پرانے رنگ میں اشک ِ غم ِ تازہ ملاتا ہوں

پرانے رنگ میں اشک ِ غم ِ تازہ ملاتا ہوں
در و دیوار پر کچھ عکس ِ نا دیدہ سجاتا ہوں

مجھے صحرا نوردی راس آتی جا رہی ہے اب
خرابات ِ چمن میں لالہ و سوسن اُگاتا ہوں

مرے اِس شوق سے دریا، کنارے، سب شناسا ہیں
جہاں طوفاں ہو موجوں کا، وہیں لنگر اُٹھاتا ہوں

تمہاری نغمہ سنجی کی دکاں پر جو نہیں ملتا
وہی اک نغمہ ء پُر سوز میں سب کو سُناتا ہوں

نہ جانے کس نگر آباد ہو جاتی ہیں وہ جا کر
میں اکثر شام کو چھت سے پتنگیں جو اُڑاتا ہوں

پڑے ہیں آبلے لیکن قدم پھر بھی ہیں بر جستہ
میں کب سے لاش اپنی، اپنے کاندھوں پر اُٹھاتا ہوں

ذوالفقار نقوی
 
میں چاہتا ہوں کہ اس غزل پر ایک تنقیدی نظرہو جائے ۔۔۔ اورگذارش کروں گا جناب محمد وارث اور محترم الف عین سمیت تمام ارباب ِ سخن شناس سےکہ وہ غزل میں موجود عیوب کے حوالے سے بات کریں
 
آخری تدوین:
Top