اجر کے ذکر کے بغیر ادھوری ہی ہے، دوسرے مصرعے میں بھی دو غیر متعلق باتیں کی گئی ہیں

اک رات کی عبادت سالوں سے ہے زیادہ
کہتے ہیں قدر جس کو وہ رات آ رہی ہے
----------- ٹھیک

رحمت نظر نہ آئی باقی دنوں میں جیسی
رمضان میں تو ایسی ہر رات آ رہی ہے
------------- پچھلا مصرع برسات والا بہتر تھا

اللہ کی طرف سے رحمت ہے یہ مہینہ
بخشش کے سب خزانے قدرت لٹا رہی ہے
--------------- ٹھیک

دینے پہ آ گیا ہے اپنا خدا تو یارو
دن رات اُس کی رحمت ہم کو بُلا رہی ہے
-------------- درست
مانگے گا جو بھی اُس سے دے کا خدا اسی کو
بخشش کے ہم کو قدرت نغمے سُنا رہی ہے
------------ پہلے مصرع کی روانی بہتر ہو سکتی ہے 'اسی کو' یعنی جو چیز مانگی گئی یا جو مانگنے والا ہو۔ دونوں مطلب نکل سکتے ہیں
مانگو گے جو بھی اُس سے، اللہ تم کو دے گا
رواں لگتا ہے نا!

داتا ہے وہ ہمارا ہم ہیں فقیر اُس کے
خلقت اُسی کے در پر لینے کو آ رہی ہے
------------- پہلا مصرع اچھا ہو گیا

ارشد خدا سے مانگو ہاتھوں کو اب اُٹھا کر
ہو رات قدر کی شاید جو کہ جا رہی ہے
..------------- ثانی مصرع میں 'شاید' تقسیم ہو رہا ہے
شاید ہو قدر کی شب، جو بیت جا رہی ہے
بہتر ہو گا
 

یاسر شاہ

محفلین
اور کوئی آج کل میری مدد کو نہیں آ رہا ہے؟ عظیم محمد خلیل الرحمٰن فلسفی یاسر شاہ
محترمی الف عین یاد فرمانے کا شکریہ رمضان میں آمد ذرا کم ہو پاتی ہے -

ارشد چوہدری
ارشد چوہدری بھائی آپ نے "بارات آرہی ہے "والا مصرع بدل دیا ہے، اچھا کیا - عنوان دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ آپ ہمیں دوسری شادی کے کھانے پہ بلا رہے ہوں- :)
 
الف عین
یاسر شاہ
------------
صحیح اشعار کے علاوہ باقی کی درستگی
-----------
رمضان کی ہے نیکی ستّت گناہ اجر میں
ان نیکیوں کی جانب قدرت ہی لا رہی ہے
--------یا
دے کر اجر کا لالچ قدرت بلا رہی ہے
------------
رحمت نہیں ہے دیکھی باقی دنوں میں ایسی
اک رحمتوں کی جیسے برسات آ رہی ہے
------------
مانگو گے جو بھی اُس سے ، اللہ تم کو دے گا
بخشش کے ہم کو قدرت نغمے سنا رہی ہے
------------------
ارشد خدا سے مانگو ہاتھوں کو اب اُٹھا کر
شاید ہو قدر کی شب، جو بیت جا رہی ہے
------------
 

الف عین

لائبریرین
رمضان کی ہے نیکی ستّت گناہ اجر میں
ان نیکیوں کی جانب قدرت ہی لا رہی ہے
--------یا
دے کر اجر کا لالچ قدرت بلا رہی ہے
------------ اجر میں جیم پر جزم ہے درست تلفظ میں، اس کو یوں کہیں تو روانی محسوس ہوتی ہے
رمضاں کے ہر عمل کی ستر گنا ہے قیمت/اجرت
لالچ یہ دے کے ہم کو قدرت بلا رہی ہے
تو شاید قابل قبول ہو، ورنہ بہتر تو یہ ہے کہ شعر نکال ہی دیں

رحمت نہیں ہے دیکھی باقی دنوں میں ایسی
اک رحمتوں کی جیسے برسات آ رہی ہے
------------ میں نے لکھا تھا
------------ پچھلا مصرع برسات والا بہتر تھا
صرف مصرع، مکمل شعر نہیں یعنی
رحمت نظر نہ آئی..... والا پہلا مصرع بہتر ہے
باقی درست ہو گئے ہیں اشعار
 
محترمی الف عین یاد فرمانے کا شکریہ رمضان میں آمد ذرا کم ہو پاتی ہے -

ارشد چوہدری
ارشد چوہدری بھائی آپ نے "بارات آرہی ہے "والا مصرع بدل دیا ہے، اچھا کیا - عنوان دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ آپ ہمیں دوسری شادی کے کھانے پہ بلا رہے ہوں- :)
اس عمر میں دوسری شادی کون کرے گی،ہاں بغیر شادی کے کھنا جب چاہیں کھا سکتے ہیں
 
Top