حسان خان

لائبریرین
فراق‌نامهٔ سعدی عجب که در تو نگیرد
وَإِنْ شَكَوْتُ إِلَی الطَّیْرِ نُحْنَ فِی الْوَكَنَاتِ

(سعدی شیرازی)
عجب [ہے] کہ سعدی کا فراق‌نامۂ [جاں‌سوز] تم پر اثر نہیں کرتا!۔۔۔ [ورنہ] اگر میں پرندوں کی جانب [رُخ کر کے] شِکوہ کرتا تو وہ آشیانوں میں بُلند آواز کے ساتھ گِریہ کرتے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
دل چو پاکیزہ بوَد جامۂ ناپاک چہ باک
سر چو بے مغز بوَد نغزیِ دستار چہ سُود


درویش ناصر بخاری

دل جب پاک و پاکیزہ ہو تو جامۂ ناپاک سے کیا ڈر خوف، اور سر جب مغز سے خالی ہو تو پھر دستار کے نغز (لطافت، عمدگی، زیبائی) سے کیا فائدہ؟
 

منہاج علی

محفلین
فراق‌نامهٔ سعدی عجب که در تو نگیرد
وَإِنْ شَكَوْتُ إِل‮‫َى الطَّیْرِ نُحْنَ فِی الْوَكَنَاتِ

(سعدی شیرازی)
عجب [ہے] کہ سعدی کا فراق‌نامۂ [جاں‌سوز] تم پر اثر نہیں کرتا!۔۔۔ [ورنہ] اگر میں پرندوں کی جانب [رُخ کر کے] شِکوہ کرتا تو وہ آشیانوں میں بُلند آواز کے ساتھ گِریہ کرتے۔
اللہ اکبر !
 
از دلِ جامی چه سان روید گیاهِ خرمی
چون درآن ویرانه تخمِ محنت و غم ریختند


جامی کہ دل سے شادمانی کی گیاہ کیونکر ابھرے جب (اہلِ زمانہ) اس ویرانے میں سختی اور غم کے بیج بوتے ہیں۔

مولانا جامی
 

حسان خان

لائبریرین
ایک عُثمانی-بوسنیائی شاعر کی ایک فارسی-عربی بیت:
ضیائی مستِ جامِ بزمِ عُشّاق ‌است می‌گوید
الا يا ایُّها السّاقی أَدِر کأساً وَناوِلْها

(مۏستارلې حسن ضیائی)
«ضیائی» بزمِ عُشّاق میں مستِ جام ہے [اور] کہتا ہے کہ: الا اے ساقی! کاسۂ [شراب] گُھماؤ اور پیش کرو۔
 

منہاج علی

محفلین
فراق‌نامهٔ سعدی عجب که در تو نگیرد
وَإِنْ شَكَوْتُ إِل‮‫َى الطَّیْرِ نُحْنَ فِی الْوَكَنَاتِ

(سعدی شیرازی)
عجب [ہے] کہ سعدی کا فراق‌نامۂ [جاں‌سوز] تم پر اثر نہیں کرتا!۔۔۔ [ورنہ] اگر میں پرندوں کی جانب [رُخ کر کے] شِکوہ کرتا تو وہ آشیانوں میں بُلند آواز کے ساتھ گِریہ کرتے۔
دوسرا مصرعہ کیا کوئی آیت ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی شاعر «احمد جَودت پاشا» کے ایک فارسی قصیدۂ بہاریہ کا مطلع:
بهار باز جهان را بِکَرد مهبِطِ نُور
کنارِ باغ پُر از نُور شد چو وادیِ طُور
(احمد جَودت پاشا)

بہار نے دوبارہ دُنیا کو نُور کی جائے نُزُول [میں تبدیل] کر دیا۔۔۔ باغ کا کنارہ وادیِ طُور کی مانند نُور سے پُر ہو گیا۔
 

منہاج علی

محفلین
میانِ عاشق و معشوق ہیچ حائل نیست
تو خود حجابِ خودی حافظ از میاں بر خیز


(حافظ شیرازی)

عاشق اور معشوق کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے اے حافظ تو خود اپنے لیے اپنا پردہ ہے سو درمیان سے اٹھ جا۔
سبحان اللہ !! بیشک ! کیا عارفانہ شعر ہے
 

منہاج علی

محفلین
ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز


(امیر خسرو)

تُو نے اپنی قیمت دونوں جہان بتائی ہے، نرخ زیادہ کرو کہ ابھی بھی یہ کم ہے۔
ہئے ہئے ! بیشک ! غالباً مولا علیؑ کا قول ہے کہ انسان کی کم سے کم قیمت جنت ہے۔
 

منہاج علی

محفلین
ملک قمی کا ایک خوبصورت شعر جو کہ ضرب المثل بن چکا ہے۔

رفتم کہ خار از پا کشم، محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد


میں نے پاؤں سے کانٹا نکالنا چاہا (اور اتنے میں) محمل نظر سے پوشیدہ ہو گیا، میں ایک لمحہ غافل ہوا اور راہ سے سو سال دور ہو گیا۔
کیا حیرت خیز شعر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
زبانِ فارسی کے لازوال حِماسی منظومے «شاہنامۂ فردوسی» کی «داستانِ رُستم و سُہراب» کی ابتداء یوں ہوئی ہے کہ ایک بار «رُستم» کا دل غمگین تھا، لہٰذا وہ شکار کی غرَض سے شکارگاہ کی جانب گیا تاکہ اُس کا دل شاداں و فرح‌یاب ہو جائے۔ جب وہ شکار سے فارغ ہو کر آرام کرنے اور سونے کے لیے لیٹا تو چند سوارانِ تُورانی اُس کے «رَخْش» نامی اسْپ کو پکڑ کر شہرِ «سمَنگان» لے گئے، جس کی بِنا پر «رُستم» کو مجبوراً «سمَنگان» جانا پڑا، جہاں دُخترِ شاہِ سمنگان «تہمینہ» کے ساتھ ازدواج کے نتیجے میں «رُستم» کا پِسر «سُہراب» دُنیا میں آیا تھا۔ جنابِ «ابوالقاسم فردوسی طوسی» نے داستان کے اُس ابتدائی حِصّے میں «رخْش» کے پکڑے جانے کا نقشہ اِن الفاظ میں کھینچا ہے:

بِخُفت و برآسود از روزگار
چمان و چران رخْش در مرْغ‌زار
سوارانِ تُرکان تنی هفت هشت
بدان دشتِ نخچیرگه برگُذشت
(که تا آهویی را به چنگ آورند
بَرَند و بُرَند و پزَند و خورند)
پَیِ رخْش دیدند در مرغ‌زار
بِگشتند گِردِ لبِ جُوی‌بار
چو در دشت مر رخْش را یافتند
سُویِ بند کردنْش بِشْتافتند
سواران ز هر سو به او تاختند
کمندِ کَیانی درانداختند
چو رخْش آن کمندِ سواران بِدید
چو شیرِ ژِیان آن گهی بردَمید
دو کس را به زخمِ لگَد کرد پست
یکی را سر از تن به دندان گُسَست
سه تن کُشته شد زان سوارانِ چند
نیامد سرِ رخْشِ جنگی به بند
پس آن گه فِکندند هر سو کمند
که تا گردنِ رخْش کردند بند
گرفتند و بُردند پویان به شهر
همی هر کس از رخْش جُستند بهر
(فردوسی طوسی)


[«رُستم»] سو گیا اور زمانے سے آسودہ ہو گیا۔۔۔ [جبکہ اُس کا اسپ] «رخْش» چمن میں ںاز و خِرام کے ساتھ چلتا اور چَرتا رہا۔۔۔ سات آٹھ سوارانِ تُرک اُس دشتِ شکارگاہ سے گُذرے۔۔۔ تاکہ کسی آہُو کو پکڑیں اور لے جا کر، ذبح کر کے، اور پکا کر کھائیں۔۔۔ اُنہوں نے چمن میں «رخْش» کے قدم دیکھے، [لہٰذا] وہ نہر کے کنارے کے گِرد پلٹے۔۔۔۔ جب اُن کو دشت میں «رخْش» مِل گیا تو اُنہوں نے فوراً اُس کو قید کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔۔۔۔ سواروں نے ہر جانب سے اُس پر حملہ کیا اور اُس پر اُنہوں نے کمندِ کَیانی پھینکی۔۔۔۔ جب «رخْش» نے سواروں کی اُس کمند کو دیکھا تو اُس لمحے وہ شیرِ درَندہ کی طرح جوش میں آ گیا۔۔۔ اُس نے دو شخصوں کو لات کی ضرب سے زیر کر دیا، [جبکہ] دانتوں سے ایک شخص کے سر کو تن سے مُنقطِع کر دیا۔۔۔ اُن چند سواروں میں سے تین شخص قتل ہو گئے، [لیکن] «رخْشِ» جنگی کا سر قید میں نہ آ سکا۔۔۔ پس اُس کے بعد اُنہوں نے ہر جانب سے کمند پھینکی، اور بالآخر «رخْش» کی گردن کو اُنہوں نے قید کر لیا۔۔۔ اُنہوں نے اُس کو پکڑا اور دوڑاتے ہوئے شہر کے جانب لے گئے۔۔۔ [اُن میں سے] ہر شخص «رخْش» [میں] سے بہرہ و حِصّہ حاصل کرنے کی تلاش میں تھا۔۔۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
یار می‌دانم که می‌داند دوایِ دردِ من
لیک می‌گوید نمی‌دانم، نمی‌دانم چرا
(محمد فضولی بغدادی)

میں جانتا ہوں کہ یار میرے درد کی دوا جانتا ہے۔۔۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ "میں نہیں جانتا"۔۔۔ میں نہیں جانتا کیوں؟
 

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوسعید ابوالخیر

ما دل بہ غمِ تو بستہ داریم اے دوست
دردِ تو بجانِ خستہ داریم اے دوست
گفتی کہ بہ دل شکستگاں نزدیکم
ما نیز دلِ شکستہ داریم اے دوست


اے دوست، ہمارا دل تیرے ہی غم میں جکڑا ہوا ہے، اور ہماری خستہ جان میں بس تیرا ہی درد ہے۔ تُو نے کہا کہ "میں ٹُوٹے ہوئے دل والوں کے نزدیک ہوں"، ہم بھی تو ٹُوٹا پُھوٹا دل رکھتے ہیں (ہمارے نزدیک بھی تو ہو) اے دوست۔
 

حسان خان

لائبریرین
[«اسکندرِ مقدونی» اور «سُلطان محمودِ غزنوی» کے مابَین تقابُل]

"بلی سِکندر سرتاسرِ جهان را گشت
سفر گُزید و بیابان بُرید و کوه و کمر
ولیکن او ز سفر آبِ زندگانی جُست
ملِک، رضایِ خُدا و رضایِ پیغمبر
و گر تو گویی در شأنش آیت است رواست
نیَم من این را مُنکِر که باشد آن مُنکَر
به وقتِ آن که سِکندر همی اِمارت کرد
نبُد نُبُوّت را برنهاده قُفل به در
به وقتِ شاهِ جهان گر پیَمبری بودی
دویست آیت بودی به شأنِ شاه اندر"
(فرُّخی سیستانی)


ہاں! سِکندر نے کُل کا کُل جہان گھوما، اور اُس نے سفر اختیار کیا، اور بیابان و کوہ کو طَے کیا۔۔۔ لیکن سفر سے اُس کا مقصد آبِ حیات تھا، جبکہ سُلطان کا مقصد رِضائے خُدا اور رِضائے پیغمبر ہے۔۔۔ اور اگر تم کہو کہ سِکندر کی شان میں آیت ہے، تو یہ روا و دُرُست ہے۔۔۔ میں اِس چیز کا مُنکِر نہیں، کیونکہ ایسا کرنا ناروا و قبیح ہے۔۔۔ جس وقت سکندر فرما‌ں‌روائی کرتا تها تو تو نُبُوّت کے در پر قُفل نہ تھا [لہٰذا اُس کے لیے آیت نازل ہو گئی]۔۔۔ اگر شاہِ جہاں (یعنی محمود غزنوی) کے وقت میں نُبُوّت ہوتی (یا کوئی نبی ہوتا) تو شاہ کی شان میں دو صد آیتیں [موجود] ہوتیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
اگر موهایت نبود
باد را
چگونه نقّاشی می‌کردم؟
(احسان پرسا)

اگر تمہارے بال نہ ہوتے
تو میں ہوا کی
کیسے تصویر بناتا؟
 

حسان خان

لائبریرین
تا به کَی آهسته نالم در نِهان چون چشمه‌سار
همچو موجم نعرهٔ دیوانه‌واری آرزوست

(سیمین بهبهانی)
میں چشمہ‌سار کی مانند کب تک مخفیانہ اور آہستگی کے ساتھ نالہ کروں؟۔۔۔ مجھے مَوج کی طرح اِک نعرۂ دیوانہ‌وار کی آرزو ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بی تو در مِصرِ جامعِ تبریز
مُردم ای جان ز سوزِ تنهایی

(عبدالمجید تبریزی)
اے جان! تمہارے بغیر مَیں شہرِ بُزُرگِ تبریز میں سوزِ تنہائی سے مر گیا۔۔۔
 

منہاج علی

محفلین
تا به کَی آهسته نالم در نِهان چون چشمه‌سار
همچو موجم نعرهٔ دیوانه‌واری آرزوست

(سیمین بهبهانی)
میں چشمہ‌سار کی مانند کب تک مخفیانہ اور آہستگی کے ساتھ نالہ کروں؟۔۔۔ مجھے مَوج کی طرح اِک نعرۂ دیوانہ‌وار کی آرزو ہے۔
وااہ واااہ
 
Top