روحانی اقوال

الف نظامی

لائبریرین
اس سوفٹ ویئر کا انگریزی میں نام لکھ دیں تاکہ میں بھی ڈاؤن لود کرسکوں
نوٹ پیڈ
مثلا آپ اپنے متن کونوٹ پیڈ میں کاپی کریں اور
کنڑول+h دبائیں فانڈ اینڈ ری پلیس آ جائے گا
متن میں سے کسی حرف کا انتخاب کریں اور اس کو" فانڈ وٹ" میں لکھ دیں پھر ری پلیس ود میں اسی حرف کو اپنے اردو کی بورڈ سے لکھ کر ری پلیس آل پر کلک کر دیں۔
روحانی بابا
 
10518965_649620861785800_5710549619475861391_n.jpg


کہتے ہیں کسی جگہ ایک دیہاتی نے کافی بھیڑیں پال رکھی تھیں۔ وہ اُن کی بہت اچھے سے نگہداشت کرتا، چارہ ڈالتا، پانی ڈالتا۔ سردیوں میں سردی سے، اور گرمیوں میں گرمی سے بچاتا۔

لیکن وہ یہ سب بے مقصد نہیں کرتا تھا۔ گرمیوں میں وہ اُن سب بھیڑوں کی وقفے وقفے سے اُون اتارتا جسے بیچ کر وہ کافی منافع کماتا اور اگر کبھی اُس کے گھر زیادہ مہمان آتے تو وہ اُن کی خاطر مدارت بھی بھیڑ کے گوشت سے ہی کرتا۔

لیکن اُس کا طریقہ ہوتا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی بھیڑ کی اُون اُتارتا یا کسی کو ذبح کرتا تو اپنی حویلی سے ذرا دور جا کر کرتا تاکہ دوسری بھیڑوں کو اِس کا علم نہ ہو۔

دوستو! اگرچہ وہ دوسری بھیڑوں کے سامنے نہ تو اُون اتارتا اور نہ ہی ذبح کرتا تھا، لیکن جیسے ہی کبھی مالک ایک بھیڑ کو کان سے پکڑ کر باہر لیجاتا تو باقی بھیڑیں دُعائیں مانگنتیں کہ "یااللہ! اُن کی ساتھی زندہ واپس آ جائے۔۔!"۔ اور جب وہ بھیڑ اپنی اُون اتروانے کے بعد خوش قسمتی سے زندہ واپس آ جاتی تو سب بہت خوش ہوتیں کہ "چلو! اُون ہی اتاری ہے ذبح تو نہیں کیا۔۔!"۔

لیکن جب کبھی مالک کسی بھیڑ کو لے کر جاتا اور وہ کافی دیر تک وہ واپس نہ آتی تو باقی بھیڑیں خود ہی سمجھ جاتیں کہ وہ ذبح ہو گئی ہے، پھر کچھ دیر کے لیے سب غمگین اور افسردہ ہو جاتیں، لیکن پھر آہستہ آہستہ بھوک، پیاس مٹانے کے چکر میں سب کچھ بھول جاتیں۔ حالانکہ وہ سب جانتی تھیں کہ یہ سلسلہ کبھی رکنے والا نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ پل بھر کے لیے سارے غم بھلا کر چارہ کھانے میں مصروف ہو جاتیں۔ اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا۔

دوستو! اگر غور کریں تو ہم انسانوں کی زندگی بھی اِن بھیڑوں سے مختلف نہیں ہے۔ اگرچہ ہمیں معلوم ہے کہ موت برحق ہے، اور ایک دن واقعی مر جانا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کبھی خوش قسمتی سے ہم میں سے کوئی کسی بڑے حادثے یا بیماری سے بچ جاتا ہے تو ہم سب خوش ہو جاتے ہیں، کہ چلو جان تو بچ گئی۔

اور اگر کبھی خدانخواستہ کوئی چل بستا ہے تو ہم سب اُس کے غم میں گھڑی بھر کے لیے غمگین ہوتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں۔ لیکن پھر بھیڑوں کی طرح اپنی روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں سب کچھ بھلا کر پھر سے دنیاداری میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔

اللہ ہم سب کو موت کی گھڑی کو یاد رکھنے اور اِس کے لیے کما حقہ تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
 
اﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
"ﻋﻮﺭﺕ ﺗﻮ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺟﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺳﺎﺋﺰ
ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﺑﺪﻝ ﻟﻮ"
ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ
ﺩﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ..
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﮐﮩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ
ﮐﯿﺎ ﺭﺍﺋﮯ ﮨﮯ؟؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ....
"ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ
ﺻﺤﯿﺢ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ .. ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ
ﮐﻮ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ..
ﺟﺒﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺝ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺑﮭﯽ
ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﻮ
ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮ"
ﮐﺴﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﮩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ
ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻣﺖ ﺩﻭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻇﺮﻑ
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
 
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﯿﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺁﺋﮯ
ﮨﯿﮟ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ
ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ . ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮭﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺒﮭﯽ
ﮐﺴﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍُﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ
ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ . ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ
ﮐﺮﻭﺍﺩﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ .

ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ
ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﻭﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ . ﺟﺐ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﺏ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺁﭖ
ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ
ﻭﺍﺩﺋﯿﮯ .

ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ میں بادشاہ ایک خوبصورت نصیحت کی کہ : ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ - -
 
سجدہ ..
ہم اپنے بابا جی کے پاس بیٹھے تھے بابا جی کہنے لگے بھئی سجدہ کیا ہوتا ہے ہم میں سے ایک دوست بولے بابا جی نماز میں جیسے ہم سر زمین پر رکہتے اسے سجدہ کہتے ہیں ... بابا جی جواب سُن کے مُسکرائے اور کہنے لگے کبھی سوچا نہیں یہ کیا ہے ہم کیا کرتے ہیں .. ہم سب خاموش ہو گئے بابا جی کہنے لگے بھئی اگر سر ہی رکھنا ہے تو الٹا رکھ دینے سے ترچھا رکھنے سے بھی سجدہ ہو جاتا ہے؟؟ ہم نے نفی میں سر ہلایا پھر کہتے ہے دیکھو بھئی سجدہ وہ ہوتا ہے جس میں آپ کی باڈی کا ایڈمینسٹرٹر (دماغ) جو باڈی کے ہر عضو کا کنٹرولر ہے جو کے باڈی میں سب سے ٹاپ پے رکھا گیا ہے جیسے یہ پرائم منسٹر کی سیٹ پے بیٹھا ہے اور ہر اک جسم کے حصّے کو آرڈر جاری کر رہا ہے جب یہ اپنے آرڈر سے دستبدار ہوتا ہے اور اپنی "پیشانی" ٹیک دیتا ہے پھر کہنے لگے یہ پیشانی کیا ہے؟؟ ہم چپ تھے کہتے ہیں دیکھو پیشانی پر غور کرو پیش + آنی مطلب ہماری تقدیر جب ہمارا ایڈمینسٹرٹر خود پیشانی کے بل زمین بوس ہو اور اقرار کر لے کے میں اپنی تقدیر اور تدبیر سے باز آیا جیسے تو چاہے گا میں جسم پر ایسا ہی آرڈر جاری کرو گا .. تب سجدہ ہوتا ہے .. یہ سجدہ نھیں ہے کے سر کو زمین پر ٹیک کر بھی اپنی تدبر کے تانے بانے بُنتے رہیں .. میں نے کہا بابا جی یہ تدبر کے تانے بانے سے کیا مراد ہے کہنے لگے ہماری فیوچر پلاننگ ہمارے تانے بانے ہیں ..
 
اورنگ زیب عالمگیر نے راجپوت سرداروں کے ایک جیش کو ایک دور دراز مہم پر بھیجا تھا۔ جُگ بیت گئے۔ چاندنی راتیں آئیں اور اپنی چاندی لُٹا کے گزر گئیں۔ کتنے ہی ساون آئے اور نین کٹوروں کو چھلکا کر چلے گئے۔ پر وہ نہ لَوٹے ۔ نہ نیند نیناں نہ انگ چینا، نہ آپ آویں، نہ بھجیں پتیاں۔
آخر برہ کی ماری ٹھکرانیوں نے بادشاہ کو ایک عرضداشت پیش کی جو صرف ایک دوہے پر مشتمل تھی:
سونا لاون پی گئے،__سُونا کرگئے دیس
سونا ملے نہ پی ملے، رُوپا ہوگئے کیس
(پیا سونا لینے گئے اور ہمار ا دیس سُونا کرگئے۔ ہمیں تو نہ سونا ملا، نہ پی ملے اور بال چاندی ہو گئے۔)
 

الف نظامی

لائبریرین
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﯿﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺁﺋﮯ
ﮨﯿﮟ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ
ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ . ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮭﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺒﮭﯽ
ﮐﺴﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍُﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ
ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ . ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ
ﮐﺮﻭﺍﺩﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ .

ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ
ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﻭﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ . ﺟﺐ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﺏ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺁﭖ
ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ
ﻭﺍﺩﺋﯿﮯ .

ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ میں بادشاہ ایک خوبصورت نصیحت کی کہ : ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ - -
ایک بادشاہ کو خبرملی کہ اس کے شہرمیں بہت ہی نیک بزرگ آئے ہیں . بادشاہ نے ان سےملنے کی کوشش کی ، لیکن ان سے ملاقات نہ ہو سکی . شہر کے کئی دروازے تھے . بادشاہ کبھی کسی دروازے کے پاس تو کبھی کسی دروازے کے پاس اُن بزرگ کا انتظار کرتا ، لیکن دوسرے دن پتا چلا کہ وہ تو کسی اور دروازے سے شہرمیں داخل ہوگئے . آخر کار بادشاہ نے سارے دروازے بند کروادئیے اور ایک دروازہ کھلا رکھ کر وہاں ان کا انتظار کرنے لگا .
جب ایک ہی دروازہ کھلا رہ گیا تو بزرگ کا وہیں سے گزر ہوا . جب بادشاہ کی ان سےملاقات ہوئی تو بادشاہ نے کہا : اب جا کر آپ سے ملاقات ہوئی جب میں نے شہر کےسارے دروازے بند کروادئیے .
بزرگ نے جواب میں بادشاہ کو ایک خوبصورت نصیحت کی کہ :
انسان کو رب کی راہ بھی اس وقت نصیب ہوتی ہے جب وہ سارے دروازے بند کرکے صرف ایک دل کا دروازہ کھلا رکھتا ہے -
 
اوکھے پینڈے، لمیاں نے راہواں عشق دیاں
درد جگر، سخت سزاواں عشق دیاں
اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو اللہ

ہائے پھلُاں ورگی جندڑی عشق رُلا چھڈدا
سرِ بازار چاوے عشق نچا چھڈدا
اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو اللہ ہو

ہائے ککھ نہ چھڈے، ویکھ وفاواں عشق دیاں
اوکھے پینڈے، لمیاں راہوں عشق دیاں
اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو

ہر ہر دل، ہر تھاں وچ عشق سمایا اے
عرش فرش تے عشق نے قدم ٹکایا اے
اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو

عین چوداں طبقاں اندر تھاواں عشق دیاں
اوکھے پینڈے لمیاں راہواں عشق دیاں
اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو

عین باطن عین الحق صداواں عشق دیاں
اوکھے پینڈے لمیاں راہواں عشق دیاں
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو حق اللہ ہو ہو ہو
نایاب محمود احمد غزنوی
 
ﯾﮧ ﺣﺪﯾﮟ ﻧﮧ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ، ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ، ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺎﻓﻈﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﻮﺟﮫ ﺧﻮﺩ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ، ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺮﺏ ﺁﭖ ﺳﮩﻨﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﺑﺎﻧﭧ ﻟﯿﻨﺎ ، ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺗﺠﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﺣﮑﻢ ﺧﻮﺩ ﺳﻨﻨﺎ ، ﻣﯿﺮﯼ ﻣﮩﺮ ﺧﻮﺩ ﻟﮕﺎﻧﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ، ﻣﯿﺮﮮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﺎ ، ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻤﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﻧﺎ ، ﻣﯿﺮﮮ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﮧ ﻧﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﮑﺲ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻨﮓ ﻣﯿﻞ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﻟﮑﯿﺮﯾﮟ ﺗﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﻤﮑﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ، ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺍﺋﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
محمود احمد غزنوی نایاب تلمیذ سید زبیر
 
ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻮ ﺣُﮑﻢ ﻣﺠﺎﻭﺭﯼ ﮨﮯ ،،،،،،،،، !!!
ﻣﺰﺍﺭِ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﻮﻥ ﻣﺪﻓﻦ ؟
ﯾﮧ ﮐﺲ ﻋﺮﻭﺳﮧ ﮐﺎ ﻣﻘﺒﺮﮦ ﮨﮯ ؟
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺒﮧ ،،،،،،، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺨﺘﯽ ،،،،،،
ﻧﮧ ﺳﻨﮓِ ﻣﺮﻣﺮ ﮐﯽ ﺳِﻞ ﭘﮧ ﻟِﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ،،،
ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻌﺮ ،،،،
ﻓﻘﻂ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﺋﯿﻨﺘﯽ ﺗﮏ
... ﺍﻣﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻞ ﺍِﮎ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ،،،،،،،،،
ﺟﻮ ﺍِﮎ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﭨﮭﮑﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻋﺎﺷﻘﯽ ﮐﺎ
ﯾﮧ ﭘﯿﺮ ﺧﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻋﺎﺷﻘﯽ ﮐﺎ
ﮐﺴﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﮧ
ﯾﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﻣﺪﻓﻦ
ﻓﻘﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ
ﺍﺳﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮨﮯ ﻭﺍﺭﺙ
ﮐﯽ ﮨﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ
ﻣﮕﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ
ﻣﺠﺎﻝ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ
ﯾﮩﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﻮﻟﮯ
ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ !!
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﺐ ﺗﻮ
ﺳِﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ
ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ
ﺳِﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ
"ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻮ ﺣُﮑﻢ ﻣﺠﺎﻭﺭﯼ ﮨﮯ ،،،
 
محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے
دھنک سے رنگ لے لینا
ستاروں سے دمک لینا
سحر سے روشنی لینا
گُلوں سے دلکشی لینا
مغنّی بلبلوں سے نغمگی لینا
علی الصبح جاگ جانا
اوس کے قطروں سے تم
پاکیزگی اور تازگی لینا
صباحت حور سے لینا
ملاحت تم مِرے محبوب سے لینا

ہزاروں بھید والے
کالے برِّاعظم کے تحیّر خیز خطے میں چلے جانا
بہت مخصوص جنگل میں
قلانچیں مارتے آہو کا رَم تسخیر کر لینا
اور اُس کے نافہ مغزن صفت سے
خوشبوئے جادو اثر لینا
جسے سب مُشک کہتے ہیں

لگے جب جنگلوں میں آگ
اس آتش کے شعلوں سے
غضب کی تم لپک لینا
سمندر سے تحمل، ضبط اور گہرائی لے لینا

محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے

بہاروں سے یہ کہنا
اپنی شادابی تمھیں دے دیں
کسی سرسبز وادی میں
چمکتی جھیل پر جب کالے بادل جھوم کر چھائیں
ہوا رُک جائے
بارش کی بہت ننھی سی بے حد دلنشیں شہزادیاں
بوندوں کی نازک پالکی میں جب اُتر آئیں
تو یہ منظر چُرا لینا

یہ سارے رنگ اور منظر تمھارے ہاتھ آجائیں
مگر پھر بھی اُدھوری سی تمھیں تصویر لگتی ہو
طرب زارِ تمنا میں المناکی ضروری ہو
محبت کی اگر یہ مونا لیزا بن نہیں پائے
تو پھر اِک کام تم کرنا
مِرے ٹوٹے ہوئے دل کی
ہر اِک کرچی اُٹھا لینا
یہی جوہر تو اس تصویر میں
اِک روح پھونکے گا
محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے....
محمود احمد غزنوی نایاب سید زبیر تلمیذ الف نظامی محمد وارث فاتح
 

فاتح

لائبریرین
محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے
دھنک سے رنگ لے لینا
ستاروں سے دمک لینا
سحر سے روشنی لینا
گُلوں سے دلکشی لینا
مغنّی بلبلوں سے نغمگی لینا
علی الصبح جاگ جانا
اوس کے قطروں سے تم
پاکیزگی اور تازگی لینا
صباحت حور سے لینا
ملاحت تم مِرے محبوب سے لینا

ہزاروں بھید والے
کالے برِّاعظم کے تحیّر خیز خطے میں چلے جانا
بہت مخصوص جنگل میں
قلانچیں مارتے آہو کا رَم تسخیر کر لینا
اور اُس کے نافہ مغزن صفت سے
خوشبوئے جادو اثر لینا
جسے سب مُشک کہتے ہیں

لگے جب جنگلوں میں آگ
اس آتش کے شعلوں سے
غضب کی تم لپک لینا
سمندر سے تحمل، ضبط اور گہرائی لے لینا

محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے

بہاروں سے یہ کہنا
اپنی شادابی تمھیں دے دیں
کسی سرسبز وادی میں
چمکتی جھیل پر جب کالے بادل جھوم کر چھائیں
ہوا رُک جائے
بارش کی بہت ننھی سی بے حد دلنشیں شہزادیاں
بوندوں کی نازک پالکی میں جب اُتر آئیں
تو یہ منظر چُرا لینا

یہ سارے رنگ اور منظر تمھارے ہاتھ آجائیں
مگر پھر بھی اُدھوری سی تمھیں تصویر لگتی ہو
طرب زارِ تمنا میں المناکی ضروری ہو
محبت کی اگر یہ مونا لیزا بن نہیں پائے
تو پھر اِک کام تم کرنا
مِرے ٹوٹے ہوئے دل کی
ہر اِک کرچی اُٹھا لینا
یہی جوہر تو اس تصویر میں
اِک روح پھونکے گا
محبت کے تصوّر کو اگر تصویر کرنا ہے....
محمود احمد غزنوی نایاب سید زبیر تلمیذ الف نظامی محمد وارث فاتح
واہ واہ کیا ہی خوبصورت نظم پڑھوا دی آپ نے۔۔۔ بہت شکریہ
 
مراکش میں ایک خانقاہ ہے جہاں کوئی حصول علم کے لئے جاتا تو اس کا سر منڈوا دیا جاتا اور اسےبڑے دروازے پر بٹھا دیا جاتا کہ وہ ہر آنے والے کے جوتے سیدھے کرتا رہے، جب وہ پورے ذوق و شوق سے یہ کام کرنے لگتا تو اسکی ترقی کر دی جاتی اور اسے مہمانوں کے کھانے کے بعد برتن اٹھانے پر لگا دیا جاتا، جب وہ اس میں بھی اپنا شوق شامل کر لیتا تو اسے برتن دھونے کی ڈیوٹی دے دی جاتی، جب وہ اس میں بھی اپنی لگن سے کامیاب ہو جاتا تو اسے مہمانوں کو کھانا پیش کرنے پر معمور کر دیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔ حتیٰ کی ترقی کرتے کرتے وہ صاحب علم مرشد کا قرب حاصل کر لیتا کیونکہ اب اس میں وہ انا جو پہلے دن تھی موجود ہی نہ تھی۔ لہٰذا انا ایک رکاوٹ ہے حصول علم و معرفت میں۔
"مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں 'جب میں اور تُو ایک ہو جاتے ہیں تو دوئی نہیں رہتی جب دوئی ہی نہ رہے تو انا کیسی'"
انا جب تک، فنا کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتی،
نماز عشق سے دل کی جبیں محروم رہتی ہے۔
 
ابولہب مردود ، جناب رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا قریبی ترین ہمسایہ تھا - رسول الله اور اس مردود کے گھروں کے درمیان صرف ایک دیوار تھی - اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب بن امیہ، ابوسفیان کی سگی بہن تھی، وہ اپنے بھائی اور شوہر سے بھی زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمن تھی ۔ ان جہنمیوں کا جوڑا، بطور ہمسایہ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت سخت تکلیف اور اذیت پہنچاتا ہی تھا - مگر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر نکلتے اور لوگوں کو دعوت اسلام دینے جاتے تو یہ ابولہب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگ جاتا اور جب آپ تبلیغ فرماتے تو یہ چیخ چیخ کے لوگوں کو کہتا جاتا کہ یہ شخص (رسول اکرم) جھوٹا ہے (معاذ الله) اور اس کی کبھی بات نہ ماننا - اجنبی لوگ دریافت کرتے کہ یہ کون آدمی ہے - اور جب انھیں معلوم ہوتا کہ یہ رسول اکرم کا چچا ہے تو لوگ اس بات سے اثر لیتے اور رسول اکرم کے کار تبلیغ کو سخت نقصان پہنچتا -
ابو لہب كانام عبدالعزیٰ تھا تاہم یہ اپنی کنیت (ابولہب) کے نام سے زیادہ مشہور تھا اسی لئے قرآن کے آخری پارے میں موجود ''سورہ لہب'' اس کے اسی نام سے معنون کیا گیا - اس كے ليے اس كنيت كا انتخاب شايد اس وجہ سے تھا كہ اس كا چہرہ سرخ اور بھڑكتا ہوا تھا، چونكہ لغت ميں لہب آگ كے شعلہ كے معنى ميں ہے - اس کی بیوی ام جمیل کانٹے دار لکڑیاں اکٹھی کرتی اور پھر یہ دونوں ان لکڑیوں کو آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پے بچھا دیتے کہ جب حضرت گھر سے باہر تشریف لائیں تو آپ زخمی ہوں اور آپ کو تکلیف پہنچے -
''طارق محارق '' نامى ايك شخص كہتاہے : ميں '' ذى المجاز '' (ذى المجار عرفات كے نزديك مكہ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے) كے بازار ميں تھا-
اچانك ميں نے ايك جوان كو ديكھا جو پكار پكار كر كہہ رہا تھا: اے لوگو: لاالہ الا اللہ كا اقرار كر لو تو نجات پا جاؤ گے - اور اس كے پيچھے پيچھے ميں نے ايك بوڑھے شخص كو ديكھا جو اس جوان كے پاؤں كے پچھلے حصہ پرپتھر مارتا جاتا ہے جس كى وجہ سے اس كے پاؤں سے خون جارى تھا اور چلا چلا كر كہہ رہا تھا _اے لوگو يہ جھوٹا ہے اس كى بات نہ ماننا ''_
ميں نے پوچھا كہ يہ جوان كون ہے ؟ تو لوگوں نے بتايا :'' يہ محمد، ، (ص) ہے جس كا گمان يہ ہے كہ وہ پيغمبر ہے اور يہ بوڑھا اس كا چچا ابولہب ہے جو اس كو جھوٹا سمجھتا ہے _
اس نے دو ایک بار رسول اکرم (ص) کی شان میں گھستاخی کرتے ہوے ''تباً '' کا لفظ ادا کیا تھا جس کا واقع کچھ یوں ہے کہ جب حضرت (ص) کوہ صفا پر الله کے حکم سے علانیہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے تشریف لے گئے اور لوگ رسول الله (ص) کی دعوت سن کر خاموشی سے یا ہنستے ہوے واپس چلے گئے تو اس نے رسول الله سے کہا ''تبالک الہٰذا اجمعتںا'' یعنی ، ہلاکت ہو تیرے لیے- کیا اس لئے تو نے ہم سب کو اکٹھا کیا ؟
ذوالجلال والاکرام کو اس کی اس حرکت پر جلال آیا اور ارشاد ربانی ہوا ،
''١- تبّت یدا ابی لھب وتب ٢- ما اغنی عنہ ما لہ وما کسب ٣- سیصلیٰ نارا ذات لھب ٤-امراتہ حما لة الحطب ۵۔ فی جیدھاحبل من مسد'' (سوره لہب ، آخری پارہ)
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے
۱۔ ابو لہب کے دونوں ہاتھ کٹ جائیں(اور وہ ہلاک ہو جائے)۔
۲۔ اس کے مال و دولت نے اور جو کچھ اس نے کمایا ہے اسے ہر گز کو ئی فائدہ نہ دیا۔
۳۔ وہ جلدی اس آگ میں داخل ہوجائے گا جس کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔
۴۔ اور اسی طرح سے اس کی وہ بیوی جو ایندھن اٹھانے والی ہے ۔
۵۔ اور اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہے ۔
ابو لہب کی بیوی اُم جمیل نے یہ خبر سنی کہ یہ سورہ اس کے اور اس کے شوہر کے بارے میں نازل ہوا ہے تو وہ آپ کے پاس آئی ،لیکن وہ آپ کو نہ دیکھ سکی ۔اس کے ہاتھ میں ایک پتھر تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ میں نے سنا ہے محمّد نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے مل گیا تو میں یہ پتھر اس کے منہ پر دے ماروں گی، میں خود بھی شاعر ہوں اس کے بعد اس نے پیغمبر اسلام کی مذمّت میں شعر کہے -
اس سوره کا آغاز بظاھر ایک بد دعا کے طور پر ہوتا ہے مگر یہ ایک بد دعا سے زیادہ مستقبل کی خبر اور الله لم یزل کے حکم کو بھی بیان کرتی ہے کہ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے (مفلوج ہوگیا) اور بےبس ہو کر ہلاک ہوا - چناچہ چند سال بعد جنگ بدر میں جب جناب امیر علیہ السلام نے قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی ناک رگڑی اور ان کو قتل کر دیا تو اسے سخت صدمہ پہنچا جس سے یہ ایک نہایت سخت موذی اور متعدی مرض میں مبتلا ہو گیا کہ اس کے گھر والوں نے ہی اس سے دوری اختیار کرلی - یہ جنگ بدر کے بعد ایک ہفتے سے زیادہ زندہ نہ رہا اور واصل جہنم ہو گیا - اس کے گھر والے اس کو دفناتے بھی نہ تھے یہاں تک کہ بےگور و کفن رہنے کی بعد جب اس کی لاش گلنے سڑنے لگی اور اس میں سے شدید تعفن اٹھنے لگا تو کچھ مزدوروں کو جو حبشی تھے بلایا گیا اور ایک گڑھا بطور قبر کهود کر بانسوں سے دھکیل کر اس کی لاش کو گڑھے تک پہنچایا گیا اور گڑھے میں گرا کر مٹی ڈال کر گڑھا پر کر دیا گیا -
اور سوره میں جو ام الجمیل کو حما لة الحطب (ایندھن ڈھونے والی) کہا گیا ہے تو اس سے مرد یہ ہے کہ یہ فتنہ فساد کی آگ میں ایندھن ڈالا کرتی تھی - اور گردن میں مونجھ کی رسی کا جو ذکر ہوا ہے تو اس کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی گردن میں موتیوں کا ہار پڑا رہتا تھا تاہم اب مونجھ کی رسی سے مراد جہنم کی آگ کی رسی ہے -
جب مكہ سے باہر كے لوگوں كا کوئی گروہ اس شہر ميں داخل ہوتا تو وہ پيغمبر (ص) سے رشتہ دارى اور سن وسال كے لحاظ سے بڑا ہونے كى بنا پر ابولہب كے پاس جاتا تھا اور رسول اللہ (ص) كے بارے ميں تحقيق كرتا تھا - وہ جواب ديتا ''محمد ايك جادوگر ہے '' لہٰذا وہ لوگ وہ بھى پيغمبر سے ملاقات كئے بغير ہى لوٹ جاتے -
ايك مرتبہ ایک ايسا گروہ آيا جنہوں نے يہ كہا كہ ہم تو انھیں ديكھے بغير واپس نہيں جائيں گے ابولہب نے كہا : ''ہم مسلسل اس كے جنون كا علاج كررہے ہيں : وہ ہلاك ہوجائے ''_
وہ اكثر مواقع پر سايہ كى طرح پيغمبر كے پيچھے لگارہتا تھا اور كسى خرابى سے فروگذاشت نہ كرتا تھا خصوصاً اس كى زبان بہت ہى گندى اور آلودہ ہوتى تھى اور وہ ركيك اورچبھنے والى باتيں كيا كرتا تھا اور شايد اسى وجہ سے پيغمبر اسلام (ص) كے سب دشمنوں كا سرغنہ شمار ہوتا تھا اسى بناء پر قرآن كريم اس پر اور اس كى بيوى ام جميل پر ايسى صراحت اور سختى كے ساتھ تنقيد كررہا ہے وہى ايك اكيلا ايسا شخص تھا جس نے پيغمبر اكرم (ص) سے بنى ہاشم كى حمايت كے عہد وپيمان پر دستخط نہيں كئے تھے اور اس نے آپ كے دشمنوں كى صف ميں رہتے ہوئے دشمنوں كے عہد وپيمان ميں شركت كى تھی -
یہ مردود چوبیس رمضان سن ٢ ہجری میں اپنے حقیقی انجام کو پہنچا -
 
ہائے بچپن تجھے کیسے واپس لائیں
ﻣﺤﻠﮯ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ
ﻭﮦ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﺟﺴﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻧﺎﻧﯽ
ﻭﮦ ﻧﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑ۔ﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮈﯾﺮﺍ
ﻭﮦ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﮭﯿﺮﺍ
ﺑﮭﻼﺋﮯ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﮭﻮﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐ۔ﻮﺋﯽ
ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺭﺍﺗﯿﮟ، ﻭﮦ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ
ﮐﮍﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﺎ
ﻭﮦ ﭼﮍﯾﺎﮞ، ﻭﮦ ﺑﻠﺒﻞ، ﻭﮦ ﺗﺘﻠﯽ ﭘﮑﮍﻧﺎ
ﻭﮦ ﮔﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﮧ ﻟﮍﻧﺎ ﺟﮭﮕﮍﻧﺎ
ﻭﮦ ﺟﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮﻧﺎ، ﻭﮦ ﮔﺮﺗﮯ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﺎ
ﻭﮦ ﭘﯿﺘﻞ ﮐﮯ ﭼﮭﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺗﺤﻔﮯ
ﻭﮦ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﮌﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﭘﮧ ﺟﺎﻧﺎ
ﮔﮭﺮﻭﻧﺪﮮ ﺑﻨﺎﻧﺎ، ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﻣﭩﺎﻧﺎ
ﻭﮦ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺍﭘﻨﯽ
ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ، ﮐﻬﻠﻮﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﭘﻨﯽ
ﻧﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻏﻢ ﺗﮭﺎ، ﻧﮧ ﺭﺷ۔ﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮬﻦ
ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﺎﻧﯽ
 
دھوکے بازی....

برطانیہ کا ایک آرٹسٹ ہے جس کا نام سٹیفن پریسٹلی ہے...چیسٹر ( انگلینڈ ) میں ایک نیلام میں اس کی چار تصویریں رکھی گئی..اس کی تصویروں کی قیمت ایک پونڈ لگی... چناچہ سٹیفن پریسٹلی کو ایک پونڈ کا چیک دے دیا گیا...برطانوی آرٹسٹ ایک پونڈ کا چیک پا کر بہت خفا ہوا...
اس کے نزدیک اس کی ان چار تصویروں کی قیمت اس سے بہت زیادہ تھی جتنی اس کو ملی... اس نےاپنے چیک پر 1 پونڈ کی رقم کو 1001 پونڈ بنا دیا...وقتی طور پر اس نے بنک والوں سے 1001 پونڈ کی رقم حاصل کر لی...
مگر جلد ہی بنک والوں کو معلوم ہوگیا ... اس کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ( ہندوستان ٹائمس 2 اکتوبر 1981 )

اس معاملے کا تعلق دنیا سے ہے..مگر اس میں آخرت کے معاملے کی تصویر بھی دیکھی جاسکتی ہے...
بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس ایک پونڈ کا "عمل" ہے مگر وہ اس کو ایک ہزار ایک پونڈ کا دکھا کر کیش کرانا چاہتے ہیں...کوئی دین کا ایک جزوئی کام کر رہا ہے اور اسی کو وہ کلی کام بتاتا ہے...
کوئی ذاتی شہرت کے لیے سرگرم ہے اور اسی کو خدمتِ دین کا عنوان دئیے ہوئے ہے..کوئی قومی عصبیت کے تحت متحرک ہے اور اس کو اسلامی تحریک قرار دینا چاہتا ہے...
کوئی اپنے سیاسی ذوق کی تسکین کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اسلامی نظام قائم کرنے اٹھا ہے...
کوئی بحثوں اور مناظروں میں مصروف ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ احیائے اسلام کا مجاہد ہے...
ان میں سے ہر شخص اپنے معمولی عمل کو بڑا عمل ثابت کر کے خوش ہے مگر موت ان ساری خوش فہمیوں کو باطل کردے گی...
موت کے بعد آنے والی عدالت میں ایسے تمام لوگ دھوکےبازی کے مجرم قرار پائیں گے...
خواہ آج کی دنیا میں وہ اپنے ایک پونڈ کے چیک سے ایک ہزار ایک پونڈ کی رقم کیش کرانے میں کامیاب ہو گئے ہوں...
 
مَیں بیٹھے بیٹھے اُٹھا اور ناگہاں ، ناچا
جو ناچتے مُجھے دیکھا تو لامکاں ، ناچا

وُہ رقصِ خاص کہ ایجاد کر چُکا تھا مَیں
لگا کے آگ مَیں خود اس کے درمیاں ناچا

مَیں ناچتے ھوئے کیسے حساب رکھ سکتا
کہاں زیادہ ، کہاں کم ، کہاں کہاں ، ناچا

نہ جانے کونسی ھستی کی دل میں مستی تھی
دِکھا دِکھا کے بدن کا ، رُواں رُواں ، ناچا !!

نہ جانے کیا تھا مرے سَر میں اس طرح رقصاں
سر آستاں پہ جُھکایا تو آستاں ، ناچا

کنارِ خواب بھی خستہ منڈیر ھو جیسے
پھسل گیا تو یہ جانا کہ رائیگاں ، ناچا

پھل آنسووں کے لگے میرے نخلِ گِریہ پر
پھلوں کو دیکھا ، چُھوا ، اور باغباں ، ناچا

لُغت میں اپنی جگہ آپ ھی بناوں گا
مَیں ایک بار جو ناقابلِ بیاں ناچا۔۔۔

یہ جاں نکالنا آسان تو نہیں صٓاحب
بُجھا کے شُعلہ مری رُوح کا دُھواں ناچا
محمود احمد غزنوی نایاب سید زبیر تلمیذ الف نظامی محمد وارث فاتح
 
Top