درِ نبی پہ مقدر جگائے جاتے ہیں -مولانا عبد الستار نیازی

درِ نبی پہ مقدر جگائے جاتے ہیں
جو کام بنتے نہیں بنائے جاتے ہیں

نبی کے در پہ کبھی مانگنا نہیں پڑتا
یہاں تو جام نظر سے پلائے جاتے ہیں

نگاہِ ساقی کوثر کا یہ کرشمہ ہے
کہ مست کرنے سے پہلے اٹھائے جاتے ہیں

قسم خدا کی وہ ویراں کبھی نہیں ہوتا
نبی کی یاد سے جو دل بسائے جاتے ہیں

مرے حضور کی محفل کو جو سجاتے ہیں
انہیں بہشت کر مژدے بنائے جاتے ہیں

مرے کریم کی بندہ نوازیاں دیکھو
کہ مجھ سے عاصی بھی در پر بلائے جاتے ہیں

دیئے دلوں میں جو روشن ہیں عشق احمد کے
جفا کی آندھی سے وہ کب بجھائے جاتے ہیں

انہیں کو ملتی ہے اہلِ وفا کی سرداری
نبی کے نام پہ جو سر کٹائے جاتے ہیں

نبی کی نعت کا صدقہ جہاں میں جاتا ہوں
نیازیؔ میرے لیے دل بچھائے جاتے ہیں
مولانا عبد الستار نیازی
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
انہیں کو ملتی ہے اہلِ وفا کی سرداری
نبی کے نام پہ جو سر کٹائے جاتے ہیں

بہت خوب!
پہلے شعر کو دیکھ لیجیے۔
 

مرید عباسچ

محفلین
مولانا عبدالستار نیازی شاعری نہیں کرتے تھے۔ یہ فیصل آباد کے خوش الحان نعت گو اور شاعر عبد الستار تھے اور نیازی تخلص کرتے تھے۔ you tube پر ان کی بہت سی نعتیں آپ کو مل جائینگی
 
مولانا عبدالستار نیازی شاعری نہیں کرتے تھے۔ یہ فیصل آباد کے خوش الحان نعت گو اور شاعر عبد الستار تھے اور نیازی تخلص کرتے تھے۔ you tube پر ان کی بہت سی نعتیں آپ کو مل جائینگی
مولانا عبد الستاری نیازی کے کلیات بھی موجود ہیں:)
 

مرید عباسچ

محفلین
وہ عبدالستار نیازی کی ہیں۔ مولانا کی نہیں۔ یو ٹیوب میں دیکھ لیں یہ ساری نعتیں فیصل آباد کے عبدالستار نیازی نے پڑھیں ہیں۔ وہ اپنا کلام خود پڑھتے تھے
 
Top