امبر بیل

میں کہ بوڑھا برگد
جس پر پت جھڑ موسم میں خزاں پنپتی تھی
برسات سے نا امید ی تھی
بہار کو نگاہ ترستی تھی
بادل کبھی برستا تو دل دھڑک ساجاتاتھا
اور ہاں وجود بھی خوشی سے لرزسا جاتا تھا
مگر پھر سے وہی مایوسی جو میرا مقدر تھی
جذبات سرد کرتی تھی
آدھی زندہ خواہشات بری طرح سے مرتی تھیں
پھر نا جانے کیسے صورتِ حالات بدل گئی
میرے سائے میں اگتی تازہ بیل مجھ سے لپٹ گئی
اس کے تازہ لمس سے کتنی کونپلیں پھوٹیں
کلیاں مسکرائیں
پتوں کے چہرے مہکے ،شاخیں جھوم لہرائیں
جیون میں پھر سے بہار آئی
نئے جذبوں کو مجھ میں جگایا
موسمِ شباب لوٹ آیا!

خرم
 
Top