ساہیوال: سی ٹی ڈی کا مشکوک آپریشن، دو خواتین سمیت 4 افراد ہلاک

جاسم محمد

محفلین
نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر ہو گئی مبارک ہو کے پنجاب حکومت کو پتہ ہی نہیں وہ اہلکار کون تھے ؟
وزیر قانون صاحب نے ذیشان کو پہلے کی دہشت گرد قرار دے دیا تو بھائی جے آئی ٹی چہ معنی ؟
گورنر پنجاب صاحب جو فرما رہے خود سن کے بتائے کے بے غیرتی ہے یہ بیان ؟
میں نے وزیر قانون پنجاب کی پریس کانفرنس سنی تھی۔ وہ سی ٹی ڈی کا مؤقف پڑھ کر سنا رہے تھے۔ ان کا اپنا مؤقف واضح تھا کہ چونکہ ابھی سانحہ زیر تفتیش ہے اس لئے کسی پر بھی الزام لگا کر کاروائی شروع کر دینا حکومت و اداروں دونوں کیلئے بے سود ہے۔ اور یہی بات گورنر پنجاب نے یہاں کی ہے۔ اس میں بے غیرتی کا عنصر کہاں سے آگیا جب عوام، اپوزیشن ، حکومت سب ایک پیج پر ہیں کہ ذمہ داروں کا جلد سے جلد تعین کر کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ایک کام کیجیے حکومت ہی چھوڑ کر گزشتہ حکومت کو دے دیجیئے بھائی اگر اپنی ہر بے غیرتی کو اسی طرح گزشتہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا ہے
بھاشن کون دے رہا ہے؟
گو کہ ان کا بھاشن دینا بنتا نہیں ہے کیونکہ سی ٹی ڈی شہباز شریف کا برین چائلڈ تھا۔ بہرحال حکومت ان کے کہے بغیر کل سے سانحہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ دو دن میں رپورٹ سامنے آنے پر تمام ذمہ داران کو قانون کے تحت دہشت گردی اور قتل کی سزا سنا دی جائے گی۔
تب تک عوام حکومت پر برس سکتی ہے۔
 
میں نے وزیر قانون پنجاب کی پریس کانفرنس سنی تھی۔ وہ سی ٹی ڈی کا مؤقف پڑھ کر سنا رہے تھے۔ ان کا اپنا مؤقف واضح تھا کہ چونکہ ابھی سانحہ زیر تفتیش ہے اس لئے کسی پر بھی الزام لگا کر کاروائی شروع کر دینا حکومت و اداروں دونوں کیلئے بے سود ہے۔ اور یہی بات گورنر پنجاب نے یہاں کی ہے۔ اس میں بے غیرتی کا عنصر کہاں سے آگیا جب عوام، اپوزیشن ، حکومت سب ایک پیج پر ہیں کہ ذمہ داروں کا جلد سے جلد تعین کر کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

یہاں پر تو وزیر قانون صاحب کچھ اور فرما رہے ہیں
 
گو کہ ان کا بھاشن دینا بنتا نہیں ہے کیونکہ سی ٹی ڈی شہباز شریف کا برین چائلڈ تھا۔ بہرحال حکومت ان کے کہے بغیر کل سے سانحہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ دو دن میں رپورٹ سامنے آنے پر تمام ذمہ داران کو قانون کے تحت دہشت گردی اور قتل کی سزا سنا دی جائے گی۔
تب تک عوام حکومت پر برس سکتی ہے۔
اور حکومت سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈال سکتی ہے

 

جاسم محمد

محفلین
یہاں پر تو وزیر قانون صاحب کچھ اور فرما رہے ہیں
سی ٹی ڈی کا مؤقف ہے کہ گاڑی میں سوار ڈرائیور خلیل فیملی کا دوست ذیشان اصل میں داعش کا ایجنٹ تھا۔ جو اس فیملی کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے لاہور سے فرار ہو رہا تھا۔
سی ٹی ڈی نے جب گاڑی روکی تو اس نے ان پر فائرنگ کردی۔ جوابی فائرنگ میں یہ سانحہ پیش آیا۔
یاد رہے کہ یہ محض ان کا مؤقف ہے۔ خالی مؤقف اپنا لینے سے وہ قانون کی نظر میں سچ نہیں مانا جاتا۔ اصل ذمہ داران جے آئی ٹی رپورٹ میں سامنے آئیں گے۔ جب سانحہ سے متعلق تمام شواہد و گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد حقائق پر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔
اب یہاں پر حکومت کا اصل امتحان شروع ہوگا کہ آیا وہ سانحہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ یا ماضی کی حکومتوں کی طرح “مٹی پاؤ” فارمولے پر چلنا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اور حکومت سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈال سکتی ہے

جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک حکومت کے پاس سی ٹی ڈی کا مؤقف پیش کرنے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔ کیونکہ میڈیا کل سے متاثرہ فیملی کا مؤقف چلا رہا ہے۔ حکومت اس وقت نہ تین میں نہ تیرہ میں والی صورت حال سے گزر رہی ہے۔
حتمی رپورٹ آنے تک آپ حکومتی وزرا کی طرف سے اس قسم کے بیان سنتے رہیں گے۔ کیونکہ ان کو ساری رپورٹنگ اداروں کی طرف سے ہوتی ہے۔
 
جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک حکومت کے پاس سی ٹی ڈی کا مؤقف پیش کرنے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔ کیونکہ میڈیا کل سے متاثرہ فیملی کا مؤقف چلا رہا ہے۔ حکومت اس وقت نہ تین میں نہ تیرہ میں والی صورت حال سے گزر رہی ہے۔
حتمی رپورٹ آنے تک آپ حکومتی وزرا کی طرف سے اس قسم کے بیان سنتے رہیں گے۔ کیونکہ ان کو ساری رپورٹنگ اداروں کی طرف سے ہوتی ہے۔
حکومت سی ٹی ڈی کے اندر آتی ہے؟
 
گو کہ ان کا بھاشن دینا بنتا نہیں ہے کیونکہ سی ٹی ڈی شہباز شریف کا برین چائلڈ تھا۔ بہرحال حکومت ان کے کہے بغیر کل سے سانحہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ دو دن میں رپورٹ سامنے آنے پر تمام ذمہ داران کو قانون کے تحت دہشت گردی اور قتل کی سزا سنا دی جائے گی۔
تب تک عوام حکومت پر برس سکتی ہے۔
یہ جو واقعہ ہوا اس کو حکم شہباز شریف نے دیا تھا ؟ یا موجودہ حکومت پنجاب نے دیا ہو گا ؟
 

جاسم محمد

محفلین
یہ جو واقعہ ہوا اس کو حکم شہباز شریف نے دیا تھا ؟ یا موجودہ حکومت پنجاب نے دیا ہو گا ؟
حکومت سی ٹی ڈی کے اندر آتی ہے؟
آپریشن حساس ادارے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کاروائی تھی۔ ایجنسیاں ایسے آپریشن حکومت کو بتائے بغیر کرتی ہیں۔
 
آپریشن حساس ادارے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کاروائی تھی۔ ایجنسیاں ایسے آپریشن حکومت کو بتائے بغیر کرتی ہیں۔
تو لعنت ہے ایسی نااہل حکومت پر جسے اپنے غنڈوں کے نام تک نہیں معلوم جن سے وہ عوام پر دہشت گردی کروا رہی ہے
 

آورکزئی

محفلین
امید ہے ہے کہ بزدار سمیت نیازی استعفیٰ دے دیں گے۔۔۔ جیسا کہ انہوں نے پچھلے حکومت سے کہا تھا۔۔۔۔
باتیں کرنا بہت اسان لیکن عمل کرنا بہت مشکل۔۔۔ ماشاءاللہ رات کے گیارہ بجے 38 گاڑیوں کے بغیر پروٹوکول لیے ایا تھا بزدار ساب
 

فرحت کیانی

لائبریرین
میں نے وزیر قانون پنجاب کی پریس کانفرنس سنی تھی۔ وہ سی ٹی ڈی کا مؤقف پڑھ کر سنا رہے تھے۔ ان کا اپنا مؤقف واضح تھا کہ چونکہ ابھی سانحہ زیر تفتیش ہے اس لئے کسی پر بھی الزام لگا کر کاروائی شروع کر دینا حکومت و اداروں دونوں کیلئے بے سود ہے۔ اور یہی بات گورنر پنجاب نے یہاں کی ہے۔ اس میں بے غیرتی کا عنصر کہاں سے آگیا جب عوام، اپوزیشن ، حکومت سب ایک پیج پر ہیں کہ ذمہ داروں کا جلد سے جلد تعین کر کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
یہ فارمولا ماڈل ٹاون سانحے کے لیے کیوں نہیں استعمال کرنے دیا گیا؟
 

فرحت کیانی

لائبریرین
آپریشن حساس ادارے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کاروائی تھی۔ ایجنسیاں ایسے آپریشن حکومت کو بتائے بغیر کرتی ہیں۔
جی ہاں اگر صرف پنجاب پولیس کی بات ہوتی تو اب تک سب گرفتار ہو چکے ہوتے چاہے وقتی طور پر ہی سہی۔ لیکن کیوں کہ ناقابل رسائی آئی ایس آئی شامل ہے، اس لیے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کسی کو خبر ہو یا خبر شیئر کی جائے۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
گو کہ ان کا بھاشن دینا بنتا نہیں ہے کیونکہ سی ٹی ڈی شہباز شریف کا برین چائلڈ تھا۔ بہرحال حکومت ان کے کہے بغیر کل سے سانحہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ دو دن میں رپورٹ سامنے آنے پر تمام ذمہ داران کو قانون کے تحت دہشت گردی اور قتل کی سزا سنا دی جائے گی۔
تب تک عوام حکومت پر برس سکتی ہے۔
سی ٹی ڈی کا قیام ایک بہترین قدم تھا اور اگر یہ شہباز شریف کا برین چائلڈ تھا تو کریڈٹ ان کو جاتا ہے کہ اس ادارے کا قیام ضروری تھا۔ ل
جب کوئی بھی ادارہ یا اس کے اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں تو انھیں سزا دینا حکومت کا کام ہے نہ کہ قیام کو ہی سرے سے غلط قرار دینا۔
اگر ماڈل ٹاون سانحے کی ذمہ دار حکومت تھی تو یہی فارمولہ موجودہ حکومت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر انھوں نے بھی تاریخیں ہی دینی ہیں تو ان میں اور گزشتہ حکومتوں میں کیا فرق ہوا؟
 

آورکزئی

محفلین
مجھے دورہ آل سعود سے واپس مُڑ نے دیں مولانا سمیع الحق رح کے قاتل پکڑ لوں گا۔۔
مجھے دورہ چین سےواپس انے دیں طاہرداوڑ کے قاتل پکڑ لوں گا۔۔
مجھے دورہ ترکی سے واپس انےدیں علی رضا عابدی کے قاتل پکڑ لوں گا ۔۔
مجھےدورہ قطر سےواپس انے دیں ساہیوال مقتولین کے قاتل پکڑ لوں گا
"ریزلٹ سیم ٹو سیم"
 

جاسم محمد

محفلین
جی ہاں اگر صرف پنجاب پولیس کی بات ہوتی تو اب تک سب گرفتار ہو چکے ہوتے چاہے وقتی طور پر ہی سہی۔ لیکن کیوں کہ ناقابل رسائی آئی ایس آئی شامل ہے، اس لیے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کسی کو خبر ہو یا خبر شیئر کی جائے۔
سی ٹی ڈی کا قیام ایک بہترین قدم تھا اور اگر یہ شہباز شریف کا برین چائلڈ تھا تو کریڈٹ ان کو جاتا ہے کہ اس ادارے کا قیام ضروری تھا۔ ل
جب کوئی بھی ادارہ یا اس کے اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں تو انھیں سزا دینا حکومت کا کام ہے نہ کہ قیام کو ہی سرے سے غلط قرار دینا۔
اگر ماڈل ٹاون سانحے کی ذمہ دار حکومت تھی تو یہی فارمولہ موجودہ حکومت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر انھوں نے بھی تاریخیں ہی دینی ہیں تو ان میں اور گزشتہ حکومتوں میں کیا فرق ہوا؟
تو کیا ہوا۔ کپتان کی قمیض پھٹی ہوئی ہے اور وہ ہینڈسم بھی ہے
ہینڈسم مگر پھٹی ہوئی قمیض پہننے والے وزیر اعظم کی حکومت نے تین دن کے اندر اند ر انصاف کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے کوشش تو بڑی کی تھی کہ اس سانحہ پر سیاست کی جائے مگر دال نہیں گلی۔

سانحہ ساہیوال : سی ٹی ڈی افسران خلیل اور اس کے خاندان کے قتل کے ذمہ دار قرار
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے ابتدائی رپورٹ پیش کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت ایوانِ وزیراعلیٰ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سینئر وزیر علیم خان، وزیر قانون راجہ بشارت، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس، متعلقہ ایجنسیز کے اعلیٰ افسران سمیت جے آئی ٹی کے ارکان بھی شریک ہوئے۔

جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں سی ٹی ڈی افسران کو خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ مقتول خلیل اور اس کے خاندان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا۔

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا گیا ہے، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے اور انہیں وفاق کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ قتل میں ملوث 5 سی ٹی ڈی اہلکاروں کا چالان کرکے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
196092_1094151_updates.jpg

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی— فوٹو: اسکرین گریب
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت پنجاب کیلئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اور حکومت اس کیس کو مثال بناکر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور جے آئی ٹی کے سربراہ نے اجلاس میں بریفنگ دی ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی کے افسران کو ٹھہرایا گیا ہے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ واقعے میں ایک اور شخص ذیشان ہلاک ہوا تھا جس کے حوالے سے معلومات اکھٹی کرنے کیلئے جی آئی ٹی سربراہ نے مزید وقت مانگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل ہم نے کہا تھا ان کیمرہ بریفنگ دیں گے، کل میڈیا کیلئے ان کیمرہ بریفنگ کررہے ہیں جس میں مزید تفصیلات بتائی جائیں گی۔

وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ ہم نے اپنے قول کو پورا کیا ہے، ماضی میں کبھی 72 گھنٹوں کے اندر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، ہماری کمٹمنٹ عوام کے ساتھ ہے، پنجاب حکومت کا ایک دائرہ کار ہے اسی میں رہ کر ہم نے کام کرنا ہے۔

قبل ازیں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بننے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن ان کی صوابدید ہوگی ۔

جے آئی ٹی سربراہ کا جائے وقوع کا دورہ
اس سے قبل جے آئی ٹی سربراہ نے ممبران کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا جہاں تین سے چار عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے حتمی رپورٹ آج دینے کے حکم پر کہا کہ آج حتمی رپورٹ نہیں دی جاسکتی اور آج ابتدائی رپورٹ دینا بھی ممکن نہیں، سائنٹیفک بنیادوں پر تفتیش کر کے حقائق معلوم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ساری چیزیں کلئیر نہ ہوجائیں اس وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا، فائرنگ کرنے والے سی ٹی ڈی کے 6 اہلکار حراست میں ہیں جن کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور ابتدائی طور پر ہم شہادتیں اکٹھی کررہے ہیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے مزید کہا کہ ابتدائی شہادتوں اور لیبارٹری سے تجزیہ آنے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچیں گے اور لیبارٹری تجزیہ آنے کے بعد ہی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کریں گے۔

واقعے کے وقت موجود شہریوں نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے آنے سے پہلے کوئی اطلاع نہیں دی، واقعے کی جگہ درجنوں افراد موجود تھے اور صرف تین سے چار لوگوں کے بیانات لیے گئے۔

’ادھوری چیزیں فرانزک کیلئے دی گئیں‘

علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کے لیے فرانزک سائنس ایجنسی کو ادھوری چیزیں بھیجی گئی ہیں، ایجنسی کو ایس ایم جی سے چلی ہوئی 45 گولیوں کے خول بھیجے گئے جب کہ ایس ایم جی سے چلی ہوئی اور پوسٹ مارٹم سے ملی گولیاں نہیں دی گئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فرانزک ایجنسی کو 9 ایم ایم کی 5 گولیاں بھی بھیجی گئیں، ایس ایم جی نہ بھیجنے کی وجہ سے تجزیہ کرنا مشکل ہے، ایس ایم جی کے بھیجے گئے 45 خول کا تجزیہ کرکے صرف محفوظ کرسکتے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ سی ٹی ڈی اور پولیس کے استعمال میں ایس ایم جی ہی ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ 19 جنوری کی سہہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کی ایک بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
ہینڈسم مگر پھٹی ہوئی قمیض پہننے والے وزیر اعظم کی حکومت نے تین دن کے اندر اند ر انصاف کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے کوشش تو بڑی کی تھی کہ اس سانحہ پر سیاست کی جائے مگر دال نہیں گلی۔

سانحہ ساہیوال : سی ٹی ڈی افسران خلیل اور اس کے خاندان کے قتل کے ذمہ دار قرار
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے ابتدائی رپورٹ پیش کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت ایوانِ وزیراعلیٰ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سینئر وزیر علیم خان، وزیر قانون راجہ بشارت، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس، متعلقہ ایجنسیز کے اعلیٰ افسران سمیت جے آئی ٹی کے ارکان بھی شریک ہوئے۔

جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں سی ٹی ڈی افسران کو خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ مقتول خلیل اور اس کے خاندان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا۔

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا گیا ہے، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے اور انہیں وفاق کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ قتل میں ملوث 5 سی ٹی ڈی اہلکاروں کا چالان کرکے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
196092_1094151_updates.jpg

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی— فوٹو: اسکرین گریب
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت پنجاب کیلئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اور حکومت اس کیس کو مثال بناکر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور جے آئی ٹی کے سربراہ نے اجلاس میں بریفنگ دی ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی کے افسران کو ٹھہرایا گیا ہے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ واقعے میں ایک اور شخص ذیشان ہلاک ہوا تھا جس کے حوالے سے معلومات اکھٹی کرنے کیلئے جی آئی ٹی سربراہ نے مزید وقت مانگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل ہم نے کہا تھا ان کیمرہ بریفنگ دیں گے، کل میڈیا کیلئے ان کیمرہ بریفنگ کررہے ہیں جس میں مزید تفصیلات بتائی جائیں گی۔

وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ ہم نے اپنے قول کو پورا کیا ہے، ماضی میں کبھی 72 گھنٹوں کے اندر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، ہماری کمٹمنٹ عوام کے ساتھ ہے، پنجاب حکومت کا ایک دائرہ کار ہے اسی میں رہ کر ہم نے کام کرنا ہے۔

قبل ازیں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بننے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن ان کی صوابدید ہوگی ۔

جے آئی ٹی سربراہ کا جائے وقوع کا دورہ
اس سے قبل جے آئی ٹی سربراہ نے ممبران کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا جہاں تین سے چار عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے حتمی رپورٹ آج دینے کے حکم پر کہا کہ آج حتمی رپورٹ نہیں دی جاسکتی اور آج ابتدائی رپورٹ دینا بھی ممکن نہیں، سائنٹیفک بنیادوں پر تفتیش کر کے حقائق معلوم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ساری چیزیں کلئیر نہ ہوجائیں اس وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا، فائرنگ کرنے والے سی ٹی ڈی کے 6 اہلکار حراست میں ہیں جن کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور ابتدائی طور پر ہم شہادتیں اکٹھی کررہے ہیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے مزید کہا کہ ابتدائی شہادتوں اور لیبارٹری سے تجزیہ آنے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچیں گے اور لیبارٹری تجزیہ آنے کے بعد ہی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کریں گے۔

واقعے کے وقت موجود شہریوں نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے آنے سے پہلے کوئی اطلاع نہیں دی، واقعے کی جگہ درجنوں افراد موجود تھے اور صرف تین سے چار لوگوں کے بیانات لیے گئے۔

’ادھوری چیزیں فرانزک کیلئے دی گئیں‘

علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کے لیے فرانزک سائنس ایجنسی کو ادھوری چیزیں بھیجی گئی ہیں، ایجنسی کو ایس ایم جی سے چلی ہوئی 45 گولیوں کے خول بھیجے گئے جب کہ ایس ایم جی سے چلی ہوئی اور پوسٹ مارٹم سے ملی گولیاں نہیں دی گئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فرانزک ایجنسی کو 9 ایم ایم کی 5 گولیاں بھی بھیجی گئیں، ایس ایم جی نہ بھیجنے کی وجہ سے تجزیہ کرنا مشکل ہے، ایس ایم جی کے بھیجے گئے 45 خول کا تجزیہ کرکے صرف محفوظ کرسکتے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ سی ٹی ڈی اور پولیس کے استعمال میں ایس ایم جی ہی ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ 19 جنوری کی سہہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کی ایک بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔


 

ربیع م

محفلین
ہینڈسم مگر پھٹی ہوئی قمیض پہننے والے وزیر اعظم کی حکومت نے تین دن کے اندر اند ر انصاف کر دیا ہے۔
۔ ایک سوال کے جواب میں راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کا آپریشن 100 فیصد صحیح تھا لیکن بدقسمتی سے آپریشن میں ایک فیملی ماری گئی جس کی وجہ سے اہلکاروں کیخلاف کارروائی کررہے ہیں۔
قوم کو انصاف مبارک ہو۔
مزید کچھ کہنا الفاظ کا زیاں ہے۔
 
Top