سوالیہ؟؟؟؟؟؟؟؟ از شزہ مغل

آوازِ دوست

محفلین
باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہوکار صرف ایک سوال کا جواب چاہتا تھا ’’میں خوش کیوں نہیں ہوں‘‘ وہ پانچ لفظوں کے اس سوال کی پوٹلی اٹھا کر بابا جی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا‘ بابا جی لنگوٹ باندھ کر جنگل میں بیٹھے تھے‘ .

ساہوکار نے سوال کیا ’’میں خوش کیوں نہیں ہوں‘‘ بابا جی نے سنا‘ قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ’’تمہارے پاس قیمتی ترین چیز کون سی ہے‘‘ ؟

ساہوکار نے جواب دیا ’’میرے پاس نیلے رنگ کا ایک نایاب ہیرا ہے‘‘ بابا جی نے پوچھا ’’تم نے یہ ہیرا کہاں سے لیا تھا‘‘؟

ساہوکار نے جواب دیا ’’یہ ہیرا میری تین نسلوں کی کمائی ہے‘ میرے دادا حضور جو کماتے تھے‘ وہ اس سے سونا خرید لیتے تھے۔ دادا اپنا سونا میرے باپ کو دے گئے‘ باپ نے جو کمایا اس نے بھی اس سے سونا خریدا اور اپنا اور اپنے والد کا سونا جمع کر کے میرے حوالے کر دیا‘ میں نے بھی جو کچھ کمایا اسے سونے میں تبدیل کیا‘ اپنی تین نسلوں کا سونا جمع کیا اور اس سے نیلے رنگ کا ہیرا خرید لیا‘‘ ۔

بابا جی نے پوچھا ’’وہ ہیرا کہاں ہے‘‘ ساہو کار نے اپنی میلی کچیلی ٹوپی اتاری‘ ٹوپی کا استر پھاڑا‘ ہیرا ٹوپی کے اندر سِلا ہوا تھا‘ ساہوکار نے ہیرا نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیا‘ ہیرا واقعی خوبصورت اور قیمتی تھا‘ ہیرا دیکھ کر باباجی کی آنکھوں میں چمک آ گئی‘ انھوں نے ساہو کار کی ہتھیلی سے ہیرا اٹھایا‘ اپنی مٹھی میں بند کیا۔ نعرہ لگایا اور ہیرا لے کر دوڑ لگا دی‘

ساہوکار کا دل ڈوب گیا‘ اس نے جوتے ہاتھ میں اٹھائے اور باباجی کو گالیاں دیتے ہوئے ان کے پیچھے دوڑ پڑا‘ بابا جی آگے تھے‘ ساہو کار‘ اس کی گالیاں اور اس کی بددعائیں باباجی کے پیچھے پیچھے تھیں، اور ان دونوں کے دائیں اور بائیں گھنا جنگل تھا اور جنگل کے پریشان حال جانور تھے‘۔

باباجی بھاگتے چلے گئے اور ساہو کار ان کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتا رہا‘ یہ لوگ صبح سے شام تک بھاگتے رہے یہاں تک کہ جنگل کا آخری کنارہ آ گیا‘ باباجی جنگل کی حد پر پہنچ کر برگد کے درخت پر چڑھ گئے۔

اب صورتحال یہ تھی‘ باباجی درخت کے اوپر بیٹھے تھے‘ ہیرا ان کی مٹھی میں تھا‘ ساہوکار الجھے ہوئے بالوں‘ پھٹی ہوئی ایڑھیوں اور پسینے میں شرابور جسم کے ساتھ درخت کے نیچے کھڑا تھا‘۔

وہ باباجی کو کبھی دھمکی دیتا تھا اور کبھی ان کی منتیں کرتا تھا‘ وہ درخت پر چڑھنے کی کوشش بھی کرتا تھا لیکن باباجی درخت کی شاخیں ہلا کر اس کی کوششیں ناکام بنا دیتے تھے‘ ساہو کار جب تھک گیا تو باباجی نے اس سے کہا ’’میں تمہیں صرف اس شرط پر ہیرا واپس کرنے کے لیے تیار ہوں‘ تم مجھے اپنا بھگوان مان لو‘‘ ساہو کار نے فوراً ہاتھ باندھے اور باباجی کی جے ہو کا نعرہ لگا دیا‘ باباجی نے مٹھی کھولی‘ ہیرا چٹکی میں اٹھایا اور ساہو کار کے پیروں میں پھینک دیا۔

ساہوکار کے چہرے پر چمک آ گئی‘ اس نے لپک کر ہیرا اٹھایا‘ پھونک مار کر اسے صاف کیا‘ ٹوپی میں رکھا اور دیوانوں کی طرح قہقہے لگانے لگا‘ باباجی درخت سے اترے‘ ساہوکار کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ’’ہم صرف اس وقت خوش ہوتے ہیں جب ہمیں کھوئی ہوئی نعمتیں واپس ملتی ہیں‘ تم اپنی طرف دیکھو‘ تم اس وقت کتنے خوش ہو‘‘ ؟

ساہوکار نے اپنے قہقہوں پر توجہ دی‘ تھوڑا سا سوچا اور اس کے بعد پوچھا ’’حضور میں سمجھا نہیں‘‘ باباجی نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیروں کی طرح ہوتی ہیں‘ ہم نعمتوں کے ہیروں کو ٹوپیوں میں سی کر پھرتے رہتے ہیں‘ ہم ان کی قدر و قیمت بھول جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ایک دن ہم سے یہ نعمتیں چھین لیتا ہے‘ ہمیں اس دن پہلی بار ان نعمتوں کے قیمتی ہونے کا اندازہ ہوتا ہے‘ ہم اس کے بعد چھینی ہوئی نعمتوں کے پیچھے اس طرح دیوانہ وار دوڑتے ہیں جس طرح تم ہیرے کے لیے میرے پیچھے بھاگے تھے‘ ہم نعمتوں کے دوبارہ حصول کے لیے اس قدر دیوانے ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کو بھگوان تک مان لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو پھر ایک دن ہم میں سے کچھ لوگوں پر رحم آ جاتا ہے اور وہ ہماری نعمت ہمیں لوٹا دیتا ہے اور ہمیں جوں ہی وہ نعمت دوبارہ ملتی ہے ہم خوشی سے چھلانگیں لگانے لگتے ہیں‘‘۔

بابا جی نے اس کے بعد قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’تم صرف اس لیے اداس تھے کہ تم نے نعمتوں کے دوبارہ حصول کا تجربہ نہیں کیا تھا‘ تمہیں نعمتوں کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں تھا‘ تم اب ان چیزوں‘ ان نعمتوں کی قدر کا اندازہ لگا چکے ہو جو تمہارے پاس موجود ہیں چنانچہ اب تم کبھی اداس نہیں ہو گے‘ تم خوش رہو گے‘‘۔
ایک کہاوت ہے کہ دیوتا جِس کو خوش کرنا چاہیں اُس کا گدھا گُم کر دیتے ہیں۔ جب روزگار کا واحد سہارا ڈھونڈ ڈھونڈ کر متاثرہ بندہ نیم جان ہو جاتا ہےتو اُس کا گدھا بازیاب ہو جاتا ہے اور اُس کی خوشی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ میں اِسے مزید شارٹ اور کوئیک کر دیتا ہوں اگر آپ خوش ہونا چاہتے ہیں اور کوئی معقول وجہ بھی نظر نہیں آرہی تو فورا" اپنی سانس سختی سے روک لیں اور اُس وقت تک روکے رکھیں جب تک موت کا فرشتہ نظر آنے نہیں لگ جاتاجیسے ہی وہ آپ کی طرف بڑھنے لگے سانس بحال کر لیں :) آپ کی خوشی (اور حالت بھی ) دیدنی ہو گی :)
 
۔(1)۔

اپنا کوئی تجربہ، کوئی آپ بیتی، کوئی مشاہدہ، کوئی خیال، کوئی تصور، کوئی نظریہ، کوئی خدشہ، کوئی امید، کوئی خواہش، کوئی آرزو، کوئی محرومی؛ کیا لکھنا ہے مجھے؟ اور اس میں کون سی ایسی خوبی ہے یا اس میں کون سی ایسی اہم بات ہے جو دوسروں تک پہنچنی چاہئے، یعنی اس کو لکھنا اور دوسروں تک پہنچانا کیوں ضروری ہے یا کیوں اہم ہے؟ یہ ہے بنیادی سوال۔ اگر مجھے ایک بات، ایک واقعہ سوچنا ہے اور اس کو اپنے تک رکھنا ہے تو لکھنے کا عمل ضروری نہیں ٹھہرتا کہ میں نے سوچ لیا، محسوس کر لیا، اس سے کوئی خیال، کوئی نکتہ اخذ کر لیا، بس ٹھیک ہے۔ اپنی یاد داشت، روزنامچہ، ڈائری میں اپنے لئے لکھنا ہے، تو بھی وہی بات ہے۔ اگر اس لئے لکھنا ہے کہ میرا لکھا کسی دوسرے شخص کو پہنچے یا ایک گروہ، ایک جماعت، ایک امت، ایک قوم کو پہنچے تو پھر مجھے کچھ اس طرح لکھنا ہو گا کہ کہ وہ شخص، وہ گروہ، وہ جماعت، وہ امت، وہ قوم میرے لکھے کو پا سکے، سمجھ سکے اور میرا مقصد اس تک پوری معنویت کے ساتھ پہنچ سکے۔

بنیادی نکتہ طے ہو گیا کہ مجھے کچھ کہنا ہے اور اس طرح کہنا ہے کہ میرا شخصی یا غیر شخصی مخاطب میرے کہے کو پا سکے۔ اس کو رسمی زبان میں اظہار اور ابلاغ کہہ لیجئے۔ اظہار اور ابلاغ باہم لازم و ملزوم ہیں، کسی ایک کو نظر انداز کر دیں، دوسرا باقی نہیں رہتا اور رہتا بھی ہے تو نامکمل، ٹوٹا پھوٹا اور قریب قریب بے معنی سا۔فریقین کا تعین بھی یہاں ہو گیا: ایک ہے کہنے والا یا لکھنے والا، وہ شاعر ہے، نثر نگار ہے، مصنف ہے، تاریخ دان ہے، سائنس دان ہے، عالمِ دین ہے، سیاست دان ہے، ڈاکٹر ہے، فلسفی ہے یا جو کچھ بھی وہ ہے۔ دوسرا فریق اس کا قاری ہے یا سامع ہے۔ ان دونوں کے درمیان سانجھ، اظہار کی ضرورت، موقع، صورتِ حال ہے جو لکھنے کا موجب ہے۔ آسان ترین زبان میں کون کس سے مخاطب ہے اور کہہ کیا رہا ہے، اور کیا اس کا کہا پہنچ بھی رہا ہے؟
 
۔(2)۔

میرے کہے، لکھے کا نفسِ مضمون کیا ہے، اسے میں کس زبان میں بہتر طور پر بیان کر سکتا ہوں، نفسِ مضمون خود مجھ پر واضح ہے یا نہیں، اور مجھے اس کے قابلِ بیان ہونے پر کتنا اعتماد ہے (یا میرے نزدیک اس میں سچائی کتنی ہے)، میرے قاری یا سامع کا اس سچائی سے کیا تعلق ہے، یا اسے کتنی دل چسپی ہے؛ یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ اگر میرے قاری کو میرے کہے سے کوئی دل چسپی ہی نہیں یا اس کا تعلق نہیں بن رہا تو مجھے یا تو کوئی اور نفسِ مضمون منتخب کرنا ہو گا، یا اپنے قاری کو تلاش کرنا ہو گا، یا پھر خاموشی اختیار کرنی ہو گی۔ چلئے صاحب! مجھے قاری بھی مل گیا، اس کی دل چسپی، تعلق، فائدے کی کوئی نہ کوئی سطح بھی معلوم ہو گئی؛ گویا مجھے کہنے لکھنے کا جواز مل گیا۔ اب مجھے لکھنا ہے، تو اس کا پیرایۂ اظہار کیا ہو۔

ایک بہت اہم اور بہت اچھی بات، ایک عالم گیر حقیقت، ایک قیمتی مشورہ، ایک جذبۂ صادق ؛ اس کو بیان کرنے میں اگر میرے الفاظ، میرا لہجہ، میرا انداز پورے طور پر ساتھ نہیں دے پا رہا تو میں نے وہی قیمتی بات کہنے کی کوشش میں ضائع کر دی۔ یا میں کہہ تو گیا مگر میرا لہجہ ایسا تھا کہ قاری اس پر چیں بہ جبیں ہوا تو بھی میری بات کا آدھا تو کام سے گیا۔ ضرورت اس امر کی نکلی کہ میرا پیرایۂ اظہار میرے قاری کو بھگا نہ دے بلکہ اس کو مائل کرے، اس کی توجہ کھینچے ( ابلاغ کا عمل تب شروع ہو گا)۔ اس کو اسلوب کا نام دے لیجئے: نفسِ مضمون کی مناسبت سے لفظیات کا انتخاب، جملوں کی ساخت کا فطری انداز، اس میں مزاج کی آمیزش اور اپنے قاری کے فوری متوقع ردِ عمل کا اِدراک اور اس کا اپنے لفظوں میں رچاؤ ، زبان کے ورثے سے مطابقت، میری یعنی لکھنے والے کی لفظیاتی ترجیحات؛ وغیرہ مل کر اسلوب کی تشکیل کرتے ہیں۔ اسلوب وہ خوبی ہے کہ مثال کے طور پر، میرا سہانا خواب ہی سہی، آپ ایک غزل، نظم، مضمون، قطعہ، افسانہ کہانی پڑھتے ہیں؛ آپ کو یاد نہیں یا معلوم نہیں کہ یہ تحریر ہے کس کی۔ آپ کو گمان گزرتا ہے کہ "یار، یہ انداز تو محمد یعقوب آسی کا ہے، واللہ اعلم"۔ یہ گمان درست ثابت نہ بھی ہو تو بھی یہ میرے خواب کی تعبیر تو ٹھہری کہ ایک تحریر پڑھ کر قاری کے ذہن میں میرا نام ابھرا۔ یہی گمان چھ آٹھ دس اہلِ نقد کو گزرے تو پھر مجھے صاحبِ اسلوب قرار دیا بھی جا سکتا ہے۔
 
۔(3)۔

ایک موٹی سی بات ہے تو یہ ہے کہ تحریر میں جوں جوں جمالیات شامل ہوتی گئی تو وہ ادب بنتی چلی گئی۔ جمالیات ہے کیا؟ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کیجئے ایک دروازہ ہے یا ایک کھڑکی ہے یا ایک دروازہ اور ایک کھڑکی ہے۔دونوں بالکل سادہ اور چوکور ہیں (کہ تعمیر کے عمل میں چوکور دروازے کھڑکیاں ہی آسان ترین ہیں)۔ دروازے کے باہر والے پٹ میں جالی لگی ہے (کہ اندر والا پٹ کھلا بھی ہو تو مکھی مچھر کمرے میں داخل نہ ہو پائیں)؛ جالی کے باہر کی طرف گرِل لگی ہے (کہ جالی کمزور ہوتی ہے اور کسی اضافی قوت، ضرب وغیرہ سے ٹوٹ سکتی ہے ، گرِل اس کی حفاظت کے لئے ہے)۔ کچھ ایسا ہی حساب کھڑکی کا بھی ہے۔ اندر باہر والے پٹ سب پر روغن کیا ہوا ہے (کہ لکڑی لوہا، جس چیز کے بھی وہ بنے ہوئے ہیں، موسمی اثرات سے محفوظ رہیں)۔ روغن کا رنگ کیا ہو؟ اور اندر باہر دونوں طرف ایک سا ہو یا الگ الگ؟ دروازہ کھڑکی دونوں کا رنگ مماثل ہو یا الگ الگ؟ اور سادہ یک رنگے ہوں یا ان پر حاشیے، نقطے، ڈیزائن وغیرہ بنا ہو؟ یہ جمالیات ہے۔ کھڑکی چوکور کی بجائے گول ہو، بیضوی ہو تو یہ بھی جمالیات کا اظہار ہے۔ کیا چیز کس رنگ شکل کے ساتھ اچھی یا زیادہ اچھی لگتی ہے، کون سی بات کس انداز میں اچھی لگتی ہے، کسی شے کو کسی بات کو کیسے بناتے سنوارتے ہیں، اور اس کو زیادہ قابلِ توجہ بناتےہیں، بات کس طرح کی جائے کہ اسے یاد رکھنا آسان ہو جائے یہ سارے سوال جمالیات سے تعلق رکھتے ہیں۔

نثر کی نسبت شاعری میں جمالیاتی عنصر نمایاں تر ہوتا ہے (مطلب یہ نہیں کہ نثر جمالیات سے عاری ہوتی ہے)۔ شاعری میں آہنگ، لے، سُر، موسیقیت (جو نام بھی دے لیں) شامل ہوتی ہے، ردیف اور قوافی ہوتے ہیں، نظم کی کوئی نہ کوئی ہئیت منتخب کی جاتی ہے (بیت، قطعہ، مثنوی ، رباعی، مخمس، مسدس، دوہا، گیت، کافی وغیرہ)، اس کے مطابق اوزان و بحور کا نظام ہے، جو سب کچھ نثر میں نہیں ہوتا۔ زبان اور اس کے سارے متعلقات: تشبیہ و استعارہ کا نظام، صنائع و بدائع، علامات و مراعات، تلمیحات، اختراعات، وغیرہ نثر اور نظم دونوں میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ نثر نگار شاعر کی نسبت کم ہیئتی پابندیاں قبول کرتا ہے، سو قدرے سہولت میں رہتا ہے۔ اسلوب کے ضمن میں عرض کر چکا ہوں لفظیات کا انحصار مضمون اور موضوع کے علاوہ لکھاری کی اپنی پسند اور ترجیحات پر بھی ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:
۔(4)۔


میں اگر خود کو ادیب سمجھتا ہوں یا دوست مجھے ادیب گردانتے ہیں تو مجھ پر عائد ہونے والی سب سے پہلی ذمہ داری ہے زبان کا درست استعمال اور املاء کا پورا پورا تحفظ۔ یہاں کوئی بہانہ ہونا نہیں چاہئے، اگر ہے تو پھر مجھے بھی سوچنا ہو گا اور میرے دوستوں کو بھی کہ میں ادیب ہوں بھی یا نہیں۔ غلطی ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر اسی غلطی کا بار بار دہرایا جانا نہ صرف بڑی بلکہ بری بات ہے۔ ایسا البتہ ممکن ہے کہ ایک لفظ، املاء، محاورہ، کہاوت، ترکیب کے غلط یا درست ہونے میں میرے اور آپ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہو، اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ میں کہوں یوں درست ہے ووں غلط ہے، آپ کہیں ووں درست ہے یوں غلط ہے اور وہ دونوں درست ثابت ہو جائیں، یا دونوں غلط ثابت ہو جائیں، اور کوئی تیسری چیز نکلے جو درست ہو۔احباب سے مشاورت اور ایک دوجے سے پوچھ لینا یقیناً مستحسن عمل ہے مگر کافی و شافی نہیں، تحقیق کر لینا اولیٰ! مطالعہ از بس ضروری ہے۔ اگر میں مطالعے سے گریزاں ہوں تو مجھے لکھنے لکھانے سے بھی گریز کرنا ہو گا۔ ایک اور عمل ہے یا رویہ کہہ لیجئے جدت برائے جدت؛ یہ کوئی چیز نہیں ہے۔ ایک فن پارہ جو میں تخلیق کرتا ہوں، وہ ظاہر ہے الفاظ کا مرکب ہے، جملوں یا مصرعوں کی ساخت کا حاصل ہے، اس میں قواعد بھی استعمال ہوئے ہیں اور ذخیرۂ الفاظ بھی۔ میں بفرضِ محال ایک لفظ یا ترکیب کو نئے معانی دیتا ہوں یا کوئی نیا لفظ یا ترکیب وضع کرتا ہوں یا کوئی نیا استعارہ لاتا ہوں، یا نئی علامت بناتا ہوں، تو مجھ پر لازم ہے کہ اس کا سیاق و سباق میرے موضوعے کی دلالت کرے یا توضیح کر دے (کہ میں ایک افسانے یا غزل کے اندر توضیحات کا دروازہ نہیں کھول سکتا)۔ ایسا موضوعہ مروجہ نظام میں غیرموزوں یا اجنبی بھی نہیں لگنا چاہئے ورنہ اس کی تفہیم اور ابلاغ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ املاء کے قواعد، ضرب الامثال اور محاوروں، اصول و ضوابط، علمِ بیان، علمِ قافیہ، علمِ عروض وغیرہ پر مشتمل بہت کتابیں دستیاب ہیں تاہم ان کے ساتھ بھی وہی مسئلہ ہےجو ہر کتاب کے ساتھ ہوتا ہے (اسے پڑھنا پڑتا ہے)۔
 
آخری تدوین:
۔(5)۔

ایک اور بات جسے میں بہت اہم سمجھتا ہوں: اپنے ساتھ کبھی جھوٹ نہ بولئے، یہ کبھی نہیں چلتا۔ ایسی صورت پیش بھی آ سکتی ہے کہ مثال کے طور پر مجھے اپنے بیٹے کو یونیورسٹی میں برپا ہونے والے ایک مباحثے کی تیاری کروانی ہے۔ اس کا موضوع ہے: "جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"؛ بیتے کا نام حزبِ مخالف میں ہے۔ اور میرے اپنے نظریات دیے گئے مصرعے کے مضمون کے حق میں ہیں۔ اب میں اپنے خلاف آپ تو بحث نہیں کر سکتا کہ میرے اندر کا آدمی مجھے بولنے ہی نہیں دے گا۔ ایک اور مثال لیتے ہیں کہ چلئے میں ہی سہی، میں گل و بلبل اور لب و عارض کے اور فراق و وصال کے گرد گھومنے والی شاعری میں کوئی خاص کشش محسوس نہیں کرتا۔ تو ظاہر ہے میں فانی بدایونی جیسی شاعری کیسے کروں گا! ادھر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے مجھے ان موضوعات کو منتخب کرنا چاہئے جدھر میرا فکری اور جذباتی میلان ہے۔ باقی فنکاریاں اپنی جگہ، جب آپ ایک خاص موضوع میں دل چسپی ہی نہیں رکھتے تو آپ اس میں اپنا رنگ بھی نہیں جما سکتے۔ کہیں ایک آدھ شعر، قطعہ وغیرہ کہہ لینے میں کوئی ہرج بھی نہیں ہے۔ اسی نکتے کو یوں بھی پھیلایا جا سکتا ہے کہ ایک بات ایک واقعہ ایک صورتِ حال جو مجھ پر گزرتی ہے اور ایک بات ایک واقعہ ایک صورتِ حال جس کا میں شاہد ہوں یا جو میرے علم میں ہے ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ بیان کرنے کی صلاحیت، زبان پر قدرت، قوتِ متخیلہ وغیرہ کی مدد سے میں مشاہدے کو سرگزشت کا روپ دے سکتا ہوں تو ٹھیک ہے، طبع آزمائی کر لینا بھی درست۔ نہیں تو پھر مفروضوں پر شاعری نہیں ہوتی، کلامِ منظوم کی بات اور ہے۔

ایک فارمولا خود پر ایک کیفیت طاری کرنے کا بھی بیان کیا جاتا ہے، آپ اس سے کام لے سکتے ہیں تو ضرور لیجئے، لیکن خدا را اس کے لئے کسی بری لت کا شکار نہ ہوئیے گا۔ شعر کہنا فرضِ عین بھی نہیں کہ اس کے لئے آپ اپنی اور اپنے لواحقین کی زندگی کو تلخ کر لیں۔ تلخیوں اور تفکرات کی پہلے کون سی کمی ہے، ان کو شعر میں لائیے۔
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
آپ کی باتیں جانے کیوں اچھی ہوتی ہیں ۔۔۔دل پر اثر کرتی ہیں ۔۔۔ایک بات بھی غلط نہیں لگی ۔۔۔ بہت مدلل بات کی ۔ جزاک اللہ
 
جواب نمبر 26 تا 30 کی حیثیت ایک انفرادی مضمون کی بن رہی تھی، سو اُسے اپنے بلاگ پر بھی پیش کر دیا ہے۔ اس سے متعلقہ نکات وہاں زیرِ بحث لائے جا سکتے ہیں۔

رواں دھاگے میں شزہ مغل اپنی کاوشیں پیش کر رہی ہیں، یہ اُنہی کے لئے مختص رہے تو بہتر ہے۔
 

محمد محبوب

محفلین
۔(1)۔

اپنا کوئی تجربہ، کوئی آپ بیتی، کوئی مشاہدہ، کوئی خیال، کوئی تصور، کوئی نظریہ، کوئی خدشہ، کوئی امید، کوئی خواہش، کوئی آرزو، کوئی محرومی؛ کیا لکھنا ہے مجھے؟ اور اس میں کون سی ایسی خوبی ہے یا اس میں کون سی ایسی اہم بات ہے جو دوسروں تک پہنچنی چاہئے، یعنی اس کو لکھنا اور دوسروں تک پہنچانا کیوں ضروری ہے یا کیوں اہم ہے؟ یہ ہے بنیادی سوال۔ اگر مجھے ایک بات، ایک واقعہ سوچنا ہے اور اس کو اپنے تک رکھنا ہے تو لکھنے کا عمل ضروری نہیں ٹھہرتا کہ میں نے سوچ لیا، محسوس کر لیا، اس سے کوئی خیال، کوئی نکتہ اخذ کر لیا، بس ٹھیک ہے۔ اپنی یاد داشت، روزنامچہ، ڈائری میں اپنے لئے لکھنا ہے، تو بھی وہی بات ہے۔ اگر اس لئے لکھنا ہے کہ میرا لکھا کسی دوسرے شخص کو پہنچے یا ایک گروہ، ایک جماعت، ایک امت، ایک قوم کو پہنچے تو پھر مجھے کچھ اس طرح لکھنا ہو گا کہ کہ وہ شخص، وہ گروہ، وہ جماعت، وہ امت، وہ قوم میرے لکھے کو پا سکے، سمجھ سکے اور میرا مقصد اس تک پوری معنویت کے ساتھ پہنچ سکے۔

بنیادی نکتہ طے ہو گیا کہ مجھے کچھ کہنا ہے اور اس طرح کہنا ہے کہ میرا شخصی یا غیر شخصی مخاطب میرے کہے کو پا سکے۔ اس کو رسمی زبان میں اظہار اور ابلاغ کہہ لیجئے۔ اظہار اور ابلاغ باہم لازم و ملزوم ہیں، کسی ایک کو نظر انداز کر دیں، دوسرا باقی نہیں رہتا اور رہتا بھی ہے تو نامکمل، ٹوٹا پھوٹا اور قریب قریب بے معنی سا۔فریقین کا تعین بھی یہاں ہو گیا: ایک ہے کہنے والا یا لکھنے والا، وہ شاعر ہے، نثر نگار ہے، مصنف ہے، تاریخ دان ہے، سائنس دان ہے، عالمِ دین ہے، سیاست دان ہے، ڈاکٹر ہے، فلسفی ہے یا جو کچھ بھی وہ ہے۔ دوسرا فریق اس کا قاری ہے یا سامع ہے۔ ان دونوں کے درمیان سانجھ، اظہار کی ضرورت، موقع، صورتِ حال ہے جو لکھنے کا موجب ہے۔ آسان ترین زبان میں کون کس سے مخاطب ہے اور کہہ کیا رہا ہے، اور کیا اس کا کہا پہنچ بھی رہا ہے؟
۔(2)۔

میرے کہے، لکھے کا نفسِ مضمون کیا ہے، اسے میں کس زبان میں بہتر طور پر بیان کر سکتا ہوں، نفسِ مضمون خود مجھ پر واضح ہے یا نہیں، اور مجھے اس کے قابلِ بیان ہونے پر کتنا اعتماد ہے (یا میرے نزدیک اس میں سچائی کتنی ہے)، میرے قاری یا سامع کا اس سچائی سے کیا تعلق ہے، یا اسے کتنی دل چسپی ہے؛ یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ اگر میرے قاری کو میرے کہے سے کوئی دل چسپی ہی نہیں یا اس کا تعلق نہیں بن رہا تو مجھے یا تو کوئی اور نفسِ مضمون منتخب کرنا ہو گا، یا اپنے قاری کو تلاش کرنا ہو گا، یا پھر خاموشی اختیار کرنی ہو گی۔ چلئے صاحب! مجھے قاری بھی مل گیا، اس کی دل چسپی، تعلق، فائدے کی کوئی نہ کوئی سطح بھی معلوم ہو گئی؛ گویا مجھے کہنے لکھنے کا جواز مل گیا۔ اب مجھے لکھنا ہے، تو اس کا پیرایۂ اظہار کیا ہو۔

ایک بہت اہم اور بہت اچھی بات، ایک عالم گیر حقیقت، ایک قیمتی مشورہ، ایک جذبۂ صادق ؛ اس کو بیان کرنے میں اگر میرے الفاظ، میرا لہجہ، میرا انداز پورے طور پر ساتھ نہیں دے پا رہا تو میں نے وہی قیمتی بات کہنے کی کوشش میں ضائع کر دی۔ یا میں کہہ تو گیا مگر میرا لہجہ ایسا تھا کہ قاری اس پر چیں بہ جبیں ہوا تو بھی میری بات کا آدھا تو کام سے گیا۔ ضرورت اس امر کی نکلی کہ میرا پیرایۂ اظہار میرے قاری کو بھگا نہ دے بلکہ اس کو مائل کرے، اس کی توجہ کھینچے ( ابلاغ کا عمل تب شروع ہو گا)۔ اس کو اسلوب کا نام دے لیجئے: نفسِ مضمون کی مناسبت سے لفظیات کا انتخاب، جملوں کی ساخت کا فطری انداز، اس میں مزاج کی آمیزش اور اپنے قاری کے فوری متوقع ردِ عمل کا اِدراک اور اس کا اپنے لفظوں میں رچاؤ ، زبان کے ورثے سے مطابقت، میری یعنی لکھنے والے کی لفظیاتی ترجیحات؛ وغیرہ مل کر اسلوب کی تشکیل کرتے ہیں۔ اسلوب وہ خوبی ہے کہ مثال کے طور پر، میرا سہانا خواب ہی سہی، آپ ایک غزل، نظم، مضمون، قطعہ، افسانہ کہانی پڑھتے ہیں؛ آپ کو یاد نہیں یا معلوم نہیں کہ یہ تحریر ہے کس کی۔ آپ کو گمان گزرتا ہے کہ "یار، یہ انداز تو محمد یعقوب آسی کا ہے، واللہ اعلم"۔ یہ گمان درست ثابت نہ بھی ہو تو بھی یہ میرے خواب کی تعبیر تو ٹھہری کہ ایک تحریر پڑھ کر قاری کے ذہن میں میرا نام ابھرا۔ یہی گمان چھ آٹھ دس اہلِ نقد کو گزرے تو پھر مجھے صاحبِ اسلوب قرار دیا بھی جا سکتا ہے۔
۔(3)۔

ایک موٹی سی بات ہے تو یہ ہے کہ تحریر میں جوں جوں جمالیات شامل ہوتی گئی تو وہ ادب بنتی چلی گئی۔ جمالیات ہے کیا؟ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کیجئے ایک دروازہ ہے یا ایک کھڑکی ہے یا ایک دروازہ اور ایک کھڑکی ہے۔دونوں بالکل سادہ اور چوکور ہیں (کہ تعمیر کے عمل میں چوکور دروازے کھڑکیاں ہی آسان ترین ہیں)۔ دروازے کے باہر والے پٹ میں جالی لگی ہے (کہ اندر والا پٹ کھلا بھی ہو تو مکھی مچھر کمرے میں داخل نہ ہو پائیں)؛ جالی کے باہر کی طرف گرِل لگی ہے (کہ جالی کمزور ہوتی ہے اور کسی اضافی قوت، ضرب وغیرہ سے ٹوٹ سکتی ہے ، گرِل اس کی حفاظت کے لئے ہے)۔ کچھ ایسا ہی حساب کھڑکی کا بھی ہے۔ اندر باہر والے پٹ سب پر روغن کیا ہوا ہے (کہ لکڑی لوہا، جس چیز کے بھی وہ بنے ہوئے ہیں، موسمی اثرات سے محفوظ رہیں)۔ روغن کا رنگ کیا ہو؟ اور اندر باہر دونوں طرف ایک سا ہو یا الگ الگ؟ دروازہ کھڑکی دونوں کا رنگ مماثل ہو یا الگ الگ؟ اور سادہ یک رنگے ہوں یا ان پر حاشیے، نقطے، ڈیزائن وغیرہ بنا ہو؟ یہ جمالیات ہے۔ کھڑکی چوکور کی بجائے گول ہو، بیضوی ہو تو یہ بھی جمالیات کا اظہار ہے۔ کیا چیز کس رنگ شکل کے ساتھ اچھی یا زیادہ اچھی لگتی ہے، کون سی بات کس انداز میں اچھی لگتی ہے، کسی شے کو کسی بات کو کیسے بناتے سنوارتے ہیں، اور اس کو زیادہ قابلِ توجہ بناتےہیں، بات کس طرح کی جائے کہ اسے یاد رکھنا آسان ہو جائے یہ سارے سوال جمالیات سے تعلق رکھتے ہیں۔

نثر کی نسبت شاعری میں جمالیاتی عنصر نمایاں تر ہوتا ہے (مطلب یہ نہیں کہ نثر جمالیات سے عاری ہوتی ہے)۔ شاعری میں آہنگ، لے، سُر، موسیقیت (جو نام بھی دے لیں) شامل ہوتی ہے، ردیف اور قوافی ہوتے ہیں، نظم کی کوئی نہ کوئی ہئیت منتخب کی جاتی ہے (بیت، قطعہ، مثنوی ، رباعی، مخمس، مسدس، دوہا، گیت، کافی وغیرہ)، اس کے مطابق اوزان و بحور کا نظام ہے، جو سب کچھ نثر میں نہیں ہوتا۔ زبان اور اس کے سارے متعلقات: تشبیہ و استعارہ کا نظام، صنائع و بدائع، علامات و مراعات، تلمیحات، اختراعات، وغیرہ نثر اور نظم دونوں میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ نثر نگار شاعر کی نسبت کم ہیئتی پابندیاں قبول کرتا ہے، سو قدرے سہولت میں رہتا ہے۔ اسلوب کے ضمن میں عرض کر چکا ہوں لفظیات کا انحصار مضمون اور موضوع کے علاوہ لکھاری کی اپنی پسند اور ترجیحات پر بھی ہوتا ہے۔
۔(4)۔


میں اگر خود کو ادیب سمجھتا ہوں یا دوست مجھے ادیب گردانتے ہیں تو مجھ پر عائد ہونے والی سب سے پہلی ذمہ داری ہے زبان کا درست استعمال اور املاء کا پورا پورا تحفظ۔ یہاں کوئی بہانہ ہونا نہیں چاہئے، اگر ہے تو پھر مجھے بھی سوچنا ہو گا اور میرے دوستوں کو بھی کہ میں ادیب ہوں بھی یا نہیں۔ غلطی ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر اسی غلطی کا بار بار دہرایا جانا نہ صرف بڑی بلکہ بری بات ہے۔ ایسا البتہ ممکن ہے کہ ایک لفظ، املاء، محاورہ، کہاوت، ترکیب کے غلط یا درست ہونے میں میرے اور آپ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہو، اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ میں کہوں یوں درست ہے ووں غلط ہے، آپ کہیں ووں درست ہے یوں غلط ہے اور وہ دونوں درست ثابت ہو جائیں، یا دونوں غلط ثابت ہو جائیں، اور کوئی تیسری چیز نکلے جو درست ہو۔احباب سے مشاورت اور ایک دوجے سے پوچھ لینا یقیناً مستحسن عمل ہے مگر کافی و شافی نہیں، تحقیق کر لینا اولیٰ! مطالعہ از بس ضروری ہے۔ اگر میں مطالعے سے گریزاں ہوں تو مجھے لکھنے لکھانے سے بھی گریز کرنا ہو گا۔ ایک اور عمل ہے یا رویہ کہہ لیجئے جدت برائے جدت؛ یہ کوئی چیز نہیں ہے۔ ایک فن پارہ جو میں تخلیق کرتا ہوں، وہ ظاہر ہے الفاظ کا مرکب ہے، جملوں یا مصرعوں کی ساخت کا حاصل ہے، اس میں قواعد بھی استعمال ہوئے ہیں اور ذخیرۂ الفاظ بھی۔ میں بفرضِ محال ایک لفظ یا ترکیب کو نئے معانی دیتا ہوں یا کوئی نیا لفظ یا ترکیب وضع کرتا ہوں یا کوئی نیا استعارہ لاتا ہوں، یا نئی علامت بناتا ہوں، تو مجھ پر لازم ہے کہ اس کا سیاق و سباق میرے موضوعے کی دلالت کرے یا توضیح کر دے (کہ میں ایک افسانے یا غزل کے اندر توضیحات کا دروازہ نہیں کھول سکتا)۔ ایسا موضوعہ مروجہ نظام میں غیرموزوں یا اجنبی بھی نہیں لگنا چاہئے ورنہ اس کی تفہیم اور ابلاغ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ املاء کے قواعد، ضرب الامثال اور محاوروں، اصول و ضوابط، علمِ بیان، علمِ قافیہ، علمِ عروض وغیرہ پر مشتمل بہت کتابیں دستیاب ہیں تاہم ان کے ساتھ بھی وہی مسئلہ ہےجو ہر کتاب کے ساتھ ہوتا ہے (اسے پڑھنا پڑتا ہے)۔
۔(5)۔

ایک اور بات جسے میں بہت اہم سمجھتا ہوں: اپنے ساتھ کبھی جھوٹ نہ بولئے، یہ کبھی نہیں چلتا۔ ایسی صورت پیش بھی آ سکتی ہے کہ مثال کے طور پر مجھے اپنے بیٹے کو یونیورسٹی میں برپا ہونے والے ایک مباحثے کی تیاری کروانی ہے۔ اس کا موضوع ہے: "جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"؛ بیتے کا نام حزبِ مخالف میں ہے۔ اور میرے اپنے نظریات دیے گئے مصرعے کے مضمون کے حق میں ہیں۔ اب میں اپنے خلاف آپ تو بحث نہیں کر سکتا کہ میرے اندر کا آدمی مجھے بولنے ہی نہیں دے گا۔ ایک اور مثال لیتے ہیں کہ چلئے میں ہی سہی، میں گل و بلبل اور لب و عارض کے اور فراق و وصال کے گرد گھومنے والی شاعری میں کوئی خاص کشش محسوس نہیں کرتا۔ تو ظاہر ہے میں فانی بدایونی جیسی شاعری کیسے کروں گا! ادھر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے مجھے ان موضوعات کو منتخب کرنا چاہئے جدھر میرا فکری اور جذباتی میلان ہے۔ باقی فنکاریاں اپنی جگہ، جب آپ ایک خاص موضوع میں دل چسپی ہی نہیں رکھتے تو آپ اس میں اپنا رنگ بھی نہیں جما سکتے۔ کہیں ایک آدھ شعر، قطعہ وغیرہ کہہ لینے میں کوئی ہرج بھی نہیں ہے۔ اسی نکتے کو یوں بھی پھیلایا جا سکتا ہے کہ ایک بات ایک واقعہ ایک صورتِ حال جو مجھ پر گزرتی ہے اور ایک بات ایک واقعہ ایک صورتِ حال جس کا میں شاہد ہوں یا جو میرے علم میں ہے ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ بیان کرنے کی صلاحیت، زبان پر قدرت، قوتِ متخیلہ وغیرہ کی مدد سے میں مشاہدے کو سرگزشت کا روپ دے سکتا ہوں تو ٹھیک ہے، طبع آزمائی کر لینا بھی درست۔ نہیں تو پھر مفروضوں پر شاعری نہیں ہوتی، کلامِ منظوم کی بات اور ہے۔

ایک فارمولا خود پر ایک کیفیت طاری کرنے کا بھی بیان کیا جاتا ہے، آپ اس سے کام لے سکتے ہیں تو ضرور لیجئے، لیکن خدا را اس کے لئے کسی بری لت کا شکار نہ ہوئیے گا۔ شعر کہنا فرضِ عین بھی نہیں کہ اس کے لئے آپ اپنی اور اپنے لواحقین کی زندگی کو تلخ کر لیں۔ تلخیوں اور تفکرات کی پہلے کون سی کمی ہے، ان کو شعر میں لائیے۔

انتہائی عام فہم ، مفید و معلوماتی۔ شکریہ محترم محمد یعقوب آسی صاحب۔
 

شزہ مغل

محفلین
سوال پر ایک ظریفانہ بلکہ ستم ظریفانہ یاد آ گیا۔
۔۔۔۔۔۔
ایسے ہی ایک فقیر نے کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے آواز آئی "کون!!؟" تو فرمانے لگے: "ہمیں خیرات دی جائے"۔
واہ جناب کیا ظریفانہستم باقاعدہ تلاش کر کے ہم پر ڈھایا آپ نے۔
شزہ مغل کے سوالیہ سے آپ کو مغلیہ فقیر کا سوال یاد آگیا۔۔۔۔۔۔
چلیئے کوئی بات نہیں خودی تو اب بھی برقرار ہے۔۔۔
"ہمیں خیرات دی جائے"
 

شزہ مغل

محفلین
اصلاح کرنا تو صاحب علم و فن ہستیوں کا فرض ۔۔۔۔۔۔۔
مجھ ایسے تو بات سے بات چلا اپنے سوالوں کو جواب کی منزل تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔

اگر ہر سوال کا جواب ہوتا ۔۔ اگر ہر جواب سوال کو جنم نہ دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توسچے علیم و حکیم کی جانب سے کبھی بھی " ولا تجسسو " کا امر صادر نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تجسس کی مناہی ہی دلیل ہے کہ "ہر سوال کا جواب نہیں ہوتا " اور "ہر جواب سوال کو ہی جنم دیتا ہے "


سوال کا جنم کہاں ہوتا ہے ؟ اگر یہ سوال جواب پا جائےتو " سوال و جواب " بارے سب الجھنیں ختم ہو جائیں ۔۔


لا شعور جب شعور کے محسوسات اور مشاہدات کے بل پر جو بھی سوال تراشتا ہے ۔ ان کے جواب کبھی تشنہ نہیں رہتے ۔
اور اکثر یہ سوال " لا شعور سے ابھرتے بنا خارج میں کسی سے پوچھے " تحت الشعور " سے اپنا جواب پا جاتے ہیں ۔
یہ سوال بھی جواب پا لیتا ہے کہ " تجسس کی مناہی " کی حقیقت کیا ہے ۔۔۔۔۔
لیس للانسان الا ماسعی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رب زدنی علماء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب علم میں اضافے کی خواہش صرف " فلاح " کے جذبے پر استوار ہو تو سچا علیم کبھی تشنہ نہیں رہنے دیتا ۔۔۔۔۔




قالو سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم
جب اپنے علم کو عاجز کر لیا جائے ۔ جب اپنے علم کو ناقص مان لیا جائے تو آگہی اپنے در کھولتی ہے ۔
بھرے برتن سے پانی باہر چھلک جاتا اور خالی میں ٹھہر جاتا ہے ۔۔
کہیں پڑھا تھا کہ
احمد جاوید صاحب نے کہا تھا کہ

"خاموشی آوازوں کی مرشد ہے"
انسان یہاں وہاں سوال کر کر تھک جاتا ہے ۔ جواب نہیں ملتا ۔
تو تھک ہار کر وہ خاموش ہوتے اپنی ہی سوچ میں ڈوب جاتا ہے ۔
اور یہ تھکن اک نعمت بن کر انسان کو اس کے سوالوں میں موجود کجیوں سے آگاہ کر دیتی ہے ۔
جب سوال کجی سے پاک ہوتے درستگی سے استوار ہوتا ہے تو براہ راست منزل پر پہنچ جواب پا لیتا ہے ۔۔۔۔
اللہ سوہنا آپ کے تمام سوالوں کو جوابوں کی منزل تک پہنچائے ۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
بہت دعائیں
اففف۔۔۔ اتنی ساری باتیں ایک ساتھ کر دیں۔۔۔
سانس تو لے لیا کریں بھیا۔ بہت بولتے ہیں بھائی آپ تو۔
لڑکیوں کا ریکارڈ توڑ دیا
 

نایاب

لائبریرین
اففف۔۔۔ اتنی ساری باتیں ایک ساتھ کر دیں۔۔۔
سانس تو لے لیا کریں بھیا۔ بہت بولتے ہیں بھائی آپ تو۔
لڑکیوں کا ریکارڈ توڑ دیا
میری محترم بہنا بٹیا
یہ شاید میرے نام کا اثر ہے مجھ پر
سچ تو یہ ہے کل سے لیکر اب تک جانے کتنی بار اپنی اس پوسٹ کو پڑھا ۔
اپنی غلطی کو جاننے کی کوشش کی کہ آخٰر کیا وجہ ہوئی کہ یہ پوسٹ " صاحب پوسٹ " کی جانب سے توجہ سے محروم رہتے "غیر متفق " کی ریٹنگ بھی نہ پاسکی ۔
شاید میں بنا ٹیگ ہی زبردستی اس پوسٹ میں لفاظی کر گیا ۔
اب راز کھلا کہ یہ تو معاملہ ہی کچھ اور ہے ۔۔۔۔
بنا سانس لیئے آپ کو تنگ کرنے پر دلی معذرت
بہت دعائیں سدا ہنسیں مسکرائیں ۔۔
 
Top