فارسی شاعری خلفائے ثلاثہ کی سِتائش میں کہے گئے فارسی و تُرکی اشعار

حسان خان

لائبریرین
اناطولیائی شاعر مُحیَوی انگوریه‌ای کسی عُمَر نامی محبوب کے برائے کہی گئی رُباعی میں کہتے ہیں:
(رباعی)
بندِ دلِ من مُویِ عُمر خواهد بود
وارامِ دلم رُویِ عُمر خواهد بود
گر جُملهٔ شیعیان مرا خصْم شوند
مَیلِ دلِ من سُویِ عُمر خواهد بود

(مُحیَوی انگوریه‌ای)
میرے دل کی زنجیر عُمر کی زُلف ہو گی۔۔۔ اور میرے دل کا آرام عُمر کا چہرہ ہو گا۔۔۔ خواہ تمام شیعہ میرے دُشمن ہو جائیں۔۔۔ میرے دل کی رغبت عُمر کی طرف ہو گی۔

× شاعر کا تعلق اناطولیائی شہر انگوریہ/انقرہ سے تھا جو فی زمانِنا تُرکیہ کا دارالحکومت ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
آلار کیم شرع آلاردن مُنجَلی‌دور
ابوبکر و عُمر، عُثمان، علی‌دور

(ظهیرالدین محمد بابر)
وہ [اشخاص] کہ جن سے شریعت آشکار ہے، ابوبکر و عُمر و عُثمان و علی ہیں۔

محترم ارسلان بای نے یہ تُرکی بیت 'دریا در گوهر' کے نام سے شہرِ کابُل سے شائع شدہ اور شفیقہ یارقین کے تصحیح کردہ دیوانِ ظہیرالدین محمد بابر سے اخذ کی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
اگرچہ شواہد کے مطابق اغلب یہی ہے کہ محمد فضولی بغدادی اِثناعشری شیعہ تھے، لیکن اُنہوں نے مُلکِ بغداد کی توصیف، اور سُلطان سُلیمان قانونی کی مدح میں کہے گئے تُرکی قصیدے کی دو ابیات میں 'چاریار' اور 'امامِ اعظم' (امام ابوحنیفہ) کا بھی ذکر کیا ہے:

بوندا اۏلموش حُجّتِ حُکمِ خلافت مُنطَوی
بوندادېر خاکِ خلافت‌خيزِ ختمِ چاريار

(محمد فضولی بغدادی)
یہاں [ہی] حُکمِ خلافت کی حُجّت تہہ ہوئی؛ یہاں [ہی] ختمِ چاریار (حضرتِ علی رض) کی تُربتِ خلافت خیز [موجود] ہے۔

Bunda оlmuş höccəti-hökmi-xilafət müntəvi
Bundadır xaki-xilafətxizi-xətmi-çar yar


× فرہنگ ناموں میں لفظِ 'مُنطَوی' کا مفہوم 'لپٹا ہوا، لپیٹا ہوا، تہہ شدہ، تہہ کردہ، طے کردہ وغیرہ' نظر آیا ہے۔

× باکو، جمہوریۂ آذربائجان سے شائع ہونے والے ایک نسخے میں مصرعِ اول کا یہ متن نظر آیا ہے:

"بوندان اۏلموش حُجّتِ حُکمِ خلافت مُنطَوی"
یعنی: یہاں [ہی] سے حُجّتِ حُکمِ خلافت تہہ ہوئی۔۔۔

بوندا اۏلموش مُنتشِر فيضی امامِ اعظمين
بوندا اۏلموش بهرهٔ علمِ شريعت انتشار

(محمد فضولی بغدادی)
یہاں [ہی] امامِ اعظم (امام ابوحنیفہ رح) کا فیض پھیلا؛ یہاں [ہی] علمِ شریعت کے [ایک] حصّے نے گُستَرِش پائی۔
× گُسْتَرِش = پھیلاؤ، شُیُوع؛ رواج وغیرہ

Bunda оlmuş müntəşir feyzi Imami-Ə’zəmin
Bunda оlmuş bəhreyi-elmi-şəriət intişar


یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ قصیدہ خلیفۂ عثمانی سلطان سلیمان قانونی کو مُخاطَب کر کے اور اُس کی مدح میں لکھا گیا تھا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
اپنی تُرکی مثنوی 'لیلیٰ و مجنون' میں شامل سہ لسانی نعتیہ قصیدے میں بھی محمد فضولی بغدادی نے 'چاریار' کا ذکر کیا ہے:
ای چاریارِ کاملین اعیانِ مُلکِ دین
اربابِ صدق و معدلت و رفعت و حیا
دورۆن بو دؤرد فصل ایله بیر معتدل زمان
شرعین بو دؤرد رُکن ایله بیر معتبر بِنا

(محمد فضولی بغدادی)
اے کہ آپ کے چارِ یارِ کامل مُلکِ دین کے اشراف، اور اربابِ صدق و معدلت و رفعت و حیا ہیں۔۔۔ آپ کا دَور اِن چار موسموں کے باعث ایک معتدل زمانہ ہے، [اور] آپ کی شریعت اِن چار سُتونوں کے باعث ایک معتبر و محترم و اُستوار عمارت ہے۔

Ey çaryari-kamilin ə'yani-mülki-din,
Ərbabi-sidqü mə'dələtü rif'ətü həya.
Dövrün bu dörd fəsl ilə bir mö'tədil zaman,
Şər'in bu dörd rükn ilə bir mö'təbər bina.
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
جاری میانِ ساحهٔ فردوسِ شرع‌ده
هم‌حالِ چار جُویِ رزین‌دیر چهاریار

(یوسف نابی)
[نبی کے] چار یار، فردوسِ شریعت کے مِنطقے کے درمیان چار باوقار نہروں کی مانند جاری ہیں۔

Cârî miyân-ı sâha-i firdevs-i şer'de
Hem-hâl-i çâr cûy-ı rezîndir çehâr-yâr


× مندرجۂ بالا بیت کا تحت اللفظی ترجمہ یہ ہو گا:
[وہ] فردوسِ شریعت کے مِنطقے کے درمیان جاری [ہیں]
چہار یارِ [نبی] چار جُوئے باوقار کے ہم حال ہیں
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
هر کس کسکی دارد و هر کس یاری
هر کس هنری دارد و هر کس کاری
ماییم و خیالِ یار و این گوشهٔ دل
چون احمد و بوبکر به گوشهٔ غاری

(مولانا جلال‌الدین رومی)
ہر کسی کے پاس کوئی شخص، اور ہر کسی کے پاس کوئی یار ہے؛ ہر کسی کے پاس کوئی ہنر، اور ہر کسی کے پاس کوئی کام ہے؛ [لیکن] ہم ہیں اور خیالِ یار ہے اور یہ گوشۂ دل ہے؛ گویا احمد (ص) اور ابوبکر (رض) کسی غار کے گوشے میں ہوں۔
 

حسان خان

لائبریرین
غزنوی دور کے سالارِ لشکر ابونصر منصور بن سعید کی مدح میں کہے گئے قصیدے میں سے دو ابیات:
بزرگا سزد گر کنی افتخار
که بی‌شک جهان را تویی مُفتَخَر
تو را صدقِ بوبکر و علمِ علی
تو را فضلِ عثمان و عدلِ عمر
(مسعود سعد سلمان لاهوری)

اے بُزُرگ! اگر تم افتخار کرو تو زیب دیتا ہے، کہ بے شک تم جہاں کے لیے مایۂ فخر ہو؛ تمہارے پاس ابوبکر (رض) کا صدق، علی (رض) کا علم، عثمان (رض) کا فضل اور عمر (رض) کا عدل ہے۔
 

م حمزہ

محفلین
برادرم حسان صاحب! يہ سمجھ میں نہیں آیا کہ لڑی کا نام خلفائے ثلاثہ کیوں ہے. جب کہ ان اشعار میں چاروں خلفائے راشدین کی تعریفیں کی گئی ہیں؟
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
برادرم حسان صاحب! کہ سمجھ میں نہیں آیا کہ لڑی کا نام خلفائے ثلاثہ کیوں ہے. جب کہ ان اشعار میں چاروں خلفائے راشدین کی تعریفیں کی گئی ہیں؟
یہ التزام کیا گیا ہے کہ اُن ابیات کو مُندرِج کیا جائے جن میں ابتدائی تین خُلَفائے راشدین کی مدح ہو۔ چونکہ جن ابیات میں چار یار کی سِتائش ہو اُن میں بطورِ طبیعی ابتدائی تین خُلَفاء کا بھی ذکر ہوتا ہے، لہٰذا اُن کو بھی یہاں درج کیا گیا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
اوّلین تُرکی مثنوی 'قوتادغو بیلیگ' سے ایک بیت:
تۆزۆ تؤرت ائشیڭه تۆمن میڭ سلام
تئگۆرگیل کئسۆک‌سۆز توتاشې اولام

(یوسف خاصّ حاجِب)
[اے خدا!] اُن (پیغمبر) کے تمام چار یاروں پر بِلا اِنقِطاع، مُسلسل اور دائماً ہزاروں سلام پہنچاؤ!

Tüzü tört eşiŋe tümen miŋ selâm,
tegürgil kesüksüz tutaşı ulam


× مندرجۂ بالا بیت قدیم قاراخانی تُرکی میں ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
اگرچہ صاحبانِ تحقیق کا کم و بیش اِس رائے پر اتفاق ہے کہ فردوسی طوسی شیعہ تھے، یا کم از کم شیعی تمایُلات رکھتے تھے، لیکن فردوسی نے شاہنامہ کے پیش گُفتار میں ابتدائی تین خُلَفائے راشدین کی ستائش بھی میں ابیات کہی ہیں۔

چه گفت آن خداوندِ تنزیل و وحی

خداوندِ امر و خداوندِ نهی
که خورشید بعد از رسولانِ مِه
نتابید بر کس ز بوبکر بِه
عُمر کرد اسلام را آشکار
بِیاراست گیتی چو باغِ بهار
پس از هر دوان بود عُثمان گُزین
خداوندِ شرم و خداوندِ دین
(فردوسی طوسی)
اُن صاحبِ تنزیل و وحی، اور صاحبِ امر و نہی (یعنی رسولِ اکرم ص) نے کیا فرمایا ہے؟: [یہ] کہ عظیم رسولوں کے بعد خورشید ابوبکر سے بہتر کسی شخص پر نہیں چمکا ہے۔۔۔ عُمر نے اسلام کو آشکار کیا، اور دنیا کو باغِ بہار کی طرح آراستہ کیا۔۔۔ اُن دونوں کے بعد عُثمانِ برگُزیدہ تھے (یا: اُن دونوں کے بعد عُثمان مُنتخَب تھے)، جو صاحبِ حیا و صاحبِ دین تھے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
اگرچہ صاحبانِ تحقیق کا کم و بیش اِس رائے پر اتفاق ہے کہ فردوسی طوسی شیعہ تھے، یا کم از کم شیعی تمایُلات رکھتے تھے، لیکن فردوسی نے شاہنامہ کے پیش گُفتار میں ابتدائی تین خُلَفائے راشدین کی ستائش میں بھی ابیات کہی ہیں۔

چه گفت آن خداوندِ تنزیل و وحی
خداوندِ امر و خداوندِ نهی
که خورشید بعد از رسولانِ مِه
نتابید بر کس ز بوبکر بِه
عُمر کرد اسلام را آشکار
بِیاراست گیتی چو باغِ بهار
پس از هر دوان بود عُثمان گُزین
خداوندِ شرم و خداوندِ دین

(فردوسی طوسی)
اُن صاحبِ تنزیل و وحی، اور صاحبِ امر و نہی (یعنی رسولِ اکرم ص) نے کیا فرمایا ہے؟: [یہ] کہ عظیم رسولوں کے بعد خورشید ابوبکر سے بہتر کسی شخص پر نہیں چمکا ہے۔۔۔ عُمر نے اسلام کو آشکار کیا، اور دنیا کو باغِ بہار کی طرح آراستہ کیا۔۔۔ اُن دونوں کے بعد عُثمانِ برگُزیدہ تھے (یا: اُن دونوں کے بعد عُثمان مُنتخَب تھے)، جو صاحبِ حیا و صاحبِ دین تھے۔
شاہنامۂ فردوسی کی مندرجۂ بالا ابیات کا منظوم تُرکی ترجمہ:
دئمیش وحْی و تنزیل‌لری گؤنده‌رن
بیزه امْر ایله نهْیه یۏل گؤسته‌رن
مۆرسل نبی‌دن سۏنرا‌دېر مؤعتبر
ابوبکره تای اۏلمامېش بیر نفر
عؤمر دینِ ایسلاما وئردی رواج
مۆسلمان‌لېغېن باشېنا قۏیدو تاج
چاتېب وصف اۆچۆن عۏثمانېن نؤوبتی
همی عیززتی واردې، هم عیصمتی

(مترجم: مُبارِز علی‌زاده)
وحی و تنزیل بھیجنے والے اور ہم کو امر و نہی کی جانب راہ دِکھانے والے (حضرتِ رسول ص) نے کہا ہے کہ: مُرسل انبیاء کے بعد ابوبکر بااحترام ہیں، اور کوئی شخص اُن کا ہمتا و نظیر نہیں ہوا ہے۔۔۔ عُمر نے دینِ اسلام کو رواج دیا اور مُسلمانی کے سر پر تاج رکھا۔۔۔ توصیف کے لیے عُثمان کی باری آ گئی۔۔۔ وہ عِزّت بھی رکھتے تھے، اور عِصمت بھی۔

Demiş vəhyü tənzilləri göndərən,
Bizə əmr ilə nəhyə yol göstərən:
Mürsəl nəbidən sonradır mötəbər,
Əbubəkrə tay olmamış bir nəfər.
Ömər dini-islama verdi rəvac,
Müsəlmanlığın başına qoydu tac.
Çatıb vəsf üçün Osmanın növbəti,
Həmi izzəti vardı, həm isməti.

× مُترجِم نے بھی منظوم ترجمے میں بحرِ مُتقارِب کا استعمال کیا ہے، لیکن مصرعِ سوم وزن کے لحاظ سے عیب دار معلوم ہو رہا ہے۔ شاید یہ کتابت کی غلطی ہو، اور درست مصرع کچھ ایسا ہو: اۏ مۆرسل نبی‌دن سۏنرا‌ مؤعتبر۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
به مِهرِ علی گرچه مُحکم‌پَی‌ام
ز عشقِ عُمر نیز خالی نَی‌ام

(‌نظامی گنجوی)
اگرچہ میں علی کی محبّت میں ثابت قدم ہوں، [لیکن] میں عُمر کے عشق سے بھی خالی نہیں ہوں۔
نظامی گنجوی کی مندرجۂ بالا فارسی بیت کا منظوم تُرکی ترجمہ:
علی‌نین عئشقینده ثابیت‌قدمم،
عؤمر سئوگی‌سیندن اوزاق دئییلم.

(مترجم: عبدالله شائق)
میں علی کے عشق میں ثابت قدم ہوں، [لیکن] میں عُمر کی محبّت سے دُور نہیں ہوں۔

Əlinin eşqində sabitqədəməm,
Ömər sevgisindən uzaq deyiləm.


× مندرجۂ بالا بیت گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
خُلَفائے راشدین کی سِتائش میں کہی گئی ایک بیت:
چهار یارش تا تاجِ اصفیا نشدند

نداشت ساعدِ دین یاره داشتن یارا
(خاقانی شروانی)
جب تک [رسول] کے چار یار تاجِ برگُزیدَگاں نہ ہو گئے، دین کی کلائی زیورِ دست بند رکھنے کی قُوّت و جُرأت نہ رکھتی تھی۔
(یعنی چار یارِ رسول کے باعث دین زیوروں سے مُزیّن ہوا۔)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خاقانی شِروانی کی مثنوی «تُحفة‌العِراقَین» سے چند ابیات:
قرآن گنج است تو سُخن‌سنج

هِین قربان گَرد بر سرِ گنج
بر گنج بسی کنند قربان
قربان شو پیشِ گنجِ قرآن
عثمان که به احمد اقتدا کرد
نه بر سرِ گنج جان فدا کرد
گُلگُونه نمود خونِ عثمان
بر رُویِ مُخدّراتِ قرآن
خود خونِ مُطهّرِ چُنان کس
گُلگُونهٔ قُدسیان سزد بس
(خاقانی شروانی)
قُرآن گنج (خزانہ) ہے، تم سُخن سنْج ہو۔۔۔ ہاں! [جَلدی سے] اِس خزانے پر قُربان ہو جاؤ!۔۔۔ خزانے پر کئی [چیزیں] قُربان کرتے ہیں۔۔۔ تم خزانۂ قُرآن کے پیش میں قُربان ہو جاؤ۔۔۔ احمد (ص) کی اقتدا کرنے والے حضرتِ عُثمان (رض) نے کیا خزانۂ [قُرآن] پر جان کو فدا نہ کر دیا؟۔۔۔ حضرتِ عُثمان (رض) کے خون نے قُرآن کی پردہ نشینوں (آیتوں) کے چہرے پر سُرخی مَل دی۔۔۔ ایسے [کسی بُزُرگ] شخص کا خونِ مُطہّر خود اِس چیز کا لائق و سزاوار ہے کہ اُس کو فقط قُدسیوں کا غازہ بنایا جائے۔
 

حسان خان

لائبریرین
خاقانی شِروانی کی مثنوی «تُحفة‌العِراقَین» سے چند ابیات:
قرآن گنج است تو سُخن‌سنج
هِین قربان گَرد بر سرِ گنج
بر گنج بسی کنند قربان
قربان شو پیشِ گنجِ قرآن
عثمان که به احمد اقتدا کرد
نه بر سرِ گنج جان فدا کرد
گُلگُونه نمود خونِ عثمان
بر رُویِ مُخدّراتِ قرآن
خود خونِ مُطهّرِ چُنان کس
گُلگُونهٔ قُدسیان سزد بس

(خاقانی شروانی)
قُرآن گنج (خزانہ) ہے، تم سُخن سنْج ہو۔۔۔ ہاں! [جَلدی سے] اِس خزانے پر قُربان ہو جاؤ!۔۔۔ خزانے پر کئی [چیزیں] قُربان کرتے ہیں۔۔۔ تم خزانۂ قُرآن کے پیش میں قُربان ہو جاؤ۔۔۔ احمد (ص) کی اقتدا کرنے والے حضرتِ عُثمان (رض) نے کیا خزانۂ [قُرآن] پر جان کو فدا نہ کر دیا؟۔۔۔ حضرتِ عُثمان (رض) کے خون نے قُرآن کی پردہ نشینوں (آیتوں) کے چہرے پر سُرخی مَل دی۔۔۔ ایسے [کسی بُزُرگ] شخص کا خونِ مُطہّر خود اِس چیز کا لائق و سزاوار ہے کہ اُس کو فقط قُدسیوں کا غازہ بنایا جائے۔
خاقانی شِروانی کی مندرجۂ بالا فارسی ابیات کا ناقِص منظوم تُرکی ترجمہ:
"قورآن" خزینه‌دیر، شاعیر، گره‌ک سن،

هر سؤزۆ آلاسان بو خزینه‌دن.
"قورآن‍"ا ایناندې محممد، عۏثمان،
اؤزلرینی اۏنا ائتدیلر قوربان.
"قوران‍"ې بزه‌دی عۏثمانېن قانې،
دین یۏلوندا شهید ائتدی اۏ جانې.
(مترجم: عُثمان سارېوللی)
قُرآن خزینہ ہے۔۔۔ اے شاعر! لازم ہے کہ تم ہر سُخن و حَرف کو اِس خزینے سے لو۔۔۔ محمّد اور عُثمان کا قُران پر ایمان تھا۔۔۔ اُنہوں نے خود کو اُس پر قُربان کر دیا۔۔۔ عُثمان کے خون نے قُرآن کو آراستہ کر دیا۔۔۔ اُنہوں نے دین کی راہ میں [اپنی] جان کو شہید کر دیا۔

"Quran" xəzinədir, şair, gərək sən,
Hər sözü alasan bu xəzinədən.
"Quran"a inandı Məhəmməd, Osman,
Özlərini ona etdilər qurban.
"Quran"ı bəzədi Osmanın qanı*,
Din yolunda şəhid etdi o canı.
(Osman Sarıvəlli)


× مندرجۂ بالا تُرکی ابیات گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بې‌عدد من‌دین دُعا، ای چاریارِ باصفا
سیزگه بوبکْر و عُمر، عُثمان، علیِ مُرتضا

(خواجه‌نظر هُوَیدا چِمیانی)
اے چار یارِ باصفا! [یعنی] ابوبکر و عُمر و عثُمان و علیِ مُرتضیٰ۔۔۔ میری جانب سے آپ پر بے شُمار دُعا [و سلام]!

Beadad mandin duo, ey choryori bosafo,
Sizga Bu Bakru Umar, Usmon, Aliyi murtazo.
 

حسان خان

لائبریرین
خُلَفائے راشدین کی سِتائش میں کہی گئیں ابیات:
بیریسی صِدق و صداقت اَوجی‌ده بدرِ مُنیر
بیرلری عدل و عدالت بُرجی‌ده شمسِ ضُحا
بیرلری حِلم و حیا اقلیمی‌ده بحرِ حیا
بیرلری لُطف و کرم اورنگی‌ده کانِ سخا

(خواجه‌نظر هُوَیدا چِمیانی)
اُن میں سے ایک صدِق و صداقت کے اَوج پر بدرِ مُنیر ہیں۔۔ اُن میں سے ایک عدل و عدالت کے بُرج میں شمسِ ضُحیٰ ہیں۔۔۔ اُن میں سے ایک حِلم و حیا کی اِقلیم میں بحرِ حیا ہیں۔۔۔ اُن میں سے ایک لُطف و کرم کے تخت پر کانِ سخا ہیں۔۔۔

Birisi sidqu sadoqat avjida badri munir,
Birlari adlu adolat burjida shamsi zuho.
Birlari hilmu hayo iqlimida bahri hayo,
Birlari lutfu karam avrangida koni saxo.
 

حسان خان

لائبریرین
اتابک نُصرت‌الدین ابوبکر کی مدح میں کہی گئی رباعی:
(رباعی)
شاها ز تو کارِ مُلک و دین بانسَق است
دریا ز خجالتِ کفت در عرَق است
در عهدِ تو رافضی و سُنّی با هم
کردند موافقت که بوبکر حق است

(ظهیر فاریابی)
اے شاہ! تمہارے باعث کارِ مُلک و دیں مُنظّم و مُرتّب ہے۔۔۔ بحر تمہارے کفِ کرم کی شرمندگی سے پسینے میں ہے۔۔۔ تمہارے عہد میں رافِضی و سُنّی نے باہم مُوافقت کر لی کہ 'ابوبکر' حق ہے۔ (یہاں 'ابوبکر' سے اتابک ابوبکر مُراد ہے۔)

× مصرعِ ثانی کے یہ مُتون بھی نظر آئے ہیں:
وز عدلِ تو جانِ فتنه اندر رمَق است
اور تمہارے عدل کے باعث فتنہ آخری سانسیں لے رہا ہے

وز عدلِ تو جانِ فتنه‌جو بی‌رمَق است

اور تمہارے عدل کے باعث فتنہ جُو کی جان بے رمَق ہے
 

حسان خان

لائبریرین
اتابک نُصرت‌الدین ابوبکر کی مدح میں کہی گئی بیت:
نُصرة‌الدین ملِک عالمِ عادل بوبکر
که جهان جُمله بِیاراست به عدلِ عُمَری

(ظهیر فاریابی)
نُصرت الدّین، پادشاہِ عالِم و عادل، ابوبکر۔۔۔ کہ جس نے کُل جہان کو عدلِ عُمَری سے آراستہ کر دیا۔
 
Top