کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

منصور آفاق

محفلین
ایک نظم پیش خدمت ہے

ایک اوردعا


پھر وہی صبحِ مدنیہ بخش دے
بخش خوشحالی وہی سورج بھری
سر اٹھا کر چلنے کی توفیق دے
پھر سکونت دے جہاں میں دھج بھری

پھر خلیفہ دے کوئی فاروق سا
پھر حکومت دے وہی حشمت بھری
پھرصداقت دے دیانت دے ہمیں
سلطنت دے پھر وہی سطوت بھری

پھر وہی عظمت بھر ا بغداد دے
پھر ہمیں لوٹا دے اندلس علم کا
کھول دروازے ہمارے فہم کے
بخش ہم لوگوںکو پارس علم کا

پھر صلاح الدیں ایوبی بھیج کر
ساحلِ مردار کو مہتاب دے
پھر ہماری چشمِ ظلمت ناک کو
قبلہ ءاول کے روشن خواب دے

اکبر اعظم کوئی شاہِ جہاں
بخش بے چہرہ جہانِ وقت کو
اک تری نظر عنایت کے طفیل
کھینچ سکتے ہیں کمانِ وقت کو

بھیج داتا گنج شامِ رنج میں
استقامت دے گمانِ وقت کو
ابن عربی کی جوانی بخش دے
دھول ہوتے آستانِ وقت کو

پھر خیام و حافظ و تبریز بھیج
بخش لاہوتی ترانے وقت کو
پھر عطا کر قریہ ءاحساس میں
رومی و سعدی کے گانے وقت کو

پھراضافہ کر ہمارے علم میں
پھر عطا کرشاعری تہذیب کی
پھر ہمیں لوٹا ہمارا قرطبہ
پھر ہمیں دے سروری تہذیب کی

منصور آفاق
 
پھر صلاح الدیں ایوبی بھیج کر
ساحلِ مردار کو مہتاب دے
پھر ہماری چشمِ ظلمت ناک کو
قبلہ ءاول کے روشن خواب دے

مختصر کلام پیش کرکے ہماری آتشِ شوق کو بھڑکاتے ہوئے یہ تھے جناب منصور آفاق صاحب۔ڈھیر ساری داد ان کی اس خوبصورت نظم کے لیے جو ہم سب کے دلوں کی آواز بن گئی۔
 
یہاں اُس بزم میں اک شخص وہ بھی ہے
جسے ادراک کی دولت میسر ہے
جسےالفاظ کو معنی عطا کرنے کا فن آتا تو ہے لیکن
بڑا چپ چاپ بیٹھا ہے​


جی ہاں محفلین ! اب جب کہ مشاعرہ اپنی آخری منزل کی جانب تیزی کے ساتھ گامزن ہے مہمانِ خصوصی کی کرسی سنبھالے ہوئے محمد یعقوب آسی صاحب لفظوں کے کھو جانے کا ڈر دل میں سمائے چپ چاپ بیٹھے ہیں، کہتے ہیں:


ہم سخن ساز کہاں ، ہم کو یہ دعویٰ کب ہے؟

ہم تو احساس کو اندازِ بیاں دیتے ہیں


اپنے نازک احساسات کو خوبصورت اندازِ بیاں دینے والے اردو محفل کی آبرو، لفظ کھو جائیں گے اور آسان عروض کے شاعرجناب محمد آسی صاحب کو دعوتِ کلام دی جاتی ہے کہ وہ شمع کو رونق بخشیں۔ وہ تو خود ہی شمعِ محفل ہیں۔ استقبال کیجیے۔ بہت ساری داد سمیٹنے کے لیے تشریف لارہے ہیں اردو محفل کے سالانہ مشاعرے ۲۰۱۴ کے مہمانِ خصوصی جناب محمد یعقوب آسی صاحب۔
 
یہاں اُس بزم میں اک شخص وہ بھی ہے
جسے ادراک کی دولت میسر ہے
جسےالفاظ کو معنی عطا کرنے کا فن آتا تو ہے لیکن
بڑا چپ چاپ بیٹھا ہے​


جی ہاں محفلین ! اب جب کہ مشاعرہ اپنی آخری منزل کی جانب تیزی کے ساتھ گامزن ہے مہمانِ خصوصی کی کرسی سنبھالے ہوئے محمد یعقوب آسی صاحب لفظوں کے کھو جانے کا ڈر دل میں سمائے چپ چاپ بیٹھے ہیں، کہتے ہیں:


ہم سخن ساز کہاں ، ہم کو یہ دعویٰ کب ہے؟

ہم تو احساس کو اندازِ بیاں دیتے ہیں


اپنے نازک احساسات کو خوبصورت اندازِ بیاں دینے والے اردو محفل کی آبرو، لفظ کھو جائیں گے اور آسان عروض کے شاعرجناب محمد آسی صاحب کو دعوتِ کلام دی جاتی ہے کہ وہ شمع کو رونق بخشیں۔ وہ تو خود ہی شمعِ محفل ہیں۔ استقبال کیجیے۔ بہت ساری داد سمیٹنے کے لیے تشریف لارہے ہیں اردو محفل کے سالانہ مشاعرے ۲۰۱۴ کے مہمانِ خصوصی جناب محمد یعقوب آسی صاحب۔

داد نہیں بھائی! محبتیں سمیٹنے کی کہئے! مجھے اپنے احباب کی محبتوں اور دعاؤں کی تمنا ہمیشہ رہتی ہے۔ ابھی کچھ دیر میں حاضر ہوتا ہوں۔
 
اس سے پہلے کہ اپنی شعری کاوشیں احباب کی خدمت میں پیش کروں، محترمی صدرِ مجلس جناب اعجاز عبید اور ناظمینِ مشاعرہ کی خدمت میں اظہارِ سپاس کرنا ہے ان سب کے اس حسنِ ظن پر جس نے مجھ فقیر کو ایسی عزت دلوائی۔
نو واردانِ شعر منتظر رہے ہوں گے کہ ان کے کلام سے کچھ اشعار چن کر جو میں نیلے پیلے ہرے لال رنگوں میں لکھتا رہا ہوں، ان پر کچھ بات کروں۔ مختصراً عرض کر دوں کہ اسی محفل میں شریک ہمارے ہمدم جناب منصور آفاق، محترمہ عائشہ بیگ عاشی، محترمی شہزاد نیر، محترم محمد فاتح، محبی منیر انور، اور دیگر صاحبانِ فکر و فن کے کلام کو نمونے کے طور پر سامنے رکھیں اور ان کے اسلوب، لفظیات، اندازِ اظہار، فنیات اور دیگر خواصِ کلام سے راہ نمائی حاصل کریں۔ اپنے نئے دوستوں سے چندمزید گزارشات؛ کہ شعر میں زبان اور املاء کی غلطی سے بچئے، جب ہم طے کر چکے کہ غزل کہنی ہے تو پھر اوزان کا لحاظ بھی رکھنا ہو گا، اور قوافی اور ردیف کا بھی کہ یہ بھی ہم نے اختیار کئے ہوتے ہیں۔ غزل کے معاملے میں میری ایک بہت خاص توقع ہوا کرتی ہے کہ اس میں اظہار اور لفظیات دونوں سطحوں پر ملائمت قائم رہے۔ تفصیلی بات تقریب کے تمام ہونے کے بعد کریں گے، ان شاء اللہ۔
 
مدیر کی آخری تدوین:
اپنی چند ایک شعری کاوشیں اس خصوصی نشست کے شرکائے کرام کے ذوق کی نذر کرتا ہوں:

۔1۔ یہ نظم "ذرا سی بات" ۔۔ اس پر یہ عرض کر دوں کہ میں نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام رکھا ’’مجھے اک نظم کہنی تھی‘، اب لگتا ہے کہ شاید مجھے یہی نظم کہنی تھی!؟
۔2۔ یہ ایک بہت پہلے کی کہی ہوئی غزل آپ کی محبتوں کی نذر ۔ اس میں ایک درستی فرما لیجئے گا:
آنسو، تارا، جگنو، شعلہ، بے تابی
سوچ سمندر کے ساحل پر خاموشی​

۔3۔ یہ نظم ’’حرفِ الِف‘‘ بھی دیکھئے گا۔
مجھے اجازت دیجئے کہ اگلے مرحلے کی تیاری ہنوز کرنی ہے۔
 
آخری تدوین:
رات، اداسی، چاند، ستم گر خاموشی
نیند سے بوجھل دیوار و در، خاموشی

سناٹے کا خوف، سسکتی آوازیں
سب آوازوں کا پس منظر خاموشی

یہ تھے جناب محمد یعقوب آسی جن کے ہاتھوں میں لفظ موم ہوجاتے ہیں۔

اور اب مشاعرے کے آخر میں ہم صدر مشاعرہ جناب اعجاز عبید صاحب کو دعوتِ کلام دے رہے ہیں۔ اردو محفل پر جناب اعجاز عبید اپنے قلمی نام الف عین سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اردو محفل کے استاد، جن کی شفقت بھری اصلاح کے منتظر تمام مبتدی شعراء ان کے دیوانے ہیں۔ اگر اردو محفل پر مقبول ترین شخصیت کی کھوج لگائی جائے تو یہی ایک نام سامنے آئے گا۔

دیکھ زندہ ہوں اپنے باہر میں
جسم گٹھڑی میں باندھ کر لے جا

آج اس طرح لوٹ لے مجھ کو
رخت سب چھوڑ دے، سفر لے جا

مجھ کو بے مایہ اس طرح مت چھوڑ
رہنے دے خواب، چشمِ تر لے جا

انتہائی ادب و احترام اور محبت کے ساتھ جناب اعجاز عبید کو دعوتِ کلام اور بحیثیت صدرِ مشاعرہ اپنے احساسات کے اظہار کی دعوت دی جاتی ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
سر تا پا سپاس ہوں محفلینوں کی محبتوں کا۔افسوس کہ تازہ کلام میرے پاس نہیں ہے۔ مجھ کو لگتا ہے کہ جو کچھ کہنا تھا وہ سب کہہ چکا۔ اب محض اپنے کو دوہرانے سے فائدہ؟

بہر حال حکم سر آنکھوں پر، دو پرانی غزلیں پیش ہیں۔
اس کے بعد جستہ جستہ پیش کردہ کلام پر تبصرہ کرتا رہوں گا۔


چاندی سونا دیکھوں میں
مٹی میں کیا دیکھوں میں

صبح سویرے اٹھتے ہی
کس کا چہرا دیکھوں میں

فرشِ خاک پہ سوؤں جب
سچّا سپنا دیکھوں میں

وہ تو میرے گھر میں ہے
کس کا رستا دیکھوں میں

یاہو1 کی ایک ’وِنڈو‘2 میں
اس کا مکھڑا دیکھوں میں

جب بھی، جہاں بھی چاہوں اسے
سامنے بیٹھا دیکھوں میں

آنکھوں میں رِم جھِم ہو جائے
جب اسے ہنستا دیکھوں میں

صبح اٹھنے کی جلدی میں
خواب ادھورا دیکھوں میں

بول یہ سندر سندر درشّیہ
کب تک تنہا دیکھوں میں

میرؔ تمہاری غزلوں میں
اپنا دُکھڑا دیکھوں میں

مانیٹر3 کے پردے پر
ایک ہی چہرا دیکھوں میں

اس کی یاد آئے جب بھی
مونا لیزا دیکھوں میں

تو ہی بتا ترا ایسا روپ
دیکھوں یا نا دیکھوں میں


1. Yahoo 2. Window 3. Monitor

***
ایک دوسری پرانی غزل


دعا کرو کہ دعا میں مری اثر ہو جائے
میں اس کا نام نہ لوں، اور اسے خبر ہو جائے

بس اب یہ آخری خواہش بچی ہے ، اس کے حضور
یہ صرف سادہ مرا حرف معتبر ہو جائے

بس اک شرار خسِ خشک جاں کو کافی ہے
چلو کہ آج تماشہ یہ رات پھر ہو جائے

نہ کچھ گناہ میں لذت ، ثواب میں نہ مزا
کروں نہ کچھ بھی ، مگر زندگی بسر ہو جائے

بہار جذبوں پہ آئے، پر آنکھیں خشک رہیں
یہ بر و بحر مرا پھر سے بحر و بر ہو جائے

آخر میں مشاعرے کی کامیابی کے لئے تمام ارکان کو دلی مبارکباد
 

الف عین

لائبریرین
اب جگر تھام کے بیٹھو۔۔۔ صدر بنایا ہے تو اب تو جھیلنا ہی ہے میری تنقیدی تقریر!!!

مشاعرہ ماشاء اللہ کامیاب رہا ہے، اپنی عادت کے مطابق میں تعریفیں کم کروں گا، اور اعتراضات زیادہ۔اعتراضات محض اس وجہ سے کہ یہ میری خواہش ہے کہ سبھی محفلین جو اپنے کو شاعر/شاعرہ سمجھتے ہیں، واقعی شعراء کہلا سکیں اور ادب میں اپنا مقام حاصل کر سکیں۔ جو میری تمنا ہے۔ امید واثق ہے کہ یہ تمنا پوری ضرور ہو گی ان شاء اللہ۔

اب تک جن تخلیقات پر میری طرف سے کوئی رائے نہیں آ سکی ہے، انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایک محفلین کی طرف سے جب ذاتی پیغام ملا کہ ان کی غزل پر رائے نہیں دی گئی، تو یہ احساس ہوا کہ یا تو مجھے ہر تخلیق پر کمنٹ دیتے رہنا تھا، یا کسی پر بھی نہیں۔ بعد میں کسی پر بھی رائے ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آخر صدارت بھی تو کوئی چیز ہے، محفل نے اپنی محبتوں سے جو یہ منصب بخشا ہے تو اس کا فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں!! اب آخر میں ہر ایک تخلیق پر رائے کا اظہار کر رہا ہوں۔
 

الف عین

لائبریرین
محمد احمد
دونوں غزلیں خوب ہیں، بس ثقہ حضرات پہلی غزل میں ’ہنستی‘ قافئے پر ہنس سکتے ہیں۔

غزالہ ظفر
احمد نے یہ تم کو اچھا ڈھونڈھ نکالا ہے!!
غزل میں تین ہی اشعار ہیں، جن سے معلوم نہیں ہوتا کہ غزل کی زمین کیا ہے۔ دو اشعار میں لگتا ہے کہ ردیف ’جائے گی‘ ہے، لیکن قوافی ؟؟ تیسرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض ’گی‘ ردیف ہے، اور قوافی جائے، چھائے وغیرہ ہیں۔

پھر عمل لائے گا رنگ، پھر سحرہوجائے گی
مصرع بحر سے خارج بھی ہے، ’عمل لانا ‘ صوتی اعتبار سے بھی برا لگتا ہے

نظم میں

جب فرائض کی بات ہوتی ہے
ماں پہ بیوی پہ بات ہوتی ہے
میں قافیہ کیا ہے؟

اس کے علاوہ ایک مصرع میں ’شجر‘ کو درد کے ہم وزن باندھا گیا ہے، جو غلط ہے۔ درست تلفظ، اضافت کے ساتھ بھی، ج پر زبر ہے۔
’انگلی‘ کی ’ی‘ کا اسقاط بھی بھلا نہیں لگتا۔
 

الف عین

لائبریرین
خرم شہزاد خرم

یہ مصرع بحر سے خارج ہے
میں وہ شکوہ ہوں جو گفتگو کے لیے

غزل کے ایک قافئے پر وہی بات کہوں گا جو احمد کو کہی تھی۔
وہ بات بات پہ جب کھلکھلا کے ہنستے ہیں
یقین مانو کہ ہم بے حساب سستے ہیں

میرے خیال میں املا کی اغلاط زیادہ ہیں، بیانیہ کی کم


ہمارے حال سے ہم کو نہ جانئے تنہا
اسی شعر کا دوسرا مصرع عجیب سا لگا
غموں کے ساتھ ہمارے ہزار دستے ہیں
دستوں سے مراد؟
 

الف عین

لائبریرین
@واسطی ختک غزل میں اکثر شتر گربہ کا عیب ہے

گرایا تو نے۔۔۔ چھوڑ دو

مطلع میں کم از کم ’تمُ نے کیا جا سکتا ہے

ہمیں باتیں کرو اپنی زمانہ چهوڑ دو صاحب
بے معنی مصرعہ ہے

عداوت کی زمینوں پر اگانا چهوڑ دو صاحب
//اگانا محض مجرد استعمال نہیں کیا جاتا، اس کے ساتھ ’کیا اگایا جائےُ کا جواب بھی ہونا تھا، یوں کیا جا سکتا تھا
عداوت کی زمیں پر فصل اگانا چهوڑ دو صاحب
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
نور سعدیہ شیخ

غزل کی زمین اچھی منتخب کی ہے ماشاء اللہ
مطلع اچھا ہے
دوسرے شعر میں ’ترے‘ کا محل ہے، ’تیرے‘ کا نہیں۔ لیکن یہ واضح نہیں ہوتا کہ ’ترے‘ کا تعلق ’فراق‘ سے ہے، یا ’روز و شب‘ سے؟ مفہوم کے اعتبار سے یوں نثر ہونی چاہئے کہ مرے روز و شب جو ترے فراق میں کٹ گئے۔

’دیتی ہوں‘ میں ’ی‘ کا اسقاط اچھا نہیں لگتا۔ ’باب‘ کا قافیہ دونوں اشعار میں پسند نہیں آیا۔

مَنُش ہوں رست زندگی کی شوخیاں لُبھاتی ہیں
مے اور شراب سے نکل سکوں تو کوئی کام ہو

پہلے مصرع میں ’رست‘ سے مراد؟ منش بمعنی انسان، یہ سنسکرت لفظ کا استعمال ہی کیوں
دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے۔ ’خم و شراب‘ کیا جا سکتا ہے

دوسری غزل کے مطلع میں ایطا ہے، اگرچہ شعر خوب ہے
راز جو تھا نہیں کُھلا برسوں
//بیانیہ کمزور ہے
راز جو کھل نہیں سکا برسوں
بہتر ہو گا
جو رہا تھا مجھ پہ فدا برسوں
// مصرع بحر سے خارج ہے۔
وہ جو کل ہے ہوا، ہوا برسوں
’وہ جو کل ہی ہوا، ہوا برسوں‘ کہیں تو شاید بہتر ہو
تیسری غزل
مثال دوں بھی تو کیا دوں جب ارسطو نے
’کہ جب ارسطو نے‘ بحر میں آتا ہے، یہ ٹائپو ہو سکتا ہے
دوانی جان کے کھاتے رے ترس تو لیکن
کسی نے تھام مرے ہاتھ آسرا نہ دیا
//دوانہ تو استعمال کیا جاتا ہے، لیکن دیوانی کو ’دِوانی‘ نہیں ۔ دِوانہ کہنے میں بھی کیا حرج ہے؟۔ یہ مصرع بحر سے خارج ہے، ’تو‘ کی ضرورت نہیں، دوسرا مصرع کا بیانیہ بھی درست نہیں
 

الف عین

لائبریرین
وفا عباس

خوش آئند بات یہ ہے کہ بحر و اوزان کا درست احساس ہے، مزاج میں ہی موزونیت ہے۔ لیکن یہی سب کچھ نہیں۔ خیال آرائی اور خیال کی نزاکت بھی کچھ ہوتی ہے، اور بیانیہ میں بھی ندرت کی ضرورت ہے۔ان چیزوں کا فقدان فی الحال تو محسوس ہوتا ہے۔ کم از کم پیش کردہ غزلوں میں۔ اس سے پہلے محفل میں کہیں کلام دیکھا نہیں، اس لئے مجھے اندازہ نہیں۔ کچھ باتیں محض
اگر شمع دل خاک تدبیر ہوتی
کہ ذلت میں یوں آج انساں نہ رہتا
ابلاغ سے کالی محسوس ہوتا ہے، اکر کچھ ربط ہے تو فی بطنِ شاعر۔ پہلی غزل میں تقریباً یہی صورت حال ہے

نفرت بھری دل
گرامر کی رو سے غلط ہے

’پے‘ کوئی لفظِ جار نہیں ہوتا، ’رگ و پے‘ والا ’پے‘ ہوتا ہے۔ حرفِ جار کے طور پر ’پر‘ ہی استعمال ہوتا ہے۔ نہ جانے اس کی جگہ ’پے‘ استعمال کرنے سے کیا مطلب ہے؟

چل پڑی بے ادب سے
بھی گرامر کی رو سے غلط ہے
چل پڑیں بے ادب سی
ہونا چاہئے تھا۔

کبھی دل میں حسرت کہ امکاں نہ رہتا
بے معنی محسوس ہوتا ہے

دوسری غزل۔ وہی دو لختی کا احساس
اس محفل میں اک وہ نہ تھی نم، جب دل نے پکارا اس دن تھا
جب دل سے دل کا دل نہ لگا، تب موت نے مارا اس دن تھا
کون نم نہیں تھی؟ آنکھ؟ کس کی؟ کچھ واضح نہیں
دوسرا مصرع مزے کا بیانیہ ضرور ہے، لیکن مفہوم سے عاری

روگِ محبت
غلط ترکیب ہے، شتر گربہ ہے ہندی اور فارسی کا

پھولوں پے جنازہ اس دن تھا
ہر پیڑ امارہ اس دن تھا
ہر درد کہ مارا اس دن تھا
یہ تینوں ٹکڑے بے معنی محسوس ہوتے ہیں کم از کم مجھے۔
 

الف عین

لائبریرین
کاشف سعید
تہاری غزل پر بات ہو چکی ہے۔ میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ نو آموز شعرا کو بحروں میں تجربے نہیں کرنا چاہئے۔

صائمہ شاہ
خوش کن تاثر ہوا تمہاری شاعری پڑھ کر، اب تک محض شک تھا کہ یہ لڑکی سخن فہم ہی نہیں، سخنور بھی ہو سکتی ہے۔ اب ثبوت ملا۔
پہلی غزل ماشاء اللہ اچھی ہے،
چھوٹی بحر میں لمبی باتیں
(بڑی وزن میں نہیں آتا نا!!)
بس یہ مصرع رواں نہیں
اُس کے آگے سب اک جیسے
اُس کے آگے ایک سے ہیں سب
بہتر ہوتا
کہ، نہ، کو میں ایک حرفی پسند کرتا ہوں۔
دوسری غزل بھی اچھی ہے، بس ایک آدھ جگہ غلطی محسوس ہوئی۔
وہی نوحہ خواں بنا ھے مرا
یہاں ’خَواں‘ وزن میں آتا ہے
وہی بس نوحہ خواں بنا ہے مرا
بہتر ہو جاتا
ہمیں منظور نہیں سوداگری سالوں کی
دل کے خانے سے اب عمر ہٹا لی جائے

پہلا مصرع ۔’سوداگری‘ محض سودگری تقطیع ہوتا ہے، جو اچھا نہیں لگتا۔ دوسرا مصرع وزن سے خارج ہے، یا ٹائپو ہے

خوشی
ماشاء اللہ نثری نظمیں تو اچھی کہہ لیتی ہو۔ کیا کروں یہ ’میری چائے کی پیالی نہیں ہے‘۔
 

الف عین

لائبریرین
ساقی۔
نظم زیادہ اچھی ہے، بس ’تم‘ اور ’تو‘ کا شتر گربہ ہے۔ غزل تو محض چار اشعار ہیں۔ ان میں بھی دو محض تک بندی ہیں،

ناعمہ عزیز
واہ یہ غزل تو استادانہ کہی ہمارے ناعمہ بیٹے نے!! غلطی نہیں، لیکن بس استعمال کے حساب سے ’زمان‘ اور اسی طرح ’فغان‘ اردو میں نہیں آتا، یہ ہمیشہ نون غنہ سے فصیح مانے جاتے ہیں۔
ترے جہان نے ہمیں تو بے امان کر دیا
کہ شہر کربلا میں ہم امان ڈھونڈتے رہے
دو لخت محسوس ہوتا ہے، اگرچہ الگ الگ دونوں مصرعے خوب ہیں۔ بہتر گرہیں لگا کر دو اشعار بنا دو۔
نظم بھی سادہ سی ہے، خوب ہے
نمرہ
مطلع اچھا ہے، پسند آیا۔ ’کنار‘ قافیہ کی وجہ سے لایا گیا ہے، حالانکہ بطور محاورہ ہمیشہ ’کنارہ کرنا‘ استعمال کیا جاتا ہے، ‘کنار کرنا ‘نہیں۔ باقی اشعار ماشاء اللہ عمدہ ہیں۔ پسند آئے۔
نظم کے جذبات تو سکول کالج کے طلباء کی ہی بات ہے۔ اقبال کے مصرعوں کا استعمال پسند آیا۔

منیب احمد فاتح
اچھی غزل کہی ہے، مترنم زمین میں اچھے مصرعے نکالے ہیں ماشاء اللہ،
کہنے لگا بہ صد فخر‘ تجھ سے ہزار ہیں اِدھر
یہاں ’فخر‘ کی ’خ‘ مفتوح استعمال ہوئی ہے، جو غلط ہے۔’غرور‘ کہنے میں کیا حرج ہے، اگر پہلے مصرع میں بھی قافیہ کا التزام رکھا جائے تو یوں کہہ سکتے ہو۔
کہنے لگا بہ صد غرور، تجھ سے ہزار ہیں ضرور
 

الف عین

لائبریرین
محمد بلال اعظم
یہ سارا کلام میرا دیکھا ہوا ہے؟ مجھے یاد تو نہیں۔ بہر حال کچھ نیا بھی محسوس ہوا ہے۔ اصلاح کے بغیر بھی درست ہیں اکثر اشعار۔
ممنون ہوں میں تیرا کہ تُو نے اے جانِ جاں
لاچار کر دیا، مجھے پاگل نہیں کیا
روئے ترے فراق میں، پر حوصلہ تو دیکھ
ہم نے تجھے بھلا دیا، قائل نہیں کیا
’پاگل‘ اور ’قائل‘ قوافی درست نہیں لگتے۔ قائل زیادہ تر ہمزہ پر کسرہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ لغت اس وقت نہیں میرے پاس، ورنہ ممکن ہے میں ہی ’قاءَل‘ ہو جاؤں
رنگِ حنا چمکے گا جب اِن ریشمی ہاتھوں میں
دیکھنا تب تم اِن ہاتھوں میں، مَیں یاد آؤں گا
ہاتھوں میں کوئی کس طرح یاد آ سکتا ہے، تعجب ہے۔



شاہد شاہنواز
پہلی اور تیسری غزل پسند آئی۔
دوسری کو غزل تو درست سمجھ رہے ہو، یہ دوسری بات ہے کہ مجھے محض تک بندی محسوس ہوئی۔


عابی مکھنوی
نظم کا خیال بہت خوب ہے۔ محض ایک مصرع
ایک پیکٹ کھیر کا
سے تاثر بگڑ جاتا ہے
ایک کھیر کا پیکٹ
کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وزن میں درست آ جاتا ہے۔
لیکن غزل میں ذرا اغلاط رہ گئی ہیں
روزانہ جشن سجتا ہے مری سنسان سڑکوں پر
روزانہ کو رُزانہ بنانا غلط ہے۔ جشن بھی سجتا نہیں ہے، محض ہوتا ہے۔
امیر شہر نے بانٹی یتیمی کس لیے ہم پر
’ہم پر ‘ کیوں؟
چوتھا، پانچوں شعر بھی تک بندی محض محسوس ہوتا ہے۔
دوسری غزل میں ایک تو روانی کی کمی ہے۔ زمین بھی مجہول سی ہے۔ دو اغلاط بھی نظر آئیں۔ ’پہچاں‘ غلط ہے۔ یہ ہندی النسل لفظ ہے، فارسی طرز پر اسے غنہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح
بُلند کلمہ بِلالی تُو ذرا شوقِ سزا میں کر
میں ’بلند‘ کی دال تقطیع میں نہیں آتی۔

مانی عباسی
پہلی غزل تو استادانہ ہے، یعنی خوب ہے۔ دوسری بھی خوب ہے۔ اغلاط سے پاک۔
لیکن تیسری غزل کی ردیف پسند نہیں آئی۔ اگرچہ کوئی فاش غلطی اس میں بھی نہیں۔ لیکن ردیف کی وجہ سے تک بندی محسوس ہوتی ہے۔



عظیم
تینوں غزلیں خوب ہیں، اور میری نظر اصلاح سے گزر چکی ہیں، اس لئے کوئی نمایاں غلطی بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ مبارکباد قبول کرو۔

ابن رضا
پہلی ایک مخصوص مزاج کی غزل ہے، جسے ادبِ اسلامی کہنا چاہئے۔
کوئی جو گم شدہ اپنا اچانک مل گیا ہو
مصرع میں روانی کم ہے، بہتر کیا جا سکتا ہے۔
دوسری غزل الگ مزاج کی، اصل غزل ہے۔ سادہ ،سہل ممتنع، اور خوب۔، مبارکباد
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top