نہ بجھا ہے نہ بجھے گا یہ چراغ اردو (ڈاکٹر دل حسینی)

قربان

محفلین
وقارِ اردو
نہ بجھا ہے نہ بجھے گا یہ چراغِ اردو
آج ہمدوشِ ثریاہے دِماغ اردو
بُو الہوس پائیں گے کیا خاکِ سُراغ اردو
لہلہائے اسی طرح یہ باغ اردو
ہند کی شان ہے یہ عظمت گوتم کی طرح
اب بھی تابندہ ہے پیشانیٔ مریم کی طرح
بزمِ خسرو میں جلی شمع تمنا بنکر
درس اخلاق دیا ہے کہیں گیتا بنکر
کبھی گوپاک کی بنسی کبھی رادھا بنکر
رام کا ساتھ دیا ہے کبھی سیتا بنکر
مشتری بن کے قطب شاہ کے گھر تک پہونچی
بزمِ اربابِ سخن اہل نظر تک پہونچی
کبھی دلیّ کبھی پنجاب کو آباد کیا
رونقِ شامِ اودھ صبح بنارس کی ضیا
عالم وجد سرکی جو ترے سر کی ردا
رنگ و نکہت سے معطر ہوئی پٹنے کی فضا
شوخیاں میر نے سودا نے شرارت دیدی
ناز مومن نے تو غالب نے جسارت دیدی
ذوق نے ساغرِ خورشید میں ڈھالا تجھکو
خونِ دل دے کے ظفر شاہ نے پالا تجھکو
اور ہر گام پہ ناسخ نے سنبھالا تجھکو
فکر آتش نے دیا ایسا اُجالا تجھکو
ڈھل گئی نور کے سانچے میں جوانی تیری
پاگیا میر حسن سحر بیانی تیری
مصحفی نے ترا انداز تکلم سمجھا
تیرے دامن سے ہے وابستہ بہارِ انشا
بزمِ اقبال میں روشن تری حکمت کا دیا
کوئی چکبست سے پوچھے ترا پیمانِ وفا
تیری مستی کا اثر دیدۂ سرشار میں ہے
تیری سطوت کا نشاں جوش کے افکار میں ہے
پوچھئے حضرتِ حالی سے وقارِ اردو
خیمہ زن باغ میں شبلی کے بہار اردو
سرسے کیفی کے نہ اترے گا خمارِ اردو
دل حسینی بھی ازل سے ہے نثار اردو
خوشہ چیں ہیں اسی گلشن کے منیف اور سہیل
سیکڑوں زندۂ جاوید ہیں اردو کی طفیل
Dr. Dil Husaini
 

علی فاروقی

محفلین
واہ کیا خوب نظم ہے، اردو اور گیسوے اردو سنوارنے والوں کی یادوں کو تازہ کرتا ہو ایک لاجواب شاہکار۔ شکریہ قربان صاحب
 
Top