انمول باتیں

عمراعظم

محفلین
محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارا فعل ہمارے احساس کی پیروی کرتا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ فعل اور احساس دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگر ہم اپنے فعل کی اصلاح کر لیں( چونکہ یہ ہماری قوتِ ارادی کے زیادہ ماتحت ہوتا ہے) تو ہم بلواسطہ اپنے احساس کو بدل سکتے ہیں۔
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
اگر تم کسی کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہو تو یہ نہ سمجھنا کہ وہ کتنا بے وقوف ہے بلکہ یہ سوچنا کہ اس کو تم پہ اعتبار کتنا تھا۔
 

عمراعظم

محفلین
افہام و تفہیم نیز عفو و درگزر کے لئے سیرت کی پختگی اور نفس پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
 

عمراعظم

محفلین
سقراط اپنے ساتھیوں سے اکثر یہ کہا کرتا تھا " میں صرف ایک بات جانتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا۔"
 

عمراعظم

محفلین
اکثر اوقات ہم کسی مزاحمت یا شدید احساس کے بغیر اپنے خیالات اور نظریات بدلتے رہتے ہیں،لیکن اگر ہم سے کہا جائےکہ ہمارا نظریہ یا خیال غلط ہے تو ہمیں بہت ’برا محسوس ہوتا ہے۔اور ہم اپنے دِلوں کو سخت کر لیتے ہیں۔ہم اپنے نظریے یا عقیدے بڑی لا پرواہی سے بناتے ہیں لیکن اگر کوئی ہمیں ان سے محروم کرنا چاہے تو یہ ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز محسوس ہوتے ہیں ا ور ہم ان سے جدا ہونا کسی قیمت پر پسند نہیں کرتے۔اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے خیالات اتنے عزیز نہیں ہوتےبلکہ ہمیں اپنی عزتِ نفس زیادہ عزیز ہوتی ہے۔۔۔۔ انسانی تعلقات میں ایک ادنیٰ سے لفظ "میں"کو بڑی اہمیت حاصل ہےاور اس لفظ کا لحاظ کرنا دانشمندی کے زینے کا پہلا قدم ہے۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
سقراط اپنے ساتھیوں سے اکثر یہ کہا کرتا تھا " میں صرف ایک بات جانتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا۔"

یہی جانا کہ کچھ نہیں جانا
اور یہ بھی اک عمر کے بعد ہوا معلوم

شاید ایسا ہی کوئی شعر ہے۔۔۔ کسی بھی قسم کی غلطی کے لیے پیشگی معافی :)
 

نیلم

محفلین
’’پتر ! لوگ جتنا بھی دل دکھائیں یہ یاد رکھا کر کہ جب اللہ کے بندے ہمیں توڑتے ہیں تو انکا توڑنا ہی ہمیں اللہ سے جوڑتا ہے۔‘‘ اللہ دتا کمہار نے مسکراتے ہوئے اسے ایک اور مشکل سبق پڑھایا تھا۔

صائمہ اکرم چوہدری کے ناول دیمک زدہ محبت سے اقتباس
 

نیلم

محفلین
سطح پر تیرنے والے کے حصے میں فقط جھاگ اور خس و خاشاک آتا ہے جبکہ گہرائی میں اترنے والے کے نصیب میں موتی۔۔۔ ۔ زندگی کو سطحی طور پر برتنے والے کو بس روز مرہ کی زندگی کے خس و خاشاک
سے ہی حصہ ملتا ہے البتہ جو زندگی کو گہرائی میں اتر کر دیکھےتو حیات کا اصل حسن اور کائنات کے سر بستہ راز اس پر آشکار ہوجاتے ہیں
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
سطح پر تیرنے والے کے حصے میں فقط جھاگ اور خس و خاشاک آتا ہے جبکہ گہرائی میں اترنے والے کے نصیب میں موتی۔۔۔ ۔ زندگی کو سطحی طور پر برتنے والے کو بس روز مرہ کی زندگی کے خس و خاشاک
سے ہی حصہ ملتا ہے البتہ جو زندگی کو گہرائی میں اتر کر دیکھےتو حیات کا اصل حسن اور کائنات کے سر بستہ راز اس پر آشکار ہوجاتے ہیں
کبھی کبھی موتیوں کی جستجو اس کو اس کی اوقات سے زیادہ تہہ میں رہنے پر مجبور کردیتی ہے. اور اعصاب شل ہونے کے باعث وہ سب کچھ ہار جاتا ہے. :)
 

افسر خان

محفلین
859109050918799
 

رباب واسطی

محفلین
کوئی کتنا بھی گناہگارکیوں نہ هو الله تعالیٰ اس کے لئے دعا و توبہ کا راستہ اور رزق کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتا
 
Top