ایرانی فون کمپنی کی اشتہاری مہم میں حضرت عمر کی شان میں گستاخی

ظفری

لائبریرین
بھائی لوگوں اس دھاگہ کو بند کردو۔۔۔
محترم سید اسد محمود بھائی دھاگہ بند کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ جب تک ہم ایک اچھے ماحول میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشان دہی نہیں کریں گے تو آپ چاہیں کتنے ہی دھاگے بند کرلیں۔ اختلاف میں دشمنی ، تعصب اور نفرت کبھی کم نہیں ہوگی ۔ مکالمہ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیئے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ جب کسی مکالمے کا آغاز کریں تو جذبات کو ایک طرف رکھ کراس میں علم کی بنیاد پر شامل ہوں ۔
مگر ہمارا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے کہ ہم دراصل اختلاف کرنے کے شائستہ آداب سے واقف ہی نہیں ہیں ۔ ہم اختلاف کو مخالفت بنا لیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں اختلاف کا مطلب تعصب ہے ، عناد ہے ، نفرت ہے ۔ ہم نے کچھ مذہبی فقرے یا گالیاں ایجاد کی ہوئیں ہیں ۔ جب ہم اختلاف کرتے ہیں تو وہ دوسروں کو دینا شروع کردیتے ہیں ۔ ہم نے اپنے اندر کبھی یہ ذوق پیدا ہونے ہی نہیں دیا کہ ہم دوسرے کی بات کو تحمل سے سنیں ۔ جیسا وہ کہتا ہے ویسا اس کو سمجھیں ۔ کم از کم اس سے سوال کرکے پوچھ لیں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم اپنے ذہن سے کسی کی بات کا ایک نقشہ تیار کرتے ہیں ۔ پھر اس کو مخالف پر تھوپ دیتے ہیں ۔ ہم نے کچھ مخصوص قسم کی باتیں طے کر رکھیں ہیں ۔ جو ہم کہنا شروع کردیتے ہیں ۔ جیسے کسی کو فاسد قرار دینا ، کسی کو کافر قرار دینا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اصل میں ہمارا مزاج بن چکا ہے ۔ آپ اختلافات ختم نہیں کرسکتے ۔ اختلافات تو ہوا اور پانی کی طرح ہماری ضرورت ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ سارے انسانوں کو کسی ایک نکتہ فکر پر متفق کرلیں ۔ انسانی تخلیق میں اختلاف ودیعت کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے جس اصول پر یہ دنیا بنائی ہے اس میں انسان کو اپنے عقل وشعور کے ذریعے اپنے اختلافات کی جانچ پڑتال کرنی ہے ۔ اسی پر سزا و جزا کے قانون کا اطلاق ہونا ہے ۔ اختلافات تو تحقیق کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ ہم اگر اختلاف کو شائستہ اختلاف تک رکھیں تو وہ ہمارے لیئے تہذہبی راہیں کھولے گا ، علم کے ارتقاء کا باعث بنے گا ۔ اگر اس کو عناد بنا لیں ، مخالفت بنا لیں تو سوائے خجالت اور پستی کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
 
آخری تدوین:

عاطف بٹ

محفلین
محترم سید اسد محمود بھائی دھاگہ بند کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ جب تک ہم ایک اچھے ماحول میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشان دہی نہیں کریں گے تو آپ چاہیں کتنے ہی دھاگے بند کرلیں۔ اختلاف میں دشمنی ، تعصب اور نفرت کبھی کم نہیں ہوگی ۔ مکالمہ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیئے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ جب کسی مکالمے کا آغاز کریں تو جذبات کو ایک طرف رکھ کراس میں علم کی بنیاد پر شامل ہونا چاہیئے ۔
مگر ہمارا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے کہ ہم دراصل اختلاف کرنے کے شائستہ آداب سے واقف ہی نہیں ہیں ۔ ہم اختلاف کو مخالفت بنا لیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں اختلاف کا مطلب تعصب ہے ، عناد ہے ، نفرت ہے ۔ ہم نے کچھ مذہبی فقرے یا گالیاں ایجاد کی وہ ہوئی ہیں ۔ جب ہم اختلاف کرتے ہیں تو وہ دوسروں کو دینا شروع کردیتے ہیں ۔ ہم نے اپنے اندر کبھی یہ ذوق پیدا ہونے ہی نہیں دیا کہ ہم دوسرے کی بات کو تحمل سے سنیں ۔ جیسا وہ کہتا ہے ویسا اس کو سمجھیں ۔ کم از کم اس سے سوال کرکے پوچھ لیں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم اپنے ذہن سے کسی کی بات کا ایک نقشہ تیار کرتے ہیں ۔ پھر اس کو مخالف پر تھوپ دیتے ہیں ۔ ہم نے کچھ مخصوص قسم کی باتیں طے کر رکھیں ہیں ۔ جو ہم کہنا شروع کردیتے ہیں ۔ جیسے کسی کو فاسد قرار دینا ، کسی کو کافر قرار دینا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اصل میں ہمارا مزاج بن چکا ہے ۔ آپ اختلافات ختم نہیں کرسکتے ۔ اختلافات تو ہوا اور پانی کی طرح ہماری ضرورت ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ سارے انسانوں کو کسی ایک نکتہ فکر پر متفق کرلیں ۔ انسانی تخلیق میں اختلاف ودیعت کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے جس اصول پر یہ دنیا بنائی ہے اس میں انسان کو اپنے عقل وشعور کے ذریعے اپنے اختلافات کی جانچ پڑتال کرنی ہے ۔ اسی پر سزا و جزا کے قانون کا اطلاق ہونا ہے ۔ اختلافات تو تحقیق کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ ہم اگر اختلاف کو شائستہ اختلاف تک رکھیں تو وہ ہمارے لیئے تہذہبی راہیں کھولے گا ، علم کے ارتقاء کا باعث بنے گا ۔ اگر اس کو عناد بنا لیں ، مخالفت بنا لیں تو سوائے خجالت اور پستی کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
حرف بہ حرف متفق!
افسوس صد افسوس کہ ہمارے ہاں صحت مند مکالمے کا کلچر ترویج ہی نہیں پاسکا۔ ان پڑھوں اور جاہلوں کے مکالمے سے بھاگنے یا گالم گلوچ اور الزام تراشی پر اتر آنے کی بات تو سمجھ آتی ہے کہ ان کے پاس علم اور دلائل کی بجائے جو کچھ ہوتا ہے ظاہر ہے وہ گفتگو کے دوران وہی پیش کرتے ہیں مگر یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ بظاہر پڑھے لکھے اور معقول لوگوں میں بھی یہی رویے پائے جاتے ہیں۔ انہی رویوں کے زیرِ اثر ہم کسی کے سامنے ایک دلیل پیش کرتے ہیں اور پھر اگلے بندے کے جواب دینے سے پہلے ہی جوابی دلیل اپنے ذہن میں گھڑ کر جواب الجواب تیار کر کے نتیجہ نکال چکے ہوتے ہیں۔
ایک دھاگہ بند کرنا یا دھاگے پہ دھاگے بند کرتے چلے جانا تو اس مسئلے کا حل ہرگز نہیں ہے کہ یوں ہم صحت مند مکالمے کے لئے راہیں ہموار کرنے کی بجائے الٹا اس کے رستے مسدود کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اردو محفل میں بیٹھے ہوئے ہم لوگ معاشرے کا 01ء0 فیصد بھی نہیں ہیں اور بظاہر ہم سب لوگ ہی پڑھے لکھوں میں شمار ہوتے ہیں تو اگر ہم ہی احسن طریقے سے ایک دوسرے کے سامنے اپنی بات رکھنے سے قاصر ہیں تو بقیہ 99ء99 فیصد سے زائد لوگوں، جن میں غالب اکثریت ان پڑھوں کی ہے، سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تحمل اور برداشت کے اعلیٰ نمونے بن کر معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی لائیں گے۔
من حیث المجموع ہمارا ایک انتہائی تکلیف دہ رویہ یہ بھی ہے کہ ہنسی ٹھٹھے کی کوئی بات کریں تو لوگ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لینے کے لئے آجاتے ہیں لیکن جیسے ہی کسی سنجیدہ موضوع یا علمی مسئلے پر بحث کرنے لگیں تو پانچ سات سے زیادہ افراد نظر ہی نہیں آتے اور پھر کچھ دیر کے بعد وہ افراد بھی باہم دست و گریبان ہو کر تتر بتر ہوجاتے ہیں۔ اندریں حالات صحت مند مکالمے کے فروغ کی بات ہی دیوانے کا خواب دکھائی دینے لگتی ہے۔
میں ظفری بھائی کی بات کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے کہوں گا کہ یہ ضروری تو نہیں کہ میں جس نقطہء نظر کا حامل ہوں دنیا کا ہر فرد اس نظریے کی صداقت پر ایمان لے آئے۔ میرا نظریہ میرے لئے محترم ہے تو بعینہٖ کسی دوسرے کی عقیدت اس کے اپنے نظریے سے جڑی ہے جس سے مجھے قطعاً کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ دنیا بھر کو اپنے نظریے کا قائل کرنے کی بےثمر کوششوں سے بہتر ہے کہ میں اپنی توانائی اپنے نظریے کے منفی پہلوؤں کے خاتمے پر لگا کر اپنے فکری چشمے کو اتنا شفاف بناؤں کہ لوگوں کو اس میں اپنا عکس دیکھنے کا موقع ملے، نہ کہ میں اسے نفرت اور تعصب سے اس قدر آلودہ کرلوں کہ کوئی میرے قریب بھی نہ پھٹکے۔
 

سید ذیشان

محفلین
بہت خوب سید ذیشان۔
تبرے بازی کا شوق تو اپنی پوسٹ میں آپ نے پورا کر لیا۔چھوٹا ذہن، جاہلانہ مینو پیلٹڈ سوچ، مال موشی دکان داری۔۔امید ہے اگلی پوسٹ میں مزید آپ کے اس شوق کے نئے نئے نمونے سامنے آئیں گے۔

افسوس آپ نہ بات سمجھتے ہیں اور نہ اٹھائے گئے نکات کا جواب صحیح طور پر دے پائے ہیں۔
پھر آپ نے توہین رسالت کے قانون کا مسئلہ اٹھایا ہے اچھا پھر ایسا کرتے ہیں کہ سارے قوانین کو معطل کر دیتے ہیں کہ ہر قانون کا یا تو غلط استعمال ہوتا ہے یا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ گاوں دیہات کے ادنا پٹواری و زمین دار تک قوانین کو استعمال کرتے ہیں اپنے مخالفین کے خلاف۔ کہا کہنے آپ کی لوجک کے
حضرت علی کی جنگ کے حوالے سے اوپر کچھ حضرات باتیں کر چکے ہیں مجھے اس معاملے میں کچھ کہنے کا شوق نہیں کہ حضرت علی کا اختلاف یا جنگ جن لوگوں سے ہوئی وہ ان کے ہم پلہ لوگ تھے ۔جبکہ میں ان لوگوں کے غلاموں کے کفش برداروں کی صف میں شامل ہونے کے بھی لائق نہیں۔ اور آخری چیز یہ کہ منافرانہ سوچ اسی کانام ہے کہ ہر چیز میں مخالفانہ باتیں اور اکابریں کو گھسیٹ کر ماحول کو خراب کیا جائے۔
تبرا کی تعریف کے لیے میں سیدذیشان صاحب کا محتاج نہیں اور نہ ہی مجھے ان کی کسی تشریح اور وہ بھی ایسی تشریح جس کے بارے میں شعر صادق آتا ہو
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا ؎
کہ ناحق خؤن پروانے کا ہو گا
کی پروا ہ ہے۔ اوپر آپ کا مشورہ آپ کی نظر تھوڑی سی تبدیلی کے بعد
"اگر تو آپ کا مقصد مثبت گفتگو ہے تو دلیل سے بات کیجئے ورنہ تو اپنے (عاقلانہ تشریح )اپنے پاس رکھیے۔ "
نیز تبرے سے معاملات سلجھتے ہیں یا بگڑتے ہیں اس کے لیے کیا کسی تشریح کی ضرورت ہے بھی؟
اور حضرت یہ کوئی عامر لیاقت شو نہیں چل رہا کہ ریٹنگ کا معاملہ آپ درمیان میں لے آئے۔ اللہ جانے کیا کچھ آپ کے کارخانہ ذہن میں چل و پک رہا ہے؟


میاں مجھے معاف رکھو۔

میں اپنی بات سمجھانے میں ناکام رہا ہوں۔ اس سے زیادہ بات کرنا فضول ہے۔
والسلام۔
 
میاں مجھے معاف رکھو۔

میں اپنی بات سمجھانے میں ناکام رہا ہوں۔ اس سے زیادہ بات کرنا فضول ہے۔
والسلام۔

حضت آپ کو معاف کیا۔
تاہم ایک خیر خواہانہ نصحیت ہے کہ آئندہ گفتگو فرماتے وقت بہت سارے شاندار دلائل کے ساتھ تہذیب و اخلاص کی کچھ مقدار بھی شامل کر لیجئے گا۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
لڑی واقعی کسی اور جانب چلی گئی۔۔۔ موضوع کے اندر محدود رہ کر گفتگو کرنا بہتر حل تھا۔۔۔ خیر آپ احباب نے گفتگو مکمل کر لی ہو تو دھاگے کو بند کیاجائے؟؟
 

ظفری

لائبریرین
میں اس خواہش کے خلاف تو نہیں مگر ایسا کرنے سے خیالات میں بھی کوئی جوہری تبدیلی ناممکن ہے ۔
 

عثمان غازی

محفلین
اس خبر کے اندرایک خبر ہے جو ایک مثبت تاثر اجاگرکرتی ہے، سنی عالم دین مولوی عبدالحمید نے کہاہے کہ "’ایران سل‘ توہین آمیز اشتہار پر اہل سنت اور اہل تشیع دونوں مسالک سے معافی مانگے، کیونکہ صحابہ کی شان میں گستاخی سے دونوں مسالک بلکہ ایرانی قوم اور عالم اسلام کی توہین کی گئی ہے، انہوں نے کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی پوری ایرانی قوم، مجلس شوریٰ، اہل تشیع بالخصوص اہل سنت والجماعت سے معافی مانگے"
یہ الفاظ ایران کے ایک قوم ہونے کے غماز ہیں، دونوں مسالک کے درمیان ہم آہنگی کو بھی ظاہرکرتے ہیں، سنی عالم نے صحابہ کی گستاخی کو دونوں مسالک کی توہین قراردیاہے، اس خبر کو گوگل پر سرچ کریں، کسی شیعہ عالم نے یہ نہیں کہاکہ مولوی عبدالمجید کی بات غلط ہے، اس خبر کاسب سے اہم پہلو نوے فیصداہل تشیع آبادی والے ملک کی مقبول ترین سیلولرسروس کا دس فیصدسنیوں سے اپنے اقدام پرمعافی مانگنا ہے
اپنی نوع کے اعتبار سے شیعہ سنی مسالک کے درمیان ہم آہنگی کو اجاگرکرنے کے لیے اس خبر سے بڑی کوئی اورمثال نہیں
 

S. H. Naqvi

محفلین
محترم ذیشان صاحب مجھے آپ کی باتوں میں بہت سا تضاد پایا جاتا ہے۔ صد معذرت کے ساتھ کے آپ پتہ نہیں کون سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں کہ آپ کو اہل تشیع کے بنیادی عقائد کا ہی ٹھیک طرح سے علم نہیں یا پھر دوبارہ بصد احترم لگتا ہے کہ آپ جان بوجھ کر تقیہ کرتے ہوئے اہل تشیع کا ایک روشن پہلو سامنے لانا چاہتے ہیے اور مجھے اس بات کی خوشی بھی ہے مگر بصد افسوس ایسا ممکن نہیں۔ میں لبرل سے لبرل اور ماڈریٹ ، روشن خیال سے روشن خیال شیعہ حضرات سے مل چکا ہوں، خود میری فیملی پڑھی لکھی ہے اور ان میں ایم ایس سے سے لیکر پی ایچ ڈی تک اور ذاکرین تک موجود ہیں مگر اول تین خلفاء کے حوالے سے سب کا ایک ہی عقیدہ ہے اور وہ ہے انھیں نعوذ باللہ غاصب، ظالم اور جہنمی سمجھنا، اور اہل بیت کے ہر تذکرے پر انھیں گالیوں سے نوازنا اور ایک عام آدمی سے بھی کمتر انداز میں انھیں مخاطب کرنا اور ہر بری چیز کا نام ان کے نام پر رکھنا ان کا ایک عام سا معمول ہے۔ یہ اتنا کھل کر مجھے اسلیئے کہنا پڑا کہ ایک طرف آپکی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا اہل تشیع تبرا سے مبرا ہیں یا پھر تبرا کسی ایسے معمولی یا نیک عمل کا نام ہے کہ جس سے کسی کی زات پر توہین کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ یہاں میں ایک واقعہ بیان کرتا چلوں کہ کس حد تک اہل تشیع خاص کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بغض رکھتے ہیں کہ میرے بھائی کے گھر بیٹا پیدا ہوا اور اسکے سسرال والے جو خود کو بہت روشن خیال شیعہ کہلواتے ہیں اور قریب قریب اہل سنت، تو اس نے اپنے بیٹے کا نام سید عمر علی نقوی رکھ دیا پھر نہ پوچھے کہ اختلافات کا کیا طوفان اٹھا اور کس طرح باچھیں پھیلا پھیلا کر اور کف اڑا اڑا کر اس کی مخالفت کی گئی۔ (حالانکہ اس کی بیوی بھی اہل سنت ہے اور اس کے سسرال والے خود کو سنی کہتے تھے اور پھر شادی کے بعد کے دنوں میں آہستہ آہستہ شیعت کی طرف کچھ زیادہ مائل ہوگئے جو ہمارے خاندان میں ایک نارمل سی بات ہے) یہاں یہ واقعہ بیان کرنے کےیہ مقصد ہر گز نہیں تھا کہ میں اپنے گھر کی رام لیلا آپ لوگوں سے بیان کرتا پھروں یا پھر یہ مقصد بھی ہر گز نہیں کہ اہل تشیع ایسا کیوں کرتے ہیں اور انھیں نہیں کرنا چاہیں، وہ جانیں اور ان کے عقائد جانیں، ان کا دین ان کے لیے اور ہمارا دین ہمارے لیے، مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ جتنے بھی روشن خیال ہیں، بے شک ہوں، خود جو مانتے ہیں بے شک نہ مانیں، مگر بحثیت ایک شیعہ کے، آپ اپنے ذاتی اصول سارے شیعہ مذہب پر لاگو نہیں کر سکتے یا یہ کہ جتنے روشن خیال آپ ہیں یا جو تعریفیں آپ کے نزدیک تبرااور دوسرے ارکان کی ہیں آپ بحثیت مجموعی سارے مذہب کی بیان نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کچھ زیادہ ہی روشن خیال شعیہ ہیں تو پھرآپ جیسے اچھے لوگوں کی بہت ہی قلیل مقدار ہے اس فقہ میں یہ میرا ذاتی مطالعہ بلکہ مشاہدہ ہے کیوں کہ میں میرے چاروں طرف شیعت ہی ہے، میرا خونی اور قریبی ترین رشتے اسی مذہب پر ہیں(سارا سسرال، خاص کر سسر ذاکر اورچچا سسر آغا جی موسوی صاحب کے قریبی ترین آدمی اور کئی اہم ترین اہل تشیع میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ:))
بات یہ ہے کہ حقائق کو توڑ مڑور کر پیش نہ کیا جائے اور حقیقت سے آنکھیں نہ چرائی جائیں، اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کے کیوں کیا جا رہا ہے اوروجہ کیا ہے اور نہ کسی نے آپ سے حضر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے گناہی کی دلیل مانگی ہے کہ آپ بات کو اس طرف لے گئے ہیں اور نہ ہے یہ کہا گیا ہے کہ آپ جناب کو بے قصور مانیں، میں نے پہلے بھی عرض کیا نہ کہ آپ جناب معاویہ کو چھوڑ جناب عمر کو بھی قصوروار مانتے رہیں، اس منطق پر نہ میں دلیل طلب کروں گا نہ یہ بحث کا موضوع ہے مگر حقائق سے نظریں نہ چرائیں اور انفرادی سوچ کو اجتماعی نہ بنائیں اور نہ ہی مینارٹی کی سوچ کو اجتماعی قرار دیں۔ بات ہو رہی ہے توہین کی اور توہین کے قوانین کی ضرورت ہے تاکہ یہ سب کچھ سر عام نہ ہو اور اگر کوئی کرے تو اسے اسکی قرار سزا دی جاسکے۔
 

سید ذیشان

محفلین
دنیا میں 20 کروڑ سے زائد اہل تشیع ہیں اور آپ کے سسرال میں شائد 20 افراد ہونگے، ان کے عمل سے آپ تمام لوگوں کو کیسے مطعون ٹہرا سکتے ہیں؟ پاڑا چنار میں شدت پسند سنیوں نے دس محرم کے دن "حسین مردہ باد" کے نعرے لگائے تھے، لیکن مجھ میں اتنی عقل ہے کہ میں ان کے اس اقدام سے تمام سنیوں کو یزیدی نہیں ٹہراتا۔
فرقہ واریت کی دلدل ایسی ہے کہ اس میں انسان دھنس جائے تو مزید دھنستا چلا جاتا ہے اور ہر ایک چیز کو اسی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
میں نہ بحث کرنے سے کتراتا ہوں اور نہ ہی کسی کے باپ سے ڈرتا ہوں، میرے دل میں جو ہوتا ہے منہ پر کہتا ہوں اور کچھ لوگ اسی وجہ سے مجھے ناپسند بھی کرتے ہیں۔ لیکن شدت پسندوں سے بحث کرنا فضول ہے۔
 

عاطف بٹ

محفلین
پاڑا چنار میں شدت پسند سنیوں نے دس محرم کے دن "حسین مردہ باد" کے نعرے لگائے تھے، لیکن مجھ میں اتنی عقل ہے کہ میں ان کے اس اقدام سے تمام سنیوں کو یزیدی نہیں ٹہراتا۔
میں اس بحث میں نہیں آنا چاہ رہا تھا مگر آپ کے محولہ جملے کی وجہ سے مجھے آنا پڑا۔ پتہ نہیں آپ نے کن لعنت زدہ اور خبیث النسل لوگوں کو ایسے نعرے لگاتے دیکھا ہے۔ کوئی مسلمان تو خواب میں بھی ایسا کرنے کا سوچ تک نہیں سکتا۔
مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ بحث کا موضوع کچھ تھا اور آپ لوگ پتہ نہیں اسے کس کس طرف لے کر جارہے ہیں۔
 

سید ذیشان

محفلین
میں اس بحث میں نہیں آنا چاہ رہا تھا مگر آپ کے محولہ جملے کی وجہ سے مجھے آنا پڑا۔ پتہ نہیں آپ نے کن لعنت زدہ اور خبیث النسل لوگوں کو ایسے نعرے لگاتے دیکھا ہے۔ کوئی مسلمان تو خواب میں بھی ایسا کرنے کا سوچ تک نہیں سکتا۔
مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ بحث کا موضوع کچھ تھا اور آپ لوگ پتہ نہیں اسے کس کس طرف لے کر جارہے ہیں۔

یا تو میں اپنا نقطہ واضح نہیں کر پا رہا یہ پھر آپ سب سمجھ نہیں رہے کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ ہر دو گروہوں میں شدت پسند موجود ہیں اور اگر ہم ان کی مثال پورے کے پورے گروہوں اور آبادیوں پر لگا دیں تو یہی بات فرقہ واریت کا سبب بنتی ہے اور نفرتیں پھیلانے میں مدد ملتی ہے۔ جیسے ایک صاحب نے اوپر واقعات بیان کئے اسی طرح کے واقعات بیان کر کر کے لوگوں میں نفرتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایک عام بندے کو اپنی روزی روٹی، بال بچوں اور دیگر مسائل سے فرصت ملے تو ان چیزوں کی طرف توجہ دیں لیکن مولوی نے اپنا مشن بنا دیا ہے کہ روزگار جائے بھاڑ میں، بیوی بچوں کو چھوڑو، ان کو پکڑو جو یہ یہ کہتے ہیں، اور دوسری طرف سے بھی مولوی یہی کام سرانجام دے رہا ہے۔ ایکدوسرے کو لڑاؤ اور اپنی دکان چمکاؤ۔
دوسری بات جو توہین صحابہ کے قانون کے لحاظ سے میں نے کہی تو کوئی بھی قانون کسی ایک فرقے یا گروہ کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا، یہ جمہوریت کے خلاف جاتا ہے۔ اگر آپ واقعی میں ایسا قانون بنا چاہتے ہیں تو ہر ایک کے نقطہ نگاہ کے مطابق قانون بنانا پڑے گا۔ اگر اوپر والے صاحب کی بات ہم مان لیں کہ ہر شیعہ گھر میں صحابہ کی توہین کی جاتی ہے تو پھر چار کروڑ لوگوں کو جیلوں میں بند کرنا پڑے گا۔ اور اگر شدت پسند شیعہ نقطہ نظر کو دیکھیں تو علی سے جنگ لڑنے والوں کو اعلیٰ درجہ دینا ہی علی کی توہین ہے تو باقی 16 کروڑ لوگوں کو بھی جیلوں میں ڈال دو اور پورا پاکستان ایک بڑا جیل خانہ بن جائے گا۔
کچھ تو ہوش کرنا چاہیے ہمیں۔ اگر آپ سوچیں تو 80 کی دہائی سے پہلے توہین صحابہ والا مسئلہ کیوں کھڑا نہیں ہوا تھا؟ یہ ساری باتیں ہمیں اصل مسائل سے distract کرنے کے حربے ہیں۔
اور جہاں تک قانون بنانے کی بات ہے تو غالباً دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اہل سنت تو 75 فی صد سے زیادہ ہیں تو قانون بنائیں۔ پھر اس کے بعد شیعہ بھی شائد دو قومی نظریہ پیش کر دیں گے۔ جو کام ڈپٹی کمشنر کے لیول پر حل کیا جا سکتا ہے، اور ہو رہا ہے، وہ کرنے کی جگہ قوم کو تقسیم کر دو، بہت اچھا مشورہ ہے۔ :applause:
 

حسان خان

لائبریرین
سیاسی و شہری سیکولریت زندہ باد!

اس اجمال کی تفصیل: سنی اکثریتی ملک ترکی کے علویوں کا دین ایمان ہی صرف تولا اور تبرا ہے۔ لیکن اتاترک کی سماجی اصلاحات کے بعد سے نہ تو آج تک اُن کی عبادت گاہوں اور دینی مراسم پر کوئی حملہ ہوا ہے اور نہ ہی اُن کے شہری حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ دوسری طرف شیعہ اکثریتی آذربائجان میں بھی آج تک کوئی ایسا اتفاق سامنے نہیں آیا کہ کسی سنی مقدس ہستی کی کبھی توہین کر کے مذہبی منافرت پھیلائی گئی ہو۔ میری نظر میں تو یہ سیکولریت کا ہی ثمر ہے۔
 
آخری تدوین:

S. H. Naqvi

محفلین
شاید آپ پاکستان میں نہیں رہتے جو آپ آغا جی موسوی کے نام کے باوجود بیس لوگوں کا ورد کر رہے ہیں، خیر یہ تو ہے ہی لا حاصل بات جانے دیں۔ دوسرا واقعات بتانے پر آ گیا تو ایک دفتر کھل جائے گا اور یہ وہ واقعات نہیں ہوں گے جو سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہوں یہ حقیقی واقعات ہوں گے جیسے حالیہ ہی ہمارے ہی گاؤں ہریپور میں ہمارے ہی "دس بیس" برادری کے لوگوں میں مشترکہ مسجد میں نعرہ تحقیق حق چار یار لگانے پر وہ سر پھٹول ہوئی کہ الاماں میرے کزنز سر پھڑوا کر بیٹھے اور رات گئے ڈی پی او کی موجودگی میں کہیں صلح ہو سکی۔ اب آتے ہیں اصل بات کی طرف تو محترم بات یہ ہے کہ ہر ایک کے نقطہ نگاہ کے حوالے سے قانون تشکیل پانا چاہیے تو بجا فرمایا اس میں کسی کو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ قانون کی اصل روح توہین سے بچنا ہی ہے۔ کوئی بھی کسی کے اکابر کی، جو ان کی نظر میں ٹھیک ہے، توہین نہ کرے، آسان سا قانون ہے۔ باقی محبت پہ تو زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا نہ کرنا چاہیے۔ آپ بھی بات کو سمجھ کر بھی نہیں سمجھ پا رہے، آپ شعیت کے بنیادی عقائد کو ہی جھٹلا رہے ہیں دیکھیں جب صحابہ کو غاصب سمجھنا اور اہل بیت کو حد سے زیداہ مظلوم سمجھنا ہی بنیاد ہے اور پھر اہل بیت کے دشمنوں کو تبر ا کرنا بھی باعث ثواب و لازمی امر ہے(مجھے بھی اگر اس امر کا کامل یقین ہو جائے کہ صحابہ رضوان اللہ نے نعوذباللہ اہل تشیع کی بیان کردا زیادتیاں اہل بیت سلام اللہ سے روا رکھی ہیں تو ظاہر ہے میرے ایمان کا بھی تقاضا ہے کہ میں ان کے دشمنوں کو برا بھلا کہوں) تو ظاہر ہے دن رات کرتے کرتے کہیں سرعام یہ عمل نہ دہرایا جائے اسی چیز سے بچنے کے لیے اور متذکرہ بالا واقعات کی روک ٹوک کے قانون کی ضرورت ہے۔ آپ کی یہ منطق بھی کمزور ہے کہ قانون بننے سے تمام شیعہ اس کی زد میں آ جائیں گے اور سب کو جیل میں ڈالنا پڑے گا۔ حضور بات عقیدہ رکھنے کی نہیں ہو رہے، عقیدہ رکھتے ہوئے سر عام توہین کرنے کہ ہو رہی ہے۔ پہلے تو آپ عقیدہ بھی نہیں مان رہے تھے ابھی آپ کو سب کے جیل جانے کی فکر ہو گئی ہے۔ عقیدہ ہر ایک کا اپنا اپنا ہے۔ مگر سر عام توہین صرف سازشی اور شدت پسند انسان ہی کرے گا اور اسکے لیے قانون موجود ہو جو اسکی سزا دے تا کہ پاکستان قوم بھائی چارے کے ساتھ رہے سکے۔
بات آپ نے دو قومی نظریہ کی کی تو عرض ہے کہ ایسے حالات رہے تو ظاہر ہے کہ دو قومی نظریہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا اسی لیے ایسے قانون کی ضرورت موجود ہے کہ حالات خراب ہوں ہی نہ۔ویسے میں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ بات عقائد کے لحاظ سے کی جائے تو سنہ و تشیع میں دو قوموں جتنا ہی فرق ہے نظریات کا اگر حالات نے ان کو جوڑ دیا ہے تو باہمی احترام اور رواداری سے ہی رہنا ہو گا۔
حسان صاحب میں آپ سے متفق ہوں کہ ریاست مذہب کو اپنے کنٹرول میں کر لے سیاسی و شہری سیکو لریت کے علاوہ مذہبی سیکولریت ہی سب کؤ امن کی طرف لے جا سکتی ہے۔
 
Top