Install Urdu Fonts

UrduWiki : YahyaFazli

UrduHome :: Categories :: PageIndex :: RecentChanges :: RecentlyCommented :: Login/Register
Most recent edit on 2007-11-22 20:29:14 by ZackAjmal

Additions:
میں یھاں پر اپنی ایک کتاب شامل کرنی چاہتا ھوں۔مگر مجھے پتا نھیں چل رھا کھ یھ کام کیسے کیا جا سکتا ھے۔ میں فی الحال ایک کھانی کاپی کر رھا ھوں۔
‫جیون خان
میرا طیارہ پیرس کے ہوائی اڈے اورلی پر آدھ گھنٹہ لیٹ اترا تھا ۔ اگلی فلائیٹ مجھے تین گھنٹوں کے بعد چارلس ڈیگال ہوائی اڈے سے لینی تھی۔ اس زمانے میں دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان شٹل بس چلتی تھی، جو میرے بس اسٹاپ پر پہنچنے سے قبل جا چکی تھی۔ اگلی بس پندرہ منٹوں میں چلنی تھی۔ میں نے ویٹنگ روم میں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا ، تو ایک ہم وطن کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اسے سلام کیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھا۔ اس نے مجھ سے جاننا چاہا کہ میں کہاں سے ہوں ۔ میں نے اپنے شہر ہمبرگ کا نام لیا ، مگر اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی ۔ اس نے پوچھا کہ میں پیچھے کہاں سے ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان کا رہنے والا ہوں ، مگر ایک عمر سے جرمنی میں مقیم ہوں۔ اس نے جاننا چاہا کہ میں پاکستان میں کس جگہ سے ہوں۔ میں نے راولپنڈی کا نام لیا۔اس پر اس نے میرے گاᄊں کا نام پوچھا ۔ اب میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ کہیں میرے گاᄊں کا رہنے والا تو نہیں۔ مگر مجھے اس کا چہرہ قطعاً نامانوس لگا ۔ میں نے کہا کہ میں چنگا بنگیال سے ہوں۔ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے اٹھ کر گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے معانقہ کیا اور کہا کہ وہ مجھے پہلی نظر میں پہچان گیا تھا ۔ میں نے اس کا امتحان لینے کی غرض سے کہا کہ پھر تو وہ میرا نام بھی جانتا ہو گا ۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے نام سے بالکل ناواقف ہے ، کیونکہ ہمارا آپس میں تعارف نہیں ہوا تھا اور کسی نے اس کے سامنے میرا نام نہیں لیا تھا ۔
مجھے یاد نہیں پڑتا تھا کہ میں نے اسے اپنی زندگی میںکہیں پر دیکھا تھا ۔ مگر میں اس سلسلے میں قابل اعتبار گواہ نہیں ہوں۔ کیونکہ میری چہروں کی یادداشت کمزور ہے ۔ مجھے بہت سی باتیں یاد رہ جاتی ہیں مثلاً یہ کہ میں کس سے کب ملا تھا اور ہمارے درمیان کیا بات ہوئی تھی، مگر چہروں کو میں یکسر بھول جاتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ ہمارا ملنا ء۱۹۴۸میں گوجر خان میں ہوا تھا ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس وقت میری عمر تیرہ چودہ سال کی رہی ہو گی۔ میں نے کہا کہ کیا اتنے برسوں میں میری شکل و شباہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو وہ مجھے پہچاننے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کی یادداشت فوٹو گرافک ہے ۔ جس شکل کو وہ ایک بار دیکھ لے ، اسے ساری عمر نہیں بھولتا ۔ میں نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی پولیس میں بہت مانگ ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ پولیس کے محکمہ میں ڈی ایس پی ہے ۔ اسے نہ صرف میری شکل یاد تھی ، بلکہ وہ ساری باتیں بھی جو میرے اور اس کے باپ کے درمیان ہوئی تھیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا باپ اس قصے میں کہاں سے آ نکلا۔ اس نے کہا بہتر ہے کہ وہ مجھے سارا قصہ شروع سے سنائے ۔
وہ اپنے باپ کے ساتھ گوجر خان سے کلر سیداں جانے والی بس میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور بس بھر چکی تھی ۔ مگر ڈرائیور چلنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ اس کے باپ کو اس روز گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، اس لئے اس نے ڈرائیور سے کہا کہ اسے چلنا چاہیئے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ایک شخص کا انتظار کر رہا ہے ، جو تھوڑی دیر میں آ جائے گا ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک چھوکرا ہاتھ میں تھیلا پکڑے ہوئے پہنچ گیا ۔ وہ چھوکرا میں تھا ، جو اسی بس میں صبح کے وقت سودا سلف لانے کے لئے گوجر خان آیا تھا اور اب سامان لے کر واپس چنگا جا رہا تھا ۔ ڈرائیور نے اس کے باپ سے کہا کہ اپنے بیٹے کو ، جس کی عمر نو یا دس سال تھی ، اپنی گود میں بیٹھا لے اور میرے لئے فرنٹ سیٹ پر جگہ بنائے ۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں چنگا سے ہوں ، جہاں پر اس روز کبڈی کا میچ ہونا تھا ، جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آ رہے تھے ۔
مجھے یاد ہے کہ حمید کے باپ نے کسی قدر بد دلی کیساتھ میرے لئے جگہ بنائی تھی۔ لگتا تھا کہ اسے ایک چھوکرے کیلئے اپنے بیٹے کو گود میں بٹھانا کچھ ایسا پسند نہ آیا تھا۔ مگر بس چلنے کے بعد اسکا رویہ بدل گیا اور اس نے مجھ سے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے ۔ پہلا سوال یہ تھا کہ میں کس جماعت میں تھا اور کس اسکول میں پڑھتا تھا ۔ میں نے بتایا کہ میں قاضیاں کے مڈل اسکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں انگریزی پڑھ لیتا ہوں ۔ وہ کسی انگریزی خوان سے ایک خط پڑھوانا چاہتا تھا ، جو اسکو اسکی پنشن کے سلسلہ میں آیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے اس روز وہ خط اسکی جیب میں نہ تھا ۔ اسکا بیٹا تیسری جماعت میں تھا ۔ انکے گاᄊں میں پرائمری اسکول تھا ۔ گویا چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد اسے کلر کے اسکول میں داخل کرانا پڑے گا اور اسکے بیٹے کو روزانہ تین میل چل کر اسکول جانا ہو گا ۔ میں نے کہا کہ میرا اسکول بھی کم و بیش اتنے ہی فاصلے پرہے ۔
پھر کبڈی کے میچ کی بات چل نکلی۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں کبڈی کا جانا پہچانا کھلاڑی رہ چکا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا اسے کبھی میرے گرائیں جیون خان کے مقابلے میں کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے جیون اور اسکی بیوی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ انکا کیا حال ہے ؟ کیا وہ چل پھر لیتے ہیں یا بالکل لاچار ہو گئے ہیں؟ اس نے کسی سے سنا تھا کہ جیون گر گیا تھا اور اسکے پاᄊں میں موچ آ گئی تھی۔ میں نے بتایا کہ وہ ہمارے مکان کے پچھواڑے میںرہتا ہے اور مجھے اماں اکثر کنویں سے پانی کی بالٹی بھر کر اسکے گھر پر دینے کے لئے بھیجا کرتی ہیں ۔ جب کبھی میں گوجر خان سے خورد و نوش کی چیزیں لاتا ہوں ، تو اماں اس میں سے ایک حصہ جیون اور اسکی بیوی کو بھیج دیتی ہیں۔ انکی چونکہ اولاد نہیں ، اسلئے ہمسائے میاں بیوی کا خیال رکھتے ہیں ۔ انکی آمدن کا انحصار زمین کی کاشت پر ہے ، جو انہوں نے بٹائی پر دے رکھی ہے ۔
میں نے سن رکھا تھا کہ جیون اپنی جوانی کے زمانے میں لٹھ مار ہوا کرتا تھا اور میلوں ٹھیلوں پر ہر کسی سے جھگڑا مول لے لیتا تھا ۔ حمید کے باپ نے کہا کہ یہ محض باتیں ہیں ۔ وہ لٹھ مار سے زیادہ کبڈی کا ماہر کھلاڑی تھا اور اپنی جوانی کے زمانے میں ہی بہت بڑا نام پیدا کر چکا تھا ۔ لوگ پچاس پچاس کوس سے اس کا کھیل دیکھنے کے لئے آتے تھے ۔ اس کی ٹکر کا بس ایک سکھ کھلاڑی صوبہ سنگھ تھا ۔ جس میچ میں یہ دونوں جمع ہو جاتے تھے ، وہاں پر تماشائیوں کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے ۔ دونوں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے تھے ، مگر میچ ختم ہونے کے بعددو قالب و یک جان بن جاتے تھے ۔ البتہ یہ دوستی بہت دنوں تک نہ چل سکی، کیونکہ صوبہ سنگھ ڈاکہ ڈالنے لگا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جیون اس کے ساتھ مل جائے ۔ مگر جیون نے اس کی بات نہ مانی ، بلکہ اس نے صوبہ سنگھ کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے چنگا یا اس کے قرب و جوار کے کسی گاᄊں میں واردات کی ، تو پھر اس کے حق میں جیون سے بڑھ کر برا کوئی شخص نہ ہو گا ۔ یہ بات سارے علاقے میں پھیل گئی اور ڈاکو اور بد معاش جیون سے ڈر کے مارے اس علاقے کا رخ نہ کرتے تھے ۔
گوجر خان سے چنگا کا فاصلہ صرف سات میل کاہے ، مگر اس زمانے میں سڑک کچی تھی اور بارشوں کے موسم میں جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی تھی۔ راستے میں پڑنے والی ندی کسی اور بھڈانہ کے نالے کے سبب ، جو دو ٹیلوں کے درمیان بہتا تھااور جس میں سے گذر کر جانا پڑتا تھا ، بس کہیں گھنٹہ بھر میں چنگا پہنچتی تھی۔ وہاں پر کبڈی کے تماشائیوں کا اچھا خاصا جمگٹھا لگا ہو اتھا ۔ میں نے بس سے اترتے ہوئے حمید کے باپ کو رات بھر کیلئے چنگا میں رک جانے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کی دعوت دی ۔ اس نے جواب دیا کہ اسکا دل تو بہت چاہتا ہے ، مگر وہ جیون خان کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا ۔ میں نے ہنس کر کہا کہ جیون خان نے صرف ڈاکوᄊں کا چنگا میں آنا بند کیا تھا ۔ اب تو وہ بیچارہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔ اسلئے اب اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ جیون خان کیساتھ اسکے خاندان کا ایک اور جھگڑا چل رہا ہے ، جو ڈاکہ ڈالنے سے بڑھ کر سنگین ہے ۔
سہ پہر کو کبڈی کا میچ ہوا ، جس کو دیکھنے کے لئے دور و نزدیک کے گاᄊں کے چھوٹے بڑے سب آئے ہوئے تھے ۔ میں نے اس سے پہلے اتنا بڑا مجمع اپنے گاᄊں میں نہیں دیکھا تھا ۔ جیون بھی لاٹھی پر ٹیک لگاتا ہوا میدان میں پہنچ گیا اور ایک کٹے ہوئے درخت کی ٹنڈ پر صافہ ڈال کر بیٹھ گیا ۔ اسکے جاننے والے اسکے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے اسے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا کہ چنگا کی ٹیم میں ایک بھی پرانا تجربہ کار کھلاڑی شامل نہیں ہے ۔ کسی نے کہاکہ جوان لوگ ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں ۔ پیچھے صرف بڈھے اور بچے رہ گئے ہیں ۔ کسی اور نے کہا کہ یہ لوگ اور انکی آل اولاد اب واپس نہیں آئے گی ۔ ہمیں انکو بھول جانا چاہیئے ، ان پر فاتحہ پڑھ دینی چاہیئے ۔ جیون نے کہا کہ وہ پہلی عالگیر جنگ کے دنوں میں فوج میں بھرتی ہو کر دنیا بھر میں گھومتا پھرا تھا، مگرآخر میں اپنے گاᄊں میں لوٹ آیا تھا ۔ ایک بڈھے نے کہا کہ تمہیں تو واپس آنا ہی تھا ، کیونکہ تمہاری بہوٹی یہاں پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ جیون نے جواب دیا کہ اس زمانے میں وہ ابھی چھڑا چھانٹ تھا ۔ البتہ اسکی چاہنے والیاں بہت تھیں ، وہ چاہتا تو پورا حرم بنا سکتا تھا ۔
اس روز خلاف توقع ہمارے گاᄊں کی ٹیم جیت گئی ، جس کا سبب ایک نوجوان کھلاڑی منور بنا ۔ وہ دوڑنے میں اس قدر تیز تھا کہ مخالف ٹیم اس کو ایک بار بھی نہ پکڑ سکی۔ اگر وہ کبھی گھیرے میں آ جاتا تھا ، تو پھرتی سے خرگوش کی طرح دائیں بائیں پچھاڑی مارتا اور صاف بچ کر نکل جاتا تھا ۔ دفاع کرنے میں بھی وہ یکتا تھا۔ مخالف کھلاڑی کو پھدک کر اس طرح ٹانگوں کی قینچی مارتا تھا کہ اپنے سے بڑے جوانوں کو بے بس کر کے قابو میں کر لیتا تھا ۔ جیون نے کھیل کے خاتمے پر منور کو اپنا جانشین قرار دے دیا اور کہا کہ اب وہ اطمینان کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر سکتا ہے ۔
اس میچ کے تھوڑے عرصہ کے بعد اماں نے راولپنڈی واپس جانے کا پروگرام بنا لیا ، جہاں پر مجھے اور میرے بھائیوں کو اپنے پرانے اسکولوں بلکہ اپنی سابقہ کلاسوں میں دوبارہ داخلہ مل گیا اور ہماری زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چلنے لگی ۔ مجھے گاᄊں میں صرف چند ماہ بسر کرنے کا موقعہ ملا تھا ، مگر وہ چند ماہ میری زندگی کا ایک یادگار حصہ بن گئے۔ وہاں پر میری ملاقات جن قابل ذکر لوگوں سے ہوئی ، ان میں جیون خان کا نام سر فہرست ہے ۔ البتہ مجھے کبھی اس کے روبرو بیٹھ کر بات کرنے کا اتفاق نہ ہوا ۔ میں جو کچھ تھوڑا بہت اس کے بارے میں جانتا ہوں، وہ مجھ تک دوسرے کی وساطت سے پہنچا ہے ۔ اگر اتفاق سے چند برسوں کے بعد میری ملاقات پٹھوہار کے مشہور ڈاکو سجاول کے ساتھ نہ ہو جاتی ، تو مجھ پر جیون کی زندگی کا ایک اہم پہلو شاید ہمیشہ کے لئے پوشیدہ رہتا ۔
پاکستان میں اپنی درسی تعلیم کے خاتمہ پر جب میرا جرمنی جانے کا پروگرام بنا ، تو میں اپنے عزیزوں سے رخصت لینے کے لئے چنگا بھی گیا ۔ وہاں پر میرے قیام کے دوسرے یا تیسرے روز ایک شخص یہ پیغام لایا کہ سجاول مجھ سے ملنا چاہتا ہے ۔ مجھے شام کے وقت تیار رہنے کے لئے کہا گیا ، مگر جائے ملاقات کے بارے میں کچھ نہ بتایا گیا ۔ عشاءکی آذان ہونے کے بعد ، جب کہ خاصا اندھیرا پڑ چکا تھا ، سجاول کا آدمی مجھے لینے کے لئے آیا اور گاᄊں کی گلیوں میں گھماتا پھراتا ہو ایک حویلی میں لے گیا ، جس کے دیوان خانے میں سجاول اپنا دربار لگا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اونچے قد کاٹھ کا ایک مضبوط آدمی تھا ۔ میرے ساتھ وہ بہت توجہ اور دوستی سے پیش آیا ۔ اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا:
‭"‬ کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہاری اماں سے پڑھنا لکھنا سیکھا تھا ‭"‬ ۔
میں اس بات سے واقف تھا ۔ اماں نے ہمیں کئی بار سنایا تھا کہ جب میرے دادا جان نے اپنی حویلی میں بچیوں کو پڑھانے کے لئے مدرسہ کھولا، کیونکہ اس وقت تک لڑکیوں کی تعلیم کا ہمارے گاᄊں میں کوئی انتظام نہ تھا ، تو سجاول کی ماں اس کو اماں کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ میرے بیٹے کو پہلی جماعت میں داخل کر لیں ۔
اماں نے کہا :‭"‬ تم اسکو لڑکوں کے مدرسہ میں کیوں نہیں داخل کراتی ہو؟‭"‬
اس نے جواب دیا:‭"‬ میرا سجاول لڑکیوں کی طرح شرمیلا ہے ۔ وہ لڑکوں کے ساتھ نہ چل سکے گا ‭"‬ ۔
پھر سجاول نے سنایا کہ ایک دفعہ اس کے ٹولہ کے لوگوں نے ایک مکان میں سیندھ لگانے کا ارادہ کیا ، جس کے بارے میں انہیں پتہ چلا تھا کہ وہاں پر عمدہ ترین کراکری ، فرنیچر۔ قالین ، گھڑیا ں اور دوسرا سامان رہائش و آرائش بھرا پڑا ہے اور مالکان مکان خود شہر میں رہتے ہیں ۔ سجاول کو ان لوگوں کا نام نہیں بتایا گیاتھا۔اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ مکان چنگا میں پایا جاتا ہے ۔ جب وہ لوگ ایک کھیتی میں داخل ہوئے ، جس کے ساتھ ہماری حویلی کی بیرونی دیوار لگتی ہے ، تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ ہمارے مکان میں سیندھ لگانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت تک دو تین ڈاکو دیوار کے اوپر چڑھ چکے تھے ۔ سجاول نے بتایا کہ اس نے اپنا پستول نکال کر ان کی طرف تان کر کہا کہ فوراً دیوار سے نیچے اتر جاᄊ۔ بدبختو میں نے اس گھر میں آنکھوں کی روشنی پائی تھی ، اس لئے میں اس گھر پر نہ تو خود ڈاکہ ڈالوں گا اور نہ کسی اور کو ڈاکہ ڈالنے دوں گا ۔ یہ بات بہت جلد علاقہ بھر میں پھیل گئی کہ سجاول نے چنگا کو اپنی امان میں لے لیا ہے ۔ اس دن کے بعد جب تک سجاول زندہ رہا چنگا میں ڈکیتی کی واردات نہیں ہوئی ۔
میں نے سجاول سے کہا کہ کیا اسے پتہ ہے کہ جیون نے بھی اپنی جوانی کے زمانے میں ایسی ہی بات کہی تھی ۔ سجاول نے جواب دیا کہ اس کے اور جیون کے درمیان کئی ایک باتیں سانجھی پائی جاتی ہیں۔ البتہ اس کے بر عکس جیون نے کبھی ڈاکہ نہیں ڈالا اور کسی کا خون نہیں بہایا ، جب کہ وہ یہ بات اپنے بارے میں نہیں کہہ سکتا ۔ جیون کی بیوی کی طرح اس کی بیوی بھی اپنی مرضی سے اپنے ماں باپ کے گھرسے نکل کر اس کے پاس آ گئی تھی ۔ دونوں عورتوں کے باپوں کا رد عمل شدید تھا۔
‭"‬ میری بیوی کے باپ نے تو یہ خباثت کی کہ میری مخبری پولیس کے پاس کر دی اور پولیس کے ایک دستہ نے میرامحاصرہ کر لیا ۔ مجھے اپنی جان بچانے کے لئے پولیس کے ساتھ مسلح جنگ لڑنی پڑی ، جس میں میرے دو آدمی اور پولیس کے پانچ سپاہی مارے گئے ۔ میں نے بعد میں اپنی بیوی کے باپ سے اس مخبری کا بدلہ لے لیا تھا ۔ مگر جیون اس معاملہ میں مجھ سے مختلف تھا ۔ اس کی بیوی کے باپ نے جیتے جی اپنی لڑکی کو اس کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس کا داخلہ اپنے گھر پر بند کئے رکھا ۔ جانتے ہو کہ جیون نے اپنی بیوی کے ساتھ اس کے باپ کے مرنے اور باقاعدہ نکاح ہو جانے والے روز تک ہمبستری نہیں کی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے نکاح کا اعلان مسجد میں ہو اور وہ باقاعدہ طور پر شادی کی رسومات ادا کر کے میاں بیوی کی زندگی بسر کریں ۔ جیون اور اس کی بیوی کے مرنے تک اس کے سسرال نے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھا‭"‬ ۔
جب آدھی رات کے لگ بھگ سجاول کا آدمی مجھے گھر چھوڑنے کیلئے میرے ساتھ گیا ، تو میں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ سجاول نے اپنی بیوی کے باپ سے کس طرح بدلہ لیا تھا ۔ اس نے کہا کہ سجاول نے اسکو ٹوکے سے ٹکڑے کر کر کے مار ڈالا تھا ۔
ہم چارلس ڈیگال ہوائی اڈے پر پہنچے ، تو میری پرواز کا اعلان ہو رہا تھا ، اسلئے مجھے فی الفور حمید سے رخصت لینی پڑی ۔ میں نے چلتے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا وہ مجھے بتا سکتا ہے کہ اسکے باپ نے اس روز چنگا میں اترنے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کے سلسلہ میں میری دعوت کو کیوں قبول نہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جیون کی وجہ سے وہاں پر نہیں اتر سکتا ۔
حمید نے کہا: ‭"‬ اس کی وجہ یہ تھی کہ جیون کی بیوی میرے باپ کی سب سے بڑی بہن تھی ، جس کو میرے دادا نے اپنے خاندان سے خارج کر دیا تھا اور اپنے بچوں کو وصیت کی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں‭"‬ ۔
میں حمید سے رخصت ہو کر ائر فرانس کے کونٹر پر چیک ان کے لئے چلا گیا ۔ بعد میں جہاز پر چڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ مجھے حمید سے اس کی پھوپھی کا نام تو پوچھ لینا چاہیئے تھا ، جس سے میں آج تک ناواقف ہوں۔
( ہمبرگ ۔ ۱۷ جولائی ء
‭￿‬


Deletions:
ereltsi
میں یھاں پر اپنی ایک کتاب شامل کرنی چاہتا ھوں۔مگر مجھے پتا نھیں چل رھا کھ یھ کام کیسے کیا جا سکتا ھے۔ میں فی الحال ایک کھانی کاپی کر رھا ھوں۔
‫جیون خان
میرا طیارہ پیرس کے ہوائی اڈے اورلی پر آدھ گھنٹہ لیٹ اترا تھا ۔ اگلی فلائیٹ مجھے تین گھنٹوں کے بعد چارلس ڈیگال ہوائی اڈے سے لینی تھی۔ اس زمانے میں دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان شٹل بس چلتی تھی، جو میرے بس اسٹاپ پر پہنچنے سے قبل جا چکی تھی۔ اگلی بس پندرہ منٹوں میں چلنی تھی۔ میں نے ویٹنگ روم میں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا ، تو ایک ہم وطن کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اسے سلام کیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھا۔ اس نے مجھ سے جاننا چاہا کہ میں کہاں سے ہوں ۔ میں نے اپنے شہر ہمبرگ کا نام لیا ، مگر اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی ۔ اس نے پوچھا کہ میں پیچھے کہاں سے ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان کا رہنے والا ہوں ، مگر ایک عمر سے جرمنی میں مقیم ہوں۔ اس نے جاننا چاہا کہ میں پاکستان میں کس جگہ سے ہوں۔ میں نے راولپنڈی کا نام لیا۔اس پر اس نے میرے گاᄊں کا نام پوچھا ۔ اب میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ کہیں میرے گاᄊں کا رہنے والا تو نہیں۔ مگر مجھے اس کا چہرہ قطعاً نامانوس لگا ۔ میں نے کہا کہ میں چنگا بنگیال سے ہوں۔ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے اٹھ کر گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے معانقہ کیا اور کہا کہ وہ مجھے پہلی نظر میں پہچان گیا تھا ۔ میں نے اس کا امتحان لینے کی غرض سے کہا کہ پھر تو وہ میرا نام بھی جانتا ہو گا ۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے نام سے بالکل ناواقف ہے ، کیونکہ ہمارا آپس میں تعارف نہیں ہوا تھا اور کسی نے اس کے سامنے میرا نام نہیں لیا تھا ۔
مجھے یاد نہیں پڑتا تھا کہ میں نے اسے اپنی زندگی میںکہیں پر دیکھا تھا ۔ مگر میں اس سلسلے میں قابل اعتبار گواہ نہیں ہوں۔ کیونکہ میری چہروں کی یادداشت کمزور ہے ۔ مجھے بہت سی باتیں یاد رہ جاتی ہیں مثلاً یہ کہ میں کس سے کب ملا تھا اور ہمارے درمیان کیا بات ہوئی تھی، مگر چہروں کو میں یکسر بھول جاتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ ہمارا ملنا ء۱۹۴۸میں گوجر خان میں ہوا تھا ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس وقت میری عمر تیرہ چودہ سال کی رہی ہو گی۔ میں نے کہا کہ کیا اتنے برسوں میں میری شکل و شباہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو وہ مجھے پہچاننے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کی یادداشت فوٹو گرافک ہے ۔ جس شکل کو وہ ایک بار دیکھ لے ، اسے ساری عمر نہیں بھولتا ۔ میں نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی پولیس میں بہت مانگ ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ پولیس کے محکمہ میں ڈی ایس پی ہے ۔ اسے نہ صرف میری شکل یاد تھی ، بلکہ وہ ساری باتیں بھی جو میرے اور اس کے باپ کے درمیان ہوئی تھیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا باپ اس قصے میں کہاں سے آ نکلا۔ اس نے کہا بہتر ہے کہ وہ مجھے سارا قصہ شروع سے سنائے ۔
وہ اپنے باپ کے ساتھ گوجر خان سے کلر سیداں جانے والی بس میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور بس بھر چکی تھی ۔ مگر ڈرائیور چلنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ اس کے باپ کو اس روز گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، اس لئے اس نے ڈرائیور سے کہا کہ اسے چلنا چاہیئے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ایک شخص کا انتظار کر رہا ہے ، جو تھوڑی دیر میں آ جائے گا ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک چھوکرا ہاتھ میں تھیلا پکڑے ہوئے پہنچ گیا ۔ وہ چھوکرا میں تھا ، جو اسی بس میں صبح کے وقت سودا سلف لانے کے لئے گوجر خان آیا تھا اور اب سامان لے کر واپس چنگا جا رہا تھا ۔ ڈرائیور نے اس کے باپ سے کہا کہ اپنے بیٹے کو ، جس کی عمر نو یا دس سال تھی ، اپنی گود میں بیٹھا لے اور میرے لئے فرنٹ سیٹ پر جگہ بنائے ۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں چنگا سے ہوں ، جہاں پر اس روز کبڈی کا میچ ہونا تھا ، جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آ رہے تھے ۔
مجھے یاد ہے کہ حمید کے باپ نے کسی قدر بد دلی کیساتھ میرے لئے جگہ بنائی تھی۔ لگتا تھا کہ اسے ایک چھوکرے کیلئے اپنے بیٹے کو گود میں بٹھانا کچھ ایسا پسند نہ آیا تھا۔ مگر بس چلنے کے بعد اسکا رویہ بدل گیا اور اس نے مجھ سے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے ۔ پہلا سوال یہ تھا کہ میں کس جماعت میں تھا اور کس اسکول میں پڑھتا تھا ۔ میں نے بتایا کہ میں قاضیاں کے مڈل اسکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں انگریزی پڑھ لیتا ہوں ۔ وہ کسی انگریزی خوان سے ایک خط پڑھوانا چاہتا تھا ، جو اسکو اسکی پنشن کے سلسلہ میں آیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے اس روز وہ خط اسکی جیب میں نہ تھا ۔ اسکا بیٹا تیسری جماعت میں تھا ۔ انکے گاᄊں میں پرائمری اسکول تھا ۔ گویا چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد اسے کلر کے اسکول میں داخل کرانا پڑے گا اور اسکے بیٹے کو روزانہ تین میل چل کر اسکول جانا ہو گا ۔ میں نے کہا کہ میرا اسکول بھی کم و بیش اتنے ہی فاصلے پرہے ۔
پھر کبڈی کے میچ کی بات چل نکلی۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں کبڈی کا جانا پہچانا کھلاڑی رہ چکا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا اسے کبھی میرے گرائیں جیون خان کے مقابلے میں کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے جیون اور اسکی بیوی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ انکا کیا حال ہے ؟ کیا وہ چل پھر لیتے ہیں یا بالکل لاچار ہو گئے ہیں؟ اس نے کسی سے سنا تھا کہ جیون گر گیا تھا اور اسکے پاᄊں میں موچ آ گئی تھی۔ میں نے بتایا کہ وہ ہمارے مکان کے پچھواڑے میںرہتا ہے اور مجھے اماں اکثر کنویں سے پانی کی بالٹی بھر کر اسکے گھر پر دینے کے لئے بھیجا کرتی ہیں ۔ جب کبھی میں گوجر خان سے خورد و نوش کی چیزیں لاتا ہوں ، تو اماں اس میں سے ایک حصہ جیون اور اسکی بیوی کو بھیج دیتی ہیں۔ انکی چونکہ اولاد نہیں ، اسلئے ہمسائے میاں بیوی کا خیال رکھتے ہیں ۔ انکی آمدن کا انحصار زمین کی کاشت پر ہے ، جو انہوں نے بٹائی پر دے رکھی ہے ۔
میں نے سن رکھا تھا کہ جیون اپنی جوانی کے زمانے میں لٹھ مار ہوا کرتا تھا اور میلوں ٹھیلوں پر ہر کسی سے جھگڑا مول لے لیتا تھا ۔ حمید کے باپ نے کہا کہ یہ محض باتیں ہیں ۔ وہ لٹھ مار سے زیادہ کبڈی کا ماہر کھلاڑی تھا اور اپنی جوانی کے زمانے میں ہی بہت بڑا نام پیدا کر چکا تھا ۔ لوگ پچاس پچاس کوس سے اس کا کھیل دیکھنے کے لئے آتے تھے ۔ اس کی ٹکر کا بس ایک سکھ کھلاڑی صوبہ سنگھ تھا ۔ جس میچ میں یہ دونوں جمع ہو جاتے تھے ، وہاں پر تماشائیوں کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے ۔ دونوں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے تھے ، مگر میچ ختم ہونے کے بعددو قالب و یک جان بن جاتے تھے ۔ البتہ یہ دوستی بہت دنوں تک نہ چل سکی، کیونکہ صوبہ سنگھ ڈاکہ ڈالنے لگا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جیون اس کے ساتھ مل جائے ۔ مگر جیون نے اس کی بات نہ مانی ، بلکہ اس نے صوبہ سنگھ کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے چنگا یا اس کے قرب و جوار کے کسی گاᄊں میں واردات کی ، تو پھر اس کے حق میں جیون سے بڑھ کر برا کوئی شخص نہ ہو گا ۔ یہ بات سارے علاقے میں پھیل گئی اور ڈاکو اور بد معاش جیون سے ڈر کے مارے اس علاقے کا رخ نہ کرتے تھے ۔
گوجر خان سے چنگا کا فاصلہ صرف سات میل کاہے ، مگر اس زمانے میں سڑک کچی تھی اور بارشوں کے موسم میں جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی تھی۔ راستے میں پڑنے والی ندی کسی اور بھڈانہ کے نالے کے سبب ، جو دو ٹیلوں کے درمیان بہتا تھااور جس میں سے گذر کر جانا پڑتا تھا ، بس کہیں گھنٹہ بھر میں چنگا پہنچتی تھی۔ وہاں پر کبڈی کے تماشائیوں کا اچھا خاصا جمگٹھا لگا ہو اتھا ۔ میں نے بس سے اترتے ہوئے حمید کے باپ کو رات بھر کیلئے چنگا میں رک جانے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کی دعوت دی ۔ اس نے جواب دیا کہ اسکا دل تو بہت چاہتا ہے ، مگر وہ جیون خان کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا ۔ میں نے ہنس کر کہا کہ جیون خان نے صرف ڈاکوᄊں کا چنگا میں آنا بند کیا تھا ۔ اب تو وہ بیچارہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔ اسلئے اب اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ جیون خان کیساتھ اسکے خاندان کا ایک اور جھگڑا چل رہا ہے ، جو ڈاکہ ڈالنے سے بڑھ کر سنگین ہے ۔
سہ پہر کو کبڈی کا میچ ہوا ، جس کو دیکھنے کے لئے دور و نزدیک کے گاᄊں کے چھوٹے بڑے سب آئے ہوئے تھے ۔ میں نے اس سے پہلے اتنا بڑا مجمع اپنے گاᄊں میں نہیں دیکھا تھا ۔ جیون بھی لاٹھی پر ٹیک لگاتا ہوا میدان میں پہنچ گیا اور ایک کٹے ہوئے درخت کی ٹنڈ پر صافہ ڈال کر بیٹھ گیا ۔ اسکے جاننے والے اسکے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے اسے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا کہ چنگا کی ٹیم میں ایک بھی پرانا تجربہ کار کھلاڑی شامل نہیں ہے ۔ کسی نے کہاکہ جوان لوگ ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں ۔ پیچھے صرف بڈھے اور بچے رہ گئے ہیں ۔ کسی اور نے کہا کہ یہ لوگ اور انکی آل اولاد اب واپس نہیں آئے گی ۔ ہمیں انکو بھول جانا چاہیئے ، ان پر فاتحہ پڑھ دینی چاہیئے ۔ جیون نے کہا کہ وہ پہلی عالگیر جنگ کے دنوں میں فوج میں بھرتی ہو کر دنیا بھر میں گھومتا پھرا تھا، مگرآخر میں اپنے گاᄊں میں لوٹ آیا تھا ۔ ایک بڈھے نے کہا کہ تمہیں تو واپس آنا ہی تھا ، کیونکہ تمہاری بہوٹی یہاں پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ جیون نے جواب دیا کہ اس زمانے میں وہ ابھی چھڑا چھانٹ تھا ۔ البتہ اسکی چاہنے والیاں بہت تھیں ، وہ چاہتا تو پورا حرم بنا سکتا تھا ۔
اس روز خلاف توقع ہمارے گاᄊں کی ٹیم جیت گئی ، جس کا سبب ایک نوجوان کھلاڑی منور بنا ۔ وہ دوڑنے میں اس قدر تیز تھا کہ مخالف ٹیم اس کو ایک بار بھی نہ پکڑ سکی۔ اگر وہ کبھی گھیرے میں آ جاتا تھا ، تو پھرتی سے خرگوش کی طرح دائیں بائیں پچھاڑی مارتا اور صاف بچ کر نکل جاتا تھا ۔ دفاع کرنے میں بھی وہ یکتا تھا۔ مخالف کھلاڑی کو پھدک کر اس طرح ٹانگوں کی قینچی مارتا تھا کہ اپنے سے بڑے جوانوں کو بے بس کر کے قابو میں کر لیتا تھا ۔ جیون نے کھیل کے خاتمے پر منور کو اپنا جانشین قرار دے دیا اور کہا کہ اب وہ اطمینان کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر سکتا ہے ۔
اس میچ کے تھوڑے عرصہ کے بعد اماں نے راولپنڈی واپس جانے کا پروگرام بنا لیا ، جہاں پر مجھے اور میرے بھائیوں کو اپنے پرانے اسکولوں بلکہ اپنی سابقہ کلاسوں میں دوبارہ داخلہ مل گیا اور ہماری زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چلنے لگی ۔ مجھے گاᄊں میں صرف چند ماہ بسر کرنے کا موقعہ ملا تھا ، مگر وہ چند ماہ میری زندگی کا ایک یادگار حصہ بن گئے۔ وہاں پر میری ملاقات جن قابل ذکر لوگوں سے ہوئی ، ان میں جیون خان کا نام سر فہرست ہے ۔ البتہ مجھے کبھی اس کے روبرو بیٹھ کر بات کرنے کا اتفاق نہ ہوا ۔ میں جو کچھ تھوڑا بہت اس کے بارے میں جانتا ہوں، وہ مجھ تک دوسرے کی وساطت سے پہنچا ہے ۔ اگر اتفاق سے چند برسوں کے بعد میری ملاقات پٹھوہار کے مشہور ڈاکو سجاول کے ساتھ نہ ہو جاتی ، تو مجھ پر جیون کی زندگی کا ایک اہم پہلو شاید ہمیشہ کے لئے پوشیدہ رہتا ۔
پاکستان میں اپنی درسی تعلیم کے خاتمہ پر جب میرا جرمنی جانے کا پروگرام بنا ، تو میں اپنے عزیزوں سے رخصت لینے کے لئے چنگا بھی گیا ۔ وہاں پر میرے قیام کے دوسرے یا تیسرے روز ایک شخص یہ پیغام لایا کہ سجاول مجھ سے ملنا چاہتا ہے ۔ مجھے شام کے وقت تیار رہنے کے لئے کہا گیا ، مگر جائے ملاقات کے بارے میں کچھ نہ بتایا گیا ۔ عشاءکی آذان ہونے کے بعد ، جب کہ خاصا اندھیرا پڑ چکا تھا ، سجاول کا آدمی مجھے لینے کے لئے آیا اور گاᄊں کی گلیوں میں گھماتا پھراتا ہو ایک حویلی میں لے گیا ، جس کے دیوان خانے میں سجاول اپنا دربار لگا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اونچے قد کاٹھ کا ایک مضبوط آدمی تھا ۔ میرے ساتھ وہ بہت توجہ اور دوستی سے پیش آیا ۔ اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا:
‭"‬ کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہاری اماں سے پڑھنا لکھنا سیکھا تھا ‭"‬ ۔
میں اس بات سے واقف تھا ۔ اماں نے ہمیں کئی بار سنایا تھا کہ جب میرے دادا جان نے اپنی حویلی میں بچیوں کو پڑھانے کے لئے مدرسہ کھولا، کیونکہ اس وقت تک لڑکیوں کی تعلیم کا ہمارے گاᄊں میں کوئی انتظام نہ تھا ، تو سجاول کی ماں اس کو اماں کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ میرے بیٹے کو پہلی جماعت میں داخل کر لیں ۔
اماں نے کہا :‭"‬ تم اسکو لڑکوں کے مدرسہ میں کیوں نہیں داخل کراتی ہو؟‭"‬
اس نے جواب دیا:‭"‬ میرا سجاول لڑکیوں کی طرح شرمیلا ہے ۔ وہ لڑکوں کے ساتھ نہ چل سکے گا ‭"‬ ۔
پھر سجاول نے سنایا کہ ایک دفعہ اس کے ٹولہ کے لوگوں نے ایک مکان میں سیندھ لگانے کا ارادہ کیا ، جس کے بارے میں انہیں پتہ چلا تھا کہ وہاں پر عمدہ ترین کراکری ، فرنیچر۔ قالین ، گھڑیا ں اور دوسرا سامان رہائش و آرائش بھرا پڑا ہے اور مالکان مکان خود شہر میں رہتے ہیں ۔ سجاول کو ان لوگوں کا نام نہیں بتایا گیاتھا۔اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ مکان چنگا میں پایا جاتا ہے ۔ جب وہ لوگ ایک کھیتی میں داخل ہوئے ، جس کے ساتھ ہماری حویلی کی بیرونی دیوار لگتی ہے ، تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ ہمارے مکان میں سیندھ لگانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت تک دو تین ڈاکو دیوار کے اوپر چڑھ چکے تھے ۔ سجاول نے بتایا کہ اس نے اپنا پستول نکال کر ان کی طرف تان کر کہا کہ فوراً دیوار سے نیچے اتر جاᄊ۔ بدبختو میں نے اس گھر میں آنکھوں کی روشنی پائی تھی ، اس لئے میں اس گھر پر نہ تو خود ڈاکہ ڈالوں گا اور نہ کسی اور کو ڈاکہ ڈالنے دوں گا ۔ یہ بات بہت جلد علاقہ بھر میں پھیل گئی کہ سجاول نے چنگا کو اپنی امان میں لے لیا ہے ۔ اس دن کے بعد جب تک سجاول زندہ رہا چنگا میں ڈکیتی کی واردات نہیں ہوئی ۔
میں نے سجاول سے کہا کہ کیا اسے پتہ ہے کہ جیون نے بھی اپنی جوانی کے زمانے میں ایسی ہی بات کہی تھی ۔ سجاول نے جواب دیا کہ اس کے اور جیون کے درمیان کئی ایک باتیں سانجھی پائی جاتی ہیں۔ البتہ اس کے بر عکس جیون نے کبھی ڈاکہ نہیں ڈالا اور کسی کا خون نہیں بہایا ، جب کہ وہ یہ بات اپنے بارے میں نہیں کہہ سکتا ۔ جیون کی بیوی کی طرح اس کی بیوی بھی اپنی مرضی سے اپنے ماں باپ کے گھرسے نکل کر اس کے پاس آ گئی تھی ۔ دونوں عورتوں کے باپوں کا رد عمل شدید تھا۔
‭"‬ میری بیوی کے باپ نے تو یہ خباثت کی کہ میری مخبری پولیس کے پاس کر دی اور پولیس کے ایک دستہ نے میرامحاصرہ کر لیا ۔ مجھے اپنی جان بچانے کے لئے پولیس کے ساتھ مسلح جنگ لڑنی پڑی ، جس میں میرے دو آدمی اور پولیس کے پانچ سپاہی مارے گئے ۔ میں نے بعد میں اپنی بیوی کے باپ سے اس مخبری کا بدلہ لے لیا تھا ۔ مگر جیون اس معاملہ میں مجھ سے مختلف تھا ۔ اس کی بیوی کے باپ نے جیتے جی اپنی لڑکی کو اس کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس کا داخلہ اپنے گھر پر بند کئے رکھا ۔ جانتے ہو کہ جیون نے اپنی بیوی کے ساتھ اس کے باپ کے مرنے اور باقاعدہ نکاح ہو جانے والے روز تک ہمبستری نہیں کی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے نکاح کا اعلان مسجد میں ہو اور وہ باقاعدہ طور پر شادی کی رسومات ادا کر کے میاں بیوی کی زندگی بسر کریں ۔ جیون اور اس کی بیوی کے مرنے تک اس کے سسرال نے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھا‭"‬ ۔
جب آدھی رات کے لگ بھگ سجاول کا آدمی مجھے گھر چھوڑنے کیلئے میرے ساتھ گیا ، تو میں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ سجاول نے اپنی بیوی کے باپ سے کس طرح بدلہ لیا تھا ۔ اس نے کہا کہ سجاول نے اسکو ٹوکے سے ٹکڑے کر کر کے مار ڈالا تھا ۔
ہم چارلس ڈیگال ہوائی اڈے پر پہنچے ، تو میری پرواز کا اعلان ہو رہا تھا ، اسلئے مجھے فی الفور حمید سے رخصت لینی پڑی ۔ میں نے چلتے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا وہ مجھے بتا سکتا ہے کہ اسکے باپ نے اس روز چنگا میں اترنے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کے سلسلہ میں میری دعوت کو کیوں قبول نہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جیون کی وجہ سے وہاں پر نہیں اتر سکتا ۔
حمید نے کہا: ‭"‬ اس کی وجہ یہ تھی کہ جیون کی بیوی میرے باپ کی سب سے بڑی بہن تھی ، جس کو میرے دادا نے اپنے خاندان سے خارج کر دیا تھا اور اپنے بچوں کو وصیت کی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں‭"‬ ۔
میں حمید سے رخصت ہو کر ائر فرانس کے کونٹر پر چیک ان کے لئے چلا گیا ۔ بعد میں جہاز پر چڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ مجھے حمید سے اس کی پھوپھی کا نام تو پوچھ لینا چاہیئے تھا ، جس سے میں آج تک ناواقف ہوں۔
( ہمبرگ ۔ ۱۷ جولائی ء
‭￿‬




Edited on 2007-11-21 22:27:47 by RicroZelol

Additions:
ereltsi
میں یھاں پر اپنی ایک کتاب شامل کرنی چاہتا ھوں۔مگر مجھے پتا نھیں چل رھا کھ یھ کام کیسے کیا جا سکتا ھے۔ میں فی الحال ایک کھانی کاپی کر رھا ھوں۔
‫جیون خان
میرا طیارہ پیرس کے ہوائی اڈے اورلی پر آدھ گھنٹہ لیٹ اترا تھا ۔ اگلی فلائیٹ مجھے تین گھنٹوں کے بعد چارلس ڈیگال ہوائی اڈے سے لینی تھی۔ اس زمانے میں دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان شٹل بس چلتی تھی، جو میرے بس اسٹاپ پر پہنچنے سے قبل جا چکی تھی۔ اگلی بس پندرہ منٹوں میں چلنی تھی۔ میں نے ویٹنگ روم میں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا ، تو ایک ہم وطن کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اسے سلام کیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھا۔ اس نے مجھ سے جاننا چاہا کہ میں کہاں سے ہوں ۔ میں نے اپنے شہر ہمبرگ کا نام لیا ، مگر اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی ۔ اس نے پوچھا کہ میں پیچھے کہاں سے ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان کا رہنے والا ہوں ، مگر ایک عمر سے جرمنی میں مقیم ہوں۔ اس نے جاننا چاہا کہ میں پاکستان میں کس جگہ سے ہوں۔ میں نے راولپنڈی کا نام لیا۔اس پر اس نے میرے گاᄊں کا نام پوچھا ۔ اب میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ کہیں میرے گاᄊں کا رہنے والا تو نہیں۔ مگر مجھے اس کا چہرہ قطعاً نامانوس لگا ۔ میں نے کہا کہ میں چنگا بنگیال سے ہوں۔ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے اٹھ کر گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے معانقہ کیا اور کہا کہ وہ مجھے پہلی نظر میں پہچان گیا تھا ۔ میں نے اس کا امتحان لینے کی غرض سے کہا کہ پھر تو وہ میرا نام بھی جانتا ہو گا ۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے نام سے بالکل ناواقف ہے ، کیونکہ ہمارا آپس میں تعارف نہیں ہوا تھا اور کسی نے اس کے سامنے میرا نام نہیں لیا تھا ۔
مجھے یاد نہیں پڑتا تھا کہ میں نے اسے اپنی زندگی میںکہیں پر دیکھا تھا ۔ مگر میں اس سلسلے میں قابل اعتبار گواہ نہیں ہوں۔ کیونکہ میری چہروں کی یادداشت کمزور ہے ۔ مجھے بہت سی باتیں یاد رہ جاتی ہیں مثلاً یہ کہ میں کس سے کب ملا تھا اور ہمارے درمیان کیا بات ہوئی تھی، مگر چہروں کو میں یکسر بھول جاتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ ہمارا ملنا ء۱۹۴۸میں گوجر خان میں ہوا تھا ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس وقت میری عمر تیرہ چودہ سال کی رہی ہو گی۔ میں نے کہا کہ کیا اتنے برسوں میں میری شکل و شباہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو وہ مجھے پہچاننے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کی یادداشت فوٹو گرافک ہے ۔ جس شکل کو وہ ایک بار دیکھ لے ، اسے ساری عمر نہیں بھولتا ۔ میں نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی پولیس میں بہت مانگ ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ پولیس کے محکمہ میں ڈی ایس پی ہے ۔ اسے نہ صرف میری شکل یاد تھی ، بلکہ وہ ساری باتیں بھی جو میرے اور اس کے باپ کے درمیان ہوئی تھیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا باپ اس قصے میں کہاں سے آ نکلا۔ اس نے کہا بہتر ہے کہ وہ مجھے سارا قصہ شروع سے سنائے ۔
وہ اپنے باپ کے ساتھ گوجر خان سے کلر سیداں جانے والی بس میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور بس بھر چکی تھی ۔ مگر ڈرائیور چلنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ اس کے باپ کو اس روز گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، اس لئے اس نے ڈرائیور سے کہا کہ اسے چلنا چاہیئے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ایک شخص کا انتظار کر رہا ہے ، جو تھوڑی دیر میں آ جائے گا ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک چھوکرا ہاتھ میں تھیلا پکڑے ہوئے پہنچ گیا ۔ وہ چھوکرا میں تھا ، جو اسی بس میں صبح کے وقت سودا سلف لانے کے لئے گوجر خان آیا تھا اور اب سامان لے کر واپس چنگا جا رہا تھا ۔ ڈرائیور نے اس کے باپ سے کہا کہ اپنے بیٹے کو ، جس کی عمر نو یا دس سال تھی ، اپنی گود میں بیٹھا لے اور میرے لئے فرنٹ سیٹ پر جگہ بنائے ۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں چنگا سے ہوں ، جہاں پر اس روز کبڈی کا میچ ہونا تھا ، جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آ رہے تھے ۔
مجھے یاد ہے کہ حمید کے باپ نے کسی قدر بد دلی کیساتھ میرے لئے جگہ بنائی تھی۔ لگتا تھا کہ اسے ایک چھوکرے کیلئے اپنے بیٹے کو گود میں بٹھانا کچھ ایسا پسند نہ آیا تھا۔ مگر بس چلنے کے بعد اسکا رویہ بدل گیا اور اس نے مجھ سے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے ۔ پہلا سوال یہ تھا کہ میں کس جماعت میں تھا اور کس اسکول میں پڑھتا تھا ۔ میں نے بتایا کہ میں قاضیاں کے مڈل اسکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں انگریزی پڑھ لیتا ہوں ۔ وہ کسی انگریزی خوان سے ایک خط پڑھوانا چاہتا تھا ، جو اسکو اسکی پنشن کے سلسلہ میں آیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے اس روز وہ خط اسکی جیب میں نہ تھا ۔ اسکا بیٹا تیسری جماعت میں تھا ۔ انکے گاᄊں میں پرائمری اسکول تھا ۔ گویا چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد اسے کلر کے اسکول میں داخل کرانا پڑے گا اور اسکے بیٹے کو روزانہ تین میل چل کر اسکول جانا ہو گا ۔ میں نے کہا کہ میرا اسکول بھی کم و بیش اتنے ہی فاصلے پرہے ۔
پھر کبڈی کے میچ کی بات چل نکلی۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں کبڈی کا جانا پہچانا کھلاڑی رہ چکا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا اسے کبھی میرے گرائیں جیون خان کے مقابلے میں کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے جیون اور اسکی بیوی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ انکا کیا حال ہے ؟ کیا وہ چل پھر لیتے ہیں یا بالکل لاچار ہو گئے ہیں؟ اس نے کسی سے سنا تھا کہ جیون گر گیا تھا اور اسکے پاᄊں میں موچ آ گئی تھی۔ میں نے بتایا کہ وہ ہمارے مکان کے پچھواڑے میںرہتا ہے اور مجھے اماں اکثر کنویں سے پانی کی بالٹی بھر کر اسکے گھر پر دینے کے لئے بھیجا کرتی ہیں ۔ جب کبھی میں گوجر خان سے خورد و نوش کی چیزیں لاتا ہوں ، تو اماں اس میں سے ایک حصہ جیون اور اسکی بیوی کو بھیج دیتی ہیں۔ انکی چونکہ اولاد نہیں ، اسلئے ہمسائے میاں بیوی کا خیال رکھتے ہیں ۔ انکی آمدن کا انحصار زمین کی کاشت پر ہے ، جو انہوں نے بٹائی پر دے رکھی ہے ۔
میں نے سن رکھا تھا کہ جیون اپنی جوانی کے زمانے میں لٹھ مار ہوا کرتا تھا اور میلوں ٹھیلوں پر ہر کسی سے جھگڑا مول لے لیتا تھا ۔ حمید کے باپ نے کہا کہ یہ محض باتیں ہیں ۔ وہ لٹھ مار سے زیادہ کبڈی کا ماہر کھلاڑی تھا اور اپنی جوانی کے زمانے میں ہی بہت بڑا نام پیدا کر چکا تھا ۔ لوگ پچاس پچاس کوس سے اس کا کھیل دیکھنے کے لئے آتے تھے ۔ اس کی ٹکر کا بس ایک سکھ کھلاڑی صوبہ سنگھ تھا ۔ جس میچ میں یہ دونوں جمع ہو جاتے تھے ، وہاں پر تماشائیوں کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے ۔ دونوں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے تھے ، مگر میچ ختم ہونے کے بعددو قالب و یک جان بن جاتے تھے ۔ البتہ یہ دوستی بہت دنوں تک نہ چل سکی، کیونکہ صوبہ سنگھ ڈاکہ ڈالنے لگا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جیون اس کے ساتھ مل جائے ۔ مگر جیون نے اس کی بات نہ مانی ، بلکہ اس نے صوبہ سنگھ کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے چنگا یا اس کے قرب و جوار کے کسی گاᄊں میں واردات کی ، تو پھر اس کے حق میں جیون سے بڑھ کر برا کوئی شخص نہ ہو گا ۔ یہ بات سارے علاقے میں پھیل گئی اور ڈاکو اور بد معاش جیون سے ڈر کے مارے اس علاقے کا رخ نہ کرتے تھے ۔
گوجر خان سے چنگا کا فاصلہ صرف سات میل کاہے ، مگر اس زمانے میں سڑک کچی تھی اور بارشوں کے موسم میں جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی تھی۔ راستے میں پڑنے والی ندی کسی اور بھڈانہ کے نالے کے سبب ، جو دو ٹیلوں کے درمیان بہتا تھااور جس میں سے گذر کر جانا پڑتا تھا ، بس کہیں گھنٹہ بھر میں چنگا پہنچتی تھی۔ وہاں پر کبڈی کے تماشائیوں کا اچھا خاصا جمگٹھا لگا ہو اتھا ۔ میں نے بس سے اترتے ہوئے حمید کے باپ کو رات بھر کیلئے چنگا میں رک جانے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کی دعوت دی ۔ اس نے جواب دیا کہ اسکا دل تو بہت چاہتا ہے ، مگر وہ جیون خان کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا ۔ میں نے ہنس کر کہا کہ جیون خان نے صرف ڈاکوᄊں کا چنگا میں آنا بند کیا تھا ۔ اب تو وہ بیچارہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔ اسلئے اب اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ جیون خان کیساتھ اسکے خاندان کا ایک اور جھگڑا چل رہا ہے ، جو ڈاکہ ڈالنے سے بڑھ کر سنگین ہے ۔
سہ پہر کو کبڈی کا میچ ہوا ، جس کو دیکھنے کے لئے دور و نزدیک کے گاᄊں کے چھوٹے بڑے سب آئے ہوئے تھے ۔ میں نے اس سے پہلے اتنا بڑا مجمع اپنے گاᄊں میں نہیں دیکھا تھا ۔ جیون بھی لاٹھی پر ٹیک لگاتا ہوا میدان میں پہنچ گیا اور ایک کٹے ہوئے درخت کی ٹنڈ پر صافہ ڈال کر بیٹھ گیا ۔ اسکے جاننے والے اسکے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے اسے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا کہ چنگا کی ٹیم میں ایک بھی پرانا تجربہ کار کھلاڑی شامل نہیں ہے ۔ کسی نے کہاکہ جوان لوگ ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں ۔ پیچھے صرف بڈھے اور بچے رہ گئے ہیں ۔ کسی اور نے کہا کہ یہ لوگ اور انکی آل اولاد اب واپس نہیں آئے گی ۔ ہمیں انکو بھول جانا چاہیئے ، ان پر فاتحہ پڑھ دینی چاہیئے ۔ جیون نے کہا کہ وہ پہلی عالگیر جنگ کے دنوں میں فوج میں بھرتی ہو کر دنیا بھر میں گھومتا پھرا تھا، مگرآخر میں اپنے گاᄊں میں لوٹ آیا تھا ۔ ایک بڈھے نے کہا کہ تمہیں تو واپس آنا ہی تھا ، کیونکہ تمہاری بہوٹی یہاں پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ جیون نے جواب دیا کہ اس زمانے میں وہ ابھی چھڑا چھانٹ تھا ۔ البتہ اسکی چاہنے والیاں بہت تھیں ، وہ چاہتا تو پورا حرم بنا سکتا تھا ۔
اس روز خلاف توقع ہمارے گاᄊں کی ٹیم جیت گئی ، جس کا سبب ایک نوجوان کھلاڑی منور بنا ۔ وہ دوڑنے میں اس قدر تیز تھا کہ مخالف ٹیم اس کو ایک بار بھی نہ پکڑ سکی۔ اگر وہ کبھی گھیرے میں آ جاتا تھا ، تو پھرتی سے خرگوش کی طرح دائیں بائیں پچھاڑی مارتا اور صاف بچ کر نکل جاتا تھا ۔ دفاع کرنے میں بھی وہ یکتا تھا۔ مخالف کھلاڑی کو پھدک کر اس طرح ٹانگوں کی قینچی مارتا تھا کہ اپنے سے بڑے جوانوں کو بے بس کر کے قابو میں کر لیتا تھا ۔ جیون نے کھیل کے خاتمے پر منور کو اپنا جانشین قرار دے دیا اور کہا کہ اب وہ اطمینان کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر سکتا ہے ۔
اس میچ کے تھوڑے عرصہ کے بعد اماں نے راولپنڈی واپس جانے کا پروگرام بنا لیا ، جہاں پر مجھے اور میرے بھائیوں کو اپنے پرانے اسکولوں بلکہ اپنی سابقہ کلاسوں میں دوبارہ داخلہ مل گیا اور ہماری زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چلنے لگی ۔ مجھے گاᄊں میں صرف چند ماہ بسر کرنے کا موقعہ ملا تھا ، مگر وہ چند ماہ میری زندگی کا ایک یادگار حصہ بن گئے۔ وہاں پر میری ملاقات جن قابل ذکر لوگوں سے ہوئی ، ان میں جیون خان کا نام سر فہرست ہے ۔ البتہ مجھے کبھی اس کے روبرو بیٹھ کر بات کرنے کا اتفاق نہ ہوا ۔ میں جو کچھ تھوڑا بہت اس کے بارے میں جانتا ہوں، وہ مجھ تک دوسرے کی وساطت سے پہنچا ہے ۔ اگر اتفاق سے چند برسوں کے بعد میری ملاقات پٹھوہار کے مشہور ڈاکو سجاول کے ساتھ نہ ہو جاتی ، تو مجھ پر جیون کی زندگی کا ایک اہم پہلو شاید ہمیشہ کے لئے پوشیدہ رہتا ۔
پاکستان میں اپنی درسی تعلیم کے خاتمہ پر جب میرا جرمنی جانے کا پروگرام بنا ، تو میں اپنے عزیزوں سے رخصت لینے کے لئے چنگا بھی گیا ۔ وہاں پر میرے قیام کے دوسرے یا تیسرے روز ایک شخص یہ پیغام لایا کہ سجاول مجھ سے ملنا چاہتا ہے ۔ مجھے شام کے وقت تیار رہنے کے لئے کہا گیا ، مگر جائے ملاقات کے بارے میں کچھ نہ بتایا گیا ۔ عشاءکی آذان ہونے کے بعد ، جب کہ خاصا اندھیرا پڑ چکا تھا ، سجاول کا آدمی مجھے لینے کے لئے آیا اور گاᄊں کی گلیوں میں گھماتا پھراتا ہو ایک حویلی میں لے گیا ، جس کے دیوان خانے میں سجاول اپنا دربار لگا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اونچے قد کاٹھ کا ایک مضبوط آدمی تھا ۔ میرے ساتھ وہ بہت توجہ اور دوستی سے پیش آیا ۔ اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا:
‭"‬ کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہاری اماں سے پڑھنا لکھنا سیکھا تھا ‭"‬ ۔
میں اس بات سے واقف تھا ۔ اماں نے ہمیں کئی بار سنایا تھا کہ جب میرے دادا جان نے اپنی حویلی میں بچیوں کو پڑھانے کے لئے مدرسہ کھولا، کیونکہ اس وقت تک لڑکیوں کی تعلیم کا ہمارے گاᄊں میں کوئی انتظام نہ تھا ، تو سجاول کی ماں اس کو اماں کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ میرے بیٹے کو پہلی جماعت میں داخل کر لیں ۔
اماں نے کہا :‭"‬ تم اسکو لڑکوں کے مدرسہ میں کیوں نہیں داخل کراتی ہو؟‭"‬
اس نے جواب دیا:‭"‬ میرا سجاول لڑکیوں کی طرح شرمیلا ہے ۔ وہ لڑکوں کے ساتھ نہ چل سکے گا ‭"‬ ۔
پھر سجاول نے سنایا کہ ایک دفعہ اس کے ٹولہ کے لوگوں نے ایک مکان میں سیندھ لگانے کا ارادہ کیا ، جس کے بارے میں انہیں پتہ چلا تھا کہ وہاں پر عمدہ ترین کراکری ، فرنیچر۔ قالین ، گھڑیا ں اور دوسرا سامان رہائش و آرائش بھرا پڑا ہے اور مالکان مکان خود شہر میں رہتے ہیں ۔ سجاول کو ان لوگوں کا نام نہیں بتایا گیاتھا۔اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ مکان چنگا میں پایا جاتا ہے ۔ جب وہ لوگ ایک کھیتی میں داخل ہوئے ، جس کے ساتھ ہماری حویلی کی بیرونی دیوار لگتی ہے ، تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ ہمارے مکان میں سیندھ لگانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت تک دو تین ڈاکو دیوار کے اوپر چڑھ چکے تھے ۔ سجاول نے بتایا کہ اس نے اپنا پستول نکال کر ان کی طرف تان کر کہا کہ فوراً دیوار سے نیچے اتر جاᄊ۔ بدبختو میں نے اس گھر میں آنکھوں کی روشنی پائی تھی ، اس لئے میں اس گھر پر نہ تو خود ڈاکہ ڈالوں گا اور نہ کسی اور کو ڈاکہ ڈالنے دوں گا ۔ یہ بات بہت جلد علاقہ بھر میں پھیل گئی کہ سجاول نے چنگا کو اپنی امان میں لے لیا ہے ۔ اس دن کے بعد جب تک سجاول زندہ رہا چنگا میں ڈکیتی کی واردات نہیں ہوئی ۔
میں نے سجاول سے کہا کہ کیا اسے پتہ ہے کہ جیون نے بھی اپنی جوانی کے زمانے میں ایسی ہی بات کہی تھی ۔ سجاول نے جواب دیا کہ اس کے اور جیون کے درمیان کئی ایک باتیں سانجھی پائی جاتی ہیں۔ البتہ اس کے بر عکس جیون نے کبھی ڈاکہ نہیں ڈالا اور کسی کا خون نہیں بہایا ، جب کہ وہ یہ بات اپنے بارے میں نہیں کہہ سکتا ۔ جیون کی بیوی کی طرح اس کی بیوی بھی اپنی مرضی سے اپنے ماں باپ کے گھرسے نکل کر اس کے پاس آ گئی تھی ۔ دونوں عورتوں کے باپوں کا رد عمل شدید تھا۔
‭"‬ میری بیوی کے باپ نے تو یہ خباثت کی کہ میری مخبری پولیس کے پاس کر دی اور پولیس کے ایک دستہ نے میرامحاصرہ کر لیا ۔ مجھے اپنی جان بچانے کے لئے پولیس کے ساتھ مسلح جنگ لڑنی پڑی ، جس میں میرے دو آدمی اور پولیس کے پانچ سپاہی مارے گئے ۔ میں نے بعد میں اپنی بیوی کے باپ سے اس مخبری کا بدلہ لے لیا تھا ۔ مگر جیون اس معاملہ میں مجھ سے مختلف تھا ۔ اس کی بیوی کے باپ نے جیتے جی اپنی لڑکی کو اس کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس کا داخلہ اپنے گھر پر بند کئے رکھا ۔ جانتے ہو کہ جیون نے اپنی بیوی کے ساتھ اس کے باپ کے مرنے اور باقاعدہ نکاح ہو جانے والے روز تک ہمبستری نہیں کی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے نکاح کا اعلان مسجد میں ہو اور وہ باقاعدہ طور پر شادی کی رسومات ادا کر کے میاں بیوی کی زندگی بسر کریں ۔ جیون اور اس کی بیوی کے مرنے تک اس کے سسرال نے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھا‭"‬ ۔
جب آدھی رات کے لگ بھگ سجاول کا آدمی مجھے گھر چھوڑنے کیلئے میرے ساتھ گیا ، تو میں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ سجاول نے اپنی بیوی کے باپ سے کس طرح بدلہ لیا تھا ۔ اس نے کہا کہ سجاول نے اسکو ٹوکے سے ٹکڑے کر کر کے مار ڈالا تھا ۔
ہم چارلس ڈیگال ہوائی اڈے پر پہنچے ، تو میری پرواز کا اعلان ہو رہا تھا ، اسلئے مجھے فی الفور حمید سے رخصت لینی پڑی ۔ میں نے چلتے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا وہ مجھے بتا سکتا ہے کہ اسکے باپ نے اس روز چنگا میں اترنے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کے سلسلہ میں میری دعوت کو کیوں قبول نہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جیون کی وجہ سے وہاں پر نہیں اتر سکتا ۔
حمید نے کہا: ‭"‬ اس کی وجہ یہ تھی کہ جیون کی بیوی میرے باپ کی سب سے بڑی بہن تھی ، جس کو میرے دادا نے اپنے خاندان سے خارج کر دیا تھا اور اپنے بچوں کو وصیت کی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں‭"‬ ۔
میں حمید سے رخصت ہو کر ائر فرانس کے کونٹر پر چیک ان کے لئے چلا گیا ۔ بعد میں جہاز پر چڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ مجھے حمید سے اس کی پھوپھی کا نام تو پوچھ لینا چاہیئے تھا ، جس سے میں آج تک ناواقف ہوں۔
( ہمبرگ ۔ ۱۷ جولائی ء
‭￿‬


Deletions:
میں یھاں پر اپنی ایک کتاب شامل کرنی چاہتا ھوں۔مگر مجھے پتا نھیں چل رھا کھ یھ کام کیسے کیا جا سکتا ھے۔ میں فی الحال ایک کھانی کاپی کر رھا ھوں۔
‫جیون خان
میرا طیارہ پیرس کے ہوائی اڈے اورلی پر آدھ گھنٹہ لیٹ اترا تھا ۔ اگلی فلائیٹ مجھے تین گھنٹوں کے بعد چارلس ڈیگال ہوائی اڈے سے لینی تھی۔ اس زمانے میں دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان شٹل بس چلتی تھی، جو میرے بس اسٹاپ پر پہنچنے سے قبل جا چکی تھی۔ اگلی بس پندرہ منٹوں میں چلنی تھی۔ میں نے ویٹنگ روم میں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا ، تو ایک ہم وطن کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اسے سلام کیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھا۔ اس نے مجھ سے جاننا چاہا کہ میں کہاں سے ہوں ۔ میں نے اپنے شہر ہمبرگ کا نام لیا ، مگر اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی ۔ اس نے پوچھا کہ میں پیچھے کہاں سے ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان کا رہنے والا ہوں ، مگر ایک عمر سے جرمنی میں مقیم ہوں۔ اس نے جاننا چاہا کہ میں پاکستان میں کس جگہ سے ہوں۔ میں نے راولپنڈی کا نام لیا۔اس پر اس نے میرے گاᄊں کا نام پوچھا ۔ اب میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ کہیں میرے گاᄊں کا رہنے والا تو نہیں۔ مگر مجھے اس کا چہرہ قطعاً نامانوس لگا ۔ میں نے کہا کہ میں چنگا بنگیال سے ہوں۔ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے اٹھ کر گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے معانقہ کیا اور کہا کہ وہ مجھے پہلی نظر میں پہچان گیا تھا ۔ میں نے اس کا امتحان لینے کی غرض سے کہا کہ پھر تو وہ میرا نام بھی جانتا ہو گا ۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے نام سے بالکل ناواقف ہے ، کیونکہ ہمارا آپس میں تعارف نہیں ہوا تھا اور کسی نے اس کے سامنے میرا نام نہیں لیا تھا ۔
مجھے یاد نہیں پڑتا تھا کہ میں نے اسے اپنی زندگی میںکہیں پر دیکھا تھا ۔ مگر میں اس سلسلے میں قابل اعتبار گواہ نہیں ہوں۔ کیونکہ میری چہروں کی یادداشت کمزور ہے ۔ مجھے بہت سی باتیں یاد رہ جاتی ہیں مثلاً یہ کہ میں کس سے کب ملا تھا اور ہمارے درمیان کیا بات ہوئی تھی، مگر چہروں کو میں یکسر بھول جاتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ ہمارا ملنا ء۱۹۴۸میں گوجر خان میں ہوا تھا ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس وقت میری عمر تیرہ چودہ سال کی رہی ہو گی۔ میں نے کہا کہ کیا اتنے برسوں میں میری شکل و شباہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو وہ مجھے پہچاننے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کی یادداشت فوٹو گرافک ہے ۔ جس شکل کو وہ ایک بار دیکھ لے ، اسے ساری عمر نہیں بھولتا ۔ میں نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی پولیس میں بہت مانگ ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ پولیس کے محکمہ میں ڈی ایس پی ہے ۔ اسے نہ صرف میری شکل یاد تھی ، بلکہ وہ ساری باتیں بھی جو میرے اور اس کے باپ کے درمیان ہوئی تھیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا باپ اس قصے میں کہاں سے آ نکلا۔ اس نے کہا بہتر ہے کہ وہ مجھے سارا قصہ شروع سے سنائے ۔
وہ اپنے باپ کے ساتھ گوجر خان سے کلر سیداں جانے والی بس میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور بس بھر چکی تھی ۔ مگر ڈرائیور چلنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ اس کے باپ کو اس روز گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، اس لئے اس نے ڈرائیور سے کہا کہ اسے چلنا چاہیئے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ایک شخص کا انتظار کر رہا ہے ، جو تھوڑی دیر میں آ جائے گا ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک چھوکرا ہاتھ میں تھیلا پکڑے ہوئے پہنچ گیا ۔ وہ چھوکرا میں تھا ، جو اسی بس میں صبح کے وقت سودا سلف لانے کے لئے گوجر خان آیا تھا اور اب سامان لے کر واپس چنگا جا رہا تھا ۔ ڈرائیور نے اس کے باپ سے کہا کہ اپنے بیٹے کو ، جس کی عمر نو یا دس سال تھی ، اپنی گود میں بیٹھا لے اور میرے لئے فرنٹ سیٹ پر جگہ بنائے ۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں چنگا سے ہوں ، جہاں پر اس روز کبڈی کا میچ ہونا تھا ، جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آ رہے تھے ۔
مجھے یاد ہے کہ حمید کے باپ نے کسی قدر بد دلی کیساتھ میرے لئے جگہ بنائی تھی۔ لگتا تھا کہ اسے ایک چھوکرے کیلئے اپنے بیٹے کو گود میں بٹھانا کچھ ایسا پسند نہ آیا تھا۔ مگر بس چلنے کے بعد اسکا رویہ بدل گیا اور اس نے مجھ سے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے ۔ پہلا سوال یہ تھا کہ میں کس جماعت میں تھا اور کس اسکول میں پڑھتا تھا ۔ میں نے بتایا کہ میں قاضیاں کے مڈل اسکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں انگریزی پڑھ لیتا ہوں ۔ وہ کسی انگریزی خوان سے ایک خط پڑھوانا چاہتا تھا ، جو اسکو اسکی پنشن کے سلسلہ میں آیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے اس روز وہ خط اسکی جیب میں نہ تھا ۔ اسکا بیٹا تیسری جماعت میں تھا ۔ انکے گاᄊں میں پرائمری اسکول تھا ۔ گویا چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد اسے کلر کے اسکول میں داخل کرانا پڑے گا اور اسکے بیٹے کو روزانہ تین میل چل کر اسکول جانا ہو گا ۔ میں نے کہا کہ میرا اسکول بھی کم و بیش اتنے ہی فاصلے پرہے ۔
پھر کبڈی کے میچ کی بات چل نکلی۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں کبڈی کا جانا پہچانا کھلاڑی رہ چکا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا اسے کبھی میرے گرائیں جیون خان کے مقابلے میں کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے جیون اور اسکی بیوی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ انکا کیا حال ہے ؟ کیا وہ چل پھر لیتے ہیں یا بالکل لاچار ہو گئے ہیں؟ اس نے کسی سے سنا تھا کہ جیون گر گیا تھا اور اسکے پاᄊں میں موچ آ گئی تھی۔ میں نے بتایا کہ وہ ہمارے مکان کے پچھواڑے میںرہتا ہے اور مجھے اماں اکثر کنویں سے پانی کی بالٹی بھر کر اسکے گھر پر دینے کے لئے بھیجا کرتی ہیں ۔ جب کبھی میں گوجر خان سے خورد و نوش کی چیزیں لاتا ہوں ، تو اماں اس میں سے ایک حصہ جیون اور اسکی بیوی کو بھیج دیتی ہیں۔ انکی چونکہ اولاد نہیں ، اسلئے ہمسائے میاں بیوی کا خیال رکھتے ہیں ۔ انکی آمدن کا انحصار زمین کی کاشت پر ہے ، جو انہوں نے بٹائی پر دے رکھی ہے ۔
میں نے سن رکھا تھا کہ جیون اپنی جوانی کے زمانے میں لٹھ مار ہوا کرتا تھا اور میلوں ٹھیلوں پر ہر کسی سے جھگڑا مول لے لیتا تھا ۔ حمید کے باپ نے کہا کہ یہ محض باتیں ہیں ۔ وہ لٹھ مار سے زیادہ کبڈی کا ماہر کھلاڑی تھا اور اپنی جوانی کے زمانے میں ہی بہت بڑا نام پیدا کر چکا تھا ۔ لوگ پچاس پچاس کوس سے اس کا کھیل دیکھنے کے لئے آتے تھے ۔ اس کی ٹکر کا بس ایک سکھ کھلاڑی صوبہ سنگھ تھا ۔ جس میچ میں یہ دونوں جمع ہو جاتے تھے ، وہاں پر تماشائیوں کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے ۔ دونوں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے تھے ، مگر میچ ختم ہونے کے بعددو قالب و یک جان بن جاتے تھے ۔ البتہ یہ دوستی بہت دنوں تک نہ چل سکی، کیونکہ صوبہ سنگھ ڈاکہ ڈالنے لگا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جیون اس کے ساتھ مل جائے ۔ مگر جیون نے اس کی بات نہ مانی ، بلکہ اس نے صوبہ سنگھ کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے چنگا یا اس کے قرب و جوار کے کسی گاᄊں میں واردات کی ، تو پھر اس کے حق میں جیون سے بڑھ کر برا کوئی شخص نہ ہو گا ۔ یہ بات سارے علاقے میں پھیل گئی اور ڈاکو اور بد معاش جیون سے ڈر کے مارے اس علاقے کا رخ نہ کرتے تھے ۔
گوجر خان سے چنگا کا فاصلہ صرف سات میل کاہے ، مگر اس زمانے میں سڑک کچی تھی اور بارشوں کے موسم میں جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی تھی۔ راستے میں پڑنے والی ندی کسی اور بھڈانہ کے نالے کے سبب ، جو دو ٹیلوں کے درمیان بہتا تھااور جس میں سے گذر کر جانا پڑتا تھا ، بس کہیں گھنٹہ بھر میں چنگا پہنچتی تھی۔ وہاں پر کبڈی کے تماشائیوں کا اچھا خاصا جمگٹھا لگا ہو اتھا ۔ میں نے بس سے اترتے ہوئے حمید کے باپ کو رات بھر کیلئے چنگا میں رک جانے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کی دعوت دی ۔ اس نے جواب دیا کہ اسکا دل تو بہت چاہتا ہے ، مگر وہ جیون خان کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا ۔ میں نے ہنس کر کہا کہ جیون خان نے صرف ڈاکوᄊں کا چنگا میں آنا بند کیا تھا ۔ اب تو وہ بیچارہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔ اسلئے اب اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ جیون خان کیساتھ اسکے خاندان کا ایک اور جھگڑا چل رہا ہے ، جو ڈاکہ ڈالنے سے بڑھ کر سنگین ہے ۔
سہ پہر کو کبڈی کا میچ ہوا ، جس کو دیکھنے کے لئے دور و نزدیک کے گاᄊں کے چھوٹے بڑے سب آئے ہوئے تھے ۔ میں نے اس سے پہلے اتنا بڑا مجمع اپنے گاᄊں میں نہیں دیکھا تھا ۔ جیون بھی لاٹھی پر ٹیک لگاتا ہوا میدان میں پہنچ گیا اور ایک کٹے ہوئے درخت کی ٹنڈ پر صافہ ڈال کر بیٹھ گیا ۔ اسکے جاننے والے اسکے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے اسے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا کہ چنگا کی ٹیم میں ایک بھی پرانا تجربہ کار کھلاڑی شامل نہیں ہے ۔ کسی نے کہاکہ جوان لوگ ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں ۔ پیچھے صرف بڈھے اور بچے رہ گئے ہیں ۔ کسی اور نے کہا کہ یہ لوگ اور انکی آل اولاد اب واپس نہیں آئے گی ۔ ہمیں انکو بھول جانا چاہیئے ، ان پر فاتحہ پڑھ دینی چاہیئے ۔ جیون نے کہا کہ وہ پہلی عالگیر جنگ کے دنوں میں فوج میں بھرتی ہو کر دنیا بھر میں گھومتا پھرا تھا، مگرآخر میں اپنے گاᄊں میں لوٹ آیا تھا ۔ ایک بڈھے نے کہا کہ تمہیں تو واپس آنا ہی تھا ، کیونکہ تمہاری بہوٹی یہاں پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ جیون نے جواب دیا کہ اس زمانے میں وہ ابھی چھڑا چھانٹ تھا ۔ البتہ اسکی چاہنے والیاں بہت تھیں ، وہ چاہتا تو پورا حرم بنا سکتا تھا ۔
اس روز خلاف توقع ہمارے گاᄊں کی ٹیم جیت گئی ، جس کا سبب ایک نوجوان کھلاڑی منور بنا ۔ وہ دوڑنے میں اس قدر تیز تھا کہ مخالف ٹیم اس کو ایک بار بھی نہ پکڑ سکی۔ اگر وہ کبھی گھیرے میں آ جاتا تھا ، تو پھرتی سے خرگوش کی طرح دائیں بائیں پچھاڑی مارتا اور صاف بچ کر نکل جاتا تھا ۔ دفاع کرنے میں بھی وہ یکتا تھا۔ مخالف کھلاڑی کو پھدک کر اس طرح ٹانگوں کی قینچی مارتا تھا کہ اپنے سے بڑے جوانوں کو بے بس کر کے قابو میں کر لیتا تھا ۔ جیون نے کھیل کے خاتمے پر منور کو اپنا جانشین قرار دے دیا اور کہا کہ اب وہ اطمینان کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر سکتا ہے ۔
اس میچ کے تھوڑے عرصہ کے بعد اماں نے راولپنڈی واپس جانے کا پروگرام بنا لیا ، جہاں پر مجھے اور میرے بھائیوں کو اپنے پرانے اسکولوں بلکہ اپنی سابقہ کلاسوں میں دوبارہ داخلہ مل گیا اور ہماری زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چلنے لگی ۔ مجھے گاᄊں میں صرف چند ماہ بسر کرنے کا موقعہ ملا تھا ، مگر وہ چند ماہ میری زندگی کا ایک یادگار حصہ بن گئے۔ وہاں پر میری ملاقات جن قابل ذکر لوگوں سے ہوئی ، ان میں جیون خان کا نام سر فہرست ہے ۔ البتہ مجھے کبھی اس کے روبرو بیٹھ کر بات کرنے کا اتفاق نہ ہوا ۔ میں جو کچھ تھوڑا بہت اس کے بارے میں جانتا ہوں، وہ مجھ تک دوسرے کی وساطت سے پہنچا ہے ۔ اگر اتفاق سے چند برسوں کے بعد میری ملاقات پٹھوہار کے مشہور ڈاکو سجاول کے ساتھ نہ ہو جاتی ، تو مجھ پر جیون کی زندگی کا ایک اہم پہلو شاید ہمیشہ کے لئے پوشیدہ رہتا ۔
پاکستان میں اپنی درسی تعلیم کے خاتمہ پر جب میرا جرمنی جانے کا پروگرام بنا ، تو میں اپنے عزیزوں سے رخصت لینے کے لئے چنگا بھی گیا ۔ وہاں پر میرے قیام کے دوسرے یا تیسرے روز ایک شخص یہ پیغام لایا کہ سجاول مجھ سے ملنا چاہتا ہے ۔ مجھے شام کے وقت تیار رہنے کے لئے کہا گیا ، مگر جائے ملاقات کے بارے میں کچھ نہ بتایا گیا ۔ عشاءکی آذان ہونے کے بعد ، جب کہ خاصا اندھیرا پڑ چکا تھا ، سجاول کا آدمی مجھے لینے کے لئے آیا اور گاᄊں کی گلیوں میں گھماتا پھراتا ہو ایک حویلی میں لے گیا ، جس کے دیوان خانے میں سجاول اپنا دربار لگا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اونچے قد کاٹھ کا ایک مضبوط آدمی تھا ۔ میرے ساتھ وہ بہت توجہ اور دوستی سے پیش آیا ۔ اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا:
‭"‬ کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہاری اماں سے پڑھنا لکھنا سیکھا تھا ‭"‬ ۔
میں اس بات سے واقف تھا ۔ اماں نے ہمیں کئی بار سنایا تھا کہ جب میرے دادا جان نے اپنی حویلی میں بچیوں کو پڑھانے کے لئے مدرسہ کھولا، کیونکہ اس وقت تک لڑکیوں کی تعلیم کا ہمارے گاᄊں میں کوئی انتظام نہ تھا ، تو سجاول کی ماں اس کو اماں کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ میرے بیٹے کو پہلی جماعت میں داخل کر لیں ۔
اماں نے کہا :‭"‬ تم اسکو لڑکوں کے مدرسہ میں کیوں نہیں داخل کراتی ہو؟‭"‬
اس نے جواب دیا:‭"‬ میرا سجاول لڑکیوں کی طرح شرمیلا ہے ۔ وہ لڑکوں کے ساتھ نہ چل سکے گا ‭"‬ ۔
پھر سجاول نے