فراز کل نالہ قمری کی صدا تک نہیں آئی

باباجی

محفلین
کل نالہء قمری کا صدا تک نہیں آئی​
کیا ماتمِ گُل تھا کہ صباء تک نہیں آئی​
آدابِ خرابات کا کیا ذکر یہاں تو​
رِندوں کو بہکنے کی ادا تک نہیں آئی​
تجھ ایسے مسیحا کے تغافل کا گلہ کیا​
ہم جیسوں کی پرسش کو قضا تک نہیں آئی​
جلتے رہے بے صرفا چراغوں کی طرح ہم​
تُو کیا، تیرے کُوچے کی ہوا تک نہیں آئی​
اس در پہ ، یہ عالم ہُوا دل کا کہ لبوں پر​
کیا حرفِ تمنا کہ، دعا تک نہیں آئی​
 

فرخ منظور

لائبریرین
تجھ ایسے مسیحا کے تغافل کا گلہ کیا​
ہم جیسوں کی پرسش کو قضا تک نہیں آئی​
جلتے رہے بے صرفا چراغوں کی طرح ہم​
تُو کیا، تیرے کُوچے کی ہوا تک نہیں آئی​
بہت خوبصورت انتخاب۔ شکریہ بابا جی!​
 

سید زبیر

محفلین
تجھ ایسے مسیحا کے تغافل کا گلہ کیا
ہم جیسوں کی پرسش کو قضا تک نہیں آئی
عمدہ انتخاب ہے شراکت کا شکریہ
 

ماروا ضیا

محفلین
کل نالہء قمری کی صدا تک نہیں آئی

کیا ماتمِ گُل تھا کہ صباء تک نہیں آئی

آدابِ خرابات کا کیا ذکر یہاں تو

رِندوں کو بہکنے کی ادا تک نہیں آئی

تجھ ایسے مسیحا کے تغافل کا گلہ کیا

ہم جیسوں کی پرسش کو قضا تک نہیں آئی

جلتے رہے بے صرفہ، چراغوں کی طرح ہم

تُو کیا، ترے کُوچے کی ہوا تک نہیں آئی

کس جادہ سے گُذرا ہے مگر قافلہ عمر

آوازِ سگاں ، بانگ درا تک نہیں آئی


اس در پہ یہ عالم ہُوا دل کا کہ لبوں پر

کیا حرفِ تمنا کہ دعا تک نہیں آئی

دعوائے وفا پر بھی طلب دادِ وفا کی

اے کشتہ غم تجھ کو حیا تک نہیں آئی

جو کچھ ہو فرازؔ اپنے تئیں یار کے آگے

اس سے تو کوئی بات بنا تک نہیں آئی
 
Top