عجیب دکھ ہیں ۔۔ از ناعمہ عزیز

ناعمہ عزیز

لائبریرین
عجیب دکھ ہیں ،
عجیب دکھ ہیں جو دل کے اندر اداسیوں کا اندھیرا کر کے براجماں ہیں
عجیب دکھ ہے کہ تم اندھیری قبر میں تنہا اکیلے ہی ہو
ہاں یہ بھی دکھ ہے کہ ہم یہاں ایک چھت کے نیچے جو سو رہے ہیں
مگر نا بھولو
کہ یہ بھی دکھ ہے تری جدائی جو سہہ رہے ہیں
جو رو رہے ہیں
عجیب دکھ ہیں
جو اندر اندر غموں سے ہم کو بھگو رہے ہیں ۔۔۔
از ناعمہ عزیز ۔۔۔
 
آخری تدوین:
عجیب دکھ ہیں ،
عجیب دکھ ہیں جو دل کے اندر اداسیوں کا اندھیرا کر کے براجماں ہیں
عجیب دکھ ہے کہ تم اندھیری قبر میں تنہا اکیلے ہی ہو
۔قبر کا تلفظ ہے قَبْرْ بروزن فعل، یہاں قَبَر باندھا گیا ہے۔
ہاں یہ بھی دکھ ہے کہ ہم یہاں ایک چھت کے نیچے جو سو رہے ہیں
مگر نا بھولو
۔نہ۔
کہ یہ بھی دکھ ہے تری جدائی جو سہہ رہے ہیں
جو رو رہے ہیں
عجیب دکھ ہیں
جو اندد اندر غموں سے ہم کو بھگو رہے ہیں ۔۔۔
۔اندر۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
@ّمہدی نقوی حجاز نے درست کر ہی دئے ہیں اوزان۔ میں اس کا اضافہ کر دوں کہ قبر والے مصرع کو بدلو تو ‘تنہا اکیلے‘ کو بھی بدل دو، دونوں الفاظ کی ایک ساتھ ضروت کیا ہے؟
 
Top