فرد

دعا ہی کرتے رہے فصلِ گلُ کی ہم برسوں
جگر کے خون سے سینچی نہ گِل چمن کی کبھی

دوسرے مصرعے کے لیے کچھ احباب کے کہنے پریہ ترمیم کی

چمن کی مٹی نہ سینچی جگر کے خوں سے کبھی

الف عین ، محمد وارث ، مزمل شیخ بسمل

گِل کو سینچنا غلط ہے۔ گِل تو پہلے ہی سینچی جاچکی ہوتی ہے تبھی تو گل بنتی ہے۔
متبادل مصرع قدرے بہتر ہے۔ لیکن مزید ترمیم سے بہتر ہوسکتا ہے۔ سوچیے۔ میں بھی سوچتا ہوں۔ یا بڑے استاد جی کی رائے بھی دیکھ لیتے ہیں۔
 

شوکت پرویز

محفلین
چند متبادل:
نہ سینچی خونِ جگر سے چمن کی خاک کبھی
چمن کی خاک نہ سینچی دمِ جگر سے کبھی
نہ سینچی خاک چمن کی دمِ جگر سے کبھی
دمِ جگر سے نہ سینچی چمن کی خاک کبھی
 

احمد بلال

محفلین
گِل کو سینچنا غلط ہے۔ گِل تو پہلے ہی سینچی جاچکی ہوتی ہے تبھی تو گل بنتی ہے۔
متبادل مصرع قدرے بہتر ہے۔ لیکن مزید ترمیم سے بہتر ہوسکتا ہے۔ سوچیے۔ میں بھی سوچتا ہوں۔ یا بڑے استاد جی کی رائے بھی دیکھ لیتے ہیں۔
جی۔ مناسب
 

احمد بلال

محفلین
چمن کی خاک نہ سینچی دمِ جگر سے کبھی

یہ متبادل اطمینان کے قابل ہے۔
دم اگر عربی والا لیں تو تب اس کا مطلب خون ہو گا لیکن اس سے مرکب نہیں بن سکتا کیونکہ جگر عربی کا نہیں۔ اگر دم سے مراد سانس ہو تو مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہا کہ سانس سے کیسے سینچا جا سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟
 
Top