نورالدین عمری
آخری سرگرمی:
‏جنوری 24, 2019
رکنیت:
‏جنوری 11, 2019
مراسلے:
0
نمبرات:
2
محصول مثبت درجہ بندیاں:
1
محصول نیوٹرل درجہ بندیاں:
0
محصول منفی درجہ بندیاں:
0

مراسلہ ریٹنگ

محصول: عطا کردہ:
پسندیدہ 1 0
زبردست 0 0
معلوماتی 0 0
دوستانہ 0 0
پر مزاح 0 0
متفق 0 0
غیر متفق 0 0
غمناک 0 0
ناقص املا 0 0
مضحکہ خیز 0 0
نا پسندیدہ 0 0
یوم پیدائش:
‏جون 1, 1978 (عمر: 40)
مقام سکونت:
حیدرآباد انڈیا
پیشہ:
معلم

اس صفحے کی تشہیر

نورالدین عمری

محفلین, 40, از حیدرآباد انڈیا

السلام علیکم دوستو اللہ رب العزت سے میری دعا ہے وہ ٓپ تمام کو خوش وخرم رکھے ۔امین یارب ‏جنوری 11, 2019

نورالدین عمری کو آخری دفعہ پایا گیا:
‏جنوری 24, 2019
    1. نورالدین عمری
      نورالدین عمری
      السلام علیکم دوستو اللہ رب العزت سے میری دعا ہے وہ ٓپ تمام کو خوش وخرم رکھے ۔امین یارب
      1. جاسمن نے اسے پسند کیا۔
      2. جاسمن
        جاسمن
        آمین!
        تعارف کے زمرہ میں جا کے اپنے تعارف کی لڑی بنائیں۔
        ‏جنوری 11, 2019
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • تعارف

    یوم پیدائش:
    ‏جون 1, 1978 (عمر: 40)
    مقام سکونت:
    حیدرآباد انڈیا
    پیشہ:
    معلم
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cool
    احساس کی چنگاری
    عام طور پر ہمارے معاشرہ میں کسی بھی انسان کی اہمیت وعزت اس کے مال ودولت پراپرٹی،اس کے منصب کی وجہ سے ہی سمجھی جاتی ہے یعنی آدمی کا اہم اور غیر اہم ہونا اس کے مال کی وجہ سے سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ یہ نظریہ مکمل غیر اسلامی ہے،مال ہوتو عزت دی جاتی ہے ،اس کو دعوت دی جاتی ہے،اس کو بلایا جاتا ہے اگر کسی کے پا سمال نہ ہوتو اس کو سماج میں بھلا دیا جاتا ہے۔یہی چیز اکثر ماں باپ کے پاس آچکی ہے ،اگر کسی کے چار بیٹے ہیں ان میں ایک بیٹا زیادہ کمانے والا ہے تو وہ ماں باپ کے پاس پیارا ہوتا ہے،اس کے بچے پیارے ہوتے ہیں اس کی بیوی پیاری ہوتی ہے، اگر اس کی کام نہ بھی کرے تو اس کو کچھ نہیں کہا جاتا اگر اگر ایک بیٹا کم کمانے والا ہے تو نہ پیارا ہوتا ہے نہ اس کے بچے نہ اس کی بیوی ،الغرض اس کے نہ کمانے کی سزا اس کے بچوں کو بھی دی جاتی ہے اس کے بیوی کو بھی دی جاتی ہے ۔
    اسلام نے صرف مال کی بنیاد پر کسی بڑا قرار نہیں دیا ہے بلکہ یہ کہا ہے،بخاری ومسلم کی روایت ہے کل قیامت کے دن بڑی عزت والا ،موٹا تازہ لایا جائیگا ،لیکن اللہ کے پاس ایک مچھر کے برابر بھی اس کی عزت نہیں ہوگی ۔
    ابتدائے اسلام میں قریش کے سرداروں مالداروں کو اعتراض تھا کہ یہ محمد معاشرہ کے غریب ومسکین لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں ،اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو قریش کے سردار ومالدار ان کی بات سنیں گے یا غور کریں گے تو اللہ نے فورا نبی سے کہا کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ رہیں جو اللہ کو صبح شام یاد کرتے ہیں،اور اللہ کی رضامندی چاہتے ہیں ۔یقینا دنیا میں طاقتور کمزور دونو ں بھی ہیں لیکن کمزور زیادہ ہیں ،جنہوں نے موسی پر ایمان لایا تھا وہ بھی کمزور تھے ،اصھاب الاخدود ،کھائی والے ،یعنی جن کو ایک بادشاہ نے ایمان لانے کی سزا ایک بڑے گڑھے میں آگ جلا کر سب کو جلا دیا تھا وہ بھی کمزور ہی تھے ،بلال وعمار بھی کمزور ہی تھے۔
    بخاری ومسلم کی حدیث ہے رسول اللہ کے پاس ایک مالدار اور غریب کا گزر ہوا ،لوگوں نے مالدار کی تعریف کی اور غریب کے بارے مین کہا اس کی کوئی بات ہی نہیں سنتا ہے اور اگر نکاح کرنا چاہے تو کوئی اس کو لڑکی بھی دینے تیار نہیں ہوگا تو نبی نے جواب میں کہا یہ غریب ومسکین اس مالدار کے مقابلے میں ساری دنیا سے بہتر ہے ۔
    مسلم کی حدیث ہے جنت غریب لوگوں کا ٹھکانہ ہے ،اللہ نے جنت سے کہا ائے جنت تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ جس پر چاہے رحم کرتا ہون ائے جہنم تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعہ مین جس کو چاہوں عزاب دیتا ہوں۔
    جو غیرب ہوتا ہے وہ ام طور پر مجبور ہوتا ہے لوگ اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ،سب لوگ اسی سے کام لینا چاہتے ہیں لیکن اس کا بہتر معاوضہ نہیں دیتے ۔ایک دکان مین کام کرنے والا نوکر مسکین ہوتا ہے مجبور ہوتا ہے لیکن اس کی مجبوری اس کی پریشانی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی،ایک اسکو ل اور کالج میں کام کرنے والی آیا ،ایک گھر میں کام کرنے والی آیا کی مجبوری ،پریشانی اس کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔
    اسلام مجبور وکمزور لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے ،ان کے ساتھ ہمدردی ،دلجوئی کی جائے ،اس کے مسائل پر غور کیا جائے ،وہ کن کن حالات سے گزرتا ہے اس کا احساس رکھا جائے ۔
    ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سارے مالدار سخت دل نہیں ہوتے ہیں بلکہ نرم دل لوگ بھی ہیں ،محبت سے پیش آنے والے بھی ہیں ،عزت کرنے والے بھی ہیں مدد کرنے والے بھی ہیں لیکن بہت کم ہیں۔
    اور یہ بھی جانتے ہیں کہ سارے غریب ومسکین اچھے اور نیک بااخلاق بھی نہیں ہیں۔بہت سارے غریب ومسکین دھوکے باز بھی ہیں ،اپنی گریبی ومسکینی کا غلط فائدہ اٹھانے والے بھی ہیں،اھسان فراموش بھی ہیں ،اپنے آقاوں کو دھوکہ دینے والے بھی ہیں لیکن ایسے لوگ بھی کم ہی ہیں۔
    معاشرہ میں دنوں طرح کے لوگ ہیں لیکن اکثر مالدار وں مین احسا س کی کمی ہوتی ہے ،اکثر غریبوں کے حقوق پامال کئے جاتے ہیں ۔
    لیکن اللہ کے پاس پیارا نہ مال کی وجہ سے ہوسکتا ہے نہ غربت کی وجہ سے ہوسکتا ہے ،بس اس کے عمل ،اس کی نیکی ،اس کے اخلاق اس کے تقوی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔بہت سارے صحابہ مالدار سے ان کی مالداری نے ان کو نافرمانی پر نہیں ابھارا ، صحابہ کی بڑی تعداد غربت کی حالت مین تھی لیکن ان کی غربت نے ان کو ناشکرا یا نافرمان نہین بنایا ۔آج بھی ہمیں اسی طرح بیالنس رکھنے کی ضرورت ہے ۔اپنے اندر احساس کی چنگاری کو بجھنے نہ دیں اپنے ضمیر کو مرنے نہ دیں ،اپنی فکر کو مثبت رکھیں ،بردباری پیدا کریں ۔حقوق دینا سیکھیں حقوق خود بخود ملنا شروع ہوجائیں گے ان شاءاللہ ۔آپ کا خیراندیش نورالدین عمری