غزل برائے اصلاح

الف عین
یاسر شاہ
عظیم
محمد خلیل الرحمٰن

سر اصلاح کے لئے پیشِ خدمت ہوں

جانے کی یہ زد چھوڑ اب ہے برسات ٹھہر جا۔
اب تک یہ ادھوری ہے ملاقات ٹھہر جا۔

ہر رند کی آنکھوں میں ہے تُو ، ہاتھ میں ساغر۔
ہے خوب جمی بزمِ خرابات ٹھہر جا۔

آنسو جو دئیے جاتے ہو کیسے یہ رکیں گے۔
جی بھر کے تو رو لوں مَیں بس اک رات ٹھہر جا۔

کانٹوں میں پروئے ہیں کئی پھول ہوا نے۔
گلشن کے شکستہ سے ہیں حالات ٹھہر جا۔

تُو وجہ محبت ہے تُو ہی رونقِ محفل ۔
کچھ تجھ سے سمیٹوں گا عنایات ٹھہر جا۔

یہ ہجر کے بادل بھی تو چھٹ جائیں گے سجاد
امید ہے بدلیں گے یہ حالات ٹھہر جا۔
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم سجاد بھائی اچھی کاوش ہے -
بس پہلے مصرع کویوں بدل دیں :

جانے کی یہ ضد چھوڑ ہے برسات ٹھہر جا۔
 
السلام علیکم سجاد بھائی اچھی کاوش ہے -
بس پہلے مصرع کویوں بدل دیں :

جانے کی یہ ضد چھوڑ ہے برسات ٹھہر جا۔
السلام علیکم سجاد بھائی اچھی کاوش ہے -
بس پہلے مصرع کویوں بدل دیں :

جانے کی یہ ضد چھوڑ ہے برسات ٹھہر جا۔
شکریہ یاسر بھائی
 
السلام علیکم سجاد بھائی اچھی کاوش ہے -
بس پہلے مصرع کویوں بدل دیں :

جانے کی یہ ضد چھوڑ ہے برسات ٹھہر جا۔[/QU

جانے کی یہ ضد چھوڑ ہے برسات ٹھہر جا۔
اب تک یہ ادھوری ہے ملاقات ٹھہر جا۔

ہر رند کی آنکھوں میں ہے تُو ، ہاتھ میں ساغر۔
ہے خوب جمی بزمِ خرابات ٹھہر جا۔

آنسو جو دئیے جاتے ہو کیسے یہ رکیں گے۔
جی بھر کے تو رو لوں مَیں بس اک رات ٹھہر جا۔

کانٹوں میں پروئے ہیں کئی پھول ہوا نے۔
گلشن کے شکستہ سے ہیں حالات ٹھہر جا۔

تُو وجہ محبت ہے تُو ہی رونقِ محفل ۔
کچھ تجھ سے سمیٹوں گا عنایات ٹھہر جا۔

یہ ہجر کے بادل بھی تو چھٹ جائیں گے سجاد
امید ہے بدلیں گے یہ حالات ٹھہر جا۔
یاسر صاحب کی اصلاح کے بعد
 
سر یاسر کی اصلاح کے بعد
جانے کی یہ ضد چھوڑ ہے برسات ٹھہر جا۔
اب تک یہ ادھوری ہے ملاقات ٹھہر جا۔

ہر رند کی آنکھوں میں ہے تُو ، ہاتھ میں ساغر۔
ہے خوب جمی بزمِ خرابات ٹھہر جا۔

آنسو جو دئیے جاتے ہو کیسے یہ رکیں گے۔
جی بھر کے تو رو لوں مَیں بس اک رات ٹھہر جا۔

کانٹوں میں پروئے ہیں کئی پھول ہوا نے۔
گلشن کے شکستہ سے ہیں حالات ٹھہر جا۔

تُو وجہ محبت ہے تُو ہی رونقِ محفل ۔
کچھ تجھ سے سمیٹوں گا عنایات ٹھہر جا۔

یہ ہجر کے بادل بھی تو چھٹ جائیں گے سجاد
امید ہے بدلیں گے یہ حالات ٹھہر جا۔
 
Top