گانوں کا کھیل (3)

ماہی احمد

لائبریرین
قسم اس وقت کی
جب وقت ہم کو آزماتا ہے
جوانوں کی زباں پر نعرہ تکبیر آتا ہے
:) (میں سوچا اچھی بات سے شروعات کروں)

اب س
 

مومن فرحین

لائبریرین
شوخیوں میں گھولا جائے پھولوں کا شباب
اس میں پھر ملائی جائے تھوڑی سی شراب
ہو گا یوں نشہ جو تیار
وہ پیار ہے

اب ر . سے
 

زوجہ اظہر

محفلین
لو آگئی ان کی یاد وہ نہیں آئے
دل ان کو ڈھونڈتا ہے غم کا سنگھار کرکے
آنکھیں بھی تھک گئی ہیں اب انتظار کرکے
اک سانس رہ گئی ہے وہ بھی نہ ٹوٹ جائے

اگلا ٹ
 

مومن فرحین

لائبریرین
ٹوٹا جو کبھی تارا سجنا وے
تجھے رب سے مانگا
رب سے جو مانگا ملیا وے
تو ملیا تو جانے نہ دوں گا میں

ٹ سے یاد نہیں آرہا تھا اس لیے نیا گانا بولنا پڑا :heehee:

اب ف سے
 

زوجہ اظہر

محفلین
ٹوٹا جو کبھی تارا سجنا وے
تجھے رب سے مانگا
رب سے جو مانگا ملیا وے
تو ملیا تو جانے نہ دوں گا میں

ٹ سے یاد نہیں آرہا تھا اس لیے نیا گانا بولنا پڑا :heehee:



ٹوٹے ہوئے خوابوں نے ہم کو یہ سکھایا ہے
دل نے ..دل نے جسے پایا تھا آنکھوں نے گنوایا ہے
ہم ڈھونڈتے ہیں انکو جو مل کے نہیں ملتے
روٹھے ہیں نہ جانے کیوں مہماں وہ مرے دل کے
کیا اپنی تمنا تھی کیا سامنے آیا ہے....
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
ٹوٹا جو کبھی تارا سجنا وے
تجھے رب سے مانگا
رب سے جو مانگا ملیا وے
تو ملیا تو جانے نہ دوں گا میں

ٹ سے یاد نہیں آرہا تھا اس لیے نیا گانا بولنا پڑا :heehee:

اب ف سے
فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ۔ تھا

اب ا سے
 

مومن فرحین

لائبریرین
نگاہیں ملانے کو جی چاہتا ہے
دل و جاں لٹانے کو جی چاہتا ہے
وہ تہمت جسے عشق کہتی ہے دنیا
وہ تہمت اٹھانے کو جی چاہتا ہے

اب و سے
 

سیما علی

لائبریرین
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا

اب چ سے
 
Top