ملٹن کی جنتِ گم گشتہ پڑھنے کے بعد بڑا جی چاہتا تھا کہ اردو میں بھی نظمِ معریٰ کی صنف میں کوئی طویل اور عمدہ نظمِ ہونی چاہیے۔ طویل اور عمدہ کا خیال کچھ عرصہ بعد ترک کر دیا۔ لہٰذا نظم پیشِ خدمت ہے:

رات ویران ہے، بہت ویران
آسماں لاش ہے، جلی ہوئی لاش
جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح
ایک انبوہ ہے ستاروں کا
رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں
خامشی سے گزرتے جاتے ہیں

ہائے یہ رات، ہائے ہائے یہ رات
کب بسر ہو گی؟ کیسے گزرے گی؟
کوئی دیکھے مری نظر سے اسے
کوئی چارہ مجھے بتائے مرا
کچھ علاج اس نظر کا؟ کوئی دوا؟
یا پھر آنکھیں ہی نوچ لے میری
ہے مسیحا کوئی؟ طبیب کوئی؟
کون میرے علاوہ دیکھے گا؟
جو مری آنکھ پر بھی ہے دشوار

غم کی عظمت کو کون پہچانے؟
چھوڑ کر زندگی کا کاروبار
کسے فرصت کہ آنکھ اٹھائے ذرا
شب کی ویرانیوں کا نوحہ لکھے؟
آسماں کا جنازہ پڑھ ڈالے؟
اور ستاروں کا راستہ روکے؟
کسے فرصت ہے مجھ سے بات کرے؟
میری آنکھوں میں جھانک کر دم بھر
مجھ سے پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟

بھری دنیا میں کون دیدہ ور؟
کون رکھتا ہے میری جیسی نظر؟
کون پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟
غم کی عظمت کو کون پہچانا؟
کسے فرصت کہ مجھ کو پہچانے؟

راحیلؔ فاروق
۲۶ اگست ۲۰۱۶ء
ماخذ: دل دریا
زبردست بلکہ زبر دستاااا
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
امتثالِ امر میں میں نے دونوں مصاریع پر غور کیا ہے، ظہیر بھائی۔ اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شاید ایک مصرع میں ظاہراً گرامر کی ایک غلطی آپ کے محلِ نظر ہے اور دوسرے میں تنافر۔
"میری جیسی نظر" سننے میں شاید عجیب معلوم ہوتا ہو۔ مگر فقیر کی تحقیق کہتی ہے کہ درست پیرایۂِ اظہار یہی ہے۔ عموماً لوگ اس جگہ "مجھ جیسی نظر" کہیں گے مگر درحقیقت یہ گرامر کی رو سے غلط ہے۔ "مجھ جیسی نظر" کہنے کا مطلب ہے قائل کی ذات جیسی نظر نہ کہ اس کی نظر جیسی نظر۔ اس میں اشارہ قائل کی طرف ہے نہ کہ اس کی نظر کی طرف۔ جبکہ "میری جیسی نظر" کہا جائے تو اس کا مفہوم بالتصریح یہ نکلتا ہے کہ قائل کی نظر جیسی نظر کی بات ہو رہی ہے۔
اس ضمن میں غالبؔ کے ایک شعر کی مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ فرماتے ہیں:
جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا
وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو؟​
"میرا سا" کا ٹکڑا ویسا ہی ہے جیسا "میری جیسی" کا ہے۔ یعنی میرے روزِ سیاہ جیسا دن۔ اگر اسے "مجھ سا روزِ سیاہ" کہا جائے تو معنیٰ کا جو خلط پیدا ہو گا وہ ظاہر ہے۔

تنافر سے جان چھڑانے میں معانی ہاتھ سے جاتے ہیں۔ کوئی صلاح دیجیے تو ممنون ہوں گا۔
اگر میں جناب کے اشارے غلط سمجھا ہوں تو معذرت خواہ ہوں۔ کوڑھ مغزی کا چارہ بھی آپ ہی تجویز کریں تو کریں۔ :):):)

کون رکھتا ہے میری جیسی نظر؟

راحیل بھائی اشارہ اس طرف نہیں تھا جس طرف آپ چلے گئے ۔ یہاں میری کے بجائے میرے کا محل ہے ۔ آپ کے جیسی نظر ، تمہارے جیسی نظر ، ان کے جیسی نظر ، ہمارے جیسی نظر وغیرہ ۔ اس کے برعکس آپ کے جیسا فہم ، تمہارے جیسا فہم ، انکے جیسا فہم ، ہمارے جیسا فہم وغیرہ ۔

غم کی عظمت کو کون پہچانا؟

اس مصرع میں مسئلہ لفظ کون کے ساتھ ہے ۔ کون جب کسی فعلِ متعدی کا فاعل ہو تو زمانہ ماضی میں کون کے بجائے کس نے استعمال کیا جاتا ہے ۔ غم کی عظمت کو کس نے پہچانا درست ہوگا ۔ دل کی وحشت کو کون جانے یا کون جانتا ہے یا کون جانے گا درست ہیں لیکن ماضی کے صیغے میں دل کی وحشت کو کس نے جانا درست ہوگا ۔

جہاں تک بات عیب تنافر کی ہے تو راحیل بھائی میں اس کو سرے سے قابلِ ذکر عیب مانتا ہی نہیں تاوقتیکہ مصرع کی ادائیگی بری طرح متاثر ہو رہی ہو یا کوئی بہت ہی بھونڈا صوتی تاثر پیدا ہورہا ہو ۔ چھوٹا موٹا عیب تنافر تو اساتذہ کے ہاں بھی عام ملتا ہے ۔ میری ناقص رائے میں تنافر کی انتہائی پابندی کرنا تو اظہار کی راہ میں بلاوجہ کی ایک رکاوٹ ہے ۔ اور آپ نے بالکل درست کہا کہ اکثر اوقات عیبِ تنافر سے جان چھڑانے میں معانی ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں ۔
اور بھائی جہاں تک کوڑھ مغزی کا تعلق ہے تو آپ بالکل بھی کوڑھ مغز نہیں ہیں ۔ ماشاء اللہ انتہائی ذہین اور فہیم انسان ہیں ۔ آپ کی ذکاوت کے تو سب معترف ہیں ۔ اس بات کی گواہی تو محفل کا بچہ بچہ دے گا ۔:D (یہ مذاق کیا ہے) ۔
میں البتہ کچھ کچھ "بوڑھ مغز" ہوتا جارہا ہوں ۔ بات پوری نہیں کرتا یا سمجھا نہیں پاتا ۔ میرے حق میں دعا کیجئے گا ۔ انشاء اللہ پھر گفتگو رہے گی ۔
:):):)
 

فاخر رضا

محفلین
ملٹن کی جنتِ گم گشتہ پڑھنے کے بعد بڑا جی چاہتا تھا کہ اردو میں بھی نظمِ معریٰ کی صنف میں کوئی طویل اور عمدہ نظمِ ہونی چاہیے۔ طویل اور عمدہ کا خیال کچھ عرصہ بعد ترک کر دیا۔ لہٰذا نظم پیشِ خدمت ہے:

رات ویران ہے، بہت ویران
آسماں لاش ہے، جلی ہوئی لاش
جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح
ایک انبوہ ہے ستاروں کا
رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں
خامشی سے گزرتے جاتے ہیں

ہائے یہ رات، ہائے ہائے یہ رات
کب بسر ہو گی؟ کیسے گزرے گی؟
کوئی دیکھے مری نظر سے اسے
کوئی چارہ مجھے بتائے مرا
کچھ علاج اس نظر کا؟ کوئی دوا؟
یا پھر آنکھیں ہی نوچ لے میری
ہے مسیحا کوئی؟ طبیب کوئی؟
کون میرے علاوہ دیکھے گا؟
جو مری آنکھ پر بھی ہے دشوار

غم کی عظمت کو کون پہچانے؟
چھوڑ کر زندگی کا کاروبار
کسے فرصت کہ آنکھ اٹھائے ذرا
شب کی ویرانیوں کا نوحہ لکھے؟
آسماں کا جنازہ پڑھ ڈالے؟
اور ستاروں کا راستہ روکے؟
کسے فرصت ہے مجھ سے بات کرے؟
میری آنکھوں میں جھانک کر دم بھر
مجھ سے پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟

بھری دنیا میں کون دیدہ ور؟
کون رکھتا ہے میری جیسی نظر؟
کون پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟
غم کی عظمت کو کون پہچانا؟
کسے فرصت کہ مجھ کو پہچانے؟

راحیلؔ فاروق
۲۶ اگست ۲۰۱۶ء
ماخذ: دل دریا
آپ بہت اچھا لکھتے ہیں ، بلکہ آپ کے الفاظ میں عمدہ . بس تھوڑا سا دکھ ہوا جب نظم چند بند کے بعد ختم ہو گئی . آپ اسے آگے بڑھائیں . مجھے معلوم ہے یہ ایک بیکار سی خواہش ہے مگر میں خواہش دل میں نہیں رکھتا
 
کون رکھتا ہے میری جیسی نظر؟

راحیل بھائی اشارہ اس طرف نہیں تھا جس طرف آپ چلے گئے ۔ یہاں میری کے بجائے میرے کا محل ہے ۔ آپ کے جیسی نظر ، تمہارے جیسی نظر ، ان کے جیسی نظر ، ہمارے جیسی نظر وغیرہ ۔ اس کے برعکس آپ کے جیسا فہم ، تمہارے جیسا فہم ، انکے جیسا فہم ، ہمارے جیسا فہم وغیرہ ۔

غم کی عظمت کو کون پہچانا؟

اس مصرع میں مسئلہ لفظ کون کے ساتھ ہے ۔ کون جب کسی فعلِ متعدی کا فاعل ہو تو زمانہ ماضی میں کون کے بجائے کس نے استعمال کیا جاتا ہے ۔ غم کی عظمت کو کس نے پہچانا درست ہوگا ۔ دل کی وحشت کو کون جانے یا کون جانتا ہے یا کون جانے گا درست ہیں لیکن ماضی کے صیغے میں دل کی وحشت کو کس نے جانا درست ہوگا ۔

جہاں تک بات عیب تنافر کی ہے تو راحیل بھائی میں اس کو سرے سے قابلِ ذکر عیب مانتا ہی نہیں تاوقتیکہ مصرع کی ادائیگی بری طرح متاثر ہو رہی ہو یا کوئی بہت ہی بھونڈا صوتی تاثر پیدا ہورہا ہو ۔ چھوٹا موٹا عیب تنافر تو اساتذہ کے ہاں بھی عام ملتا ہے ۔ میری ناقص رائے میں تنافر کی انتہائی پابندی کرنا تو اظہار کی راہ میں بلاوجہ کی ایک رکاوٹ ہے ۔ اور آپ نے بالکل درست کہا کہ اکثر اوقات عیبِ تنافر سے جان چھڑانے میں معانی ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں ۔
اور بھائی جہاں تک کوڑھ مغزی کا تعلق ہے تو آپ بالکل بھی کوڑھ مغز نہیں ہیں ۔ ماشاء اللہ انتہائی ذہین اور فہیم انسان ہیں ۔ آپ کی ذکاوت کے تو سب معترف ہیں ۔ اس بات کی گواہی تو محفل کا بچہ بچہ دے گا ۔:D (یہ مذاق کیا ہے) ۔
میں البتہ کچھ کچھ "بوڑھ مغز" ہوتا جارہا ہوں ۔ بات پوری نہیں کرتا یا سمجھا نہیں پاتا ۔ میرے حق میں دعا کیجئے گا ۔ انشاء اللہ پھر گفتگو رہے گی ۔
:):):)
متفق
 
Top