غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا ۔ سیدہ سارا غزل ہاشمی

غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا
تیرگی کے جنگل میں چشمہء ضیا پایا
٭
آفتاب کا پیکر بن گیا بدن اپنا
روشنی میں سائے کا سحر ٹوٹتا پایا
٭
کھل گئی جو آنکھ اپنی وقت کی صدا سن کر
انگنت جہانوں کا در کھلا ہوا پایا
٭
ہر قدم پہ ساتھ اپنے خود کو دیکھتے ہیں ہم
ہمسفر کوئی اپنا اب نہ دوسرا پایا
٭
مدتوں کے بعد ان سے اس طرح ملے ہیں ہم
اجنبی کوئی جیسے صورت آشنا پایا
٭
عشق کے سمندر میں ہجر کے بھنور دیکھے
وصل کی تمنا میں حشر کا مزا پایا
٭
گرد میں ہوا جو گم قافلہ زمانے کا
ماہتاب کو اپنے سائے میں پڑا پایا
٭
لے اڑی غزلؔ آخر زندگی کی طغیانی
روح کے سمندر میں جسم ڈوبتا پایا
٭
سیدہ سارا غزلؔ ہاشمی
 

احسن مرزا

محفلین
گرد میں ہوا جو گم قافلہ زمانے کا
ماہتاب کو اپنے سائے میں پڑا پایا

لے اڑی غزلؔ آخر زندگی کی طغیانی
روح کے سمندر میں جسم ڈوبتا پایا

واہ! عمدہ اشعار کہے۔ ڈھیروں داد!
لے اڑی غزلؔ آخر زندگی کی طغیانی
روح کے سمندر میں جسم ڈوبتا پایا
لے اڑی غزلؔ آخر زندگی کی طغیانی
روح کے سمندر میں جسم ڈوبتا پایا
گرد میں ہوا جو گم قافلہ زمانے کا

ماہتاب کو اپنے سائے میں پڑا پایا
٭
لے اڑی غزلؔ آخر زندگی کی طغیانی
روح کے سمندر میں جسم ڈوبتا پایا
گرد میں ہوا جو گم قافلہ زمانے کا

ماہتاب کو اپنے سائے میں پڑا پایا
٭
لے اڑی غزلؔ آخر زندگی کی طغیانی
روح کے سمندر میں جسم ڈوبتا پایا
گرد میں ہوا جو گم قافلہ زمانے کا

ماہتاب کو اپنے سائے میں پڑا پایا
٭
لے اڑی غزلؔ آخر زندگی کی طغیانی
روح کے سمندر میں جسم ڈوبتا پایا
 
Top