افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کی لڑائی غیر اسلامی قرار دیدی

افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کی لڑائی غیر اسلامی قرار دیدی
21 جولائی 2014 (16:41)
news-1405942898-3927.JPG

اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈیسک ) افغان طالبان کے ایک سابق رہنما اور ملا عمر کے قریبی ساتھی سمجھے جانیوالے آغا جان معتصم نے پاکستانی طالبان کی ریاست کےخلاف لڑائی کو غیر اسلامی قرار دیدیا ہے ۔ آغا جان نے اخبار ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام مسلمانوں کی مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی اجازت نہیں دیتا ہے اور حملوں میں معصوم مسلمان شہریوں کو مارنا خلاف اسلام ہے ۔ طالبان رہنما نے خودکش حملوں کی بھی مذمت کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں میں معصوم مسلمان شہریوں کو نشانہ بنا نا جہاد نہیں ہے اور خودکش حملے پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں ان کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مسلمانوں اور مسلمان ریاست کے خلاف جنگ کی مذمت کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے ہمیں بے پناہ نقصان ہوا ہے اور آپس کی لڑائی کی وجہ سے بیرونی دنیا ہمیں پسماندہ قوم سمجھتی ہے ۔ آغا جا ن معتصم افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خزانہ تھے ۔ یہ حکومت 2001ءمیں امریکی جارحیت کے بعد ختم ہو گئی تھی ۔
http://dailypakistan.com.pk/national/21-Jul-2014/125141
 

صرف علی

محفلین
پاک آرمی کی کامیابی دیکھ کر طالبان کے ہوا نکل گئی ہے اس لئے ایسے بیانات دے رہے ہیں ورنہ اصل میں یہ سب ایک ہیں لعنتی
 

دانش حسین

محفلین
آغاجان معتصم کی شخصیت کے بارے میں امارت اسلامی افغانستان کی آفیشل ویب سائٹ پر چند ماہ قبل بھی بیان جاری کیا گیا تھا
ملاحظہ فرمائیے!
آغاجان معتصم کی حالیہ دعوؤں اوردبئی اجلاس کےمتعلق امارت اسلامیہ کااعلامیہ
http://shahamat-urdu.com/index.php/...اوردبئی-اجلاس-کےمتعلق-امارت-اسلامیہ-کااعلامیہ
Emarate_Flag.jpg

حالیہ دنوں میں بعض ابلاغی ذرائع نے امارت اسلامیہ کےسابق عہدیدارآغاجان معتصم کےنام سےایسااعلامیہ نشرکیا،جس میں کہا گیا تھاکہ امارت اسلامیہ افغانستان یاطالبان اسلامی تحریک کےمتعددرہنماؤں اورجہادی کمانڈروں نے متحدہ عرب امارات میں اجلاس کےدوران امن مذاکرات شروع کرنےکےلیےآمادگی ظاہرکی!!؟

امارت اسلامیہ افغانستان ایک مرتبہ پھرتمام پہلوؤں کواعلانابتا تی ہےکہ آغاجان معتصم کاامارت اسلامیہ میں کسی قسم کی ذمہ داری ہےاورنہ ہی امارت اسلامیہ کی نمائندگی کرسکتاہے،اسی طرح امارت اسلامیہ موصوف کی حالیہ سرگرمیوں کو امارت اسلامیہ کے اصولوں اورمقدس جہادکی آرزوؤں کی خلاف،امریکی استعماراوران کےایجنٹوں کی مفادمیں تصورکرتی ہے، دوبئی میں امارت اسلامیہ کی نمائندگی میں کوئی اجلاس ہواہےاورنہ ہی کابل انتظامیہ کی نام نہاد امن کونسل سےبات چیت ہوئی ہے۔ امارت اسلامیہ کی سرگرمیوں کےلیےخصوصی سیاسی دفتراورذمہ داراشخاص ہیں اورجس سےبھی بات چیت اوررابطے کی ضرورت پیش آتی ہے،توقیادت کی اجازت اورامارت اسلامیہ کی رہنما کی نگرانی اورجہادی مطالبات کی بنیادپرذمہ دار اعضاء کی جانب سےسرانجام ہوتاہے،یہ کہ دوبئی اجلاس کےشرکاء کےنام اورشہرت کسی کوحقیقی طورپرمعلوم نہیں ہے، تویہ اس بات کی وضاحت کرتی ہےکہ درحقیقت کوئی واقعی اجلاس اورقابل توجہ حالات موجودنہیں ہے۔

کابل انتظامیہ کی نام نہادامن کونسل ہمیشہ کوشش کرتی ہےکہ ان کےمقررشدہ ڈالری تنخواہوں کوجاری رکھے،اسی سلسلے میں متعدد بار ایسی بےنتیجہ اورحقیقت سےبعیدرپورٹوں کونشرکی ہیں اورجعلی طورپرغیرذمہ داراشخاص سےبات چیت کےنام سے میڈیا کو مصروف رکھاہے،بیرونی استعمار اوران کےساتھی سابقہ ناکام اورتلخ تجربات کونہ دہرائيں،جعلی مذاکرات اورنمائشات جو مسئلہ کو مزیدپیچدہ اورجنگ کوطول دیتی ہے،اس کےعلاوہ کوئی اورنتیجہ نہیں رکھتی،اگرامریکہ اوران کےساتھی اس امیدسے ہیں، کہ اس طرح کی جعلی اجلاسوں اورتوافقات سےعوام کی توجہ اصلی مسئلہ سےکسی اورجانب راغب کرواکر افغان عوام کی جہاداور آزادی کی داعیہ کوخاموش کریگی،توان کایہ فکرنہایت ناقص اوربےمعنی ہے، جوزمینی حقائق سےموافقت نہیں رکھتا۔

امارت اسلامیہ افغانستان
19 / ربیع الثانی 1435 ھ
19 / فروری 2014 ء

http://shahamat-urdu.com/index.php/paighamoona/39026-آغاجان-معتصم-کی-حالیہ-دعوؤں-اوردبئی-اجلاس-کےمتعلق-امارت-اسلامیہ-کااعلامیہ
 
Top