اسکین دستیاب منتخب نظمیں

غدیر زھرا

لائبریرین
41,40

سپاسنامہ نظمیہ

در تہنیت قدوم میمنت لزوم قائداعظمؒ بطل جلیل۔۔۔۔۔۔جناب عزت مآب مسٹر محمد علی جناح ؒ

از مسلمانان چھوٹا شملہ

جو بہ تقریبِ سعید افتتاح پرچم اسلام بتاریخ 28 اگست* 1938ء بمقام مسجد چھوٹا شملہ مولوی محمد امین صاحب پریذیڈنٹ مسلم لیگ چھوٹا شملہ نے لکھا اور پڑھا


مرحبا اے صدر مسلم لیگ ہند عالی وقار
جنداوے قائد اعظمؒ جناح نامدار

کی عجب ذرہ نوازی بخشا از راہِ کرم
اپنی تشریف آوری سے مخلصوں کو افتخار

گرچہ اپنی بیکسی سے ہم نہیں ہیں دے سکے
ظاہر استقبال کو کوئی بھی شکل شاندار

پر ارادت اور عقیدت میں کسی سے کم نہیں
شادمانی سے فروغ و تازگی ہے آشکار

کچھ مہینوں سے یہ ہم نے کوششیں کر کے حقیر
شاخِ مسلم لیگ قائم کی بہ فضلِ کردگار

کر رہی ہے جو کہ روز افزوں ترقی پے بہ پے
نام کو یک صد مگر ہیں دل سے ممبر صد ہزار

ایسے پر آشوب دوراں میں دکھائی آپ نے
راہ آزادی کہ جس میں ہے خطر کوئی نہ خار

غیر مسلم اور مسلم کے تعاون کا طریق
ایک ہی ہے آپ نے بتلا دیا جو بار بار

مان لیں واحد نمائندہ جماعت لیگ کو
پھر مسلمانوں سے طے کر لیں شرائط باوقار

دین و قرآں چاہئے آزاد مسلم کےلئے
تابآزادی بنا لے ان کو وہ اپنا شعار

جب تلک قائم تھی ہم میں اجتماعی زندگی
اور تھا دینی نظام اپنا بھی قائم استوار

کانپتے تھے قیصر و کسریٰ ہمارے نام سے
فتح و نصرت چومتی آ کر قدم ہو کر نثار

دولت و ثروت کے مالک تھے پجاری پر نہ تھے
مال و جاں اولاد کر دیتے تھے سب دیں پر نثار

جب سے دینِ حق پہ قربانی کی عادت چھوڑ دی
ہو گئے تب سے ذلیل و خستہ و رسوا و خوار

حق کی قربانی سے بھاگے خلق کے قرباں ہوئے
خونِ مسلم سے فلسطیں ریف و چیں ہیں لالہ زار

ہے فلسطین مقدس میں قیامت جو بپا
دل پھٹا جاتا ہے سن سن کے وہاں کا حال و زار

قتل و غارت قید و بندش ضرب و خوں
آہ و زرائی (؟) نالہائے دلفگار

مر مٹے ارضِ مقدس کے محافظ مر مٹے
لو خبر جلدی خدارا مومنانِ دیندار

واردھا اسکیم ایسی چال ہے اک پر فریب
جس سے ہو گی نسلِ مسلم کفر کا آساں شکار

مسلم خوابیدہ اب تو جاگ اور کروٹ بدل
اندرونی اور بیرونی مخالف بے شمار

تیری تہذیب و تمدن تیرا ایماں تیرا دیں
سب مٹانے کےلئے رکھتے ہیں عزم استوار

متحد ہو متفق ہو نیک ہو اور ایک ہو
اور ہو جاؤ منظم جیسے اک سنگیں حصار

مومنو مل کر جماعت سے پڑھو سارے نماز
پھر نظامِ وحدتِ ملی رہے گا برقرار

کامل آزادی ہے نصب العین جبکہ ایک کا
تو مسلماں کیوں نہ ہوں اس جنگ میں سب جاں نثار

چند معروضات پیش خدمتِ عالی کروں
از مسلمانان چھوٹا شملہ اب تفصیل وار

کارِ تعمیری بہ پیش قوم رکھنا چاہئے
جس قدر جلدی ہو ممکن اب بغیر انتظار

گوردوارہ ایکٹ کی مانند بل اوقاف کا
پاس ہو جائے بغیر از دیاد انتظار

تیسرے قائم ہو بیت المال مسلم کےلئے
جس کا نگراں ہو امیرِ شرع اک نصفت شعار

پرچمِ اسلام لہرا دیجئے بطل جلیل
تا ہو دوھستان میں توحید کا عز و وقار

ضیغم اسلام سالار مسلمانان جناح
طالعش بادہ ہمایوں حافظش پروردگار

مولوی محمد امین
چھوٹا شملہ

____________________________________________

*جو کاپی (حوالہ نمبر 1136 صفحہ نمبر 177) ہمارے کاغذات میں موجود ہے اس پر سن 1938 لکھا نہیں ہوا لیکن جناب ڈاکٹر خورشید انور (کرشن نگر لاہور) نے اس جلسے کی تاریخ 28 اگست 1938ء بیان کی ہے اور جو کاپی دستخط شدہ انہوں نے پیش کی ہے اپنے دستِ مبارک سے وہاں 1938 کا اضافہ کیا ہے۔

____________________________________________

قائداعظمؒ پیپرز حوالہ نمبر 1136 صفحہ نمبر 177 (یہ نظمیہ سپاسنامہ مطبوعہ شکل میں پیش کیا گیا جو کہ آدمی پریس شملہ سے طبع ہوا۔ لیکن عام اشاعت کےلئے کسی وقت بھی پیش نہیں کیا گیا)۔
 

غدیر زھرا

لائبریرین
43

تاریخی یادگار

باجلاس آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن جالندھر

قصیدہ


عطر بیزاں ہوں نہ کیونکر ناز بردارِ جناح
ہو رہا ہے تازہ جالندھر میں گلزارِ جناح

سرخرو ہوں گے جہاں میں ناز بردارِ جناح
آبیاری کر رہے ہیں بہر گلزارِ جناح

اب زمانہ دیکھتا ہے شان مسلم لیگ کی
شوکت شاہانہ دکھلاتا ہے دربارِ جناح

ذرہ ذرہ کیوں نہ روشن ہو زمینِ ہند کا
جلوہ افگن ہیں زمانے بھر میں انوارِ جناح

یوسفِ مقصود کے مشتاق ہیں چاروں طرف
بن رہا ہے مصر کا بازار بازارِ جناح

اے مخالف دیکھ پاکستان کی تجویز میں
کس قدر انصاف پر مبنی ہے سرکارِ جناح

تخم ریزی کی تھی جس کے واسطے لاہور میں
پرورش پا کر ہوا ہے اب وہ گلزارِ جناح

درۃ التاج وطن ہو قصرِ پاکستان کا
ہے یہی اک غایت ابر گہر بارِ جناح

مسترد ہو جائیں گی رائیں جو گزریں گی خلاف
برسرِ اجلاس ہے یہ عام اظہارِ جناح

ممبرانِ لیگ گل بوٹے ہیں پاکستان کے
جلوہ آرا ہو رہے ہیں خوب افکارِ جناح

اہرمن کی طاقتیں کیا جز خدا ڈرتے نہیں
دین و دنیا میں یہ احسن تر ہیں اطوارِ جناح

اب تو پاکستان بنا کر ہی ہمیں آئے گا چین
متفق سب ہو گئے ہیں اس پر انصارِ جناح

بننا پاکستان کا اب رک نہیں سکتا شفیق ؔ
ملک کے سارے مسلماں ہیں مدد گارِ جناح

شفیق ؔ میرٹھی

____________________________________________

یہ نظم جالندھر کے تاریخی اجلاس میں پڑھی گئی جو (؟) (؟) کی حیثیت رکھتی ہے۔

1- جالندھر اجلاس 1942ء 2- گاندھی و نہرو 3-قراردادِ پاکستان 1940ء لاہور

قائداعظمؒ پیپرز مطبوعہ مواد حوالہ نمبر 15 صفحہ نمبر 26 یہ ایک غیر مطبوعہ نظم ہے جو کہ آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ اجلاس میں 15 نومبر 1942ء بمقام جالندھر پڑھی گئی۔ اس نظم کی کتابت 12' × 18' موٹے کاغذ پر بھلوال کے جماعت ششم کے ایک طالب علم خوشی محمد نے کی ہوئی ہے۔ جو بہت ہی پر کشش ہے۔
 

غدیر زھرا

لائبریرین
44, 45

عمل کا وقت


اگر دل سے رہا قائم تو شاہِ خسرواں ہو گا
توکل دولتِ دارین کا طبل و نشاں ہو گا

تمہاری کاہلی سے کچھ نہ بگڑے گا زمانہ کا
تم ہی ذلت اٹھاؤ گی تمہارا ہی زیاں ہو گا

وہ قومیں جو بڑھ رہی ہیں اپنے بل بوتے پر دنیا میں
ان ہی کے ہاتھ میدانِ ترقی بے گماں ہو گا

تلاشِ شاہدِ مقصود میں دن رات کوشاں رہ
یقیناً سعی پیہم سے تو ایک دن کامراں ہو گا

عمل کا وقت ہے اٹھو سنو گی داستاں کب تک
بتائیں ہم کہاں تک تم کو کیا ہو گا کہاں ہو گا

لکھی جائے گی جب تاریخِ حب خدمت قومی
تمہارا ذوق در اقوام زیبِ داستاں ہو گا

مصیبت ہے کہ نسواں میں نہیں احساسِ خود داری
نہ ہو گا اب اگر پیدا تو کب اے خواہراں ہو گا

مٹایا اپنے ہاتھوں حیف ہم نے خود وقار اپنا
تمہاری بے حسی پر خونِ حسرت کا گماں ہو گا

اگر ہو جائے پیدا تیرے دل میں جذبہ خدمت
تو اے خاتونِ مسلم تجھ سے روشن ایک جہاں ہو گا

کہ تیری گود میں پلتی ہے قومِ مسلم عالی
توجہ سے تیری ہر فرد فخرِ رفتگاں ہو گا

خدارا چھوڑ دو سودائے نام فیشن مغرب
کہ ایک دن یہ خیالِ خام وجہ ہر زباں ہو گا

مگر ہاں اور قوموں کی جو اچھی بات ہو سیکھو
کہ اتباع حدیثِ سرورِ کون و مکاں ہو گا

رسا ؔ
بیگم نواب محمد اسماعیل

____________________________________________

(1) شان لیگ (صفحہ نمبر 17-18 ) مؤلفہ سیدہ ریاض فاطمہ ریاض گلاؤٹھی بلند شہر
(2) قومی ادارہ برائے تحفظ دستاویزات مائیکرو فلم رول نمبر 308/ آر-بی (نایاب کتب)
 
آخری تدوین:

غدیر زھرا

لائبریرین
46

رباعیات


(رباعی اول)

اللہ محمد علی کی عمر دراز کرے شاداں ہو کر
محمد علی جناح غالب رہیں کانگریس پر شیراں ہو کر
طفیلِ پنجتن پاک کے آپ اہل خانہ گل رہیں شاد
خدا نے مسلم لیگ پر رہبر کیا آپ کو صادقاں ہو کر

(رباعی دوم)

جناب نے واپس کر دئیے ہیں سر کے حروف
خدا نے آپ کو کر دیا ہمہ صفت موصوف
خدا جناب سے راضی رسول آپ سے خوش
شام و سحر رہو اللہ کی یاد میں مصروف

(رباعی سوم)

محمد علی جناح خوب کیا کرتے ہیں خیرات
دن عید ہوتے ہیں آپکے رات ہوتی ہے شبرات
غریب محتاج جناب کو یہ دعا دیتے ہیں
خدا ایماں سے اٹھائے جو قدر کی آتیں ہیں رات

خدا نے نور سے پیدا کیے ہیں پانچوں تن
محمد و علی و فاطمہ حسین و حسن

حسین احمد

____________________________________________

از تصنیف حسین احمد مسلم لیگی عمر 70 سالہ نابینا (؟) (؟) وارد حال قنوج محلہ صفدر گنج ضلع فرخ آباد
جوابِ خط جلد لائیو قاصد
کہ منتظر تیرے آنکھیں لگائے بیٹھے ہیں

قائداعظمؒ پیپرز حوالہ نمبر 867 صفحہ نمبر 417 (یہ غیر مطبوعہ رباعیات ایک ستر سالہ نابینا مسلم لیگی (حسین احمد) نے قائداعظمؒ کو بتاریخ 7/7/1938 روانہ کیں
 

غدیر زھرا

لائبریرین
47

دعائے کشمیر


الٰہی یہ کڑی منزل بھی اب آسان ہو جائے
تمام وادی کشمیر پاکستان ہو جائے

تری رحمت پہ اے خالق نظر ہو تیرے بندوں کی
نظر لطف و کرم کی ان پر اے رحمان ہو جائے

ترے بابِ سخاوت پر لگی ہے آس اے مولا
تری بخشش سے کیوں مایوس اب انساں ہو جائے

الٰہی قلبِ مومن کو عطا صدق و صفا کر دے
چلے راہِ عمل پر عاملِ قرآن ہو جائے

جہاں کی خالد و حیدر الٰہی پھر سے پیدا کر
مسلمانوں کی دنیا میں وہی پھر شان ہو جائے

ہمارے بچہ بچہ کو عطا کر علمِ قرآنی
منور جس سے اس کی شمع ایمان ہو جائے

ہمارے ملک میں ایسی فضائے پر بہار آئے
پھلے پھولے ہر انساں مثل گل خنداں ہو جائے

چمن اسلام کا ہو پر فضا دورِ مسرت ہو
عنادل اس کے مسلم ہوں وہ پاکستان ہو جائے

مسرت جہاں صدیقی

سخت تر مصائب اور نہ بھولنے والے مظالم اٹھا کر جس وقت بے کس مسلمان جہنم زار ہندوستان سے جنت نشاں مرکز امن و امان کی سرحد میں داخل ہوئے تو فرطِ خوشی سے یہ الفاظ نعرہ تکبیر ساتھ نکل رہے تھے جو اس وقت حسبِ حال تھے۔

فضلِ حق سے آج ہم داخل ہیں پاکستان میں
مقصدِ دل گویا سب حاصل ہے پاکستان میں

____________________________________________

(1) "نذرِ پاکستان" از مسرت جہاں صدیقی صفحہ نمبر 11۔
(2) قائداعظمؒ پیپرز (مطبوعہ مواد) حوالہ نمبر 245
 

غدیر زھرا

لائبریرین
49

ہندو، سکھ اور عیسائی
مسلم سب کا ہے بھائی
مسلم نے وہ شے پائی
ہر اک کو جو راس آئی

در ثمیں ہے
خلد بریں ہے
سب سے حسیں ہے
پاک زمیں ہے

پاک زمیں ہے پاکستان!

یہ ہے اخوت کا گلشن
یہ ہے صداقت کا خرمن
یہ ہے محبت کا مسکن
یہ ہے شجاعت کا معدن

در ثمیں ہے
خلد بریں ہے
سب سے حسیں ہے
پاک زمیں ہے

پاک زمیں ہے پاکستان!

بشیر احمد

____________________________________________

(1) ماہنامہ ہمایوں لاہور ستمبر 1947ء صفحہ 51
(2) قومی ادارہ برائے تحفظ دستاویزات حوالہ نمبر 1428
 

غدیر زھرا

لائبریرین
50

فخرِ ملت قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی خدمت میں

تہنیت عید

عید کی خوشیاں مبارک اے امیرِ کارواں
عمر کے بوڑھے مگر عزم و ارادہ کے جواں

ایک لڑی میں منسلک ہے ملتِ اسلامیہ
یہ زمیں ہے فیض سے تیرے حریف آسماں

کفر اگر جنگ آزما ملت سے ہوتا ہے تو ہو
سر بکف میداں میں ہم آئے ہیں بہر امتحاں

قائد اعظم یقینِ محکم ہے اپنی قوم کا
آپ مقصد میں رہیں گے کامیاب و کامراں

کشتِ ملت خون سے سیراب کرنے کےلئے
منتظر ہے آپ کے احکام کا ہر نوجواں

یہ مصیبت کا زمانہ عیش کی تمہید ہے
راہِ پاکستان میں مر مٹنا ہماری عید ہے

نصرت قریشی سہارنپوری

____________________________________________

(1) یہ نظم مورخہ 2 ستمبر 1946ء کو روزنامہ منشور میں شائع ہوئی۔
(2) قائداعظمؒ پیپرز (مطبوعہ مواد) حوالہ نمبر 47 صفحہ نمبر 128
 

غدیر زھرا

لائبریرین
51

اپنے بندوں کے جما دے پیر پاکستان میں


1- اے خدا لم یزل رکھ خیر پاکستان میں
اپنے بندوں کے جما دے پیر پاکستان میں

2- یا الٰہی ایک ہونے کی ہمیں توفیق دے
دور کر باہمی سب بیر پاکستان میں

3- اپنے لطفِ خاص سے کر دے عطا رنگِ بہار
رشک سیر گلستان ہو سیر پاکستان میں

4- ہم کو آدابِ حرم سے کر دے واقف اے خدا
اور مٹا دے سب نقوشِ دیر پاکستان میں

____________________________________________

قائداعظمؒ پیپرز حوالہ نمبر 960 صفحہ نمبر 4۔ (یہ ایک غیر مطبوعہ نظم ہے جو کہ پرنسپل التربتہ ہائی سکول۔ سی۔ ای۔ زیڈ۔ ایم۔ ایس پشاور نے قائداعظمؒ کے حضور پیش کی
 

غدیر زھرا

لائبریرین
52

مسلم لیگ


چمک کے جب لیگ کا ستارہ فلک پہ جوں آفتاب ہو گا
سب س
سب اس کے دشمن تباہ ہوں گے نتیجہ ان کا خراب ہو گا
نگاہِ مسلم جمی ہوئی ہے امیرِ ملت پہ اس غرض سے
کہ اس کے دم سے حقوقِ مسلم گیا ہوا دستیاب ہو گا
کرم کے پردے میں یہ ستم گر، کریں گے کب تک ستمگری اب
یقیں ہے اک دن انہیں کے ہاتھوں سے چاک ان کا نقاب ہو گا
سفیرِ مسلم کی حیثیت سے سخا ؔ میں قدرت سے پوچھتا ہوں
کہ قومِ مسلم کے سر پہ کب تک یہ روز تازہ عتاب ہو گا

سخا ؔ شاہجہانپوری

____________________________________________

(1) شائع شدہ "روزنامہ اقبال" بمبئی مورخہ 24 جنوری 1939ء
(2) (مطبوعہ مواد) قائداعظمؒ پیپرز حوالہ نمبر 47 صفحہ نمبر 156
 

نایاب

لائبریرین
نظم نمبر 24
صفحہ نمبر 30

قائد ملت محمد علی
ہے پیکر کمال محمد علی جناح
آپ اپنی ہے مثال محمد علی جناح

تو وہ ہے آسمان سیاست کا آفتاب
جس کو نہیں زوال محمد علی جناح

اچھا دیا ہے حضرت آزاد کو جواب
ملت کا تھا سوال محمد علی جناح

تو دشمنان ملت بیضا کے واسطے
ہے خنجر ہلال محمد علی جناح

تو نے کیا ہے پرچم اسلام کو بلند
اب تو ہے لازوال محمد علی جناح

ہیں نو کروڑ مسلم جانباز تیرے ساتھ
تنہا نہ کر خیال محمد علی جناح

کب انحراف قوم کو ہے تیرے حکم سے
حاضر ہیں جان و مال محمد علی جناح

دنیا سے اٹھ گیا ہے اگر مصطفی کمال
ہے ثانی کمال محمد علی جناح

ہر اقلیت کا تجھ کو شب و روز ہے خیاک
ہے بے کسوں کی ڈھال محمد علی جناح

ہے اعتماد تجھ پہ بلا امتیاز قوم
تو وہ ہے خوش خصال محمد علی جناح

ہے فخر ملک و قائد اعظم ہے قوم کا
ہے افضل الرجال محمد علی جناح

قائم رہے جہاں میں اسی عزو شان سے
اے رب ذوالجلال محمد علی جناح

دراصل کانگریس کی قوت کو اے اثر
کر ہی دیا ڈزال محمد علی جناح


یوسف اثر بدنیروی



قائداعظم پیپرز (مطبوعہ مواد) حوالہ نمبر صفحہ 273
نوٹ
یہ ایک نایاب نظم ہے جو ایک اشتہار کی صورت میں شائع کی گئی اور مفت تقسیم کی گئی ۔ موقع محل کی کوئی نشان دہی نہیں کی گئی ۔ نیچے دائیں کونے میں " الفاروق کامنی " طبع کیا ہوا ہے ۔ اس اشتہار کی صرف دو کاپیاں قائداعظم پیپرز میں محفوظ ہیں ۔
 

نایاب

لائبریرین
نظم نمبر 25
صفحہ نمبر 31

قائداعظم
قوی تھے مضحمل احساس سفلی روح پر طاری
جگر چھلنی تھا اور اک جوئے خون آنکھوں سے تھی جاری

حجازی میکدے میں جس نے اب تک کی تھی میخواری
وہی مسلم تھا اس جنت نشاں میں بدتر از ناری

فلاکت کی گھٹائیں مسلم ہندی پہ تھیں چھائی
غلامی نے دبا رکھے تھے سب احساس خود داری

مسیحا آن پہنچا آخرش تائید غیببی سے
بڑی مدت سے جس کی منتظر تھی قوم بیچاری

تن مردہ میں اپنے زندگی کی روح اک پھونکی
دیا سب نیند کے ماتوں کو اک پیغام بیداری

صدا کانوں میں آئی صور اسرافیل کی صورت
مسلمان جاگ اٹھا ہو گئی کافور بیماری

بنایا قائد اعظم کو ہم نے رہبر منزل
نظر میں جس کی جچتی ہی نہیں رستے کی دشواری

ہے سینہ اس کا مخزن گوہر راز مسلمان کا
وہ اسلامی سیاست کا ہے خود قران خود قاری

سیکھائی میرے ساقی نے نئی اک طرز میخواری
بغیر شیشہ و ساغر مجھے رہتی ہے سرشاری

صدا قائد کی ہے اپنے لئے بانگ درا حارث
ادھر سے حکم آیا اور ادھر چلنے کی تیاری

انور حارث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قائد اعظم پیپرز حوالہ نمبر 27 صدحہ نمبر 323 یہ ایک غیر مطبوعہ نظم ہے جو یکم فروری 1943 کو باندرہ پرائمری مسلم لیگ کے جلسے میں پڑھی گئی ۔ اس جلسے کی صدارت جناب قائداعظم نے انجام دی اور جناب حسین احمد ندوی صدر باندرہ پرائمری مسلم نے سپاس نامہ پیش کیا ۔ جناب انور حارث صاحب نے اردو نظم کے علاوہ اسی نظم، کا اک انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا ۔ (دیکھیں صفحہ نمبر 324 ) سپاس نامہ اور جناب حسین احمد ندوی کے خط کے لئے دیکھیں صفحہ 318 تا 322
 

نایاب

لائبریرین
نظم نمبر 26
صفحہ نمبر 32

قائد اعظم جناح

دور فرمائے گا غم کو قائد اعظم محمد جناح
کیوں نہ پھر پیارا ہو ہم کو قائد اعظم جناح

ایک دن پہنچا ہی دے گا منزل مقصود تک
امت شاہ امم کو قائد اعظم جناح

ختم کر دے گا یقیناً ایک دن اے ہم نشین
کشمکش ہائے امم کو قائد اعظم جناح

آخرش سلجھا ہی دے گا شانہ تدبیر سے
ہند کی زلفوں کے خم کو قائد اعظم جناح

حشر تک زندہ رہے یا رب ہمارا رہنما
جان سے پیارا ہے ہم کو قائد اعظم جناح

سائل ابنٹوی
راولپنڈی

قائد اعظم پیپرز (مطبوعہ مواد ) حوالہ نمبرXX1 صفحہ نمبر 5
( یہ نظم آل انڈیا مسلم لیگ انفرمیشن سیکشن انگلستان برانچ کے پرائیویٹ رسالہ رہنما مورخہ 25 جون 1945 میں شائع ہوئی )
اس تقریباً 14 صفحات رسالہ کے مدیر جناب شیخ ضیاء الدین احمد لکھنوی اور مہتمم " رہنما " جناب چوہدری عظمت اللہ خان تھے ۔ ایڈیٹر کے فرائض جناب ایس زیڈ احمد یعنی شیخ ضیاء الدین احمد ہی سر انجام دیتے تھے ۔ یہ رسالہ باقاعدہ طور پر طبع نہیں کیا جاتا تھا ۔ بلکہ ہاتھ سے لکھ کر (Stencil ) کاٹے جاتے تھے اور سائیکلو سٹائل کیاجاتا تھا ۔
ایڈیٹر نوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ شروع میں ورکنگ کمیٹی کی تجویز سے اس پرچہ کو پندرہ روزہ قرار دیا گیا تھا ۔ لیکن کونسل نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے پیش نظر اسے ماہوار کر دیا تھا ۔ اردو رسالے اور انگریزی پمفلٹ اس پرچے کے علاوہ شائع ہوتے رہتے تھے ۔ یہ پرچہ وطن سے دور بیٹھے حضرات کو ملکی حالات سے مکمل باخبر رکھنے کی کوشش کرتا تھا جیسا کہ اس کے شائع کردہ عنوانات سے ظاہر ہوتا ہے ۔ چند ایک عنوانات مندرجہ ذیل ہیں ۔ شملہ کانفرنس ۔ اکھنڈ ہندوستان یا پاکستان ۔ مولانا حسرت موہانی کا بیان ۔ علمائے ہند کا نظریہ اور مختلف ملکی اخبارات کی شائع کردہ مختصر خبریں وغیرہ ۔
 

غدیر زھرا

لائبریرین
53

مسلم لیگ
(یومِ نجات)


ہم بحمداللّٰہ مسلم لیگ کے ہیں خانہ زاد
آج سارے ہند کا ہے جس سے وابستہ مفاد

کون مسلم لیگ جو مسلم کی ہے پشت و پناہ
جس کی ہیبت سے لرز جاتے ہیں کفر و ارتداد

جس کے دم سے دور اول آئے گا اسلام کا
پر دکھا دے گا وہ منظر جس کا روحانی جہاد

عام ہو جائیں گے اک دن اسکے بنیادی اصول
جنت ارضی بنے گا عالم کون و فساد

لائقِ تحسین مسلم لیگ کی اک اک روش
قابلِ تقلید مسلم لیگ کا ہر اجتہاد

ابتدا اس لیگ کی ہے اول اسلام سے
ہر مسلمان اس میں شامل ہے زروئے اعتقاد

کانگرس کی طرح مسلم لیگ کا شیوہ نہیں
لب پہ اعلانِ محبت اور نیت میں فساد

کانگرس کو جس سے شکوہ ہے یہی یومِ نجات
کانگرس سمجھے تو ہو سکتا ہے یومِ اتحاد

ہو اگر ہے اکثریت پر مخالف کو غرور
ہاں ازل سے حق کی قوت پر ہمیں ہے اعتماد

اپنی عظمت کے فسانے آج بھی کونین میں
بحر و بر، دشت و جبل، ارض و سما رکھتے ہیں یاد

جب زبان قابو سے باہر ہو گی رعنا ؔ نزع میں
دل پکارے گا کہ مسلم لیگ یا رب زندہ باد

رعنا ؔ اکبر آبادی

____________________________________________

قائداعظمؒ پیپرز حوالہ نمبر 864 صفحہ نمبر 264 (یہ ایک غیر مطبوعہ نظم ہے جو شاعر نے خاص طور پر یومِ نجات کے سلسلہ میں قائداعظمؒ کو 22/12/39 کو روانہ کی منسلکہ خط حوالہ نمبر 864 صفحہ نمبر 263)
 

غدیر زھرا

لائبریرین
54، 55
مسلم لیگ


من شذ عن الجماعته شذ فی النار
علیکم بالجماعته ید اللّٰہ علی الجماعته

لیگ ہے ملت کی یہ ہر فرد اس کا لیگ ہے
بچہ بچہ مسلمانوں کا مسلم لیگ ہے
مجموعہ مسلم کے ایمانوں کا مسلم لیگ ہے
خوب یہ شجرہ مسلمانوں کا مسلم لیگ ہے

پنجتن ایجاد گلشن کی مہک یہ لیگ ہے
عندلیب خوش بیانی کی چہک یہ لیگ ہے

ذکر اللّٰہ کے ہے پہلے ورد بسم اللّٰہ کی
سیرتِ احمدﷺ سنانا ہے ثنا اللّٰہ کی
آیہ قرآن میں ہے صورت رسول اللّٰہ کی
اس لئے مسلم کو ہے عزت کلام اللّٰہ کی

یہ صحیفہ حق کے فرمانوں کا مسلم لیگ ہے
نام بھی حق کے پرستاروں کا مسلم لیگ ہے

گر ہے افغانی کوئی، بخدی ہے تورانی کوئی
بدو ہے عجمی ہے یمنی اور مکرانی کوئی
کوئی مصری اور ترکی اور ہمدانی کوئی
کوئی ہندوستان کا ہے اور ایرانی کوئی

سب کا آقا ہے محمدﷺ اس کی ملت لیگ ہے
کلمہ توحید کی سرمایہ الفت لیگ ہے

جان کر ابلیس کیوں جنت سے باہر ہو گیا
تھا بڑا عالم مگر پھر بھی تو منکر ہو گیا
مدح کر کے کفر کی وہ خود بھی کافر ہو گیا
طوق لعنت جب پڑی گردن میں در در ہو گیا

اے مسلمانو سنو تم یہ تمہاری لیگ ہے
تک علمبردار ہو جس کے وہ مسلم لیگ ہے

تم نمستے گر کہو تو شانِ ایمانی کہاں
گیت وندے ماترم میں حفظ قرآنی کہاں
غفار خاں ونڈوت کرے تو شیوہ اسلامی کہاں
مومن گئے جب کفر میں تو پھر مسلمانی کہاں

آبرو مسلم کے مذہب کی یہ مسلم لیگ ہے
زندہ کرنے کو تری اخوت یہ مسلم لیگ ہے

علمائے ہند کا نام رکھ کر کفر کے جانی بنے
قتلِ مومن کےلئے وہ تیغِ صفیانی بنے
بھگوت کا لب پر نام ہے، کہنے کو جیلانی بنے
ظلمت کی چادر سر پہ ہے کہتے ہیں رحمانی بنے

اس ضلالت کے مٹانے کو یہ مسلم لیگ ہے
پرسیڈنٹ جناح ہے جس کا وہ یہ مسلم لیگ ہے

لیگ کے باہر گزر تیرا امن سے دور ہے
مل کے رہنا جنس سے ہر جنس کا دستور ہے
مسلموں میں یہ جدائی کا عجب فتور ہے
ڈیوئیڈ انڈرول کی پالیسی تو مشہور ہے

عاقبت اندیش کی بنیاد مسلم لیگ ہے
آنے والی نسل کی امداد مسلم لیگ ہے

دیکھ تو قرآن میں مکر و دغا اغیار کی
بات کا ہرگز یقین کرنا نہیں کفار کی
خاک کر دینا صفت ہے برق آتش بار کی
کیوں جہنم کو لگاتا ہے ہوا گلزار کی

منزلِ مقصود سے آگاہ مسلم لیگ ہے
تیرے چلنے کےلئے یہ راہ مسلم لیگ ہے

جاگ تو سویا بہت غافل سحر ہونے کو ہے
دھوکا دے کر زہر وہ احمد ؔ پلا دینے کو ہے
سرخ پھر شہدا کے خوں سے کربلا ہونے کو ہے
برچھوں سے تیرا سینہ یوں چھدا دینے کو ہے

میدان میں تیار اب اعدا کے مسلم لیگ ہے
تیری پناہ کے واسطے خیمہ یہ مسلم لیگ ہے

احمد خان احمد ؔ

____________________________________________

قائداعظمؒ پیپرز حوالہ نمبر 1094 صفحہ نمبر 494
نوٹ۔ احمد خان احمد بنگلور مسلم لیگ کے صدر بھی تھے آپ نے یہ نظم ایک اشتہار کی شکل میں ' الیکٹرک قومی پریس لبے مسجد سٹریٹ بنگلور صدر 30 نومبر 1938ء کو چھپوا کر مفت تقسیم کی اور حق طبع ہر ایک اہل مسلم کو عطا کیا اس نایاب نظم کی صرف ایک کاپی قائداعظمؒ پیپرز میں محفوظ ہے۔
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
نظم نمبر 27

صفحہ نمبر 33

خطاب بہ قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح

بہ مطالبہ تحقیقات مظالم بر مسلمانان

قوم مسلم را بحمد اللہ مسیحا آمدی
چارہ ساز بیکساں بقراط آسا آمدی


حبدا؟ تو مسلمان را باز زندہ میکنی
مرحبا با خوشنوائے روح فزا آمدی

قائد ملت ترا خوانم کہ محبوب زمن
تو کہ مظلومان مضطر را مسیحا آمدی

انکشاف جور را طرح عجب انداختی
وہ کہ با پیغام تہنیت ہمہ را آمدی

ساحران سامری مصروف ماتم گشتہ اند
لشکر فرعونیاں راہمچوں موسی آمدی

سید و سالار و فرزند حسین ابن علی
اے جناح خوش لقا آرام دلہا آمدی

ہر زہ گاندھی و نہرو را تو میدانی جواب
در سیاست تو ہمارے عرش پیما آمدی

ایں نمیدا ند کہ چوں وصف ترا گوید شریف
توازیں بالا و از اوج ثریا آمدی

شریف احمد شریف

شریف احمد شریف رکن مجلس مسلم لیگ مانکپور پرتاپ گڈھ (اودھ)
(1) یہ نظم وحدت (دہلی ) میں مورخہ 18 دسمبر 1939 کو شائع ہوئی ۔
(2) قائد اعظم پیپرز حوالہ نمبر 824 صفحہ نمبر 248
 

نایاب

لائبریرین
نظم نمبر 28
صفحہ نمبر 34

آج پھر گلشن توحید میں آئی ہے بہار


آج پھر گلشن توحید میں آئی ہے بہار
جس کے ہر گل پہ گلستان ارم بھی ہے نثار

نشہ عشق رسالت سے ہی مے کش سرشار
یہ وہ مئے ہے کہ اترنے کا نہیں جس کا خمار

جاودانی ہے بہار اس چمن مسلم کی
ہے بری قید سے سرحد وطن مسلم کی

دور و نزدیک سے آئے ہیں جو احباب یہاں
ان کے سینوں میں ہے توحید کی یک موج رواں

لیگ کا جلسہ ہے اسلام کی شوکت ہے عیاں
آج لاہور کا ہر گوشہ ہے گلزار جناں

عید ہے آج غلامان محمد کے لئے
مژدہ عیش و طرب امت احمد کے لئے

دین ہے ایک مسلمانوں کا ۔ ایمان ہے ایک
ہے خدا ایک ۔ نبی ایک ہے ۔ قران ہے ایک

ایک قانون ہے ۔ اسلام کا فرماں ہے ایک
حق و باطل کی بشر کے لئے پہچان ہے ایک

ملت قوم کا دشمن جو ہے ۔ انسان نہیں
لیگ کا ہے جو مخالف وہ مسلمان نہیں

کوششیں اس کی ہیں اسلام کی ہستی نہ رہے
دین احمد مئے توحید پرستی نہ رہے

دین داروں میں مئے جوش کی مستی نہ رہے
کہیں دنیا میں مسلمان کی بستی نہ رہے

نام اسلام کا لینے سے سزا ملتی ہے
حق پرستی کی یہ دنیا میں جزا ملتی ہے

ناگوار آج ہے اغیار کو تکبیر اذاں
سازشیں ہیں کہ مٹے ہند سے مسلم کی زباں

حوصلے کیا کیا رقیبوں کے ہیں کیا کیا ارماں
ساری دنیا پہ یہ روشن ہے عیاں را چہ بیاں

اس کی تدبیر ہے تہذیب حجازی نہ رہے
کہیں مسجد نہ رہے کوئی نمازی نہ رہے

میرے اظہار مقاصد پہ ہنسی ہوتی ہے
میری تنظیم پہ آوازہ کشی ہوتی ہے

میری تعلیم کی اب بیخ کنی ہوتی ہے
رسم و ملت پہ مری طعنہ زنی ہوتی ہے

لب پہ آزادی ہے ۔ پردے میں جفاکاری ہے
نہ محبت نہ اخوت نہ روا داری ہے

صفحہ نمبر 35

حق پرستوں پہ نہیں قوت باطل کا اثر
غیر کے آگے نہ جھکنے کا مسلماں کا سر

مرنے والوں کو نہیں موت سے کچھ خوف و خطر
مژدہ عید ہے مسلم کو ہلال خنجر

ہم کو تکلیف میں راحت کا مزہ ملتا ہے
یہی منزل ہے جہاں قرب خدا ملتا ہے

ہے بقا قوم کی تنظیم کے اندر پنہاں
اور تنظیم ہے تعلیم کے اندر پنہاں

دونوں ہیں لیگ کی اسکیم کے اندر پنہاں
لیگ ہے باہمی تکریم کے اندر پنہاں

لیگ کی فتح سے ہے فتح مسلمانوں کی
اس کی رونق سے ہے رونق میرے کاشانوں کی

مجھ کو زنجیر غلامی سے چھڑایا اس نے
میری سوئی ہوئی قسمت کو جگایا اس نے

میری کھوئی ہوئی دولت کو دلایا اس نے
میری بگڑی باتوں کو بنایا اس نے

لیگ سے ملت اسلام میں جان آئی ہے
قوم مسلم نے حیات ابدی پائی ہے

خلق کے واسطے خالق کی عبادت ہے ضرور
رہنماؤں کے لئے خلق کی خدمت ہے ضرور

قوم زندہ کے لئے قوت ملت ہے ضرور
ہم مسلماں کے لئے لیگ کی شرکت ہے ضرور

زندگی نام ہے آزادی و خود داری کا
قوم آئینہ ہے آپس میں روا داری کا

ہم کو احساس نہ تھا ملت مسلم کیا ہے
کچھ خبر اس کی نہ تھی طاقت مسلم کیا ہے

لوگ آگاہ نہ تھے ہمت مسلم کیا ہے
اب سمجھتے ہیں عدد قوت مسلم کیا ہے

اس نے کی ہند کے مسلم کی سیاسی اصلاح
کون؟ وہ قائد اعظم جسے کہتے ہیں جناح

ہم نے کیا کیا نی کیا ملک کی خدمت کے لئے
جان و دل نذر کئے قوم کی ملت کے لئے

سر بکف ہو کے رہے ہند کی عزت کے لئے
رکھ دیا تیغ پہ سر حق کی حمایت کے لئے

آج ہم غیر ہیں اور غیر بنے اہل وطن
کیا غضب ہے کہ رہے خار ۔ کٹے نخل وطن

وہ بھی دن آئے گا اک وہ بھی زمانہ ہو گا
لیگ میں سارے مسلمانوں کو آنا ہوگا

حق کے آگے سر تسلیم جھکانا ہو گا
قوم کا نعرہ تکبیر ترانہ ہو گا


صفحہ نمبر 36

اپنی توحید و رسالت کا خدا حامی ہے
اپنے محبوب کی امت کا خدا حامی ہے

یا رب اس لیگ کو تو بخت سکندر دے دے
اس کے ہر ذرہ کو تابانی اختر دے دے

الفت آل نبی عشق پیغمبر دے دے
اہل اسلام کو تو قوت حیدر دے دے

بزم کو ہمت و توفیق صداقت ہو عطا
یا الہی اسے کونین کی دولت ہو عطا

خادم ملت
عبدالحفیظ سہروردی بزم
(ایڈوکیٹ )

قائد اعظم پیپرز حوالہ نمبر 873 صفحہ نمبر 262 تا 263 ۔ (یہ ایک غیر مطبوعہ نظم ہے ) جو کل ہند مسلم لیگ کے ستائیسویں اجلاس منعقدہ لاہور مارچ 1940 میں پڑھی گئی ۔
 

نایاب

لائبریرین
نظم نمبر 29
صفحہ نمبر 37

قائد اعظم کا خیر مقدم

ہمیں کیا ڈر کہ منزل آشنا ہیں قائد اعظم
ہمارے راہبر ہیں رہنما ہیں قائد اعظم

عروج قوم مسلم ہیں فنا ہیں قائد اعظم
فدائے دین احمد مصطفی ہیں قائد اعظم

مسلماں کے لئے لطف خدا ہیں قائد اعظم
عدو کے واسطے برق بلا ہیں قائد اعظم

خوشا قسمت زہے تقدیر ہم یتیموں کی !
ہماری بزم میں رونق فزا ہیں قائد اعظم

یقیناً ہو گی اب سیراب کشت آرزوے دل
کہ دریائے کرم ابر سخا ہیں قائد اعظم

ہمیں بام ترقی پر ہی پہنچا کے یہ دم لیں گے
کہ مرد بامروت با وفا ہیں قائد اعظم

ہماری ہر تمنائے دلی ہے ان سے وابستہ
ہمارے ہر عمل کی انتہا ہیں قائد اعظم

یقیناً ہم رہیں گے لے کے پاکستان کو اک دن
جو یہ مشکل ہے تو مشکل کشا ہیں قائد اعظم

نہیں پروا ہمیں طغیانی بحر حوادث کی
ہماری ناؤ کے اب ناخدا ہیں قائد اعظم

خدا دے آپ کو عمر خضر و بخت سکندر حشمت طغرل
دعا گو ہم یہی صبح و مسا ہیں قائد اعظم

ہماری سمت بھی اپنی نگاہ لطف فرمائیں
سراپا ہم سوال و التجا ہیں قائد اعظم


قائد اعظم پیپرز حوالہ نمبر 27 صفحہ نمبر 317 یہ ایک غیر مطبوعہ نظم ہے جو یکم فروری 1943 کو باندرہ پرائمری مسلم لیگ باندرہ بمبئی کے جلسے میں پڑھی گئی ۔ (شاعر نامعلوم ) حسین احمد ندوی نے سپاس نامہ پیش کیا ۔ یہ نظم انجمن مفیدالیتیم ؟ مدرسہ فاروقیہ مسجد جمیل مدنپورا بمبئی نمبر 8 کے لیٹر پیڈ پر تحریر کردہ ہے ۔ اور جیسا کہ آخری سطر سے عیاں ہے ۔ یہ نظم مدرسہ ہذا ہی کی طرف سے پیش کی گئی تھی ۔
 

نایاب

لائبریرین
نظم نمبر 30
صفحہ نمبر 38

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خیر مقدم

بخدمت جناب قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ


بن کر نگاہ پست کی معراج آ گیا
تھے کب سے جس کے منتظر وہ آج آ گیا
آئے ہیں آگرے میں محمد علی جناح
آخر دیار تاج میں سرتاج آگیا

اک زندگی کا بجتا ہوا ساز آگیا
پھر موت میں حیات کا انداز آ گیا
غفلت کی موت جن پہ تھی طاری وہ چونک اٹھے
عیسی مثال صاحب اعجاز آ گیا

ہم بے سروں کی فوج کا سردار آگیا
قصر شکستہ حال کا معمار آ گیا
منزل کو خود ہی سامنے آنا پڑے گا اب
بھٹکی ہوئی امید کا سالار آ گیا

یوں تو بھلا ہے کام کا تیرے ٹھکانہ کیا
تیرا جواب پیدا کرے گا زمانہ کیا
" سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا "
(آتش )

ناکامیوں کے سامنے ہے کامیاب تو
فتح و ظفر کی دیوی کا ہے انتخاب تو
لیکر جلو میں آیا ہے تعبیر خوش صفات
ہے محو خواب قوم کا رنگین خواب تو
حاصل کبھی کا کر بھی چکا وہ مقام تو
ہندوستاں ہے مقتدی تیرا امام تو
تو نے نشان قومی کو بخشی ہیں رفعتیں
ہاں ہے ہلال قوم کا ماہ تمام تو
اسلامیان ہند کی ہے آن بان تو
ہاں ہمارا جسم تو ۔ دل تو ہے جان تو
اختر کی ہے بلندی تخیل بھی گواہ
ارض سیاسیات کا ہے آسمان تو

از توصیف اختر صدیقی بی۔اے (فائنل ) سینٹ جانسن کالج ۔ آگرہ

قائد اعظم پیپرز حوالہ نمبر 960 صفحہ نمبر 31 (یہ ایک غیر مطبوعہ نظم ہے )جو آگرہ میں قائد اعظم کے خیر مقدم کی نشان دہی کرتی ہے )
 

نایاب

لائبریرین
20 تا 30 میرے ذمے ۔ آپ اگر 20 مکمل کر لیں تو پھر 30 سے 40 تک ٹائپ کر لیجئے گا ۔

بہت مناسب ہے۔ میں ان شاءاللہ ٹائپ کروں گی
محترم غدیر بٹیا ۔ آج کوشش کرتے 20 تا 30 ٹائپ کرتے پوسٹ کر دی ہیں ۔ اب باقی کی ترتیب کیا ہو گی ؟
بہت دعائیں
 

غدیر زھرا

لائبریرین
محترم غدیر بٹیا ۔ آج کوشش کرتے 20 تا 30 ٹائپ کرتے پوسٹ کر دی ہیں ۔ اب باقی کی ترتیب کیا ہو گی ؟
بہت دعائیں
میں نے ایک تا بیس اور پھر تیس تا بیالیس ٹائپ کر دی ہیں اب باقی دس بچی ہیں وہ بھی میں کر لوں گی ان شاءاللہ۔ اگر آپ کوئی کرنا چاہیں تو بتا دیجیے ورنہ میں ایک دو دن میں مکمل کر لوں گی
 
Top