شکیب جلالی ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا

ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

کہو تو زخم رگِ گل کا تذکرہ چھڑیں
کہ زیرِ بحث ہے کردار آج کانٹوں کا

ہم اپنے چاک قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا

چمن سے اُٹھ گئی رسمِ بہار ہی شاید
کہ دل پہ بار نہیں ہے رواج کانٹوں کا

درِ قفس پہ اُسی کے گلے کا ہار تھے پھول
جسے ملا ہے گلستاں سے تاج کانٹوں کا

لگی ہے مہر خراشوں کی دیدہ و دل پر
شکیب کوئی کرے کیا علاج کانٹوں کا​
شکیب جلالی
 
آخری تدوین:
سر محمد وارث
سر یہ مصرعہ اس طرح کلیات میں لکھا گیا ہے لیکن اس سے وزن میں نہیں آتا اور مفہوم بھی واضع نہیں ہو رہا آپ کی مدد کی ضرورت ہے
مگر وہی ابھی تک مزاج کانٹوں کا
 
مگر وہی "ہے" ابھی تک مزاج کانٹوں کا

یعنی چاکِ دامن کو رفو کرنے کا فائدہ تو تب ہے کہ جب یہ یقین ہوجائے کہ کانٹوں نے اسے تار تار کرنے کی رسم ترک کردی ہے، ورنہ کیا فائدہ ہم ابھی رفو کریں ادھر کانٹے پھر اسے تار تار کردیں
 
مگر وہی "ہے" ابھی تک مزاج کانٹوں کا

یعنی چاکِ دامن کو رفو کرنے کا فائدہ تو تب ہے کہ جب یہ یقین ہوجائے کہ کانٹوں نے اسے تار تار کرنے کی رسم ترک کردی ہے، ورنہ کیا فائدہ ہم ابھی رفو کریں ادھر کانٹے پھر اسے تار تار کردیں
بہت بہت شکریہ سر
 
Top