عزیز بانو داراب وفا۔۔ منتخب اشعار

الف عین

لائبریرین
جس شاعرہ کا قدیم ترین دستیاب شعر یہ ہو
میں جمالِ فطرتِ حسن ہوںمری ہر ادا ہے حسین تر
جو جھکوں تو شاخ گلاب ہوں جو اٹھوں تو ابر بہار ہوں
اس کی شاعری کی سچائی سے کون کلام کر سکتا ہے۔
اسی دوسرے مصرعے کو عنوان بنا کر عینی آپا نے مضمون لکھا تھا ان پر۔ عینی آپا کےمطابق وہ ’سخت رومانٹک روح‘ تھیں۔ ان کے الفاظ میں:
جب ہائی اسکول میں ہماری اردو کلاس لینے سوز شاہجہاں پوری پہلے روز تشریف لائے اور لڑکیوں سے باری باری کوئی عبارت یا اشعار پڑھوا کر سنے۔ بانو میرے قریب ہی تشریف فرما تھیں۔ ہماری باری آنے سے پہلے ہی سوز صاحب نے جھنجھلا کر فرمایا ’آپ لوگ بالکل کوری ہیں‘ بانو نے فورآٍ کاپی پر لکھا ’جی ہاں، ہم لوگ ابھی ابھی کمہار کے ہاں سے بن کر آئے ہیں‘۔ عینی آپا کی یہ کلاس میٹ ایسی ہی تھیں۔ اور ایسی ہی رہیں۔
ستیہ جیت رے نے ’شطرنج کے کھلاڑی‘ کی شوٹنگ کے لئے ’عزیز منزل‘ کو ہی منتخب کیا تھا۔ انہوں نے تعجب سے کہا "لکھنؤ ایسا شہر ہے جہاں مجھے ایک قدیم محل کی زنانی محل سرا میں اعلیٰ درجے کی انگریزی بولتی ہوئی خواتین ملیں‘
اب ان کے وہ اشعار سنئے جو ’بزمِ سہارا‘ میں دئے ہیں:

کتاب زیست میں تھے یوں تو لاکھ افسانے
بس ایک حرفِ وفا تھا جو معتبر ٹھہرا

گئے موسم میں میں نے کیوں نہ کاٹی فصل خوابوں کی
میں اب جاگی ہوں جب گل کھو چکے ہیں ذائقہ اپنا

میری خلوت میں جہاں گرد جمی پائی گئی
انگلیوں سے تری تصویر بنی پائی گئی

ہم ایسے پیڑ ہیں جو چھاؤں بانٹ کر اپنی
شدید دھُوپ میں خود سائے کو ترستے ہیں

میں اس کی گرد ہٹاتے ہوئے بھی ڈرتی ہوں
وہ آئینہ ہے، مجھے خود شناس کر دے گا

ہم ہیں احساس کے سیلاب زدہ ساحل پر
دیکھئے ہم کو کہاں لے کے کنارا جائے

ساز ہر شاخ کو جب دستِ صبا دیتا ہے
درِ زنداں کی بھی زنجیر ہلا دیتا ہے

زرد چہروں کی کتابیں بھی ہیں کتنی مقبول
ترجمے ان کے جہاں بھر کی زبانوں میں ملے

میں اپنے جسم میں رہتی ہوں اس تکلف سے
کہ جیسے اور کسی دوسرے کے گھر میں ہوں

میں کس زبان میں اس کو کہاں تلاش کروں
جو میری گونج کا لگظوں میں ترجمہ کر دے

میں روشنی ہوں تو میری چمک کہاں تک ہے
کبھی چراغ کے نیچے بکھر کے دیکھوں گی

وہ اک تھکا ہوا راہی میں ایک بند سرائے
پہنچ بھی جائے گا مجھ تک تو مجھ سے کیا لے گا

میں اپنے آپ سے ٹکرا گئی تھی، خیر ہوئی
کہ آ گیا مری قسمت سے درمیان میں وہ

میں نے اس ڈر سے لگائے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں اگے پیڑ کو پانی دے گا

ہماری بے بسی شہروں کی دیواروں پہ چپکی ہے
ہمیں ڈھونڈھے گی کل دنیا پرانے اشتہاروں میں

اور

کہیں بکھیر نہ دے مجھ کو زندگی میری
میں مشت خاک ہوں اور دستِ با ہنر میں ہوں
عینی آپا کا بیان درست تھا نا!!
 

محمد وارث

لائبریرین
معذرت خواہ ہوں اعجاز صاحب کہ تاخیر ہو گئی، کل اسے دیکھ لیا تھا لیکن سستی کر گیا :)

شکریہ آپ کا تعارف اور ان خوبصورت اشعار کیلیے!
 

شاہ حسین

محفلین
بہت شکریہ استاد محترم

میں جمالِ فطرتِ حسن ہوںمری ہر ادا ہے حسین تر
جو جھکوں تو شاخ گلاب ہوں جو اٹھوں تو ابر بہار ہوں

تعارف میں دئے گئے شعر نے ہی ان کے مرتبے سی آگاہی دے دی ۔
سب ہی اشعار بہتریں رہے

افسوس کہ میں ناچیز ابھی تک نا واقف تھا ان سے ۔

میں روشنی ہوں تو میری چمک کہاں تک ہے
کبھی چراغ کے نیچے بکھر کے دیکھوں گی
 

نعیم ملک

محفلین
استاد محترم ان میں سے اصل شعر کونسا ہے؟
میں نے یہ سوچ کے بوئے نہیں خوابوں کے درخت
کون صحرا میں لگے پیڑ کو پانی دے گا
----------------------------------
میں نے اس ڈر سے لگائے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں اگے پیڑ کو پانی دے گا
 
میں جمالِ فطرتِ حسن ہوںمری ہر ادا ہے حسین تر
جو جھکوں تو شاخ گلاب ہوں جو اٹھوں تو ابر بہار ہوں

کتاب زیست میں تھے یوں تو لاکھ افسانے
بس ایک حرفِ وفا تھا جو معتبر ٹھہرا

گئے موسم میں میں نے کیوں نہ کاٹی فصل خوابوں کی
میں اب جاگی ہوں جب گل کھو چکے ہیں ذائقہ اپنا

میری خلوت میں جہاں گرد جمی پائی گئی
انگلیوں سے تری تصویر بنی پائی گئی

میں اس کی گرد ہٹاتے ہوئے بھی ڈرتی ہوں
وہ آئینہ ہے، مجھے خود شناس کر دے گا

ہم ہیں احساس کے سیلاب زدہ ساحل پر
دیکھئے ہم کو کہاں لے کے کنارا جائے

ساز ہر شاخ کو جب دستِ صبا دیتا ہے
درِ زنداں کی بھی زنجیر ہلا دیتا ہے

زرد چہروں کی کتابیں بھی ہیں کتنی مقبول
ترجمے ان کے جہاں بھر کی زبانوں میں ملے

میں اپنے جسم میں رہتی ہوں اس تکلف سے
کہ جیسے اور کسی دوسرے کے گھر میں ہوں

میں کس زبان میں اس کو کہاں تلاش کروں
جو میری گونج کا لفظوں میں ترجمہ کر دے

میں روشنی ہوں تو میری چمک کہاں تک ہے
کبھی چراغ کے نیچے بکھر کے دیکھوں گی

وہ اک تھکا ہوا راہی میں ایک بند سرائے
پہنچ بھی جائے گا مجھ تک تو مجھ سے کیا لے گا

میں نے اس ڈر سے لگائے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں اگے پیڑ کو پانی دے گا

العطش! العطش!
 
Top