دل اُس سے بچھڑ کر بہل کیوں گیا ہے

نوید ناظم

محفلین
دل اُس سے بچھڑ کر بہل کیوں گیا ہے
یہ کم ظرف اتنا بدل کیوں گیا ہے

وہ جس نے مِرے گھر کو چنگاری دی تھی
وہ اب پوچھتا ہے کہ جل کیوں گیا ہے

مِری شب کو امید جس سے لگی تھی
وہ سورج کہیں دُور ڈھل کیوں گیا ہے

محبت نہیں ہے اگر اُس کو مجھ سے
مرا نام سن کر مچل کیوں گیا ہے

تری یاد کا اژدہا مجھ کو آخر
نگلتا نگلتا نگل کیوں گیا ہے

یہ پیتا رہا خون قلب و جگر سے
نہ پوچھو کہ غم مجھ میں پل کیوں گیا ہے
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
چنگاری دینا نہیں، چنگاری دکھانا محاورہ ہوتا ہے میرے خیال میں، اگر الفاظ بدل سکو تو بہتر ہے کہ ویسے بھی چنگاری کی ی کا اسقاط اتنا اچھا نہیں لگ رہا ہے
 

نوید ناظم

محفلین
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
چنگاری دینا نہیں، چنگاری دکھانا محاورہ ہوتا ہے میرے خیال میں، اگر الفاظ بدل سکو تو بہتر ہے کہ ویسے بھی چنگاری کی ی کا اسقاط اتنا اچھا نہیں لگ رہا ہے
بہت شکریہ سر، مصرع بدل کر شعر یوں کر دیا۔

لگائی مِرے گھر کو خود آگ جس نے
وہ اب پوچھتا ہے کہ جل کیوں گیا ہے
 
Top