Most recent edit on 2007-11-22 20:29:14 by ZackAjmal
Additions:
میں یھاں پر اپنی ایک کتاب شامل کرنی چاہتا ھوں۔مگر مجھے پتا نھیں چل رھا کھ یھ کام کیسے کیا جا سکتا ھے۔ میں فی الحال ایک کھانی کاپی کر رھا ھوں۔
جیون خان
میرا طیارہ پیرس کے ہوائی اڈے اورلی پر آدھ گھنٹہ لیٹ اترا تھا ۔ اگلی فلائیٹ مجھے تین گھنٹوں کے بعد چارلس ڈیگال ہوائی اڈے سے لینی تھی۔ اس زمانے میں دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان شٹل بس چلتی تھی، جو میرے بس اسٹاپ پر پہنچنے سے قبل جا چکی تھی۔ اگلی بس پندرہ منٹوں میں چلنی تھی۔ میں نے ویٹنگ روم میں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا ، تو ایک ہم وطن کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اسے سلام کیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھا۔ اس نے مجھ سے جاننا چاہا کہ میں کہاں سے ہوں ۔ میں نے اپنے شہر ہمبرگ کا نام لیا ، مگر اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی ۔ اس نے پوچھا کہ میں پیچھے کہاں سے ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان کا رہنے والا ہوں ، مگر ایک عمر سے جرمنی میں مقیم ہوں۔ اس نے جاننا چاہا کہ میں پاکستان میں کس جگہ سے ہوں۔ میں نے راولپنڈی کا نام لیا۔اس پر اس نے میرے گاᄊں کا نام پوچھا ۔ اب میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ کہیں میرے گاᄊں کا رہنے والا تو نہیں۔ مگر مجھے اس کا چہرہ قطعاً نامانوس لگا ۔ میں نے کہا کہ میں چنگا بنگیال سے ہوں۔ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے اٹھ کر گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے معانقہ کیا اور کہا کہ وہ مجھے پہلی نظر میں پہچان گیا تھا ۔ میں نے اس کا امتحان لینے کی غرض سے کہا کہ پھر تو وہ میرا نام بھی جانتا ہو گا ۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے نام سے بالکل ناواقف ہے ، کیونکہ ہمارا آپس میں تعارف نہیں ہوا تھا اور کسی نے اس کے سامنے میرا نام نہیں لیا تھا ۔
مجھے یاد نہیں پڑتا تھا کہ میں نے اسے اپنی زندگی میںکہیں پر دیکھا تھا ۔ مگر میں اس سلسلے میں قابل اعتبار گواہ نہیں ہوں۔ کیونکہ میری چہروں کی یادداشت کمزور ہے ۔ مجھے بہت سی باتیں یاد رہ جاتی ہیں مثلاً یہ کہ میں کس سے کب ملا تھا اور ہمارے درمیان کیا بات ہوئی تھی، مگر چہروں کو میں یکسر بھول جاتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ ہمارا ملنا ء۱۹۴۸میں گوجر خان میں ہوا تھا ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس وقت میری عمر تیرہ چودہ سال کی رہی ہو گی۔ میں نے کہا کہ کیا اتنے برسوں میں میری شکل و شباہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو وہ مجھے پہچاننے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کی یادداشت فوٹو گرافک ہے ۔ جس شکل کو وہ ایک بار دیکھ لے ، اسے ساری عمر نہیں بھولتا ۔ میں نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی پولیس میں بہت مانگ ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ پولیس کے محکمہ میں ڈی ایس پی ہے ۔ اسے نہ صرف میری شکل یاد تھی ، بلکہ وہ ساری باتیں بھی جو میرے اور اس کے باپ کے درمیان ہوئی تھیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا باپ اس قصے میں کہاں سے آ نکلا۔ اس نے کہا بہتر ہے کہ وہ مجھے سارا قصہ شروع سے سنائے ۔
وہ اپنے باپ کے ساتھ گوجر خان سے کلر سیداں جانے والی بس میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور بس بھر چکی تھی ۔ مگر ڈرائیور چلنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ اس کے باپ کو اس روز گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، اس لئے اس نے ڈرائیور سے کہا کہ اسے چلنا چاہیئے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ایک شخص کا انتظار کر رہا ہے ، جو تھوڑی دیر میں آ جائے گا ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک چھوکرا ہاتھ میں تھیلا پکڑے ہوئے پہنچ گیا ۔ وہ چھوکرا میں تھا ، جو اسی بس میں صبح کے وقت سودا سلف لانے کے لئے گوجر خان آیا تھا اور اب سامان لے کر واپس چنگا جا رہا تھا ۔ ڈرائیور نے اس کے باپ سے کہا کہ اپنے بیٹے کو ، جس کی عمر نو یا دس سال تھی ، اپنی گود میں بیٹھا لے اور میرے لئے فرنٹ سیٹ پر جگہ بنائے ۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں چنگا سے ہوں ، جہاں پر اس روز کبڈی کا میچ ہونا تھا ، جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آ رہے تھے ۔
مجھے یاد ہے کہ حمید کے باپ نے کسی قدر بد دلی کیساتھ میرے لئے جگہ بنائی تھی۔ لگتا تھا کہ اسے ایک چھوکرے کیلئے اپنے بیٹے کو گود میں بٹھانا کچھ ایسا پسند نہ آیا تھا۔ مگر بس چلنے کے بعد اسکا رویہ بدل گیا اور اس نے مجھ سے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے ۔ پہلا سوال یہ تھا کہ میں کس جماعت میں تھا اور کس اسکول میں پڑھتا تھا ۔ میں نے بتایا کہ میں قاضیاں کے مڈل اسکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں انگریزی پڑھ لیتا ہوں ۔ وہ کسی انگریزی خوان سے ایک خط پڑھوانا چاہتا تھا ، جو اسکو اسکی پنشن کے سلسلہ میں آیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے اس روز وہ خط اسکی جیب میں نہ تھا ۔ اسکا بیٹا تیسری جماعت میں تھا ۔ انکے گاᄊں میں پرائمری اسکول تھا ۔ گویا چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد اسے کلر کے اسکول میں داخل کرانا پڑے گا اور اسکے بیٹے کو روزانہ تین میل چل کر اسکول جانا ہو گا ۔ میں نے کہا کہ میرا اسکول بھی کم و بیش اتنے ہی فاصلے پرہے ۔
پھر کبڈی کے میچ کی بات چل نکلی۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں کبڈی کا جانا پہچانا کھلاڑی رہ چکا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا اسے کبھی میرے گرائیں جیون خان کے مقابلے میں کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے جیون اور اسکی بیوی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ انکا کیا حال ہے ؟ کیا وہ چل پھر لیتے ہیں یا بالکل لاچار ہو گئے ہیں؟ اس نے کسی سے سنا تھا کہ جیون گر گیا تھا اور اسکے پاᄊں میں موچ آ گئی تھی۔ میں نے بتایا کہ وہ ہمارے مکان کے پچھواڑے میںرہتا ہے اور مجھے اماں اکثر کنویں سے پانی کی بالٹی بھر کر اسکے گھر پر دینے کے لئے بھیجا کرتی ہیں ۔ جب کبھی میں گوجر خان سے خورد و نوش کی چیزیں لاتا ہوں ، تو اماں اس میں سے ایک حصہ جیون اور اسکی بیوی کو بھیج دیتی ہیں۔ انکی چونکہ اولاد نہیں ، اسلئے ہمسائے میاں بیوی کا خیال رکھتے ہیں ۔ انکی آمدن کا انحصار زمین کی کاشت پر ہے ، جو انہوں نے بٹائی پر دے رکھی ہے ۔
میں نے سن رکھا تھا کہ جیون اپنی جوانی کے زمانے میں لٹھ مار ہوا کرتا تھا اور میلوں ٹھیلوں پر ہر کسی سے جھگڑا مول لے لیتا تھا ۔ حمید کے باپ نے کہا کہ یہ محض باتیں ہیں ۔ وہ لٹھ مار سے زیادہ کبڈی کا ماہر کھلاڑی تھا اور اپنی جوانی کے زمانے میں ہی بہت بڑا نام پیدا کر چکا تھا ۔ لوگ پچاس پچاس کوس سے اس کا کھیل دیکھنے کے لئے آتے تھے ۔ اس کی ٹکر کا بس ایک سکھ کھلاڑی صوبہ سنگھ تھا ۔ جس میچ میں یہ دونوں جمع ہو جاتے تھے ، وہاں پر تماشائیوں کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے ۔ دونوں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے تھے ، مگر میچ ختم ہونے کے بعددو قالب و یک جان بن جاتے تھے ۔ البتہ یہ دوستی بہت دنوں تک نہ چل سکی، کیونکہ صوبہ سنگھ ڈاکہ ڈالنے لگا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جیون اس کے ساتھ مل جائے ۔ مگر جیون نے اس کی بات نہ مانی ، بلکہ اس نے صوبہ سنگھ کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے چنگا یا اس کے قرب و جوار کے کسی گاᄊں میں واردات کی ، تو پھر اس کے حق میں جیون سے بڑھ کر برا کوئی شخص نہ ہو گا ۔ یہ بات سارے علاقے میں پھیل گئی اور ڈاکو اور بد معاش جیون سے ڈر کے مارے اس علاقے کا رخ نہ کرتے تھے ۔
گوجر خان سے چنگا کا فاصلہ صرف سات میل کاہے ، مگر اس زمانے میں سڑک کچی تھی اور بارشوں کے موسم میں جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی تھی۔ راستے میں پڑنے والی ندی کسی اور بھڈانہ کے نالے کے سبب ، جو دو ٹیلوں کے درمیان بہتا تھااور جس میں سے گذر کر جانا پڑتا تھا ، بس کہیں گھنٹہ بھر میں چنگا پہنچتی تھی۔ وہاں پر کبڈی کے تماشائیوں کا اچھا خاصا جمگٹھا لگا ہو اتھا ۔ میں نے بس سے اترتے ہوئے حمید کے باپ کو رات بھر کیلئے چنگا میں رک جانے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کی دعوت دی ۔ اس نے جواب دیا کہ اسکا دل تو بہت چاہتا ہے ، مگر وہ جیون خان کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا ۔ میں نے ہنس کر کہا کہ جیون خان نے صرف ڈاکوᄊں کا چنگا میں آنا بند کیا تھا ۔ اب تو وہ بیچارہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔ اسلئے اب اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ جیون خان کیساتھ اسکے خاندان کا ایک اور جھگڑا چل رہا ہے ، جو ڈاکہ ڈالنے سے بڑھ کر سنگین ہے ۔
سہ پہر کو کبڈی کا میچ ہوا ، جس کو دیکھنے کے لئے دور و نزدیک کے گاᄊں کے چھوٹے بڑے سب آئے ہوئے تھے ۔ میں نے اس سے پہلے اتنا بڑا مجمع اپنے گاᄊں میں نہیں دیکھا تھا ۔ جیون بھی لاٹھی پر ٹیک لگاتا ہوا میدان میں پہنچ گیا اور ایک کٹے ہوئے درخت کی ٹنڈ پر صافہ ڈال کر بیٹھ گیا ۔ اسکے جاننے والے اسکے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے اسے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا کہ چنگا کی ٹیم میں ایک بھی پرانا تجربہ کار کھلاڑی شامل نہیں ہے ۔ کسی نے کہاکہ جوان لوگ ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں ۔ پیچھے صرف بڈھے اور بچے رہ گئے ہیں ۔ کسی اور نے کہا کہ یہ لوگ اور انکی آل اولاد اب واپس نہیں آئے گی ۔ ہمیں انکو بھول جانا چاہیئے ، ان پر فاتحہ پڑھ دینی چاہیئے ۔ جیون نے کہا کہ وہ پہلی عالگیر جنگ کے دنوں میں فوج میں بھرتی ہو کر دنیا بھر میں گھومتا پھرا تھا، مگرآخر میں اپنے گاᄊں میں لوٹ آیا تھا ۔ ایک بڈھے نے کہا کہ تمہیں تو واپس آنا ہی تھا ، کیونکہ تمہاری بہوٹی یہاں پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ جیون نے جواب دیا کہ اس زمانے میں وہ ابھی چھڑا چھانٹ تھا ۔ البتہ اسکی چاہنے والیاں بہت تھیں ، وہ چاہتا تو پورا حرم بنا سکتا تھا ۔
اس روز خلاف توقع ہمارے گاᄊں کی ٹیم جیت گئی ، جس کا سبب ایک نوجوان کھلاڑی منور بنا ۔ وہ دوڑنے میں اس قدر تیز تھا کہ مخالف ٹیم اس کو ایک بار بھی نہ پکڑ سکی۔ اگر وہ کبھی گھیرے میں آ جاتا تھا ، تو پھرتی سے خرگوش کی طرح دائیں بائیں پچھاڑی مارتا اور صاف بچ کر نکل جاتا تھا ۔ دفاع کرنے میں بھی وہ یکتا تھا۔ مخالف کھلاڑی کو پھدک کر اس طرح ٹانگوں کی قینچی مارتا تھا کہ اپنے سے بڑے جوانوں کو بے بس کر کے قابو میں کر لیتا تھا ۔ جیون نے کھیل کے خاتمے پر منور کو اپنا جانشین قرار دے دیا اور کہا کہ اب وہ اطمینان کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر سکتا ہے ۔
اس میچ کے تھوڑے عرصہ کے بعد اماں نے راولپنڈی واپس جانے کا پروگرام بنا لیا ، جہاں پر مجھے اور میرے بھائیوں کو اپنے پرانے اسکولوں بلکہ اپنی سابقہ کلاسوں میں دوبارہ داخلہ مل گیا اور ہماری زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چلنے لگی ۔ مجھے گاᄊں میں صرف چند ماہ بسر کرنے کا موقعہ ملا تھا ، مگر وہ چند ماہ میری زندگی کا ایک یادگار حصہ بن گئے۔ وہاں پر میری ملاقات جن قابل ذکر لوگوں سے ہوئی ، ان میں جیون خان کا نام سر فہرست ہے ۔ البتہ مجھے کبھی اس کے روبرو بیٹھ کر بات کرنے کا اتفاق نہ ہوا ۔ میں جو کچھ تھوڑا بہت اس کے بارے میں جانتا ہوں، وہ مجھ تک دوسرے کی وساطت سے پہنچا ہے ۔ اگر اتفاق سے چند برسوں کے بعد میری ملاقات پٹھوہار کے مشہور ڈاکو سجاول کے ساتھ نہ ہو جاتی ، تو مجھ پر جیون کی زندگی کا ایک اہم پہلو شاید ہمیشہ کے لئے پوشیدہ رہتا ۔
پاکستان میں اپنی درسی تعلیم کے خاتمہ پر جب میرا جرمنی جانے کا پروگرام بنا ، تو میں اپنے عزیزوں سے رخصت لینے کے لئے چنگا بھی گیا ۔ وہاں پر میرے قیام کے دوسرے یا تیسرے روز ایک شخص یہ پیغام لایا کہ سجاول مجھ سے ملنا چاہتا ہے ۔ مجھے شام کے وقت تیار رہنے کے لئے کہا گیا ، مگر جائے ملاقات کے بارے میں کچھ نہ بتایا گیا ۔ عشاءکی آذان ہونے کے بعد ، جب کہ خاصا اندھیرا پڑ چکا تھا ، سجاول کا آدمی مجھے لینے کے لئے آیا اور گاᄊں کی گلیوں میں گھماتا پھراتا ہو ایک حویلی میں لے گیا ، جس کے دیوان خانے میں سجاول اپنا دربار لگا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اونچے قد کاٹھ کا ایک مضبوط آدمی تھا ۔ میرے ساتھ وہ بہت توجہ اور دوستی سے پیش آیا ۔ اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا:
" کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہاری اماں سے پڑھنا لکھنا سیکھا تھا " ۔
میں اس بات سے واقف تھا ۔ اماں نے ہمیں کئی بار سنایا تھا کہ جب میرے دادا جان نے اپنی حویلی میں بچیوں کو پڑھانے کے لئے مدرسہ کھولا، کیونکہ اس وقت تک لڑکیوں کی تعلیم کا ہمارے گاᄊں میں کوئی انتظام نہ تھا ، تو سجاول کی ماں اس کو اماں کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ میرے بیٹے کو پہلی جماعت میں داخل کر لیں ۔
اماں نے کہا :" تم اسکو لڑکوں کے مدرسہ میں کیوں نہیں داخل کراتی ہو؟"
اس نے جواب دیا:" میرا سجاول لڑکیوں کی طرح شرمیلا ہے ۔ وہ لڑکوں کے ساتھ نہ چل سکے گا " ۔
پھر سجاول نے سنایا کہ ایک دفعہ اس کے ٹولہ کے لوگوں نے ایک مکان میں سیندھ لگانے کا ارادہ کیا ، جس کے بارے میں انہیں پتہ چلا تھا کہ وہاں پر عمدہ ترین کراکری ، فرنیچر۔ قالین ، گھڑیا ں اور دوسرا سامان رہائش و آرائش بھرا پڑا ہے اور مالکان مکان خود شہر میں رہتے ہیں ۔ سجاول کو ان لوگوں کا نام نہیں بتایا گیاتھا۔اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ مکان چنگا میں پایا جاتا ہے ۔ جب وہ لوگ ایک کھیتی میں داخل ہوئے ، جس کے ساتھ ہماری حویلی کی بیرونی دیوار لگتی ہے ، تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ ہمارے مکان میں سیندھ لگانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت تک دو تین ڈاکو دیوار کے اوپر چڑھ چکے تھے ۔ سجاول نے بتایا کہ اس نے اپنا پستول نکال کر ان کی طرف تان کر کہا کہ فوراً دیوار سے نیچے اتر جاᄊ۔ بدبختو میں نے اس گھر میں آنکھوں کی روشنی پائی تھی ، اس لئے میں اس گھر پر نہ تو خود ڈاکہ ڈالوں گا اور نہ کسی اور کو ڈاکہ ڈالنے دوں گا ۔ یہ بات بہت جلد علاقہ بھر میں پھیل گئی کہ سجاول نے چنگا کو اپنی امان میں لے لیا ہے ۔ اس دن کے بعد جب تک سجاول زندہ رہا چنگا میں ڈکیتی کی واردات نہیں ہوئی ۔
میں نے سجاول سے کہا کہ کیا اسے پتہ ہے کہ جیون نے بھی اپنی جوانی کے زمانے میں ایسی ہی بات کہی تھی ۔ سجاول نے جواب دیا کہ اس کے اور جیون کے درمیان کئی ایک باتیں سانجھی پائی جاتی ہیں۔ البتہ اس کے بر عکس جیون نے کبھی ڈاکہ نہیں ڈالا اور کسی کا خون نہیں بہایا ، جب کہ وہ یہ بات اپنے بارے میں نہیں کہہ سکتا ۔ جیون کی بیوی کی طرح اس کی بیوی بھی اپنی مرضی سے اپنے ماں باپ کے گھرسے نکل کر اس کے پاس آ گئی تھی ۔ دونوں عورتوں کے باپوں کا رد عمل شدید تھا۔
" میری بیوی کے باپ نے تو یہ خباثت کی کہ میری مخبری پولیس کے پاس کر دی اور پولیس کے ایک دستہ نے میرامحاصرہ کر لیا ۔ مجھے اپنی جان بچانے کے لئے پولیس کے ساتھ مسلح جنگ لڑنی پڑی ، جس میں میرے دو آدمی اور پولیس کے پانچ سپاہی مارے گئے ۔ میں نے بعد میں اپنی بیوی کے باپ سے اس مخبری کا بدلہ لے لیا تھا ۔ مگر جیون اس معاملہ میں مجھ سے مختلف تھا ۔ اس کی بیوی کے باپ نے جیتے جی اپنی لڑکی کو اس کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس کا داخلہ اپنے گھر پر بند کئے رکھا ۔ جانتے ہو کہ جیون نے اپنی بیوی کے ساتھ اس کے باپ کے مرنے اور باقاعدہ نکاح ہو جانے والے روز تک ہمبستری نہیں کی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے نکاح کا اعلان مسجد میں ہو اور وہ باقاعدہ طور پر شادی کی رسومات ادا کر کے میاں بیوی کی زندگی بسر کریں ۔ جیون اور اس کی بیوی کے مرنے تک اس کے سسرال نے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھا" ۔
جب آدھی رات کے لگ بھگ سجاول کا آدمی مجھے گھر چھوڑنے کیلئے میرے ساتھ گیا ، تو میں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ سجاول نے اپنی بیوی کے باپ سے کس طرح بدلہ لیا تھا ۔ اس نے کہا کہ سجاول نے اسکو ٹوکے سے ٹکڑے کر کر کے مار ڈالا تھا ۔
ہم چارلس ڈیگال ہوائی اڈے پر پہنچے ، تو میری پرواز کا اعلان ہو رہا تھا ، اسلئے مجھے فی الفور حمید سے رخصت لینی پڑی ۔ میں نے چلتے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا وہ مجھے بتا سکتا ہے کہ اسکے باپ نے اس روز چنگا میں اترنے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کے سلسلہ میں میری دعوت کو کیوں قبول نہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جیون کی وجہ سے وہاں پر نہیں اتر سکتا ۔
حمید نے کہا: " اس کی وجہ یہ تھی کہ جیون کی بیوی میرے باپ کی سب سے بڑی بہن تھی ، جس کو میرے دادا نے اپنے خاندان سے خارج کر دیا تھا اور اپنے بچوں کو وصیت کی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں" ۔
میں حمید سے رخصت ہو کر ائر فرانس کے کونٹر پر چیک ان کے لئے چلا گیا ۔ بعد میں جہاز پر چڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ مجھے حمید سے اس کی پھوپھی کا نام تو پوچھ لینا چاہیئے تھا ، جس سے میں آج تک ناواقف ہوں۔
( ہمبرگ ۔ ۱۷ جولائی ء
Deletions:
ereltsi
Ù
ÛÚº Ûھاں پر اپÙÛ Ø§ÛÚ© کتاب شاÙ
٠کرÙÛ ÚØ§Ûتا Ú¾ÙÚºÛÙ
گر Ù
Ø¬Ú¾Û Ù¾ØªØ§ ÙÚ¾ÛÚº Ú٠رھا Ú©Ú¾ ÛÚ¾ کاÙ
Ú©ÛØ³Û Ú©ÛØ§ جا سکتا Ú¾ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§ÙØØ§Ù Ø§ÛÚ© کھاÙÛ Ú©Ø§Ù¾Û Ú©Ø± رھا Ú¾ÙÚºÛ
â«Ø¬ÛÙ٠خاÙ
Ù
ÛØ±Ø§ Ø·ÛØ§Ø±Û Ù¾ÛØ±Ø³ Ú©Û ÛÙØ§Ø¦Û اÚÛ Ø§ÙØ±ÙÛ Ù¾Ø± آدھ Ú¯Ú¾ÙÙ¹Û ÙÛÙ¹ اترا تھا Û Ø§Ú¯ÙÛ ÙÙØ§Ø¦ÛÙ¹ Ù
Ø¬Ú¾Û ØªÛÙ Ú¯Ú¾ÙÙ¹ÙÚº Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ ÚØ§Ø±Ùس ÚÛگا٠ÛÙØ§Ø¦Û اÚÛ Ø³Û ÙÛÙÛ ØªÚ¾ÛÛ Ø§Ø³ زÙ
اÙÛ Ù
ÛÚº دÙÙÙÚº ÛÙØ§Ø¦Û اÚÙÚº Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù شٹ٠بس ÚÙØªÛ ØªÚ¾ÛØ ج٠Ù
ÛØ±Û بس اسٹاپ پر Ù¾ÛÙÚÙÛ Ø³Û ÙØ¨Ù جا ÚÚ©Û ØªÚ¾ÛÛ Ø§Ú¯ÙÛ Ø¨Ø³ Ù¾ÙØ¯Ø±Û Ù
ÙÙ¹ÙÚº Ù
ÛÚº ÚÙÙÛ ØªÚ¾ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ ÙÛÙ¹ÙÚ¯ رÙÙ
Ù
ÛÚº اپÙÛ Ú¯Ø±Ø¯ Ù Ù¾ÛØ´ کا Ø¬Ø§Ø¦Ø²Û ÙÛØ§ Ø ØªÙ Ø§ÛÚ© ÛÙ
ÙØ·Ù ک٠اپÙÛ Ø·Ø±Ù Ú¯Ú¾ÙØ±ØªÛ ÛÙØ¦Û دÛکھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³Û Ø³ÙØ§Ù
Ú©ÛØ§ Ø§ÙØ± اس Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ جا کر بÛÙ¹Ú¾Ø§Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù
جھ Ø³Û Ø¬Ø§ÙÙØ§ ÚØ§Ûا Ú©Û Ù
ÛÚº Ú©ÛØ§Úº Ø³Û ÛÙÚº Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø´ÛØ± ÛÙ
برگ کا ÙØ§Ù
ÙÛØ§ Ø Ù
گر اس Ø³Û Ø§Ø³ Ú©Û ØªØ³ÙÛ ÙÛ ÛÙØ¦Û Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ù
ÛÚº Ù¾ÛÚÚ¾Û Ú©ÛØ§Úº Ø³Û ÛÙÚºÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº پاکستا٠کا رÛÙÛ ÙØ§Ùا ÛÙÚº Ø Ù
گر اÛÚ© عÙ
ر Ø³Û Ø¬Ø±Ù
ÙÛ Ù
ÛÚº Ù
ÙÛÙ
ÛÙÚºÛ Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬Ø§ÙÙØ§ ÚØ§Ûا Ú©Û Ù
ÛÚº پاکستا٠Ù
ÛÚº کس Ø¬Ú¯Û Ø³Û ÛÙÚºÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø±Ø§ÙÙÙ¾ÙÚÛ Ú©Ø§ ÙØ§Ù
ÙÛØ§Ûاس پر اس ÙÛ Ù
ÛØ±Û گاᄊں کا ÙØ§Ù
Ù¾ÙÚھا Û Ø§Ø¨ Ù
ÛÚº ÙÛ ØºÙØ± Ø³Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø·Ø±Ù Ø¯Ûکھا Ú©Û ÙÛ Ú©ÛÛÚº Ù
ÛØ±Û گاᄊں کا رÛÙÛ ÙØ§Ùا ت٠ÙÛÛÚºÛ Ù
گر Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§Ø³ کا ÚÛØ±Û ÙØ·Ø¹Ø§Ù ÙØ§Ù
اÙÙØ³ Ùگا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº ÚÙگا بÙÚ¯ÛØ§Ù Ø³Û ÛÙÚºÛ ÛÛ Ø³Ù Ú©Ø± اس Ú©Û Ø¨Ø§ÚÚ¾ÛÚº کھ٠گئÛÚºÛ Ø§Ø³ ÙÛ Ø§Ù¹Ú¾ کر گرÙ
Ø¬ÙØ´Û Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ù
جھ Ø³Û Ù
عاÙÙÛ Ú©ÛØ§ Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ù¾ÛÙÛ ÙØ¸Ø± Ù
ÛÚº Ù¾ÛÚØ§Ù Ú¯ÛØ§ تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³ کا اÙ
ØªØØ§Ù ÙÛÙÛ Ú©Û ØºØ±Ø¶ Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù¾Ú¾Ø± ت٠ÙÛ Ù
ÛØ±Ø§ ÙØ§Ù
Ø¨Ú¾Û Ø¬Ø§ÙØªØ§ Û٠گا Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù
عذرت Ú©Ø±ØªÛ ÛÙØ¦Û Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù
ÛØ±Û ÙØ§Ù
Ø³Û Ø¨Ø§ÙÚ©Ù ÙØ§ÙاÙÙ ÛÛ Ø Ú©ÛÙÙÚ©Û ÛÙ
ارا آپس Ù
ÛÚº تعار٠ÙÛÛÚº ÛÙØ§ تھا Ø§ÙØ± Ú©Ø³Û ÙÛ Ø§Ø³ Ú©Û Ø³Ø§Ù
ÙÛ Ù
ÛØ±Ø§ ÙØ§Ù
ÙÛÛÚº ÙÛØ§ تھا Û
Ù
Ø¬Ú¾Û ÛØ§Ø¯ ÙÛÛÚº Ù¾ÚØªØ§ تھا Ú©Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø²ÙØ¯Ú¯Û Ù
ÛÚºÚ©ÛÛÚº پر دÛکھا تھا Û Ù
گر Ù
ÛÚº اس Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº ÙØ§Ø¨Ù اعتبار Ú¯ÙØ§Û ÙÛÛÚº ÛÙÚºÛ Ú©ÛÙÙÚ©Û Ù
ÛØ±Û ÚÛØ±ÙÚº Ú©Û ÛØ§Ø¯Ø¯Ø§Ø´Øª Ú©Ù
Ø²ÙØ± ÛÛ Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø¨ÛØª Ø³Û Ø¨Ø§ØªÛÚº ÛØ§Ø¯ Ø±Û Ø¬Ø§ØªÛ ÛÛÚº Ù
Ø«ÙØ§Ù ÛÛ Ú©Û Ù
ÛÚº کس Ø³Û Ú©Ø¨ Ù
ÙØ§ تھا Ø§ÙØ± ÛÙ
Ø§Ø±Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù Ú©ÛØ§ بات ÛÙØ¦Û ØªÚ¾ÛØ Ù
گر ÚÛØ±ÙÚº Ú©Ù Ù
ÛÚº Ûکسر بھÙ٠جاتا ÛÙÚº Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÛÙ
ارا Ù
ÙÙØ§ ء۱۹۴۸Ù
ÛÚº Ú¯ÙØ¬Ø± خا٠Ù
ÛÚº ÛÙØ§ تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§ÙØ¯Ø§Ø²Û ÙÚ¯Ø§ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ ÙÙØª Ù
ÛØ±Û عÙ
ر ØªÛØ±Û ÚÙØ¯Û Ø³Ø§Ù Ú©Û Ø±ÛÛ ÛÙ Ú¯ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ú©ÛØ§ اتÙÛ Ø¨Ø±Ø³ÙÚº Ù
ÛÚº Ù
ÛØ±Û Ø´Ú©Ù Ù Ø´Ø¨Ø§ÛØª Ù
ÛÚº Ú©ÙØ¦Û تبدÛÙÛ ÙÛÛÚº Ø¢Ø¦ÛØ ج٠ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ù¾ÛÚØ§ÙÙÛ Ú©Ø§ دعÙÛÙ° کرتا ÛÛ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û ÛØ§Ø¯Ø¯Ø§Ø´Øª ÙÙٹ٠گراÙÚ© ÛÛ Û Ø¬Ø³ Ø´Ú©Ù Ú©Ù ÙÛ Ø§ÛÚ© بار دÛÚ©Ú¾ ÙÛ Ø Ø§Ø³Û Ø³Ø§Ø±Û Ø¹Ù
ر ÙÛÛÚº بھÙÙØªØ§ Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ØªÙ
Ø¬ÛØ³Û ÙÙÚ¯ÙÚº Ú©Û Ù¾ÙÙÛØ³ Ù
ÛÚº Ø¨ÛØª Ù
اÙÚ¯ ÛÛ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ù
ØÚ©Ù
Û Ù
ÛÚº ÚÛ Ø§ÛØ³ Ù¾Û ÛÛ Û Ø§Ø³Û ÙÛ ØµØ±Ù Ù
ÛØ±Û Ø´Ú©Ù ÛØ§Ø¯ ØªÚ¾Û Ø Ø¨ÙÚ©Û ÙÛ Ø³Ø§Ø±Û Ø¨Ø§ØªÛÚº Ø¨Ú¾Û Ø¬Ù Ù
ÛØ±Û Ø§ÙØ± اس Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù ÛÙØ¦Û تھÛÚºÛ Ù
ÛÚº ÙÛ ØÛرا٠Û٠کر Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ø§Ø³ کا باپ اس ÙØµÛ Ù
ÛÚº Ú©ÛØ§Úº Ø³Û Ø¢ ÙÚ©ÙØ§Û اس ÙÛ Ú©ÛØ§ Ø¨ÛØªØ± ÛÛ Ú©Û ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ø³Ø§Ø±Ø§ ÙØµÛ Ø´Ø±ÙØ¹ Ø³Û Ø³ÙØ§Ø¦Û Û
ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨Ø§Ù¾ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø³Û Ú©ÙØ± Ø³ÛØ¯Ø§Úº جاÙÛ ÙØ§ÙÛ Ø¨Ø³ Ù
ÛÚº ÙØ±ÙÙ¹ سÛÙ¹ پر بÛٹھا ÛÙØ§ تھا Ø§ÙØ± بس بھر ÚÚ©Û ØªÚ¾Û Û Ù
گر ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± ÚÙÙÛ Ú©Ø§ ÙØ§Ù
ÙÛÛÚº ÙÛØªØ§ تھا Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ک٠اس Ø±ÙØ² گھر Ù¾ÛÙÚÙÛ Ú©Û Ø¬ÙØ¯Û ØªÚ¾Û Ø Ø§Ø³ ÙØ¦Û اس ÙÛ ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³Û ÚÙÙØ§ ÚØ§ÛÛØ¦ÛÛ ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ø§ÛÚ© شخص کا Ø§ÙØªØ¸Ø§Ø± کر Ø±ÛØ§ ÛÛ Ø Ø¬Ù ØªÚ¾ÙÚÛ Ø¯ÛØ± Ù
ÛÚº Ø¢ Ø¬Ø§Ø¦Û Ú¯Ø§ Û ÛÛÛ Ø¨Ø§ØªÛÚº Û٠رÛÛ ØªÚ¾ÛÚº Ú©Û Ø§ÛÚ© ÚÚ¾Ùکرا ÛØ§ØªÚ¾ Ù
ÛÚº تھÛÙØ§ Ù¾Ú©ÚÛ ÛÙØ¦Û Ù¾ÛÙÚ Ú¯ÛØ§ Û ÙÛ ÚÚ¾Ùکرا Ù
ÛÚº تھا Ø Ø¬Ù Ø§Ø³Û Ø¨Ø³ Ù
ÛÚº ØµØ¨Ø Ú©Û ÙÙØª Ø³ÙØ¯Ø§ سÙÙ ÙØ§ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø¢ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± اب ساÙ
ا٠ÙÛ Ú©Ø± ÙØ§Ù¾Ø³ ÚÙگا جا Ø±ÛØ§ تھا Û ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± ÙÛ Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨ÛÙ¹Û Ú©Ù Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø¹Ù
ر ÙÙ ÛØ§ دس Ø³Ø§Ù ØªÚ¾Û Ø Ø§Ù¾ÙÛ Ú¯ÙØ¯ Ù
ÛÚº بÛٹھا ÙÛ Ø§ÙØ± Ù
ÛØ±Û ÙØ¦Û ÙØ±ÙÙ¹ سÛÙ¹ پر Ø¬Ú¯Û Ø¨ÙØ§Ø¦Û Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÛÛ Ø§Ø³ ÙÛ ÛÛ Ø¨Ú¾Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº ÚÙگا Ø³Û ÛÙÚº Ø Ø¬ÛØ§Úº پر اس Ø±ÙØ² کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ ÛÙÙØ§ تھا Ø Ø¬Ø³ ک٠دÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û ÙÙÚ¯ Ø¯ÙØ± Ø¯ÙØ± Ø³Û Ø¢ رÛÛ ØªÚ¾Û Û
Ù
Ø¬Ú¾Û ÛØ§Ø¯ ÛÛ Ú©Û ØÙ
ÛØ¯ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ú©Ø³Û ÙØ¯Ø± بد دÙÛ Ú©ÛØ³Ø§ØªÚ¾ Ù
ÛØ±Û ÙØ¦Û Ø¬Ú¯Û Ø¨ÙØ§Ø¦Û تھÛÛ Ùگتا تھا Ú©Û Ø§Ø³Û Ø§ÛÚ© ÚÚ¾ÙÚ©Ø±Û Ú©ÛÙØ¦Û اپÙÛ Ø¨ÛÙ¹Û Ú©Ù Ú¯ÙØ¯ Ù
ÛÚº Ø¨Ù¹Ú¾Ø§ÙØ§ Ú©ÚÚ¾ Ø§ÛØ³Ø§ Ù¾Ø³ÙØ¯ ÙÛ Ø¢ÛØ§ ØªÚ¾Ø§Û Ù
گر بس ÚÙÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ اسکا رÙÛÛ Ø¨Ø¯Ù Ú¯ÛØ§ Ø§ÙØ± اس ÙÛ Ù
جھ Ø³Û Ø³ÙØ§Ùات Ù¾ÙÚÚ¾ÙÛ Ø´Ø±ÙØ¹ کر Ø¯ÛØ¦Û Û Ù¾ÛÙØ§ Ø³ÙØ§Ù ÛÛ ØªÚ¾Ø§ Ú©Û Ù
ÛÚº کس جÙ
اعت Ù
ÛÚº تھا Ø§ÙØ± کس اسکÙÙ Ù
ÛÚº Ù¾Úھتا تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº ÙØ§Ø¶Ûاں Ú©Û Ù
Ú٠اسکÙÙ Ú©Û Ø¢Ù¹Ú¾ÙÛÚº جÙ
اعت Ù
ÛÚº Ù¾Úھتا ÛÙÚºÛ Ù¾Ú¾Ø± اس ÙÛ Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ú©ÛØ§ Ù
ÛÚº اÙÚ¯Ø±ÛØ²Û Ù¾ÚÚ¾ ÙÛØªØ§ ÛÙÚº Û ÙÛ Ú©Ø³Û Ø§ÙÚ¯Ø±ÛØ²Û Ø®ÙØ§Ù Ø³Û Ø§ÛÚ© خط Ù¾ÚÚ¾ÙØ§Ùا ÚØ§Ûتا تھا Ø Ø¬Ù Ø§Ø³Ú©Ù Ø§Ø³Ú©Û Ù¾ÙØ´Ù Ú©Û Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº Ø¢ÛØ§ تھا Û Ù
گر بد ÙØ³Ù
ØªÛ Ø³Û Ø§Ø³ Ø±ÙØ² ÙÛ Ø®Ø· Ø§Ø³Ú©Û Ø¬ÛØ¨ Ù
ÛÚº ÙÛ ØªÚ¾Ø§ Û Ø§Ø³Ú©Ø§ بÛٹا ØªÛØ³Ø±Û جÙ
اعت Ù
ÛÚº تھا Û Ø§ÙÚ©Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº پرائÙ
Ø±Û Ø§Ø³Ú©Ù٠تھا Û Ú¯ÙÛØ§ ÚÙØªÚ¾Û جÙ
اعت پاس کرÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ø§Ø³Û Ú©ÙØ± Ú©Û Ø§Ø³Ú©ÙÙ Ù
ÛÚº Ø¯Ø§Ø®Ù Ú©Ø±Ø§ÙØ§ Ù¾ÚÛ Ú¯Ø§ Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ø¨ÛÙ¹Û Ú©Ù Ø±ÙØ²Ø§ÙÛ ØªÛÙ Ù
ÛÙ Ú٠کر اسکÙÙ Ø¬Ø§ÙØ§ Û٠گا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛØ±Ø§ اسکÙÙ Ø¨Ú¾Û Ú©Ù
Ù Ø¨ÛØ´ اتÙÛ ÛÛ ÙØ§ØµÙÛ Ù¾Ø±ÛÛ Û
پھر کبÚÛ Ú©Û Ù
ÛÚ Ú©Û Ø¨Ø§Øª ÚÙ ÙÚ©ÙÛÛ Ø§Ø³ ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº کبÚÛ Ú©Ø§ Ø¬Ø§ÙØ§ Ù¾ÛÚØ§Ùا Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ø±Û Úکا تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ú©ÛØ§ Ø§Ø³Û Ú©Ø¨Ú¾Û Ù
ÛØ±Û گرائÛÚº جÛÙÙ Ø®Ø§Ù Ú©Û Ù
ÙØ§Ø¨ÙÛ Ù
ÛÚº Ú©Ú¾ÛÙÙÛ Ú©Ø§ Ø§ØªÙØ§Ù ÛÙØ§ تھا Û Ù
ÛØ±Û Ø³ÙØ§Ù کا Ø¬ÙØ§Ø¨ دÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¬Ø§Ø¦Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬ÛÙÙ Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº Ù¾ÙÚÚ¾ÙØ§ Ø´Ø±ÙØ¹ کر Ø¯ÛØ§Û اÙکا Ú©ÛØ§ ØØ§Ù ÛÛ Ø Ú©ÛØ§ ÙÛ Ú٠پھر ÙÛØªÛ ÛÛÚº ÛØ§ باÙÚ©Ù ÙØ§Úار ÛÙ Ú¯Ø¦Û ÛÛÚºØ Ø§Ø³ ÙÛ Ú©Ø³Û Ø³Û Ø³ÙØ§ تھا Ú©Û Ø¬ÛÙ٠گر Ú¯ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ù¾Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº Ù
ÙÚ Ø¢ Ú¯Ø¦Û ØªÚ¾ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û ÙÛ ÛÙ
Ø§Ø±Û Ù
Ú©Ø§Ù Ú©Û Ù¾ÚÚ¾ÙØ§ÚÛ Ù
ÛÚºØ±ÛØªØ§ ÛÛ Ø§ÙØ± Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§Ù
اں اکثر Ú©ÙÙÛÚº Ø³Û Ù¾Ø§ÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§ÙÙ¹Û Ø¨Ú¾Ø± کر Ø§Ø³Ú©Û Ú¯Ú¾Ø± پر دÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¨Ú¾ÛØ¬Ø§ Ú©Ø±ØªÛ ÛÛÚº Û Ø¬Ø¨ Ú©Ø¨Ú¾Û Ù
ÛÚº Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø³Û Ø®ÙØ±Ø¯ Ù ÙÙØ´ Ú©Û ÚÛØ²ÛÚº ÙØ§ØªØ§ ÛÙÚº Ø ØªÙ Ø§Ù
اں اس Ù
ÛÚº Ø³Û Ø§ÛÚ© ØØµÛ جÛÙÙ Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Ù Ø¨Ú¾ÛØ¬ Ø¯ÛØªÛ ÛÛÚºÛ Ø§ÙÚ©Û ÚÙÙÚ©Û Ø§ÙÙØ§Ø¯ ÙÛÛÚº Ø Ø§Ø³ÙØ¦Û ÛÙ
Ø³Ø§Ø¦Û Ù
ÛØ§Úº بÛÙÛ Ú©Ø§ Ø®ÛØ§Ù Ø±Ú©Ú¾ØªÛ ÛÛÚº Û Ø§ÙÚ©Û Ø¢Ù
د٠کا Ø§ÙØØµØ§Ø± زÙ
ÛÙ Ú©Û Ú©Ø§Ø´Øª پر ÛÛ Ø Ø¬Ù Ø§ÙÛÙÚº ÙÛ Ø¨Ù¹Ø§Ø¦Û Ù¾Ø± Ø¯Û Ø±Ú©Ú¾Û ÛÛ Û
Ù
ÛÚº ÙÛ Ø³Ù Ø±Ú©Ú¾Ø§ تھا Ú©Û Ø¬ÛÙ٠اپÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº ÙÙ¹Ú¾ Ù
ار ÛÙØ§ کرتا تھا Ø§ÙØ± Ù
ÛÙÙÚº Ù¹Ú¾ÛÙÙÚº پر ÛØ± Ú©Ø³Û Ø³Û Ø¬Ú¾Ú¯ÚØ§ Ù
ÙÙ ÙÛ ÙÛØªØ§ تھا Û ØÙ
ÛØ¯ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÛÛ Ù
ØØ¶ باتÛÚº ÛÛÚº Û ÙÛ ÙÙ¹Ú¾ Ù
ار Ø³Û Ø²ÛØ§Ø¯Û کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
Ø§ÛØ± Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ ØªÚ¾Ø§ Ø§ÙØ± اپÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº ÛÛ Ø¨ÛØª Ø¨ÚØ§ ÙØ§Ù
Ù¾ÛØ¯Ø§ کر Úکا تھا Û ÙÙÚ¯ Ù¾ÚØ§Ø³ Ù¾ÚØ§Ø³ Ú©ÙØ³ Ø³Û Ø§Ø³ کا Ú©Ú¾Û٠دÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¢ØªÛ ØªÚ¾Û Û Ø§Ø³ Ú©Û Ù¹Ú©Ø± کا بس اÛÚ© سکھ Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ ØµÙØ¨Û سÙÚ¯Ú¾ تھا Û Ø¬Ø³ Ù
ÛÚ Ù
ÛÚº ÛÛ Ø¯ÙÙÙÚº جÙ
ع ÛÙ Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾Û Ø ÙÛØ§Úº پر تÙ
اشائÛÙÚº Ú©Û Ù¹Ú¾Ù¹Ú¾ ÙÚ¯ Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾Û Û Ø¯ÙÙÙÚº Ú©Ú¾ÛÙ Ú©Û Ù
ÛØ¯Ø§Ù Ù
ÛÚº اÛÚ© Ø¯ÙØ³Ø±Û Ú©Û Ù
د Ù
ÙØ§Ø¨Ù ÛÙØªÛ ØªÚ¾Û Ø Ù
گر Ù
ÛÚ Ø®ØªÙ
ÛÙÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯Ø¯Ù ÙØ§Ùب Ù ÛÚ© Ø¬Ø§Ù Ø¨Ù Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾Û Û Ø§ÙØ¨ØªÛ ÛÛ Ø¯ÙØ³ØªÛ Ø¨ÛØª دÙÙÚº تک ÙÛ ÚÙ Ø³Ú©ÛØ Ú©ÛÙÙÚ©Û ØµÙØ¨Û سÙÚ¯Ú¾ ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÛ Ùگا تھا Û ÙÛ ÚØ§Ûتا تھا Ú©Û Ø¬ÛÙ٠اس Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ù
Ù Ø¬Ø§Ø¦Û Û Ù
گر جÛÙÙ ÙÛ Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Øª ÙÛ Ù
اÙÛ Ø Ø¨ÙÚ©Û Ø§Ø³ ÙÛ ØµÙØ¨Û سÙÚ¯Ú¾ Ú©Ù Ù¾ÛØºØ§Ù
Ø¨Ú¾ÛØ¬Ø§ Ú©Û Ø§Ú¯Ø± اس ÙÛ ÚÙگا ÛØ§ اس Ú©Û ÙØ±Ø¨ Ù Ø¬ÙØ§Ø± Ú©Û Ú©Ø³Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº ÙØ§Ø±Ø¯Ø§Øª Ú©Û Ø ØªÙ Ù¾Ú¾Ø± اس Ú©Û ØÙ Ù
ÛÚº جÛÙÙ Ø³Û Ø¨ÚÚ¾ کر برا Ú©ÙØ¦Û شخص ÙÛ Û٠گا Û ÛÛ Ø¨Ø§Øª Ø³Ø§Ø±Û Ø¹ÙØ§ÙÛ Ù
ÛÚº Ù¾Ú¾ÛÙ Ú¯Ø¦Û Ø§ÙØ± ÚØ§Ú©Ù Ø§ÙØ± بد Ù
عاش جÛÙÙ Ø³Û ÚØ± Ú©Û Ù
Ø§Ø±Û Ø§Ø³ Ø¹ÙØ§ÙÛ Ú©Ø§ رخ ÙÛ Ú©Ø±ØªÛ ØªÚ¾Û Û
Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø³Û ÚÙگا کا ÙØ§ØµÙÛ ØµØ±Ù Ø³Ø§Øª Ù
Û٠کاÛÛ Ø Ù
گر اس زÙ
اÙÛ Ù
ÛÚº سÚÚ© Ú©ÚÛ ØªÚ¾Û Ø§ÙØ± بارشÙÚº Ú©Û Ù
ÙØ³Ù
Ù
ÛÚº Ø¬Ú¯Û Ø¬Ú¯Û Ø³Û Ù¹ÙÙ¹ Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾ÛÛ Ø±Ø§Ø³ØªÛ Ù
ÛÚº Ù¾ÚÙÛ ÙØ§ÙÛ ÙØ¯Û Ú©Ø³Û Ø§ÙØ± Ø¨Ú¾ÚØ§ÙÛ Ú©Û ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø³Ø¨Ø¨ Ø Ø¬Ù Ø¯Ù Ù¹ÛÙÙÚº Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù Ø¨ÛØªØ§ ØªÚ¾Ø§Ø§ÙØ± جس Ù
ÛÚº Ø³Û Ú¯Ø°Ø± کر Ø¬Ø§ÙØ§ Ù¾ÚØªØ§ تھا Ø Ø¨Ø³ Ú©ÛÛÚº Ú¯Ú¾ÙÙ¹Û Ø¨Ú¾Ø± Ù
ÛÚº ÚÙگا Ù¾ÛÙÚØªÛ تھÛÛ ÙÛØ§Úº پر کبÚÛ Ú©Û ØªÙ
اشائÛÙÚº کا اÚھا خاصا جÙ
گٹھا Ùگا Û٠اتھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨Ø³ Ø³Û Ø§ØªØ±ØªÛ ÛÙØ¦Û ØÙ
ÛØ¯ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ک٠رات بھر Ú©ÛÙØ¦Û ÚÙگا Ù
ÛÚº رک جاÙÛ Ø§ÙØ± کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ Ø¯ÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û Ø¯Ø¹ÙØª Ø¯Û Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³Ú©Ø§ Ø¯Ù ØªÙ Ø¨ÛØª ÚØ§Ûتا ÛÛ Ø Ù
گر ÙÛ Ø¬ÛÙÙ Ø®Ø§Ù Ú©Û ÙØ¬Û Ø³Û Ø§ÛØ³Ø§ ÙÛÛÚº کر سکتا Û Ù
ÛÚº ÙÛ ÛÙØ³ کر Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø¬ÛÙ٠خا٠ÙÛ ØµØ±Ù ÚØ§Ú©Ùï¾¶Úº کا ÚÙگا Ù
ÛÚº Ø¢ÙØ§ Ø¨ÙØ¯ Ú©ÛØ§ تھا Û Ø§Ø¨ ت٠ÙÛ Ø¨ÛÚØ§Ø±Û ÚÙÙÛ Ù¾Ú¾Ø±ÙÛ Ú©Û Ø¨Ú¾Û ÙØ§Ø¨Ù ÙÛÛÚº Ø±ÛØ§ Û Ø§Ø³ÙØ¦Û اب اس Ø³Û ÚØ±ÙÛ Ú©Û Ú©ÙØ¦Û ÙØ¬Û ÙÛÛÚº ÛÛ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø¬ÛÙÙ Ø®Ø§Ù Ú©ÛØ³Ø§ØªÚ¾ Ø§Ø³Ú©Û Ø®Ø§ÙØ¯Ø§Ù کا اÛÚ© Ø§ÙØ± Ø¬Ú¾Ú¯ÚØ§ ÚÙ Ø±ÛØ§ ÛÛ Ø Ø¬Ù ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÛ Ø³Û Ø¨ÚÚ¾ کر سÙÚ¯ÛÙ ÛÛ Û
Ø³Û Ù¾ÛØ± ک٠کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ ÛÙØ§ Ø Ø¬Ø³ ک٠دÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¯ÙØ± Ù ÙØ²Ø¯ÛÚ© Ú©Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ú©Û ÚÚ¾ÙÙ¹Û Ø¨ÚÛ Ø³Ø¨ Ø¢Ø¦Û ÛÙØ¦Û ØªÚ¾Û Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³ Ø³Û Ù¾ÛÙÛ Ø§ØªÙØ§ Ø¨ÚØ§ Ù
جÙ
ع اپÙÛ Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº ÙÛÛÚº دÛکھا تھا Û Ø¬ÛÙÙ Ø¨Ú¾Û ÙØ§Ù¹Ú¾Û پر Ù¹ÛÚ© Ùگاتا ÛÙØ§ Ù
ÛØ¯Ø§Ù Ù
ÛÚº Ù¾ÛÙÚ Ú¯ÛØ§ Ø§ÙØ± اÛÚ© Ú©Ù¹Û ÛÙØ¦Û درخت Ú©Û Ù¹ÙÚ Ù¾Ø± صاÙÛ ÚØ§Ù کر بÛÙ¹Ú¾ Ú¯ÛØ§ Û Ø§Ø³Ú©Û Ø¬Ø§ÙÙÛ ÙØ§ÙÛ Ø§Ø³Ú©Û Ú¯Ø±Ø¯ جÙ
ع ÛÙ Ú¯Ø¦Û Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³Û ÛÛ Ø´Ú©Ø§ÛØª Ú©Ø±ØªÛ ÛÙØ¦Û Ø³ÙØ§ Ú©Û ÚÙگا Ú©Û Ù¹ÛÙ
Ù
ÛÚº اÛÚ© Ø¨Ú¾Û Ù¾Ø±Ø§ÙØ§ ØªØ¬Ø±Ø¨Û Ú©Ø§Ø± Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ø´Ø§Ù
Ù ÙÛÛÚº ÛÛ Û Ú©Ø³Û ÙÛ Ú©ÛØ§Ú©Û Ø¬ÙØ§Ù ÙÙÚ¯ Ù
ÙØ§Ø²Ù
ت Ú©Û Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº Ø´ÛØ±ÙÚº Ù
ÛÚº جا کر آباد ÛÙ Ú¯Ø¦Û ÛÛÚº Û Ù¾ÛÚÚ¾Û ØµØ±Ù Ø¨ÚÚ¾Û Ø§ÙØ± بÚÛ Ø±Û Ú¯Ø¦Û ÛÛÚº Û Ú©Ø³Û Ø§ÙØ± ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÛÛ ÙÙÚ¯ Ø§ÙØ± اÙÚ©Û Ø¢Ù Ø§ÙÙØ§Ø¯ اب ÙØ§Ù¾Ø³ ÙÛÛÚº Ø¢Ø¦Û Ú¯Û Û ÛÙ
ÛÚº اÙک٠بھÙÙ Ø¬Ø§ÙØ§ ÚØ§ÛÛØ¦Û Ø Ø§Ù Ù¾Ø± ÙØ§ØªØÛ Ù¾ÚÚ¾ دÛÙÛ ÚØ§ÛÛØ¦Û Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù¾ÛÙÛ Ø¹Ø§ÙÚ¯ÛØ± جÙÚ¯ Ú©Û Ø¯ÙÙÚº Ù
ÛÚº ÙÙØ¬ Ù
ÛÚº Ø¨Ú¾Ø±ØªÛ Û٠کر دÙÛØ§ بھر Ù
ÛÚº Ú¯Ú¾ÙÙ
تا پھرا ØªÚ¾Ø§Ø Ù
گرآخر Ù
ÛÚº اپÙÛ Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº ÙÙÙ¹ Ø¢ÛØ§ تھا Û Ø§ÛÚ© بÚÚ¾Û ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ØªÙ
ÛÛÚº ØªÙ ÙØ§Ù¾Ø³ Ø¢ÙØ§ ÛÛ ØªÚ¾Ø§ Ø Ú©ÛÙÙÚ©Û ØªÙ
ÛØ§Ø±Û بÛÙÙ¹Û ÛÛØ§Úº پر بÛÙ¹Ú¾Û ÛÙØ¦Û ØªÚ¾Û Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ زÙ
اÙÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø¨Ú¾Û ÚÚ¾ÚØ§ ÚھاÙÙ¹ تھا Û Ø§ÙØ¨ØªÛ Ø§Ø³Ú©Û ÚØ§ÛÙÛ ÙØ§ÙÛØ§Úº Ø¨ÛØª تھÛÚº Ø ÙÛ ÚØ§Ûتا ØªÙ Ù¾ÙØ±Ø§ ØØ±Ù
Ø¨ÙØ§ سکتا تھا Û
اس Ø±ÙØ² Ø®ÙØ§Ù تÙÙØ¹ ÛÙ
Ø§Ø±Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ú©Û Ù¹ÛÙ
Ø¬ÛØª Ú¯Ø¦Û Ø Ø¬Ø³ کا سبب اÛÚ© ÙÙØ¬ÙØ§Ù Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ù
ÙÙØ± Ø¨ÙØ§ Û ÙÛ Ø¯ÙÚÙÛ Ù
ÛÚº اس ÙØ¯Ø± ØªÛØ² تھا Ú©Û Ù
خاÙÙ Ù¹ÛÙ
اس ک٠اÛÚ© بار Ø¨Ú¾Û ÙÛ Ù¾Ú©Ú Ø³Ú©ÛÛ Ø§Ú¯Ø± ÙÛ Ú©Ø¨Ú¾Û Ú¯Ú¾ÛØ±Û Ù
ÛÚº Ø¢ جاتا تھا Ø ØªÙ Ù¾Ú¾Ø±ØªÛ Ø³Û Ø®Ø±Ú¯ÙØ´ Ú©Û Ø·Ø±Ø Ø¯Ø§Ø¦ÛÚº بائÛÚº Ù¾ÚھاÚÛ Ù
ارتا Ø§ÙØ± ØµØ§Ù Ø¨Ú Ú©Ø± Ùک٠جاتا تھا Û Ø¯ÙØ§Ø¹ کرÙÛ Ù
ÛÚº Ø¨Ú¾Û ÙÛ Ûکتا ØªÚ¾Ø§Û Ù
خاÙÙ Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ú©Ù Ù¾Ú¾Ø¯Ú© کر اس Ø·Ø±Ø Ù¹Ø§ÙÚ¯ÙÚº Ú©Û ÙÛÙÚÛ Ù
ارتا تھا Ú©Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø³Û Ø¨ÚÛ Ø¬ÙØ§ÙÙÚº Ú©Ù Ø¨Û Ø¨Ø³ کر Ú©Û ÙØ§Ø¨Ù Ù
ÛÚº کر ÙÛØªØ§ تھا Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ú©Ú¾ÛÙ Ú©Û Ø®Ø§ØªÙ
Û Ù¾Ø± Ù
ÙÙØ± Ú©Ù Ø§Ù¾ÙØ§ Ø¬Ø§ÙØ´ÛÙ ÙØ±Ø§Ø± Ø¯Û Ø¯ÛØ§ Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø¨ ÙÛ Ø§Ø·Ù
ÛÙØ§Ù Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ اپÙÛ Ø¢ÙÚ©Ú¾ÛÚº Ø¨ÙØ¯ کر سکتا ÛÛ Û
اس Ù
ÛÚ Ú©Û ØªÚ¾ÙÚÛ Ø¹Ø±ØµÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ اÙ
اں ÙÛ Ø±Ø§ÙÙÙ¾ÙÚÛ ÙØ§Ù¾Ø³ جاÙÛ Ú©Ø§ پرÙگراÙ
Ø¨ÙØ§ ÙÛØ§ Ø Ø¬ÛØ§Úº پر Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§ÙØ± Ù
ÛØ±Û بھائÛÙÚº ک٠اپÙÛ Ù¾Ø±Ø§ÙÛ Ø§Ø³Ú©ÙÙÙÚº بÙÚ©Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø³Ø§Ø¨ÙÛ Ú©ÙØ§Ø³ÙÚº Ù
ÛÚº Ø¯ÙØ¨Ø§Ø±Û داخÙÛ Ù
Ù Ú¯ÛØ§ Ø§ÙØ± ÛÙ
Ø§Ø±Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û اپÙÛ Ù¾Ø±Ø§ÙÛ Úگر پر ÚÙÙÛ ÙÚ¯Û Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº صر٠ÚÙØ¯ Ù
Ø§Û Ø¨Ø³Ø± کرÙÛ Ú©Ø§ Ù
ÙÙØ¹Û Ù
ÙØ§ تھا Ø Ù
گر ÙÛ ÚÙØ¯ Ù
Ø§Û Ù
ÛØ±Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û کا اÛÚ© ÛØ§Ø¯Ú¯Ø§Ø± ØØµÛ ب٠گئÛÛ ÙÛØ§Úº پر Ù
ÛØ±Û Ù
ÙØ§Ùات Ø¬Ù ÙØ§Ø¨Ù ذکر ÙÙÚ¯ÙÚº Ø³Û ÛÙØ¦Û Ø Ø§Ù Ù
ÛÚº جÛÙ٠خا٠کا ÙØ§Ù
سر ÙÛØ±Ø³Øª ÛÛ Û Ø§ÙØ¨ØªÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ú©Ø¨Ú¾Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø±ÙØ¨Ø±Ù بÛÙ¹Ú¾ کر بات کرÙÛ Ú©Ø§ Ø§ØªÙØ§Ù ÙÛ ÛÙØ§ Û Ù
ÛÚº ج٠کÚÚ¾ تھÙÚØ§ Ø¨ÛØª اس Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº Ø¬Ø§ÙØªØ§ ÛÙÚºØ ÙÛ Ù
جھ تک Ø¯ÙØ³Ø±Û Ú©Û ÙØ³Ø§Ø·Øª Ø³Û Ù¾ÛÙÚØ§ ÛÛ Û Ø§Ú¯Ø± Ø§ØªÙØ§Ù Ø³Û ÚÙØ¯ برسÙÚº Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ù
ÛØ±Û Ù
ÙØ§Ùات پٹھÙÛØ§Ø± Ú©Û Ù
Ø´ÛÙØ± ÚØ§Ú©Ù سجاÙÙ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÙÛ ÛÙ Ø¬Ø§ØªÛ Ø ØªÙ Ù
جھ پر جÛÙÙ Ú©Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û کا اÛÚ© اÛÙ
Ù¾ÛÙÙ Ø´Ø§ÛØ¯ ÛÙ
ÛØ´Û Ú©Û ÙØ¦Û Ù¾ÙØ´ÛØ¯Û Ø±ÛØªØ§ Û
پاکستا٠Ù
ÛÚº اپÙÛ Ø¯Ø±Ø³Û ØªØ¹ÙÛÙ
Ú©Û Ø®Ø§ØªÙ
Û Ù¾Ø± جب Ù
ÛØ±Ø§ جرÙ
ÙÛ Ø¬Ø§ÙÛ Ú©Ø§ پرÙگراÙ
Ø¨ÙØ§ Ø ØªÙ Ù
ÛÚº اپÙÛ Ø¹Ø²ÛØ²ÙÚº Ø³Û Ø±Ø®ØµØª ÙÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û ÚÙگا Ø¨Ú¾Û Ú¯ÛØ§ Û ÙÛØ§Úº پر Ù
ÛØ±Û ÙÛØ§Ù
Ú©Û Ø¯ÙØ³Ø±Û ÛØ§ ØªÛØ³Ø±Û Ø±ÙØ² اÛÚ© شخص ÛÛ Ù¾ÛØºØ§Ù
ÙØ§Ûا Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ Ù
جھ Ø³Û Ù
ÙÙØ§ ÚØ§Ûتا ÛÛ Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø´Ø§Ù
Ú©Û ÙÙØª ØªÛØ§Ø± رÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ú©ÛØ§ Ú¯ÛØ§ Ø Ù
گر Ø¬Ø§Ø¦Û Ù
ÙØ§Ùات Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº Ú©ÚÚ¾ ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú¯ÛØ§ Û Ø¹Ø´Ø§Ø¡Ú©Û Ø¢Ø°Ø§Ù ÛÙÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ø Ø¬Ø¨ Ú©Û Ø®Ø§ØµØ§ Ø§ÙØ¯Ú¾Ûرا Ù¾Ú Úکا تھا Ø Ø³Ø¬Ø§Ù٠کا آدÙ
Û Ù
Ø¬Ú¾Û ÙÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¢ÛØ§ Ø§ÙØ± گاᄊں Ú©Û Ú¯ÙÛÙÚº Ù
ÛÚº Ú¯Ú¾Ù
اتا پھراتا Û٠اÛÚ© ØÙÛÙÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ú¯ÛØ§ Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø¯ÛÙØ§Ù خاÙÛ Ù
ÛÚº سجاÙÙ Ø§Ù¾ÙØ§ دربار Ùگا کر بÛٹھا ÛÙØ§ تھا Û ÙÛ Ø§ÙÙÚÛ ÙØ¯ کاٹھ کا اÛÚ© Ù
Ø¶Ø¨ÙØ· آدÙ
Û ØªÚ¾Ø§ Û Ù
ÛØ±Û ساتھ ÙÛ Ø¨ÛØª ØªÙØ¬Û Ø§ÙØ± Ø¯ÙØ³ØªÛ Ø³Û Ù¾ÛØ´ Ø¢ÛØ§ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ù
خاطب کر Ú©Û Ú©ÛØ§:
â"â¬ Ú©ÛØ§ تÙ
ÛÛÚº Ù¾ØªÛ ÛÛ Ú©Û Ù
ÛÚº ÙÛ ØªÙ
ÛØ§Ø±Û اÙ
اں Ø³Û Ù¾ÚÚ¾ÙØ§ ÙÚ©Ú¾ÙØ§ سÛکھا تھا â"⬠Û
Ù
ÛÚº اس بات Ø³Û ÙØ§Ù٠تھا Û Ø§Ù
اں ÙÛ ÛÙ
ÛÚº Ú©Ø¦Û Ø¨Ø§Ø± Ø³ÙØ§Ûا تھا Ú©Û Ø¬Ø¨ Ù
ÛØ±Û دادا جا٠ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ ØÙÛÙÛ Ù
ÛÚº بÚÛÙÚº Ú©Ù Ù¾ÚھاÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ù
Ø¯Ø±Ø³Û Ú©Ú¾ÙÙØ§Ø Ú©ÛÙÙÚ©Û Ø§Ø³ ÙÙØª تک ÙÚÚ©ÛÙÚº Ú©Û ØªØ¹ÙÛÙ
کا ÛÙ
Ø§Ø±Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº Ú©ÙØ¦Û Ø§ÙØªØ¸Ø§Ù
ÙÛ ØªÚ¾Ø§ Ø ØªÙ Ø³Ø¬Ø§ÙÙ Ú©Û Ù
اں اس ک٠اÙ
اں Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ ÙÛ Ú©Ø± Ø¢Ø¦Û Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛØ±Û بÛÙ¹Û Ú©Ù Ù¾ÛÙÛ Ø¬Ù
اعت Ù
ÛÚº داخ٠کر ÙÛÚº Û
اÙ
اں ÙÛ Ú©ÛØ§ :â"⬠تÙ
اسک٠ÙÚÚ©ÙÚº Ú©Û Ù
Ø¯Ø±Ø³Û Ù
ÛÚº Ú©ÛÙÚº ÙÛÛÚº Ø¯Ø§Ø®Ù Ú©Ø±Ø§ØªÛ ÛÙØâ"â¬
اس ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§:â"⬠Ù
ÛØ±Ø§ سجاÙÙ ÙÚÚ©ÛÙÚº Ú©Û Ø·Ø±Ø Ø´Ø±Ù
ÛÙØ§ ÛÛ Û ÙÛ ÙÚÚ©ÙÚº Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÙÛ ÚÙ Ø³Ú©Û Ú¯Ø§ â"⬠Û
پھر سجاÙÙ ÙÛ Ø³ÙØ§Ûا Ú©Û Ø§ÛÚ© Ø¯ÙØ¹Û اس Ú©Û Ù¹ÙÙÛ Ú©Û ÙÙÚ¯ÙÚº ÙÛ Ø§ÛÚ© Ù
کا٠Ù
ÛÚº سÛÙØ¯Ú¾ ÙگاÙÛ Ú©Ø§ Ø§Ø±Ø§Ø¯Û Ú©ÛØ§ Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº اÙÛÛÚº Ù¾ØªÛ ÚÙØ§ تھا Ú©Û ÙÛØ§Úº پر عÙ
Ø¯Û ØªØ±ÛÙ Ú©Ø±Ø§Ú©Ø±Û Ø ÙØ±ÙÛÚØ±Û ÙØ§ÙÛÙ Ø Ú¯Ú¾ÚÛØ§ Úº Ø§ÙØ± Ø¯ÙØ³Ø±Ø§ ساÙ
Ø§Ù Ø±ÛØ§Ø¦Ø´ ٠آرائش بھرا Ù¾ÚØ§ ÛÛ Ø§ÙØ± Ù
اÙکا٠Ù
Ú©Ø§Ù Ø®ÙØ¯ Ø´ÛØ± Ù
ÛÚº Ø±ÛØªÛ ÛÛÚº Û Ø³Ø¬Ø§Ù٠ک٠ا٠ÙÙÚ¯ÙÚº کا ÙØ§Ù
ÙÛÛÚº Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú¯ÛØ§ØªÚ¾Ø§ÛØ§Ø³Û ØµØ±Ù Ø§ØªÙØ§ Ù¾ØªÛ ØªÚ¾Ø§ Ú©Û ÙÛ Ù
کا٠ÚÙگا Ù
ÛÚº Ù¾Ø§ÛØ§ جاتا ÛÛ Û Ø¬Ø¨ ÙÛ ÙÙÚ¯ اÛÚ© Ú©Ú¾ÛØªÛ Ù
ÛÚº داخ٠ÛÙØ¦Û Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÛÙ
Ø§Ø±Û ØÙÛÙÛ Ú©Û Ø¨ÛØ±ÙÙÛ Ø¯ÛÙØ§Ø± ÙÚ¯ØªÛ ÛÛ Ø ØªÙ Ø§Ø³Û Ø§ÙØ¯Ø§Ø²Û ÛÙØ§ Ú©Û ÙÛ ÛÙ
Ø§Ø±Û Ù
کا٠Ù
ÛÚº سÛÙØ¯Ú¾ ÙÚ¯Ø§ÙØ§ ÚØ§ÛØªÛ ÛÛÚº Û Ø§Ø³ ÙÙØª تک د٠تÛÙ ÚØ§Ú©Ù دÛÙØ§Ø± Ú©Û Ø§Ùپر ÚÚÚ¾ ÚÚ©Û ØªÚ¾Û Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø§Ù¾ÙØ§ پستÙÙ Ùکا٠کر Ø§Ù Ú©Û Ø·Ø±Ù ØªØ§Ù Ú©Ø± Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÙØ±Ø§Ù دÛÙØ§Ø± Ø³Û ÙÛÚÛ Ø§ØªØ± Ø¬Ø§ï¾¶Û Ø¨Ø¯Ø¨Ø®ØªÙ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³ گھر Ù
ÛÚº Ø¢ÙÚ©Ú¾ÙÚº Ú©Û Ø±ÙØ´ÙÛ Ù¾Ø§Ø¦Û ØªÚ¾Û Ø Ø§Ø³ ÙØ¦Û Ù
ÛÚº اس گھر پر ÙÛ ØªÙ Ø®ÙØ¯ ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÚº گا Ø§ÙØ± ÙÛ Ú©Ø³Û Ø§ÙØ± Ú©Ù ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÛ Ø¯ÙÚº گا Û ÛÛ Ø¨Ø§Øª Ø¨ÛØª Ø¬ÙØ¯ Ø¹ÙØ§ÙÛ Ø¨Ú¾Ø± Ù
ÛÚº Ù¾Ú¾ÛÙ Ú¯Ø¦Û Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ ÚÙگا ک٠اپÙÛ Ø§Ù
ا٠Ù
ÛÚº ÙÛ ÙÛØ§ ÛÛ Û Ø§Ø³ Ø¯Ù Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ جب تک سجاÙÙ Ø²ÙØ¯Û Ø±ÛØ§ ÚÙگا Ù
ÛÚº ÚÚ©ÛØªÛ Ú©Û ÙØ§Ø±Ø¯Ø§Øª ÙÛÛÚº ÛÙØ¦Û Û
Ù
ÛÚº ÙÛ Ø³Ø¬Ø§ÙÙ Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ú©ÛØ§ Ø§Ø³Û Ù¾ØªÛ ÛÛ Ú©Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ø¨Ú¾Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº Ø§ÛØ³Û ÛÛ Ø¨Ø§Øª Ú©ÛÛ ØªÚ¾Û Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø§ÙØ± جÛÙÙ Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù Ú©Ø¦Û Ø§ÛÚ© باتÛÚº Ø³Ø§ÙØ¬Ú¾Û Ù¾Ø§Ø¦Û Ø¬Ø§ØªÛ ÛÛÚºÛ Ø§ÙØ¨ØªÛ اس Ú©Û Ø¨Ø± عکس جÛÙÙ ÙÛ Ú©Ø¨Ú¾Û ÚØ§Ú©Û ÙÛÛÚº ÚØ§Ùا Ø§ÙØ± Ú©Ø³Û Ú©Ø§ Ø®ÙÙ ÙÛÛÚº Ø¨ÛØ§Ûا Ø Ø¬Ø¨ Ú©Û ÙÛ ÛÛ Ø¨Ø§Øª اپÙÛ Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº ÙÛÛÚº Ú©ÛÛ Ø³Ú©ØªØ§ Û Ø¬ÛÙÙ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø·Ø±Ø Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ø¨Ú¾Û Ø§Ù¾ÙÛ Ù
Ø±Ø¶Û Ø³Û Ø§Ù¾ÙÛ Ù
اں باپ Ú©Û Ú¯Ú¾Ø±Ø³Û Ùک٠کر اس Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ Ø¢ Ú¯Ø¦Û ØªÚ¾Û Û Ø¯ÙÙÙÚº Ø¹ÙØ±ØªÙÚº Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ÙÚº کا رد عÙ
Ù Ø´Ø¯ÛØ¯ تھاÛ
â"⬠Ù
ÛØ±Û بÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ ØªÙ ÛÛ Ø®Ø¨Ø§Ø«Øª Ú©Û Ú©Û Ù
ÛØ±Û Ù
Ø®Ø¨Ø±Û Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ کر Ø¯Û Ø§ÙØ± Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ø§ÛÚ© Ø¯Ø³ØªÛ ÙÛ Ù
ÛØ±Ø§Ù
ØØ§ØµØ±Û کر ÙÛØ§ Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø¬Ø§Ù Ø¨ÚØ§ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ù
Ø³ÙØ جÙÚ¯ ÙÚÙÛ Ù¾ÚÛ Ø Ø¬Ø³ Ù
ÛÚº Ù
ÛØ±Û د٠آدÙ
Û Ø§ÙØ± Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ù¾Ø§ÙÚ Ø³Ù¾Ø§ÛÛ Ù
Ø§Ø±Û Ú¯Ø¦Û Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨Ø¹Ø¯ Ù
ÛÚº اپÙÛ Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ø³Û Ø§Ø³ Ù
Ø®Ø¨Ø±Û Ú©Ø§ بدÙÛ ÙÛ ÙÛØ§ تھا Û Ù
گر جÛÙ٠اس Ù
عاÙ
ÙÛ Ù
ÛÚº Ù
جھ Ø³Û Ù
ختÙ٠تھا Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ø¬ÛØªÛ Ø¬Û Ø§Ù¾ÙÛ ÙÚÚ©Û Ú©Ù Ø§Ø³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ø´Ø§Ø¯Û Ú©Ø±ÙÛ Ú©Û Ø§Ø¬Ø§Ø²Øª ÙÛÛÚº Ø¯Û Ø§ÙØ± اس کا داخÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ú¯Ú¾Ø± پر Ø¨ÙØ¯ Ú©Ø¦Û Ø±Ú©Ú¾Ø§ Û Ø¬Ø§ÙØªÛ ÛÙ Ú©Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ اس Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ú©Û Ù
رÙÛ Ø§ÙØ± Ø¨Ø§ÙØ§Ø¹Ø¯Û ÙÚ©Ø§Ø Û٠جاÙÛ ÙØ§ÙÛ Ø±ÙØ² تک ÛÙ
Ø¨Ø³ØªØ±Û ÙÛÛÚº Ú©ÛÛ ÙÛ ÚØ§Ûتا تھا Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û ÙÚ©Ø§Ø Ú©Ø§ Ø§Ø¹ÙØ§Ù Ù
سجد Ù
ÛÚº ÛÙ Ø§ÙØ± ÙÛ Ø¨Ø§ÙØ§Ø¹Ø¯Û Ø·ÙØ± پر Ø´Ø§Ø¯Û Ú©Û Ø±Ø³ÙÙ
ات ادا کر Ú©Û Ù
ÛØ§Úº بÛÙÛ Ú©Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û بسر کرÛÚº Û Ø¬ÛÙÙ Ø§ÙØ± اس Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ù
رÙÛ ØªÚ© اس Ú©Û Ø³Ø³Ø±Ø§Ù ÙÛ Ø§Ù Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ú©ÙØ¦Û تعÙÙ ÙÛÛÚº رکھاâ"⬠Û
جب Ø¢Ø¯Ú¾Û Ø±Ø§Øª Ú©Û ÙÚ¯ بھگ سجاÙ٠کا آدÙ
Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ú¯Ú¾Ø± ÚÚ¾ÙÚÙÛ Ú©ÛÙØ¦Û Ù
ÛØ±Û ساتھ Ú¯ÛØ§ Ø ØªÙ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø±Ø§Ø³ØªÛ Ù
ÛÚº اس Ø³Û Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ø³Û Ú©Ø³ Ø·Ø±Ø Ø¨Ø¯ÙÛ ÙÛØ§ تھا Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø§Ø³Ú©Ù Ù¹ÙÚ©Û Ø³Û Ù¹Ú©ÚÛ Ú©Ø± کر Ú©Û Ù
ار ÚØ§Ùا تھا Û
ÛÙ
ÚØ§Ø±Ùس ÚÛگا٠ÛÙØ§Ø¦Û اÚÛ Ù¾Ø± Ù¾ÛÙÚÛ Ø ØªÙ Ù
ÛØ±Û Ù¾Ø±ÙØ§Ø² کا Ø§Ø¹ÙØ§Ù ÛÙ Ø±ÛØ§ تھا Ø Ø§Ø³ÙØ¦Û Ù
Ø¬Ú¾Û ÙÛ Ø§ÙÙÙØ± ØÙ
ÛØ¯ Ø³Û Ø±Ø®ØµØª ÙÛÙÛ Ù¾ÚÛ Û Ù
ÛÚº ÙÛ ÚÙØªÛ ÛÙØ¦Û اس Ø³Û Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ú©ÛØ§ ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ø¨ØªØ§ سکتا ÛÛ Ú©Û Ø§Ø³Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ø§Ø³ Ø±ÙØ² ÚÙگا Ù
ÛÚº اترÙÛ Ø§ÙØ± کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ Ø¯ÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº Ù
ÛØ±Û Ø¯Ø¹ÙØª Ú©Ù Ú©ÛÙÚº ÙØ¨ÙÙ ÙÛ Ú©ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ تھا Ú©Û ÙÛ Ø¬ÛÙÙ Ú©Û ÙØ¬Û Ø³Û ÙÛØ§Úº پر ÙÛÛÚº اتر سکتا Û
ØÙ
ÛØ¯ ÙÛ Ú©ÛØ§: â"⬠اس Ú©Û ÙØ¬Û ÛÛ ØªÚ¾Û Ú©Û Ø¬ÛÙÙ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ù
ÛØ±Û باپ Ú©Û Ø³Ø¨ Ø³Û Ø¨ÚÛ Ø¨ÛÙ ØªÚ¾Û Ø Ø¬Ø³ Ú©Ù Ù
ÛØ±Û دادا ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø®Ø§ÙØ¯Ø§Ù Ø³Û Ø®Ø§Ø±Ø¬ کر Ø¯ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± اپÙÛ Ø¨ÚÙÚº Ú©Ù ÙØµÛت Ú©Û ØªÚ¾Û Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ú©ÙØ¦Û تعÙÙ ÙÛ Ø±Ú©Ú¾ÛÚºâ"⬠Û
Ù
ÛÚº ØÙ
ÛØ¯ Ø³Û Ø±Ø®ØµØª Û٠کر ائر ÙØ±Ø§Ùس Ú©Û Ú©ÙÙٹر پر ÚÛÚ© Ø§Ù Ú©Û ÙØ¦Û ÚÙØ§ Ú¯ÛØ§ Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ù
ÛÚº Ø¬ÛØ§Ø² پر ÚÚÚ¾ØªÛ ÛÙØ¦Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø®ÛØ§Ù Ø¢ÛØ§ Ú©Û Ù
Ø¬Ú¾Û ØÙ
ÛØ¯ Ø³Û Ø§Ø³ Ú©Û Ù¾Ú¾ÙÙ¾Ú¾Û Ú©Ø§ ÙØ§Ù
ت٠پÙÚÚ¾ ÙÛÙØ§ ÚØ§ÛÛØ¦Û تھا Ø Ø¬Ø³ Ø³Û Ù
ÛÚº آج تک ÙØ§ÙاÙÙ ÛÙÚºÛ
( ÛÙ
برگ Û Û±Û· جÙÙØ§Ø¦Û Ø¡
âï¿¿â¬
Edited on 2007-11-21 22:27:47 by RicroZelol
Additions:
ereltsi
Ù
ÛÚº Ûھاں پر اپÙÛ Ø§ÛÚ© کتاب شاÙ
٠کرÙÛ ÚØ§Ûتا Ú¾ÙÚºÛÙ
گر Ù
Ø¬Ú¾Û Ù¾ØªØ§ ÙÚ¾ÛÚº Ú٠رھا Ú©Ú¾ ÛÚ¾ کاÙ
Ú©ÛØ³Û Ú©ÛØ§ جا سکتا Ú¾ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§ÙØØ§Ù Ø§ÛÚ© کھاÙÛ Ú©Ø§Ù¾Û Ú©Ø± رھا Ú¾ÙÚºÛ
â«Ø¬ÛÙ٠خاÙ
Ù
ÛØ±Ø§ Ø·ÛØ§Ø±Û Ù¾ÛØ±Ø³ Ú©Û ÛÙØ§Ø¦Û اÚÛ Ø§ÙØ±ÙÛ Ù¾Ø± آدھ Ú¯Ú¾ÙÙ¹Û ÙÛÙ¹ اترا تھا Û Ø§Ú¯ÙÛ ÙÙØ§Ø¦ÛÙ¹ Ù
Ø¬Ú¾Û ØªÛÙ Ú¯Ú¾ÙÙ¹ÙÚº Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ ÚØ§Ø±Ùس ÚÛگا٠ÛÙØ§Ø¦Û اÚÛ Ø³Û ÙÛÙÛ ØªÚ¾ÛÛ Ø§Ø³ زÙ
اÙÛ Ù
ÛÚº دÙÙÙÚº ÛÙØ§Ø¦Û اÚÙÚº Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù شٹ٠بس ÚÙØªÛ ØªÚ¾ÛØ ج٠Ù
ÛØ±Û بس اسٹاپ پر Ù¾ÛÙÚÙÛ Ø³Û ÙØ¨Ù جا ÚÚ©Û ØªÚ¾ÛÛ Ø§Ú¯ÙÛ Ø¨Ø³ Ù¾ÙØ¯Ø±Û Ù
ÙÙ¹ÙÚº Ù
ÛÚº ÚÙÙÛ ØªÚ¾ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ ÙÛÙ¹ÙÚ¯ رÙÙ
Ù
ÛÚº اپÙÛ Ú¯Ø±Ø¯ Ù Ù¾ÛØ´ کا Ø¬Ø§Ø¦Ø²Û ÙÛØ§ Ø ØªÙ Ø§ÛÚ© ÛÙ
ÙØ·Ù ک٠اپÙÛ Ø·Ø±Ù Ú¯Ú¾ÙØ±ØªÛ ÛÙØ¦Û دÛکھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³Û Ø³ÙØ§Ù
Ú©ÛØ§ Ø§ÙØ± اس Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ جا کر بÛÙ¹Ú¾Ø§Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù
جھ Ø³Û Ø¬Ø§ÙÙØ§ ÚØ§Ûا Ú©Û Ù
ÛÚº Ú©ÛØ§Úº Ø³Û ÛÙÚº Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø´ÛØ± ÛÙ
برگ کا ÙØ§Ù
ÙÛØ§ Ø Ù
گر اس Ø³Û Ø§Ø³ Ú©Û ØªØ³ÙÛ ÙÛ ÛÙØ¦Û Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ù
ÛÚº Ù¾ÛÚÚ¾Û Ú©ÛØ§Úº Ø³Û ÛÙÚºÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº پاکستا٠کا رÛÙÛ ÙØ§Ùا ÛÙÚº Ø Ù
گر اÛÚ© عÙ
ر Ø³Û Ø¬Ø±Ù
ÙÛ Ù
ÛÚº Ù
ÙÛÙ
ÛÙÚºÛ Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬Ø§ÙÙØ§ ÚØ§Ûا Ú©Û Ù
ÛÚº پاکستا٠Ù
ÛÚº کس Ø¬Ú¯Û Ø³Û ÛÙÚºÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø±Ø§ÙÙÙ¾ÙÚÛ Ú©Ø§ ÙØ§Ù
ÙÛØ§Ûاس پر اس ÙÛ Ù
ÛØ±Û گاᄊں کا ÙØ§Ù
Ù¾ÙÚھا Û Ø§Ø¨ Ù
ÛÚº ÙÛ ØºÙØ± Ø³Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø·Ø±Ù Ø¯Ûکھا Ú©Û ÙÛ Ú©ÛÛÚº Ù
ÛØ±Û گاᄊں کا رÛÙÛ ÙØ§Ùا ت٠ÙÛÛÚºÛ Ù
گر Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§Ø³ کا ÚÛØ±Û ÙØ·Ø¹Ø§Ù ÙØ§Ù
اÙÙØ³ Ùگا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº ÚÙگا بÙÚ¯ÛØ§Ù Ø³Û ÛÙÚºÛ ÛÛ Ø³Ù Ú©Ø± اس Ú©Û Ø¨Ø§ÚÚ¾ÛÚº کھ٠گئÛÚºÛ Ø§Ø³ ÙÛ Ø§Ù¹Ú¾ کر گرÙ
Ø¬ÙØ´Û Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ù
جھ Ø³Û Ù
عاÙÙÛ Ú©ÛØ§ Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ù¾ÛÙÛ ÙØ¸Ø± Ù
ÛÚº Ù¾ÛÚØ§Ù Ú¯ÛØ§ تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³ کا اÙ
ØªØØ§Ù ÙÛÙÛ Ú©Û ØºØ±Ø¶ Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù¾Ú¾Ø± ت٠ÙÛ Ù
ÛØ±Ø§ ÙØ§Ù
Ø¨Ú¾Û Ø¬Ø§ÙØªØ§ Û٠گا Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù
عذرت Ú©Ø±ØªÛ ÛÙØ¦Û Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù
ÛØ±Û ÙØ§Ù
Ø³Û Ø¨Ø§ÙÚ©Ù ÙØ§ÙاÙÙ ÛÛ Ø Ú©ÛÙÙÚ©Û ÛÙ
ارا آپس Ù
ÛÚº تعار٠ÙÛÛÚº ÛÙØ§ تھا Ø§ÙØ± Ú©Ø³Û ÙÛ Ø§Ø³ Ú©Û Ø³Ø§Ù
ÙÛ Ù
ÛØ±Ø§ ÙØ§Ù
ÙÛÛÚº ÙÛØ§ تھا Û
Ù
Ø¬Ú¾Û ÛØ§Ø¯ ÙÛÛÚº Ù¾ÚØªØ§ تھا Ú©Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø²ÙØ¯Ú¯Û Ù
ÛÚºÚ©ÛÛÚº پر دÛکھا تھا Û Ù
گر Ù
ÛÚº اس Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº ÙØ§Ø¨Ù اعتبار Ú¯ÙØ§Û ÙÛÛÚº ÛÙÚºÛ Ú©ÛÙÙÚ©Û Ù
ÛØ±Û ÚÛØ±ÙÚº Ú©Û ÛØ§Ø¯Ø¯Ø§Ø´Øª Ú©Ù
Ø²ÙØ± ÛÛ Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø¨ÛØª Ø³Û Ø¨Ø§ØªÛÚº ÛØ§Ø¯ Ø±Û Ø¬Ø§ØªÛ ÛÛÚº Ù
Ø«ÙØ§Ù ÛÛ Ú©Û Ù
ÛÚº کس Ø³Û Ú©Ø¨ Ù
ÙØ§ تھا Ø§ÙØ± ÛÙ
Ø§Ø±Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù Ú©ÛØ§ بات ÛÙØ¦Û ØªÚ¾ÛØ Ù
گر ÚÛØ±ÙÚº Ú©Ù Ù
ÛÚº Ûکسر بھÙ٠جاتا ÛÙÚº Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÛÙ
ارا Ù
ÙÙØ§ ء۱۹۴۸Ù
ÛÚº Ú¯ÙØ¬Ø± خا٠Ù
ÛÚº ÛÙØ§ تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§ÙØ¯Ø§Ø²Û ÙÚ¯Ø§ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ ÙÙØª Ù
ÛØ±Û عÙ
ر ØªÛØ±Û ÚÙØ¯Û Ø³Ø§Ù Ú©Û Ø±ÛÛ ÛÙ Ú¯ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ú©ÛØ§ اتÙÛ Ø¨Ø±Ø³ÙÚº Ù
ÛÚº Ù
ÛØ±Û Ø´Ú©Ù Ù Ø´Ø¨Ø§ÛØª Ù
ÛÚº Ú©ÙØ¦Û تبدÛÙÛ ÙÛÛÚº Ø¢Ø¦ÛØ ج٠ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ù¾ÛÚØ§ÙÙÛ Ú©Ø§ دعÙÛÙ° کرتا ÛÛ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û ÛØ§Ø¯Ø¯Ø§Ø´Øª ÙÙٹ٠گراÙÚ© ÛÛ Û Ø¬Ø³ Ø´Ú©Ù Ú©Ù ÙÛ Ø§ÛÚ© بار دÛÚ©Ú¾ ÙÛ Ø Ø§Ø³Û Ø³Ø§Ø±Û Ø¹Ù
ر ÙÛÛÚº بھÙÙØªØ§ Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ØªÙ
Ø¬ÛØ³Û ÙÙÚ¯ÙÚº Ú©Û Ù¾ÙÙÛØ³ Ù
ÛÚº Ø¨ÛØª Ù
اÙÚ¯ ÛÛ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ù
ØÚ©Ù
Û Ù
ÛÚº ÚÛ Ø§ÛØ³ Ù¾Û ÛÛ Û Ø§Ø³Û ÙÛ ØµØ±Ù Ù
ÛØ±Û Ø´Ú©Ù ÛØ§Ø¯ ØªÚ¾Û Ø Ø¨ÙÚ©Û ÙÛ Ø³Ø§Ø±Û Ø¨Ø§ØªÛÚº Ø¨Ú¾Û Ø¬Ù Ù
ÛØ±Û Ø§ÙØ± اس Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù ÛÙØ¦Û تھÛÚºÛ Ù
ÛÚº ÙÛ ØÛرا٠Û٠کر Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ø§Ø³ کا باپ اس ÙØµÛ Ù
ÛÚº Ú©ÛØ§Úº Ø³Û Ø¢ ÙÚ©ÙØ§Û اس ÙÛ Ú©ÛØ§ Ø¨ÛØªØ± ÛÛ Ú©Û ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ø³Ø§Ø±Ø§ ÙØµÛ Ø´Ø±ÙØ¹ Ø³Û Ø³ÙØ§Ø¦Û Û
ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨Ø§Ù¾ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø³Û Ú©ÙØ± Ø³ÛØ¯Ø§Úº جاÙÛ ÙØ§ÙÛ Ø¨Ø³ Ù
ÛÚº ÙØ±ÙÙ¹ سÛÙ¹ پر بÛٹھا ÛÙØ§ تھا Ø§ÙØ± بس بھر ÚÚ©Û ØªÚ¾Û Û Ù
گر ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± ÚÙÙÛ Ú©Ø§ ÙØ§Ù
ÙÛÛÚº ÙÛØªØ§ تھا Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ک٠اس Ø±ÙØ² گھر Ù¾ÛÙÚÙÛ Ú©Û Ø¬ÙØ¯Û ØªÚ¾Û Ø Ø§Ø³ ÙØ¦Û اس ÙÛ ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³Û ÚÙÙØ§ ÚØ§ÛÛØ¦ÛÛ ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ø§ÛÚ© شخص کا Ø§ÙØªØ¸Ø§Ø± کر Ø±ÛØ§ ÛÛ Ø Ø¬Ù ØªÚ¾ÙÚÛ Ø¯ÛØ± Ù
ÛÚº Ø¢ Ø¬Ø§Ø¦Û Ú¯Ø§ Û ÛÛÛ Ø¨Ø§ØªÛÚº Û٠رÛÛ ØªÚ¾ÛÚº Ú©Û Ø§ÛÚ© ÚÚ¾Ùکرا ÛØ§ØªÚ¾ Ù
ÛÚº تھÛÙØ§ Ù¾Ú©ÚÛ ÛÙØ¦Û Ù¾ÛÙÚ Ú¯ÛØ§ Û ÙÛ ÚÚ¾Ùکرا Ù
ÛÚº تھا Ø Ø¬Ù Ø§Ø³Û Ø¨Ø³ Ù
ÛÚº ØµØ¨Ø Ú©Û ÙÙØª Ø³ÙØ¯Ø§ سÙÙ ÙØ§ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø¢ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± اب ساÙ
ا٠ÙÛ Ú©Ø± ÙØ§Ù¾Ø³ ÚÙگا جا Ø±ÛØ§ تھا Û ÚØ±Ø§Ø¦ÛÙØ± ÙÛ Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨ÛÙ¹Û Ú©Ù Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø¹Ù
ر ÙÙ ÛØ§ دس Ø³Ø§Ù ØªÚ¾Û Ø Ø§Ù¾ÙÛ Ú¯ÙØ¯ Ù
ÛÚº بÛٹھا ÙÛ Ø§ÙØ± Ù
ÛØ±Û ÙØ¦Û ÙØ±ÙÙ¹ سÛÙ¹ پر Ø¬Ú¯Û Ø¨ÙØ§Ø¦Û Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÛÛ Ø§Ø³ ÙÛ ÛÛ Ø¨Ú¾Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº ÚÙگا Ø³Û ÛÙÚº Ø Ø¬ÛØ§Úº پر اس Ø±ÙØ² کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ ÛÙÙØ§ تھا Ø Ø¬Ø³ ک٠دÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û ÙÙÚ¯ Ø¯ÙØ± Ø¯ÙØ± Ø³Û Ø¢ رÛÛ ØªÚ¾Û Û
Ù
Ø¬Ú¾Û ÛØ§Ø¯ ÛÛ Ú©Û ØÙ
ÛØ¯ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ú©Ø³Û ÙØ¯Ø± بد دÙÛ Ú©ÛØ³Ø§ØªÚ¾ Ù
ÛØ±Û ÙØ¦Û Ø¬Ú¯Û Ø¨ÙØ§Ø¦Û تھÛÛ Ùگتا تھا Ú©Û Ø§Ø³Û Ø§ÛÚ© ÚÚ¾ÙÚ©Ø±Û Ú©ÛÙØ¦Û اپÙÛ Ø¨ÛÙ¹Û Ú©Ù Ú¯ÙØ¯ Ù
ÛÚº Ø¨Ù¹Ú¾Ø§ÙØ§ Ú©ÚÚ¾ Ø§ÛØ³Ø§ Ù¾Ø³ÙØ¯ ÙÛ Ø¢ÛØ§ ØªÚ¾Ø§Û Ù
گر بس ÚÙÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ اسکا رÙÛÛ Ø¨Ø¯Ù Ú¯ÛØ§ Ø§ÙØ± اس ÙÛ Ù
جھ Ø³Û Ø³ÙØ§Ùات Ù¾ÙÚÚ¾ÙÛ Ø´Ø±ÙØ¹ کر Ø¯ÛØ¦Û Û Ù¾ÛÙØ§ Ø³ÙØ§Ù ÛÛ ØªÚ¾Ø§ Ú©Û Ù
ÛÚº کس جÙ
اعت Ù
ÛÚº تھا Ø§ÙØ± کس اسکÙÙ Ù
ÛÚº Ù¾Úھتا تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛÚº ÙØ§Ø¶Ûاں Ú©Û Ù
Ú٠اسکÙÙ Ú©Û Ø¢Ù¹Ú¾ÙÛÚº جÙ
اعت Ù
ÛÚº Ù¾Úھتا ÛÙÚºÛ Ù¾Ú¾Ø± اس ÙÛ Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ú©ÛØ§ Ù
ÛÚº اÙÚ¯Ø±ÛØ²Û Ù¾ÚÚ¾ ÙÛØªØ§ ÛÙÚº Û ÙÛ Ú©Ø³Û Ø§ÙÚ¯Ø±ÛØ²Û Ø®ÙØ§Ù Ø³Û Ø§ÛÚ© خط Ù¾ÚÚ¾ÙØ§Ùا ÚØ§Ûتا تھا Ø Ø¬Ù Ø§Ø³Ú©Ù Ø§Ø³Ú©Û Ù¾ÙØ´Ù Ú©Û Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº Ø¢ÛØ§ تھا Û Ù
گر بد ÙØ³Ù
ØªÛ Ø³Û Ø§Ø³ Ø±ÙØ² ÙÛ Ø®Ø· Ø§Ø³Ú©Û Ø¬ÛØ¨ Ù
ÛÚº ÙÛ ØªÚ¾Ø§ Û Ø§Ø³Ú©Ø§ بÛٹا ØªÛØ³Ø±Û جÙ
اعت Ù
ÛÚº تھا Û Ø§ÙÚ©Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº پرائÙ
Ø±Û Ø§Ø³Ú©Ù٠تھا Û Ú¯ÙÛØ§ ÚÙØªÚ¾Û جÙ
اعت پاس کرÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ø§Ø³Û Ú©ÙØ± Ú©Û Ø§Ø³Ú©ÙÙ Ù
ÛÚº Ø¯Ø§Ø®Ù Ú©Ø±Ø§ÙØ§ Ù¾ÚÛ Ú¯Ø§ Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ø¨ÛÙ¹Û Ú©Ù Ø±ÙØ²Ø§ÙÛ ØªÛÙ Ù
ÛÙ Ú٠کر اسکÙÙ Ø¬Ø§ÙØ§ Û٠گا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛØ±Ø§ اسکÙÙ Ø¨Ú¾Û Ú©Ù
Ù Ø¨ÛØ´ اتÙÛ ÛÛ ÙØ§ØµÙÛ Ù¾Ø±ÛÛ Û
پھر کبÚÛ Ú©Û Ù
ÛÚ Ú©Û Ø¨Ø§Øª ÚÙ ÙÚ©ÙÛÛ Ø§Ø³ ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº کبÚÛ Ú©Ø§ Ø¬Ø§ÙØ§ Ù¾ÛÚØ§Ùا Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ø±Û Úکا تھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ú©ÛØ§ Ø§Ø³Û Ú©Ø¨Ú¾Û Ù
ÛØ±Û گرائÛÚº جÛÙÙ Ø®Ø§Ù Ú©Û Ù
ÙØ§Ø¨ÙÛ Ù
ÛÚº Ú©Ú¾ÛÙÙÛ Ú©Ø§ Ø§ØªÙØ§Ù ÛÙØ§ تھا Û Ù
ÛØ±Û Ø³ÙØ§Ù کا Ø¬ÙØ§Ø¨ دÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¬Ø§Ø¦Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬ÛÙÙ Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº Ù¾ÙÚÚ¾ÙØ§ Ø´Ø±ÙØ¹ کر Ø¯ÛØ§Û اÙکا Ú©ÛØ§ ØØ§Ù ÛÛ Ø Ú©ÛØ§ ÙÛ Ú٠پھر ÙÛØªÛ ÛÛÚº ÛØ§ باÙÚ©Ù ÙØ§Úار ÛÙ Ú¯Ø¦Û ÛÛÚºØ Ø§Ø³ ÙÛ Ú©Ø³Û Ø³Û Ø³ÙØ§ تھا Ú©Û Ø¬ÛÙ٠گر Ú¯ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ù¾Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº Ù
ÙÚ Ø¢ Ú¯Ø¦Û ØªÚ¾ÛÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û ÙÛ ÛÙ
Ø§Ø±Û Ù
Ú©Ø§Ù Ú©Û Ù¾ÚÚ¾ÙØ§ÚÛ Ù
ÛÚºØ±ÛØªØ§ ÛÛ Ø§ÙØ± Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§Ù
اں اکثر Ú©ÙÙÛÚº Ø³Û Ù¾Ø§ÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§ÙÙ¹Û Ø¨Ú¾Ø± کر Ø§Ø³Ú©Û Ú¯Ú¾Ø± پر دÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¨Ú¾ÛØ¬Ø§ Ú©Ø±ØªÛ ÛÛÚº Û Ø¬Ø¨ Ú©Ø¨Ú¾Û Ù
ÛÚº Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø³Û Ø®ÙØ±Ø¯ Ù ÙÙØ´ Ú©Û ÚÛØ²ÛÚº ÙØ§ØªØ§ ÛÙÚº Ø ØªÙ Ø§Ù
اں اس Ù
ÛÚº Ø³Û Ø§ÛÚ© ØØµÛ جÛÙÙ Ø§ÙØ± Ø§Ø³Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Ù Ø¨Ú¾ÛØ¬ Ø¯ÛØªÛ ÛÛÚºÛ Ø§ÙÚ©Û ÚÙÙÚ©Û Ø§ÙÙØ§Ø¯ ÙÛÛÚº Ø Ø§Ø³ÙØ¦Û ÛÙ
Ø³Ø§Ø¦Û Ù
ÛØ§Úº بÛÙÛ Ú©Ø§ Ø®ÛØ§Ù Ø±Ú©Ú¾ØªÛ ÛÛÚº Û Ø§ÙÚ©Û Ø¢Ù
د٠کا Ø§ÙØØµØ§Ø± زÙ
ÛÙ Ú©Û Ú©Ø§Ø´Øª پر ÛÛ Ø Ø¬Ù Ø§ÙÛÙÚº ÙÛ Ø¨Ù¹Ø§Ø¦Û Ù¾Ø± Ø¯Û Ø±Ú©Ú¾Û ÛÛ Û
Ù
ÛÚº ÙÛ Ø³Ù Ø±Ú©Ú¾Ø§ تھا Ú©Û Ø¬ÛÙ٠اپÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº ÙÙ¹Ú¾ Ù
ار ÛÙØ§ کرتا تھا Ø§ÙØ± Ù
ÛÙÙÚº Ù¹Ú¾ÛÙÙÚº پر ÛØ± Ú©Ø³Û Ø³Û Ø¬Ú¾Ú¯ÚØ§ Ù
ÙÙ ÙÛ ÙÛØªØ§ تھا Û ØÙ
ÛØ¯ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÛÛ Ù
ØØ¶ باتÛÚº ÛÛÚº Û ÙÛ ÙÙ¹Ú¾ Ù
ار Ø³Û Ø²ÛØ§Ø¯Û کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
Ø§ÛØ± Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ ØªÚ¾Ø§ Ø§ÙØ± اپÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº ÛÛ Ø¨ÛØª Ø¨ÚØ§ ÙØ§Ù
Ù¾ÛØ¯Ø§ کر Úکا تھا Û ÙÙÚ¯ Ù¾ÚØ§Ø³ Ù¾ÚØ§Ø³ Ú©ÙØ³ Ø³Û Ø§Ø³ کا Ú©Ú¾Û٠دÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¢ØªÛ ØªÚ¾Û Û Ø§Ø³ Ú©Û Ù¹Ú©Ø± کا بس اÛÚ© سکھ Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ ØµÙØ¨Û سÙÚ¯Ú¾ تھا Û Ø¬Ø³ Ù
ÛÚ Ù
ÛÚº ÛÛ Ø¯ÙÙÙÚº جÙ
ع ÛÙ Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾Û Ø ÙÛØ§Úº پر تÙ
اشائÛÙÚº Ú©Û Ù¹Ú¾Ù¹Ú¾ ÙÚ¯ Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾Û Û Ø¯ÙÙÙÚº Ú©Ú¾ÛÙ Ú©Û Ù
ÛØ¯Ø§Ù Ù
ÛÚº اÛÚ© Ø¯ÙØ³Ø±Û Ú©Û Ù
د Ù
ÙØ§Ø¨Ù ÛÙØªÛ ØªÚ¾Û Ø Ù
گر Ù
ÛÚ Ø®ØªÙ
ÛÙÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯Ø¯Ù ÙØ§Ùب Ù ÛÚ© Ø¬Ø§Ù Ø¨Ù Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾Û Û Ø§ÙØ¨ØªÛ ÛÛ Ø¯ÙØ³ØªÛ Ø¨ÛØª دÙÙÚº تک ÙÛ ÚÙ Ø³Ú©ÛØ Ú©ÛÙÙÚ©Û ØµÙØ¨Û سÙÚ¯Ú¾ ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÛ Ùگا تھا Û ÙÛ ÚØ§Ûتا تھا Ú©Û Ø¬ÛÙ٠اس Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ù
Ù Ø¬Ø§Ø¦Û Û Ù
گر جÛÙÙ ÙÛ Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Øª ÙÛ Ù
اÙÛ Ø Ø¨ÙÚ©Û Ø§Ø³ ÙÛ ØµÙØ¨Û سÙÚ¯Ú¾ Ú©Ù Ù¾ÛØºØ§Ù
Ø¨Ú¾ÛØ¬Ø§ Ú©Û Ø§Ú¯Ø± اس ÙÛ ÚÙگا ÛØ§ اس Ú©Û ÙØ±Ø¨ Ù Ø¬ÙØ§Ø± Ú©Û Ú©Ø³Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº ÙØ§Ø±Ø¯Ø§Øª Ú©Û Ø ØªÙ Ù¾Ú¾Ø± اس Ú©Û ØÙ Ù
ÛÚº جÛÙÙ Ø³Û Ø¨ÚÚ¾ کر برا Ú©ÙØ¦Û شخص ÙÛ Û٠گا Û ÛÛ Ø¨Ø§Øª Ø³Ø§Ø±Û Ø¹ÙØ§ÙÛ Ù
ÛÚº Ù¾Ú¾ÛÙ Ú¯Ø¦Û Ø§ÙØ± ÚØ§Ú©Ù Ø§ÙØ± بد Ù
عاش جÛÙÙ Ø³Û ÚØ± Ú©Û Ù
Ø§Ø±Û Ø§Ø³ Ø¹ÙØ§ÙÛ Ú©Ø§ رخ ÙÛ Ú©Ø±ØªÛ ØªÚ¾Û Û
Ú¯ÙØ¬Ø± Ø®Ø§Ù Ø³Û ÚÙگا کا ÙØ§ØµÙÛ ØµØ±Ù Ø³Ø§Øª Ù
Û٠کاÛÛ Ø Ù
گر اس زÙ
اÙÛ Ù
ÛÚº سÚÚ© Ú©ÚÛ ØªÚ¾Û Ø§ÙØ± بارشÙÚº Ú©Û Ù
ÙØ³Ù
Ù
ÛÚº Ø¬Ú¯Û Ø¬Ú¯Û Ø³Û Ù¹ÙÙ¹ Ø¬Ø§ØªÛ ØªÚ¾ÛÛ Ø±Ø§Ø³ØªÛ Ù
ÛÚº Ù¾ÚÙÛ ÙØ§ÙÛ ÙØ¯Û Ú©Ø³Û Ø§ÙØ± Ø¨Ú¾ÚØ§ÙÛ Ú©Û ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø³Ø¨Ø¨ Ø Ø¬Ù Ø¯Ù Ù¹ÛÙÙÚº Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù Ø¨ÛØªØ§ ØªÚ¾Ø§Ø§ÙØ± جس Ù
ÛÚº Ø³Û Ú¯Ø°Ø± کر Ø¬Ø§ÙØ§ Ù¾ÚØªØ§ تھا Ø Ø¨Ø³ Ú©ÛÛÚº Ú¯Ú¾ÙÙ¹Û Ø¨Ú¾Ø± Ù
ÛÚº ÚÙگا Ù¾ÛÙÚØªÛ تھÛÛ ÙÛØ§Úº پر کبÚÛ Ú©Û ØªÙ
اشائÛÙÚº کا اÚھا خاصا جÙ
گٹھا Ùگا Û٠اتھا Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨Ø³ Ø³Û Ø§ØªØ±ØªÛ ÛÙØ¦Û ØÙ
ÛØ¯ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ک٠رات بھر Ú©ÛÙØ¦Û ÚÙگا Ù
ÛÚº رک جاÙÛ Ø§ÙØ± کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ Ø¯ÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û Ø¯Ø¹ÙØª Ø¯Û Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³Ú©Ø§ Ø¯Ù ØªÙ Ø¨ÛØª ÚØ§Ûتا ÛÛ Ø Ù
گر ÙÛ Ø¬ÛÙÙ Ø®Ø§Ù Ú©Û ÙØ¬Û Ø³Û Ø§ÛØ³Ø§ ÙÛÛÚº کر سکتا Û Ù
ÛÚº ÙÛ ÛÙØ³ کر Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø¬ÛÙ٠خا٠ÙÛ ØµØ±Ù ÚØ§Ú©Ùï¾¶Úº کا ÚÙگا Ù
ÛÚº Ø¢ÙØ§ Ø¨ÙØ¯ Ú©ÛØ§ تھا Û Ø§Ø¨ ت٠ÙÛ Ø¨ÛÚØ§Ø±Û ÚÙÙÛ Ù¾Ú¾Ø±ÙÛ Ú©Û Ø¨Ú¾Û ÙØ§Ø¨Ù ÙÛÛÚº Ø±ÛØ§ Û Ø§Ø³ÙØ¦Û اب اس Ø³Û ÚØ±ÙÛ Ú©Û Ú©ÙØ¦Û ÙØ¬Û ÙÛÛÚº ÛÛ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø¬ÛÙÙ Ø®Ø§Ù Ú©ÛØ³Ø§ØªÚ¾ Ø§Ø³Ú©Û Ø®Ø§ÙØ¯Ø§Ù کا اÛÚ© Ø§ÙØ± Ø¬Ú¾Ú¯ÚØ§ ÚÙ Ø±ÛØ§ ÛÛ Ø Ø¬Ù ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÛ Ø³Û Ø¨ÚÚ¾ کر سÙÚ¯ÛÙ ÛÛ Û
Ø³Û Ù¾ÛØ± ک٠کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ ÛÙØ§ Ø Ø¬Ø³ ک٠دÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¯ÙØ± Ù ÙØ²Ø¯ÛÚ© Ú©Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ú©Û ÚÚ¾ÙÙ¹Û Ø¨ÚÛ Ø³Ø¨ Ø¢Ø¦Û ÛÙØ¦Û ØªÚ¾Û Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³ Ø³Û Ù¾ÛÙÛ Ø§ØªÙØ§ Ø¨ÚØ§ Ù
جÙ
ع اپÙÛ Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº ÙÛÛÚº دÛکھا تھا Û Ø¬ÛÙÙ Ø¨Ú¾Û ÙØ§Ù¹Ú¾Û پر Ù¹ÛÚ© Ùگاتا ÛÙØ§ Ù
ÛØ¯Ø§Ù Ù
ÛÚº Ù¾ÛÙÚ Ú¯ÛØ§ Ø§ÙØ± اÛÚ© Ú©Ù¹Û ÛÙØ¦Û درخت Ú©Û Ù¹ÙÚ Ù¾Ø± صاÙÛ ÚØ§Ù کر بÛÙ¹Ú¾ Ú¯ÛØ§ Û Ø§Ø³Ú©Û Ø¬Ø§ÙÙÛ ÙØ§ÙÛ Ø§Ø³Ú©Û Ú¯Ø±Ø¯ جÙ
ع ÛÙ Ú¯Ø¦Û Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³Û ÛÛ Ø´Ú©Ø§ÛØª Ú©Ø±ØªÛ ÛÙØ¦Û Ø³ÙØ§ Ú©Û ÚÙگا Ú©Û Ù¹ÛÙ
Ù
ÛÚº اÛÚ© Ø¨Ú¾Û Ù¾Ø±Ø§ÙØ§ ØªØ¬Ø±Ø¨Û Ú©Ø§Ø± Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ø´Ø§Ù
Ù ÙÛÛÚº ÛÛ Û Ú©Ø³Û ÙÛ Ú©ÛØ§Ú©Û Ø¬ÙØ§Ù ÙÙÚ¯ Ù
ÙØ§Ø²Ù
ت Ú©Û Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº Ø´ÛØ±ÙÚº Ù
ÛÚº جا کر آباد ÛÙ Ú¯Ø¦Û ÛÛÚº Û Ù¾ÛÚÚ¾Û ØµØ±Ù Ø¨ÚÚ¾Û Ø§ÙØ± بÚÛ Ø±Û Ú¯Ø¦Û ÛÛÚº Û Ú©Ø³Û Ø§ÙØ± ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÛÛ ÙÙÚ¯ Ø§ÙØ± اÙÚ©Û Ø¢Ù Ø§ÙÙØ§Ø¯ اب ÙØ§Ù¾Ø³ ÙÛÛÚº Ø¢Ø¦Û Ú¯Û Û ÛÙ
ÛÚº اÙک٠بھÙÙ Ø¬Ø§ÙØ§ ÚØ§ÛÛØ¦Û Ø Ø§Ù Ù¾Ø± ÙØ§ØªØÛ Ù¾ÚÚ¾ دÛÙÛ ÚØ§ÛÛØ¦Û Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÛ Ù¾ÛÙÛ Ø¹Ø§ÙÚ¯ÛØ± جÙÚ¯ Ú©Û Ø¯ÙÙÚº Ù
ÛÚº ÙÙØ¬ Ù
ÛÚº Ø¨Ú¾Ø±ØªÛ Û٠کر دÙÛØ§ بھر Ù
ÛÚº Ú¯Ú¾ÙÙ
تا پھرا ØªÚ¾Ø§Ø Ù
گرآخر Ù
ÛÚº اپÙÛ Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº ÙÙÙ¹ Ø¢ÛØ§ تھا Û Ø§ÛÚ© بÚÚ¾Û ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û ØªÙ
ÛÛÚº ØªÙ ÙØ§Ù¾Ø³ Ø¢ÙØ§ ÛÛ ØªÚ¾Ø§ Ø Ú©ÛÙÙÚ©Û ØªÙ
ÛØ§Ø±Û بÛÙÙ¹Û ÛÛØ§Úº پر بÛÙ¹Ú¾Û ÛÙØ¦Û ØªÚ¾Û Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ زÙ
اÙÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø¨Ú¾Û ÚÚ¾ÚØ§ ÚھاÙÙ¹ تھا Û Ø§ÙØ¨ØªÛ Ø§Ø³Ú©Û ÚØ§ÛÙÛ ÙØ§ÙÛØ§Úº Ø¨ÛØª تھÛÚº Ø ÙÛ ÚØ§Ûتا ØªÙ Ù¾ÙØ±Ø§ ØØ±Ù
Ø¨ÙØ§ سکتا تھا Û
اس Ø±ÙØ² Ø®ÙØ§Ù تÙÙØ¹ ÛÙ
Ø§Ø±Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ú©Û Ù¹ÛÙ
Ø¬ÛØª Ú¯Ø¦Û Ø Ø¬Ø³ کا سبب اÛÚ© ÙÙØ¬ÙØ§Ù Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ù
ÙÙØ± Ø¨ÙØ§ Û ÙÛ Ø¯ÙÚÙÛ Ù
ÛÚº اس ÙØ¯Ø± ØªÛØ² تھا Ú©Û Ù
خاÙÙ Ù¹ÛÙ
اس ک٠اÛÚ© بار Ø¨Ú¾Û ÙÛ Ù¾Ú©Ú Ø³Ú©ÛÛ Ø§Ú¯Ø± ÙÛ Ú©Ø¨Ú¾Û Ú¯Ú¾ÛØ±Û Ù
ÛÚº Ø¢ جاتا تھا Ø ØªÙ Ù¾Ú¾Ø±ØªÛ Ø³Û Ø®Ø±Ú¯ÙØ´ Ú©Û Ø·Ø±Ø Ø¯Ø§Ø¦ÛÚº بائÛÚº Ù¾ÚھاÚÛ Ù
ارتا Ø§ÙØ± ØµØ§Ù Ø¨Ú Ú©Ø± Ùک٠جاتا تھا Û Ø¯ÙØ§Ø¹ کرÙÛ Ù
ÛÚº Ø¨Ú¾Û ÙÛ Ûکتا ØªÚ¾Ø§Û Ù
خاÙÙ Ú©Ú¾ÙØ§ÚÛ Ú©Ù Ù¾Ú¾Ø¯Ú© کر اس Ø·Ø±Ø Ù¹Ø§ÙÚ¯ÙÚº Ú©Û ÙÛÙÚÛ Ù
ارتا تھا Ú©Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø³Û Ø¨ÚÛ Ø¬ÙØ§ÙÙÚº Ú©Ù Ø¨Û Ø¨Ø³ کر Ú©Û ÙØ§Ø¨Ù Ù
ÛÚº کر ÙÛØªØ§ تھا Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ú©Ú¾ÛÙ Ú©Û Ø®Ø§ØªÙ
Û Ù¾Ø± Ù
ÙÙØ± Ú©Ù Ø§Ù¾ÙØ§ Ø¬Ø§ÙØ´ÛÙ ÙØ±Ø§Ø± Ø¯Û Ø¯ÛØ§ Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø¨ ÙÛ Ø§Ø·Ù
ÛÙØ§Ù Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ اپÙÛ Ø¢ÙÚ©Ú¾ÛÚº Ø¨ÙØ¯ کر سکتا ÛÛ Û
اس Ù
ÛÚ Ú©Û ØªÚ¾ÙÚÛ Ø¹Ø±ØµÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ اÙ
اں ÙÛ Ø±Ø§ÙÙÙ¾ÙÚÛ ÙØ§Ù¾Ø³ جاÙÛ Ú©Ø§ پرÙگراÙ
Ø¨ÙØ§ ÙÛØ§ Ø Ø¬ÛØ§Úº پر Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§ÙØ± Ù
ÛØ±Û بھائÛÙÚº ک٠اپÙÛ Ù¾Ø±Ø§ÙÛ Ø§Ø³Ú©ÙÙÙÚº بÙÚ©Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø³Ø§Ø¨ÙÛ Ú©ÙØ§Ø³ÙÚº Ù
ÛÚº Ø¯ÙØ¨Ø§Ø±Û داخÙÛ Ù
Ù Ú¯ÛØ§ Ø§ÙØ± ÛÙ
Ø§Ø±Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û اپÙÛ Ù¾Ø±Ø§ÙÛ Úگر پر ÚÙÙÛ ÙÚ¯Û Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº صر٠ÚÙØ¯ Ù
Ø§Û Ø¨Ø³Ø± کرÙÛ Ú©Ø§ Ù
ÙÙØ¹Û Ù
ÙØ§ تھا Ø Ù
گر ÙÛ ÚÙØ¯ Ù
Ø§Û Ù
ÛØ±Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û کا اÛÚ© ÛØ§Ø¯Ú¯Ø§Ø± ØØµÛ ب٠گئÛÛ ÙÛØ§Úº پر Ù
ÛØ±Û Ù
ÙØ§Ùات Ø¬Ù ÙØ§Ø¨Ù ذکر ÙÙÚ¯ÙÚº Ø³Û ÛÙØ¦Û Ø Ø§Ù Ù
ÛÚº جÛÙ٠خا٠کا ÙØ§Ù
سر ÙÛØ±Ø³Øª ÛÛ Û Ø§ÙØ¨ØªÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ú©Ø¨Ú¾Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø±ÙØ¨Ø±Ù بÛÙ¹Ú¾ کر بات کرÙÛ Ú©Ø§ Ø§ØªÙØ§Ù ÙÛ ÛÙØ§ Û Ù
ÛÚº ج٠کÚÚ¾ تھÙÚØ§ Ø¨ÛØª اس Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº Ø¬Ø§ÙØªØ§ ÛÙÚºØ ÙÛ Ù
جھ تک Ø¯ÙØ³Ø±Û Ú©Û ÙØ³Ø§Ø·Øª Ø³Û Ù¾ÛÙÚØ§ ÛÛ Û Ø§Ú¯Ø± Ø§ØªÙØ§Ù Ø³Û ÚÙØ¯ برسÙÚº Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ù
ÛØ±Û Ù
ÙØ§Ùات پٹھÙÛØ§Ø± Ú©Û Ù
Ø´ÛÙØ± ÚØ§Ú©Ù سجاÙÙ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÙÛ ÛÙ Ø¬Ø§ØªÛ Ø ØªÙ Ù
جھ پر جÛÙÙ Ú©Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û کا اÛÚ© اÛÙ
Ù¾ÛÙÙ Ø´Ø§ÛØ¯ ÛÙ
ÛØ´Û Ú©Û ÙØ¦Û Ù¾ÙØ´ÛØ¯Û Ø±ÛØªØ§ Û
پاکستا٠Ù
ÛÚº اپÙÛ Ø¯Ø±Ø³Û ØªØ¹ÙÛÙ
Ú©Û Ø®Ø§ØªÙ
Û Ù¾Ø± جب Ù
ÛØ±Ø§ جرÙ
ÙÛ Ø¬Ø§ÙÛ Ú©Ø§ پرÙگراÙ
Ø¨ÙØ§ Ø ØªÙ Ù
ÛÚº اپÙÛ Ø¹Ø²ÛØ²ÙÚº Ø³Û Ø±Ø®ØµØª ÙÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û ÚÙگا Ø¨Ú¾Û Ú¯ÛØ§ Û ÙÛØ§Úº پر Ù
ÛØ±Û ÙÛØ§Ù
Ú©Û Ø¯ÙØ³Ø±Û ÛØ§ ØªÛØ³Ø±Û Ø±ÙØ² اÛÚ© شخص ÛÛ Ù¾ÛØºØ§Ù
ÙØ§Ûا Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ Ù
جھ Ø³Û Ù
ÙÙØ§ ÚØ§Ûتا ÛÛ Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø´Ø§Ù
Ú©Û ÙÙØª ØªÛØ§Ø± رÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ú©ÛØ§ Ú¯ÛØ§ Ø Ù
گر Ø¬Ø§Ø¦Û Ù
ÙØ§Ùات Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº Ú©ÚÚ¾ ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú¯ÛØ§ Û Ø¹Ø´Ø§Ø¡Ú©Û Ø¢Ø°Ø§Ù ÛÙÙÛ Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ø Ø¬Ø¨ Ú©Û Ø®Ø§ØµØ§ Ø§ÙØ¯Ú¾Ûرا Ù¾Ú Úکا تھا Ø Ø³Ø¬Ø§Ù٠کا آدÙ
Û Ù
Ø¬Ú¾Û ÙÛÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ø¢ÛØ§ Ø§ÙØ± گاᄊں Ú©Û Ú¯ÙÛÙÚº Ù
ÛÚº Ú¯Ú¾Ù
اتا پھراتا Û٠اÛÚ© ØÙÛÙÛ Ù
ÛÚº ÙÛ Ú¯ÛØ§ Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø¯ÛÙØ§Ù خاÙÛ Ù
ÛÚº سجاÙÙ Ø§Ù¾ÙØ§ دربار Ùگا کر بÛٹھا ÛÙØ§ تھا Û ÙÛ Ø§ÙÙÚÛ ÙØ¯ کاٹھ کا اÛÚ© Ù
Ø¶Ø¨ÙØ· آدÙ
Û ØªÚ¾Ø§ Û Ù
ÛØ±Û ساتھ ÙÛ Ø¨ÛØª ØªÙØ¬Û Ø§ÙØ± Ø¯ÙØ³ØªÛ Ø³Û Ù¾ÛØ´ Ø¢ÛØ§ Û Ø§Ø³ ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ù
خاطب کر Ú©Û Ú©ÛØ§:
â"â¬ Ú©ÛØ§ تÙ
ÛÛÚº Ù¾ØªÛ ÛÛ Ú©Û Ù
ÛÚº ÙÛ ØªÙ
ÛØ§Ø±Û اÙ
اں Ø³Û Ù¾ÚÚ¾ÙØ§ ÙÚ©Ú¾ÙØ§ سÛکھا تھا â"⬠Û
Ù
ÛÚº اس بات Ø³Û ÙØ§Ù٠تھا Û Ø§Ù
اں ÙÛ ÛÙ
ÛÚº Ú©Ø¦Û Ø¨Ø§Ø± Ø³ÙØ§Ûا تھا Ú©Û Ø¬Ø¨ Ù
ÛØ±Û دادا جا٠ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ ØÙÛÙÛ Ù
ÛÚº بÚÛÙÚº Ú©Ù Ù¾ÚھاÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ù
Ø¯Ø±Ø³Û Ú©Ú¾ÙÙØ§Ø Ú©ÛÙÙÚ©Û Ø§Ø³ ÙÙØª تک ÙÚÚ©ÛÙÚº Ú©Û ØªØ¹ÙÛÙ
کا ÛÙ
Ø§Ø±Û Ú¯Ø§ï¾¶Úº Ù
ÛÚº Ú©ÙØ¦Û Ø§ÙØªØ¸Ø§Ù
ÙÛ ØªÚ¾Ø§ Ø ØªÙ Ø³Ø¬Ø§ÙÙ Ú©Û Ù
اں اس ک٠اÙ
اں Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ ÙÛ Ú©Ø± Ø¢Ø¦Û Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ Ú©Û Ù
ÛØ±Û بÛÙ¹Û Ú©Ù Ù¾ÛÙÛ Ø¬Ù
اعت Ù
ÛÚº داخ٠کر ÙÛÚº Û
اÙ
اں ÙÛ Ú©ÛØ§ :â"⬠تÙ
اسک٠ÙÚÚ©ÙÚº Ú©Û Ù
Ø¯Ø±Ø³Û Ù
ÛÚº Ú©ÛÙÚº ÙÛÛÚº Ø¯Ø§Ø®Ù Ú©Ø±Ø§ØªÛ ÛÙØâ"â¬
اس ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§:â"⬠Ù
ÛØ±Ø§ سجاÙÙ ÙÚÚ©ÛÙÚº Ú©Û Ø·Ø±Ø Ø´Ø±Ù
ÛÙØ§ ÛÛ Û ÙÛ ÙÚÚ©ÙÚº Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÙÛ ÚÙ Ø³Ú©Û Ú¯Ø§ â"⬠Û
پھر سجاÙÙ ÙÛ Ø³ÙØ§Ûا Ú©Û Ø§ÛÚ© Ø¯ÙØ¹Û اس Ú©Û Ù¹ÙÙÛ Ú©Û ÙÙÚ¯ÙÚº ÙÛ Ø§ÛÚ© Ù
کا٠Ù
ÛÚº سÛÙØ¯Ú¾ ÙگاÙÛ Ú©Ø§ Ø§Ø±Ø§Ø¯Û Ú©ÛØ§ Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº اÙÛÛÚº Ù¾ØªÛ ÚÙØ§ تھا Ú©Û ÙÛØ§Úº پر عÙ
Ø¯Û ØªØ±ÛÙ Ú©Ø±Ø§Ú©Ø±Û Ø ÙØ±ÙÛÚØ±Û ÙØ§ÙÛÙ Ø Ú¯Ú¾ÚÛØ§ Úº Ø§ÙØ± Ø¯ÙØ³Ø±Ø§ ساÙ
Ø§Ù Ø±ÛØ§Ø¦Ø´ ٠آرائش بھرا Ù¾ÚØ§ ÛÛ Ø§ÙØ± Ù
اÙکا٠Ù
Ú©Ø§Ù Ø®ÙØ¯ Ø´ÛØ± Ù
ÛÚº Ø±ÛØªÛ ÛÛÚº Û Ø³Ø¬Ø§Ù٠ک٠ا٠ÙÙÚ¯ÙÚº کا ÙØ§Ù
ÙÛÛÚº Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú¯ÛØ§ØªÚ¾Ø§ÛØ§Ø³Û ØµØ±Ù Ø§ØªÙØ§ Ù¾ØªÛ ØªÚ¾Ø§ Ú©Û ÙÛ Ù
کا٠ÚÙگا Ù
ÛÚº Ù¾Ø§ÛØ§ جاتا ÛÛ Û Ø¬Ø¨ ÙÛ ÙÙÚ¯ اÛÚ© Ú©Ú¾ÛØªÛ Ù
ÛÚº داخ٠ÛÙØ¦Û Ø Ø¬Ø³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ ÛÙ
Ø§Ø±Û ØÙÛÙÛ Ú©Û Ø¨ÛØ±ÙÙÛ Ø¯ÛÙØ§Ø± ÙÚ¯ØªÛ ÛÛ Ø ØªÙ Ø§Ø³Û Ø§ÙØ¯Ø§Ø²Û ÛÙØ§ Ú©Û ÙÛ ÛÙ
Ø§Ø±Û Ù
کا٠Ù
ÛÚº سÛÙØ¯Ú¾ ÙÚ¯Ø§ÙØ§ ÚØ§ÛØªÛ ÛÛÚº Û Ø§Ø³ ÙÙØª تک د٠تÛÙ ÚØ§Ú©Ù دÛÙØ§Ø± Ú©Û Ø§Ùپر ÚÚÚ¾ ÚÚ©Û ØªÚ¾Û Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø¨ØªØ§ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ ÙÛ Ø§Ù¾ÙØ§ پستÙÙ Ùکا٠کر Ø§Ù Ú©Û Ø·Ø±Ù ØªØ§Ù Ú©Ø± Ú©ÛØ§ Ú©Û ÙÙØ±Ø§Ù دÛÙØ§Ø± Ø³Û ÙÛÚÛ Ø§ØªØ± Ø¬Ø§ï¾¶Û Ø¨Ø¯Ø¨Ø®ØªÙ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø§Ø³ گھر Ù
ÛÚº Ø¢ÙÚ©Ú¾ÙÚº Ú©Û Ø±ÙØ´ÙÛ Ù¾Ø§Ø¦Û ØªÚ¾Û Ø Ø§Ø³ ÙØ¦Û Ù
ÛÚº اس گھر پر ÙÛ ØªÙ Ø®ÙØ¯ ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÚº گا Ø§ÙØ± ÙÛ Ú©Ø³Û Ø§ÙØ± Ú©Ù ÚØ§Ú©Û ÚØ§ÙÙÛ Ø¯ÙÚº گا Û ÛÛ Ø¨Ø§Øª Ø¨ÛØª Ø¬ÙØ¯ Ø¹ÙØ§ÙÛ Ø¨Ú¾Ø± Ù
ÛÚº Ù¾Ú¾ÛÙ Ú¯Ø¦Û Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ ÚÙگا ک٠اپÙÛ Ø§Ù
ا٠Ù
ÛÚº ÙÛ ÙÛØ§ ÛÛ Û Ø§Ø³ Ø¯Ù Ú©Û Ø¨Ø¹Ø¯ جب تک سجاÙÙ Ø²ÙØ¯Û Ø±ÛØ§ ÚÙگا Ù
ÛÚº ÚÚ©ÛØªÛ Ú©Û ÙØ§Ø±Ø¯Ø§Øª ÙÛÛÚº ÛÙØ¦Û Û
Ù
ÛÚº ÙÛ Ø³Ø¬Ø§ÙÙ Ø³Û Ú©ÛØ§ Ú©Û Ú©ÛØ§ Ø§Ø³Û Ù¾ØªÛ ÛÛ Ú©Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ø¨Ú¾Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø¬ÙØ§ÙÛ Ú©Û Ø²Ù
اÙÛ Ù
ÛÚº Ø§ÛØ³Û ÛÛ Ø¨Ø§Øª Ú©ÛÛ ØªÚ¾Û Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø¬ÙØ§Ø¨ Ø¯ÛØ§ Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø§ÙØ± جÛÙÙ Ú©Û Ø¯Ø±Ù
ÛØ§Ù Ú©Ø¦Û Ø§ÛÚ© باتÛÚº Ø³Ø§ÙØ¬Ú¾Û Ù¾Ø§Ø¦Û Ø¬Ø§ØªÛ ÛÛÚºÛ Ø§ÙØ¨ØªÛ اس Ú©Û Ø¨Ø± عکس جÛÙÙ ÙÛ Ú©Ø¨Ú¾Û ÚØ§Ú©Û ÙÛÛÚº ÚØ§Ùا Ø§ÙØ± Ú©Ø³Û Ú©Ø§ Ø®ÙÙ ÙÛÛÚº Ø¨ÛØ§Ûا Ø Ø¬Ø¨ Ú©Û ÙÛ ÛÛ Ø¨Ø§Øª اپÙÛ Ø¨Ø§Ø±Û Ù
ÛÚº ÙÛÛÚº Ú©ÛÛ Ø³Ú©ØªØ§ Û Ø¬ÛÙÙ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø·Ø±Ø Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ø¨Ú¾Û Ø§Ù¾ÙÛ Ù
Ø±Ø¶Û Ø³Û Ø§Ù¾ÙÛ Ù
اں باپ Ú©Û Ú¯Ú¾Ø±Ø³Û Ùک٠کر اس Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ Ø¢ Ú¯Ø¦Û ØªÚ¾Û Û Ø¯ÙÙÙÚº Ø¹ÙØ±ØªÙÚº Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ÙÚº کا رد عÙ
Ù Ø´Ø¯ÛØ¯ تھاÛ
â"⬠Ù
ÛØ±Û بÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ ØªÙ ÛÛ Ø®Ø¨Ø§Ø«Øª Ú©Û Ú©Û Ù
ÛØ±Û Ù
Ø®Ø¨Ø±Û Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ù¾Ø§Ø³ کر Ø¯Û Ø§ÙØ± Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ø§ÛÚ© Ø¯Ø³ØªÛ ÙÛ Ù
ÛØ±Ø§Ù
ØØ§ØµØ±Û کر ÙÛØ§ Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø§Ù¾ÙÛ Ø¬Ø§Ù Ø¨ÚØ§ÙÛ Ú©Û ÙØ¦Û Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ù
Ø³ÙØ جÙÚ¯ ÙÚÙÛ Ù¾ÚÛ Ø Ø¬Ø³ Ù
ÛÚº Ù
ÛØ±Û د٠آدÙ
Û Ø§ÙØ± Ù¾ÙÙÛØ³ Ú©Û Ù¾Ø§ÙÚ Ø³Ù¾Ø§ÛÛ Ù
Ø§Ø±Û Ú¯Ø¦Û Û Ù
ÛÚº ÙÛ Ø¨Ø¹Ø¯ Ù
ÛÚº اپÙÛ Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ø³Û Ø§Ø³ Ù
Ø®Ø¨Ø±Û Ú©Ø§ بدÙÛ ÙÛ ÙÛØ§ تھا Û Ù
گر جÛÙ٠اس Ù
عاÙ
ÙÛ Ù
ÛÚº Ù
جھ Ø³Û Ù
ختÙ٠تھا Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ø¬ÛØªÛ Ø¬Û Ø§Ù¾ÙÛ ÙÚÚ©Û Ú©Ù Ø§Ø³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ø´Ø§Ø¯Û Ú©Ø±ÙÛ Ú©Û Ø§Ø¬Ø§Ø²Øª ÙÛÛÚº Ø¯Û Ø§ÙØ± اس کا داخÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ú¯Ú¾Ø± پر Ø¨ÙØ¯ Ú©Ø¦Û Ø±Ú©Ú¾Ø§ Û Ø¬Ø§ÙØªÛ ÛÙ Ú©Û Ø¬ÛÙÙ ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ اس Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ú©Û Ù
رÙÛ Ø§ÙØ± Ø¨Ø§ÙØ§Ø¹Ø¯Û ÙÚ©Ø§Ø Û٠جاÙÛ ÙØ§ÙÛ Ø±ÙØ² تک ÛÙ
Ø¨Ø³ØªØ±Û ÙÛÛÚº Ú©ÛÛ ÙÛ ÚØ§Ûتا تھا Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û ÙÚ©Ø§Ø Ú©Ø§ Ø§Ø¹ÙØ§Ù Ù
سجد Ù
ÛÚº ÛÙ Ø§ÙØ± ÙÛ Ø¨Ø§ÙØ§Ø¹Ø¯Û Ø·ÙØ± پر Ø´Ø§Ø¯Û Ú©Û Ø±Ø³ÙÙ
ات ادا کر Ú©Û Ù
ÛØ§Úº بÛÙÛ Ú©Û Ø²ÙØ¯Ú¯Û بسر کرÛÚº Û Ø¬ÛÙÙ Ø§ÙØ± اس Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ù
رÙÛ ØªÚ© اس Ú©Û Ø³Ø³Ø±Ø§Ù ÙÛ Ø§Ù Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ú©ÙØ¦Û تعÙÙ ÙÛÛÚº رکھاâ"⬠Û
جب Ø¢Ø¯Ú¾Û Ø±Ø§Øª Ú©Û ÙÚ¯ بھگ سجاÙ٠کا آدÙ
Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ú¯Ú¾Ø± ÚÚ¾ÙÚÙÛ Ú©ÛÙØ¦Û Ù
ÛØ±Û ساتھ Ú¯ÛØ§ Ø ØªÙ Ù
ÛÚº ÙÛ Ø±Ø§Ø³ØªÛ Ù
ÛÚº اس Ø³Û Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø¨ÛÙÛ Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ Ø³Û Ú©Ø³ Ø·Ø±Ø Ø¨Ø¯ÙÛ ÙÛØ§ تھا Û Ø§Ø³ ÙÛ Ú©ÛØ§ Ú©Û Ø³Ø¬Ø§ÙÙ ÙÛ Ø§Ø³Ú©Ù Ù¹ÙÚ©Û Ø³Û Ù¹Ú©ÚÛ Ú©Ø± کر Ú©Û Ù
ار ÚØ§Ùا تھا Û
ÛÙ
ÚØ§Ø±Ùس ÚÛگا٠ÛÙØ§Ø¦Û اÚÛ Ù¾Ø± Ù¾ÛÙÚÛ Ø ØªÙ Ù
ÛØ±Û Ù¾Ø±ÙØ§Ø² کا Ø§Ø¹ÙØ§Ù ÛÙ Ø±ÛØ§ تھا Ø Ø§Ø³ÙØ¦Û Ù
Ø¬Ú¾Û ÙÛ Ø§ÙÙÙØ± ØÙ
ÛØ¯ Ø³Û Ø±Ø®ØµØª ÙÛÙÛ Ù¾ÚÛ Û Ù
ÛÚº ÙÛ ÚÙØªÛ ÛÙØ¦Û اس Ø³Û Ù¾ÙÚھا Ú©Û Ú©ÛØ§ ÙÛ Ù
Ø¬Ú¾Û Ø¨ØªØ§ سکتا ÛÛ Ú©Û Ø§Ø³Ú©Û Ø¨Ø§Ù¾ ÙÛ Ø§Ø³ Ø±ÙØ² ÚÙگا Ù
ÛÚº اترÙÛ Ø§ÙØ± کبÚÛ Ú©Ø§ Ù
ÛÚ Ø¯ÛÚ©Ú¾ÙÛ Ú©Û Ø³ÙØ³ÙÛ Ù
ÛÚº Ù
ÛØ±Û Ø¯Ø¹ÙØª Ú©Ù Ú©ÛÙÚº ÙØ¨ÙÙ ÙÛ Ú©ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± Ú©ÛØ§ تھا Ú©Û ÙÛ Ø¬ÛÙÙ Ú©Û ÙØ¬Û Ø³Û ÙÛØ§Úº پر ÙÛÛÚº اتر سکتا Û
ØÙ
ÛØ¯ ÙÛ Ú©ÛØ§: â"⬠اس Ú©Û ÙØ¬Û ÛÛ ØªÚ¾Û Ú©Û Ø¬ÛÙÙ Ú©Û Ø¨ÛÙÛ Ù
ÛØ±Û باپ Ú©Û Ø³Ø¨ Ø³Û Ø¨ÚÛ Ø¨ÛÙ ØªÚ¾Û Ø Ø¬Ø³ Ú©Ù Ù
ÛØ±Û دادا ÙÛ Ø§Ù¾ÙÛ Ø®Ø§ÙØ¯Ø§Ù Ø³Û Ø®Ø§Ø±Ø¬ کر Ø¯ÛØ§ تھا Ø§ÙØ± اپÙÛ Ø¨ÚÙÚº Ú©Ù ÙØµÛت Ú©Û ØªÚ¾Û Ú©Û Ø§Ø³ Ú©Û Ø³Ø§ØªÚ¾ Ú©ÙØ¦Û تعÙÙ ÙÛ Ø±Ú©Ú¾ÛÚºâ"⬠Û
Ù
ÛÚº ØÙ
ÛØ¯ Ø³Û Ø±Ø®ØµØª Û٠کر ائر ÙØ±Ø§Ùس Ú©Û Ú©ÙÙٹر پر ÚÛÚ© Ø§Ù Ú©Û ÙØ¦Û ÚÙØ§ Ú¯ÛØ§ Û Ø¨Ø¹Ø¯ Ù
ÛÚº Ø¬ÛØ§Ø² پر ÚÚÚ¾ØªÛ ÛÙØ¦Û Ù
Ø¬Ú¾Û Ø®ÛØ§Ù Ø¢ÛØ§ Ú©Û Ù
Ø¬Ú¾Û ØÙ
ÛØ¯ Ø³Û Ø§Ø³ Ú©Û Ù¾Ú¾ÙÙ¾Ú¾Û Ú©Ø§ ÙØ§Ù
ت٠پÙÚÚ¾ ÙÛÙØ§ ÚØ§ÛÛØ¦Û تھا Ø Ø¬Ø³ Ø³Û Ù
ÛÚº آج تک ÙØ§ÙاÙÙ ÛÙÚºÛ
( ÛÙ
برگ Û Û±Û· جÙÙØ§Ø¦Û Ø¡
âï¿¿â¬
Deletions:
میں یھاں پر اپنی ایک کتاب شامل کرنی چاہتا ھوں۔مگر مجھے پتا نھیں چل رھا کھ یھ کام کیسے کیا جا سکتا ھے۔ میں فی الحال ایک کھانی کاپی کر رھا ھوں۔
جیون خان
میرا طیارہ پیرس کے ہوائی اڈے اورلی پر آدھ گھنٹہ لیٹ اترا تھا ۔ اگلی فلائیٹ مجھے تین گھنٹوں کے بعد چارلس ڈیگال ہوائی اڈے سے لینی تھی۔ اس زمانے میں دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان شٹل بس چلتی تھی، جو میرے بس اسٹاپ پر پہنچنے سے قبل جا چکی تھی۔ اگلی بس پندرہ منٹوں میں چلنی تھی۔ میں نے ویٹنگ روم میں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا ، تو ایک ہم وطن کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اسے سلام کیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھا۔ اس نے مجھ سے جاننا چاہا کہ میں کہاں سے ہوں ۔ میں نے اپنے شہر ہمبرگ کا نام لیا ، مگر اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی ۔ اس نے پوچھا کہ میں پیچھے کہاں سے ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان کا رہنے والا ہوں ، مگر ایک عمر سے جرمنی میں مقیم ہوں۔ اس نے جاننا چاہا کہ میں پاکستان میں کس جگہ سے ہوں۔ میں نے راولپنڈی کا نام لیا۔اس پر اس نے میرے گاᄊں کا نام پوچھا ۔ اب میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ کہیں میرے گاᄊں کا رہنے والا تو نہیں۔ مگر مجھے اس کا چہرہ قطعاً نامانوس لگا ۔ میں نے کہا کہ میں چنگا بنگیال سے ہوں۔ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے اٹھ کر گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے معانقہ کیا اور کہا کہ وہ مجھے پہلی نظر میں پہچان گیا تھا ۔ میں نے اس کا امتحان لینے کی غرض سے کہا کہ پھر تو وہ میرا نام بھی جانتا ہو گا ۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے نام سے بالکل ناواقف ہے ، کیونکہ ہمارا آپس میں تعارف نہیں ہوا تھا اور کسی نے اس کے سامنے میرا نام نہیں لیا تھا ۔
مجھے یاد نہیں پڑتا تھا کہ میں نے اسے اپنی زندگی میںکہیں پر دیکھا تھا ۔ مگر میں اس سلسلے میں قابل اعتبار گواہ نہیں ہوں۔ کیونکہ میری چہروں کی یادداشت کمزور ہے ۔ مجھے بہت سی باتیں یاد رہ جاتی ہیں مثلاً یہ کہ میں کس سے کب ملا تھا اور ہمارے درمیان کیا بات ہوئی تھی، مگر چہروں کو میں یکسر بھول جاتا ہوں ۔ اس نے کہا کہ ہمارا ملنا ء۱۹۴۸میں گوجر خان میں ہوا تھا ۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس وقت میری عمر تیرہ چودہ سال کی رہی ہو گی۔ میں نے کہا کہ کیا اتنے برسوں میں میری شکل و شباہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو وہ مجھے پہچاننے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کی یادداشت فوٹو گرافک ہے ۔ جس شکل کو وہ ایک بار دیکھ لے ، اسے ساری عمر نہیں بھولتا ۔ میں نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی پولیس میں بہت مانگ ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ پولیس کے محکمہ میں ڈی ایس پی ہے ۔ اسے نہ صرف میری شکل یاد تھی ، بلکہ وہ ساری باتیں بھی جو میرے اور اس کے باپ کے درمیان ہوئی تھیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا باپ اس قصے میں کہاں سے آ نکلا۔ اس نے کہا بہتر ہے کہ وہ مجھے سارا قصہ شروع سے سنائے ۔
وہ اپنے باپ کے ساتھ گوجر خان سے کلر سیداں جانے والی بس میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور بس بھر چکی تھی ۔ مگر ڈرائیور چلنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ اس کے باپ کو اس روز گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، اس لئے اس نے ڈرائیور سے کہا کہ اسے چلنا چاہیئے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ایک شخص کا انتظار کر رہا ہے ، جو تھوڑی دیر میں آ جائے گا ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک چھوکرا ہاتھ میں تھیلا پکڑے ہوئے پہنچ گیا ۔ وہ چھوکرا میں تھا ، جو اسی بس میں صبح کے وقت سودا سلف لانے کے لئے گوجر خان آیا تھا اور اب سامان لے کر واپس چنگا جا رہا تھا ۔ ڈرائیور نے اس کے باپ سے کہا کہ اپنے بیٹے کو ، جس کی عمر نو یا دس سال تھی ، اپنی گود میں بیٹھا لے اور میرے لئے فرنٹ سیٹ پر جگہ بنائے ۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں چنگا سے ہوں ، جہاں پر اس روز کبڈی کا میچ ہونا تھا ، جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آ رہے تھے ۔
مجھے یاد ہے کہ حمید کے باپ نے کسی قدر بد دلی کیساتھ میرے لئے جگہ بنائی تھی۔ لگتا تھا کہ اسے ایک چھوکرے کیلئے اپنے بیٹے کو گود میں بٹھانا کچھ ایسا پسند نہ آیا تھا۔ مگر بس چلنے کے بعد اسکا رویہ بدل گیا اور اس نے مجھ سے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے ۔ پہلا سوال یہ تھا کہ میں کس جماعت میں تھا اور کس اسکول میں پڑھتا تھا ۔ میں نے بتایا کہ میں قاضیاں کے مڈل اسکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں انگریزی پڑھ لیتا ہوں ۔ وہ کسی انگریزی خوان سے ایک خط پڑھوانا چاہتا تھا ، جو اسکو اسکی پنشن کے سلسلہ میں آیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے اس روز وہ خط اسکی جیب میں نہ تھا ۔ اسکا بیٹا تیسری جماعت میں تھا ۔ انکے گاᄊں میں پرائمری اسکول تھا ۔ گویا چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد اسے کلر کے اسکول میں داخل کرانا پڑے گا اور اسکے بیٹے کو روزانہ تین میل چل کر اسکول جانا ہو گا ۔ میں نے کہا کہ میرا اسکول بھی کم و بیش اتنے ہی فاصلے پرہے ۔
پھر کبڈی کے میچ کی بات چل نکلی۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں کبڈی کا جانا پہچانا کھلاڑی رہ چکا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا اسے کبھی میرے گرائیں جیون خان کے مقابلے میں کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے جیون اور اسکی بیوی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ انکا کیا حال ہے ؟ کیا وہ چل پھر لیتے ہیں یا بالکل لاچار ہو گئے ہیں؟ اس نے کسی سے سنا تھا کہ جیون گر گیا تھا اور اسکے پاᄊں میں موچ آ گئی تھی۔ میں نے بتایا کہ وہ ہمارے مکان کے پچھواڑے میںرہتا ہے اور مجھے اماں اکثر کنویں سے پانی کی بالٹی بھر کر اسکے گھر پر دینے کے لئے بھیجا کرتی ہیں ۔ جب کبھی میں گوجر خان سے خورد و نوش کی چیزیں لاتا ہوں ، تو اماں اس میں سے ایک حصہ جیون اور اسکی بیوی کو بھیج دیتی ہیں۔ انکی چونکہ اولاد نہیں ، اسلئے ہمسائے میاں بیوی کا خیال رکھتے ہیں ۔ انکی آمدن کا انحصار زمین کی کاشت پر ہے ، جو انہوں نے بٹائی پر دے رکھی ہے ۔
میں نے سن رکھا تھا کہ جیون اپنی جوانی کے زمانے میں لٹھ مار ہوا کرتا تھا اور میلوں ٹھیلوں پر ہر کسی سے جھگڑا مول لے لیتا تھا ۔ حمید کے باپ نے کہا کہ یہ محض باتیں ہیں ۔ وہ لٹھ مار سے زیادہ کبڈی کا ماہر کھلاڑی تھا اور اپنی جوانی کے زمانے میں ہی بہت بڑا نام پیدا کر چکا تھا ۔ لوگ پچاس پچاس کوس سے اس کا کھیل دیکھنے کے لئے آتے تھے ۔ اس کی ٹکر کا بس ایک سکھ کھلاڑی صوبہ سنگھ تھا ۔ جس میچ میں یہ دونوں جمع ہو جاتے تھے ، وہاں پر تماشائیوں کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے ۔ دونوں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے تھے ، مگر میچ ختم ہونے کے بعددو قالب و یک جان بن جاتے تھے ۔ البتہ یہ دوستی بہت دنوں تک نہ چل سکی، کیونکہ صوبہ سنگھ ڈاکہ ڈالنے لگا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جیون اس کے ساتھ مل جائے ۔ مگر جیون نے اس کی بات نہ مانی ، بلکہ اس نے صوبہ سنگھ کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے چنگا یا اس کے قرب و جوار کے کسی گاᄊں میں واردات کی ، تو پھر اس کے حق میں جیون سے بڑھ کر برا کوئی شخص نہ ہو گا ۔ یہ بات سارے علاقے میں پھیل گئی اور ڈاکو اور بد معاش جیون سے ڈر کے مارے اس علاقے کا رخ نہ کرتے تھے ۔
گوجر خان سے چنگا کا فاصلہ صرف سات میل کاہے ، مگر اس زمانے میں سڑک کچی تھی اور بارشوں کے موسم میں جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی تھی۔ راستے میں پڑنے والی ندی کسی اور بھڈانہ کے نالے کے سبب ، جو دو ٹیلوں کے درمیان بہتا تھااور جس میں سے گذر کر جانا پڑتا تھا ، بس کہیں گھنٹہ بھر میں چنگا پہنچتی تھی۔ وہاں پر کبڈی کے تماشائیوں کا اچھا خاصا جمگٹھا لگا ہو اتھا ۔ میں نے بس سے اترتے ہوئے حمید کے باپ کو رات بھر کیلئے چنگا میں رک جانے اور کبڈی کا میچ دیکھنے کی دعوت دی ۔ اس نے جواب دیا کہ اسکا دل تو بہت چاہتا ہے ، مگر وہ جیون خان کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا ۔ میں نے ہنس کر کہا کہ جیون خان نے صرف ڈاکوᄊں کا چنگا میں آنا بند کیا تھا ۔ اب تو وہ بیچارہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔ اسلئے اب اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ جیون خان کیساتھ اسکے خاندان کا ایک اور جھگڑا چل رہا ہے ، جو ڈاکہ ڈالنے سے بڑھ کر سنگین ہے ۔
سہ پہر کو کبڈی کا میچ ہوا ، جس کو دیکھنے کے لئے دور و نزدیک کے گاᄊں کے چھوٹے بڑے سب آئے ہوئے تھے ۔ میں نے اس سے پہلے اتنا بڑا مجمع اپنے گاᄊں میں نہیں دیکھا تھا ۔ جیون بھی لاٹھی پر ٹیک لگاتا ہوا میدان میں پہنچ گیا اور ایک کٹے ہوئے درخت کی ٹنڈ پر صافہ ڈال کر بیٹھ گیا ۔ اسکے جاننے والے اسکے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے اسے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا کہ چنگا کی ٹیم میں ایک بھی پرانا تجربہ کار کھلاڑی شامل نہیں ہے ۔ کسی نے کہاکہ جوان لوگ ملازمت کے سلسلے میں شہروں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں ۔ پیچھے صرف بڈھے اور بچے رہ گئے ہیں ۔ کسی اور نے کہا کہ یہ لوگ اور انکی آل اولاد اب واپس نہیں آئے گی ۔ ہمیں انکو بھول جانا چاہیئے ، ان پر فاتحہ پڑھ دینی چاہیئے ۔ جیون نے کہا کہ وہ پہلی عالگیر جنگ کے دنوں میں فوج میں بھرتی ہو کر دنیا بھر میں گھومتا پھرا تھا، مگرآخر میں اپنے گاᄊں میں لوٹ آیا تھا ۔ ایک بڈھے نے کہا کہ تمہیں تو واپس آنا ہی تھا ، کیونکہ تمہاری بہوٹی یہاں پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ جیون نے جواب دیا کہ اس زمانے میں وہ ابھی چھڑا چھانٹ تھا ۔ البتہ اسکی چاہنے والیاں بہت تھیں ، وہ چاہتا تو پورا حرم بنا سکتا تھا ۔
اس روز خلاف توقع ہمارے گاᄊں کی ٹیم جیت گئی ، جس کا سبب ایک نوجوان کھلاڑی منور بنا ۔ وہ دوڑنے میں اس قدر تیز تھا کہ مخالف ٹیم اس کو ایک بار بھی نہ پکڑ سکی۔ اگر وہ کبھی گھیرے میں آ جاتا تھا ، تو پھرتی سے خرگوش کی طرح دائیں بائیں پچھاڑی مارتا اور صاف بچ کر نکل جاتا تھا ۔ دفاع کرنے میں بھی وہ یکتا تھا۔ مخالف کھلاڑی کو پھدک کر اس طرح ٹانگوں کی قینچی مارتا تھا کہ اپنے سے بڑے جوانوں کو بے بس کر کے قابو میں کر لیتا تھا ۔ جیون نے کھیل کے خاتمے پر منور کو اپنا جانشین قرار دے دیا اور کہا کہ اب وہ اطمینان کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر سکتا ہے ۔
اس میچ کے تھوڑے عرصہ کے بعد اماں نے راولپنڈی واپس جانے کا پروگرام بنا لیا ، جہاں پر مجھے اور میرے بھائیوں کو اپنے پرانے اسکولوں بلکہ اپنی سابقہ کلاسوں میں دوبارہ داخلہ مل گیا اور ہماری زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چلنے لگی ۔ مجھے گاᄊں میں صرف چند ماہ بسر کرنے کا موقعہ ملا تھا ، مگر وہ چند ماہ میری زندگی کا ایک یادگار حصہ بن گئے۔ وہاں پر میری ملاقات جن قابل ذکر لوگوں سے ہوئی ، ان میں جیون خان کا نام سر فہرست ہے ۔ البتہ مجھے کبھی اس کے روبرو بیٹھ کر بات کرنے کا اتفاق نہ ہوا ۔ میں جو کچھ تھوڑا بہت اس کے بارے میں جانتا ہوں، وہ مجھ تک دوسرے کی وساطت سے پہنچا ہے ۔ اگر اتفاق سے چند برسوں کے بعد میری ملاقات پٹھوہار کے مشہور ڈاکو سجاول کے ساتھ نہ ہو جاتی ، تو مجھ پر جیون کی زندگی کا ایک اہم پہلو شاید ہمیشہ کے لئے پوشیدہ رہتا ۔
پاکستان میں اپنی درسی تعلیم کے خاتمہ پر جب میرا جرمنی جانے کا پروگرام بنا ، تو میں اپنے عزیزوں سے رخصت لینے کے لئے چنگا بھی گیا ۔ وہاں پر میرے قیام کے دوسرے یا تیسرے روز ایک شخص یہ پیغام لایا کہ سجاول مجھ سے ملنا چاہتا ہے ۔ مجھے شام کے وقت تیار رہنے کے لئے کہا گیا ، مگر جائے ملاقات کے بارے میں کچھ نہ بتایا گیا ۔ عشاءکی آذان ہونے کے بعد ، جب کہ خاصا اندھیرا پڑ چکا تھا ، سجاول کا آدمی مجھے لینے کے لئے آیا اور گاᄊں کی گلیوں میں گھماتا پھراتا ہو ایک حویلی میں لے گیا ، جس کے دیوان خانے میں سجاول اپنا دربار لگا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ اونچے قد کاٹھ کا ایک مضبوط آدمی تھا ۔ میرے ساتھ وہ بہت توجہ اور دوستی سے پیش آیا ۔ اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا:
" کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہاری اماں سے پڑھنا لکھنا سیکھا تھا " ۔
میں اس بات سے واقف تھا ۔ اماں نے ہمیں کئی بار سنایا تھا کہ جب میرے دادا جان نے اپنی حویلی میں بچیوں کو پڑھانے کے لئے مدرسہ کھولا، کیونکہ اس وقت تک لڑکیوں کی تعلیم کا ہمارے گاᄊں میں کوئی انتظام نہ تھا ، تو سجاول کی ماں اس کو اماں کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ میرے بیٹے کو پہلی جماعت میں داخل کر لیں ۔
اماں نے کہا :" تم اسکو لڑکوں کے مدرسہ میں کیوں نہیں داخل کراتی ہو؟"
اس نے جواب دیا:" میرا سجاول لڑکیوں کی طرح شرمیلا ہے ۔ وہ لڑکوں کے ساتھ نہ چل سکے گا " ۔
پھر سجاول نے