چند دن قبل ایک ڈاکے کی خبر میں ہم یہ پڑھ کر چونک گئے کہ سراغ رساں کتے ڈاکوؤں کی تلاش میں ایک پولیس چوکی جا پہنچے۔ مزید تسلی کیلیے کتوں کو دو تین بار گھمایا پھرایا گیا مگر کتے آخر میں اسی پولیس چوکی میں پہنچ کر رک جاتے۔ کتوں کی اس نشاندہی پر صوبائی وزیر نے پولیس چوکی کے عملے کو بھی شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس خبر کی آخر تک رپورٹنگ کرے تا کہ پبلک اس کے انجام سے آگاہ ہو سکے۔
کتوں کو سراغ رسانی کیلیے صدیوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ بلکہ اس کیساتھ ساتھ پاؤں کے نشانات …
پاکستان میں طالبان نام کی کوئی مجتمع یا جامع تحریک کا وجود نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں اسلام دُشمن طاقتوں کے زیرِ اثر معاندانہ پروپیگنڈہ نے حقائق پر پردہ ڈال رکھا ہے ۔ قبائلی علاقہ میں مُختلف العقیدہ گروہ ہیں ۔ آپس کی ذاتی لڑائیاں ان کی بہت پرانی عادت ہے ماضی بعید میں اگر ان کی آپس کی لڑائی بڑھ جاتی تو حکومت مداخلت کر کے صلح صفائی کرا دیتی تھی ۔ مگر مسلکی فساد ان کے درمیان ماضی قریب کی پیداوار ہے ۔
شمالی علاقہ جات اور ملحقہ قبائلی علاقہ میں ہمیشہ سے کچھ سیّد رہتے تھے جن میں کچھ شیعہ مسلک کے تھے مگر …

ہم اپنے بلاگ پرمختلف موضوعات پر سروے کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا تازہ سروے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے متعلق تھا۔
آپ نتائج سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صدر مشرف اس وقت عوام میں کتنے مقبول ہیں۔ ہمارے سروے میں گنے چنے افراد حصہ لیتے ہیں پھر بھی اس کے نتائج بین الاقوامی سروے کمپنی کے نتائج سے بہت ملتے جلتے ہیں۔
اتنا کچھ جان لینے کے باوجود ایسا شخص جس نے عوام کے رد کرنے پر استعفے کا اعلان کر چکا ہو اگر مستعفی نہ ہو تو پھر یا عوام بے بس …
کسی بھی مُلک ۔ قوم یا تحریک کو صحیح خطوط پر چلانے میں ذرائع ابلاغ اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اِس کیلئے خلوص اور بے لوث خدمت لازمی ہوتی ہے اور ذرائع ابلاغ کا غلط کردار مُلک یا قوم کو تباہی کے کھڈ کے کنارے پہنچا دیتا ہے ۔
آجکل چار ذرائع ابلاغ ہیں ۔ 1 ۔ اخبار ۔ رسالے اور کتابیں ۔ 2 ۔ ریڈیو ۔ 3 ۔ ٹی وی 4 ۔ انٹرنیٹ ۔
تحقیق بتاتی ہے کہ
صرف آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیز یعنی پہلی قسم کا 10 فیصد دماغ میں محفوظ ہوتا ہے ۔
سُنی ہوئ بات یعنی دوسری قسم کا 20 فیصد یاد رہتا ہے ۔
جو سنا جائے اور دیکھا بھی جائے یعنی …
One World One Dream
Beijing 2008

4 سال بعد دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر سب سے عالمی کھیلوں کے مقابلوں “اولمپکس” پر مرکوز ہیں اور اس مرتبہ سب کی توجہ کا مرکز چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے جہاں اگلے ماہ اولمپکس 2008ء کا آغاز ہو رہا ہے۔ بیجنگ نے 2001ء میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا مقابلہ اپنے نام کیا تھا اور اس کے بعد انہوں پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور سخت محنت کے بعد ان عالمی کھیلوں کے شاندار انعقاد کے لیے بھرپورتیاری کی جس کا مظہر بیجنگ اور دیگر مقامات پر اولمپک کھیلوں کے تیار کی گئی شاندار عمارات و …
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔
اردو بلاگز پڑھنے والے قارئین یقینا اس مصرعہ سے بخوبی واقف ہوں گے کہ یہ صرف ایک مصرع ہی نہیں بلکہ اردو کے ایک معروف بلاگ کا عنوان بھی ہے۔ آج اسی بلاگ کے لکھاری ہمارے مہمان ہیں۔ ان کی تحریروں میں پختگی پائی جاتی ہے۔ مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔ مذہب، سیاست، عالمی، سماجی اور قومی مسائل، طنز و مزاح، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر کئی موضوعات پر تحاریر کو آپ نے اپنے بلاگ کی زینت بنایا ہے۔ ان کا شمار یقینا بہترین اردو بلاگرز میں ہوتا ہے۔ جی ہاں، آج سلسلہ …
دانت خدا کی بہت بڑی نعمت ہیں اور اسی لیے ہمارے نبی پاک صلعم نے بھی دانتوں کی صفائی کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ ڈاکٹر تو آج کہتے ہیں کہ ہر کھانے کے بعد دانت صاف کرو اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم دن میں تین دفعہ دانت ضرور صاف کرو مگر ہمارے نبی صلعم کا پندرہ سو سال پرانا فرمان ہے کہ دن میں ہر وضو کے وقت دانت صاف کرو۔
ایک پنجابی محاورے کے مطابق اگر دانت نہ رہیں تو زبان کا مزہ بھی جاتا رہتا ہے۔ یہ واقعی سچ ہے اور اس کا ثبوت تب ملتا ہے جب آپ پہلی دفعہ کسی دانت کی فلنگ کروانے کے بعد خوراک چباتے ہیں …
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی ختم کرنے کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں اندرون ملک اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے سفر کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ ایٹمی پھیلاؤ سے متعلق بیانات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قریبی دوست بیرسٹر اقبال جعفری کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل عدالت نے سوموار کو اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ …
جس دن ہم نے دو نئے لطیفے سنے، اسی دن وزیراعظم کا قوم سے خطاب تھا۔ اس خطاب نے تین گھنٹے لیٹ ہونے اور تاریخ میں پہلی دفعہ تقریر کے دوران وقفہ ہونے نے ہمارے لطائف کا مزہ دوبالا کر دیا۔ عقل کے اندھو، اتنی ٹیکنالوجی کے ايڈوانس ہونے کے باوجود تم سے خطاب وقت پر نہیں ہو سکا اور پھر تم نے وزیراعظم کے سامنے پڑھنے والی سکرین کے خراب ہونے کی صورت میں لکھی ہوئی تقریر کا پہلے سے بندوبست کیوں نہیں کیا گیا۔ پی ٹی وی نے سکرین خراب ہونے پر وزیراعظم کی تقریر روک کر پہاڑی مناظر دکھانے شروع کردیے۔ وزیراعظم کی اس …
ایک طرف امریکہ اور نیٹو پشتون اکثریت پر مشتمل طالبان سے نالاں ہیں تو دوسری طرف پشتون کلچر سے متاثر آسٹریلین ہدایتکار بنجامن گلمور نے درہ آدم خیل کے جنگ سے متاثرہ علاقہ میں بقدم خود جا کر ایک فلم بنائی ہے۔ فلم کا نام ”بچې شير“ یعنی Son of a lion ہے۔ یہ فلم ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جو اپنے باپ کی اسلحہ فیکٹری میں کام کرنے کی بجائے سکول جانا چاہتا ہے۔ جرمن میگزین ”سپیگل آنلائن“ نے بنجامن گلمور سے اسی فلم کی بابت گفتگو جو کافی دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے، یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
اور یہ رہا ٹریلر:
زمانہ بدلتے بدلتے اقدار بدل گئی ۔۔۔۔ رفتار بڑھاتے بڑھاتے زندگی بدل گئی۔ بدل کیا گیا؟ سب کچھ کھو گیا۔ حقیقی وراثت افسانوی کہانی بن گئی۔ افسانہ کے لیئے حقیقی کہانی کچھ ہونا ضروری ہے۔ حقیقی کہانی نہیں تو اُس میں حقیقت کا رنگ کچھ حد تک ہونا لازم ہے۔ مگر آج پیروکار گُرو کو مافوق الفطرت ثابت کر کے حقیقی صورت کو افسانوی رنگت بخش دیتے ہیں۔ مخبوط الحواس افراد آج اندھے ہیں اور خود چاہتے ہیں دوسرے بھی اندھے کی نگاہ سے دیکھے۔ افسوس! بناوٹ قدرت چاہتی ہے۔ مگر ہم قدرت بلکہ فطری عمل کو بناوٹی رنگوں سے سنوارتے …
کہتے ہیں، اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔ ؛۔) ہاں، ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں کی عوام ہر کچھ دیر بعد ایک خوشی حاصل کرتی ہے اور پھر زور سے نعرہ مارتی ہے۔۔۔۔ “لائٹ آگئی۔۔۔۔!!!” شاید ہماری حالت زار پر پہلی کے بجائے صرف دوسری بات ہی صادق آتی ہے۔
“ارے دیکھو تو سہی، ابھی اتنے گھنٹے بعد بجلی آئی تھی اور منحوس مارے پھر لے گئے۔۔۔” “میرا اتنا اچھا ڈرامہ آرہا تھا ٹی۔وی پر۔۔۔” “مااااااں۔۔۔ پھر بجلی چلی گئی۔۔۔ میں نے کام کرنا …
اب کے بارمجھے ٹیگ ٹیم کے دوسرے دور میں دعوت دینے والے ہیں ۔شعیب خالق اور دوسرے راونڈ کو ابتداء کرنے کا سہرا راہبر کے سر ہے۔ اچھا تو کھیل شروع کرتے ہیں۔ لیکن پہلے قانون لکھ دیتے ہیں ۔
الف)۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے۔
ب)۔ جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے۔
ج)۔ سوالات کےآخر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔
سوالات اور جوابات
1 :۔ ونڈوز یا لینکس؟
دونوں ہی …
کبھی کبھی حکومت اپنے عمل کو جائز قرار دینے کیلیے بہت ہی بھونڈے قسم کے دلائل دیتی ہے۔ دو دہائیاں قبل جب حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت پٹرول سے زیادہ بڑھائی تو دلیل یہ دی گئی کہ مٹی کے تیل کی قیمت زیادہ بڑھانے سے پٹرول میں مٹی کے تیل کی ملاوٹ روکی جا سکے گی۔ ان عقل کے اندھوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس طرح بیچارے غریبوں کی غربت اور بڑھے گی۔ چہ جائیکہ حکومت پٹرول میں ملاوٹ کو روکنے کی کوشش کرتی اس نے مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا کر آسان راستہ اپنایا اور اس منحوس روایت کی تقلید ابھی تک جاری ہے۔
یہ بات ہمیں …
سو، دو ہفتے کی مصروفیت کے بعد پھر سے موجاں یعنی جاب کی موجاں۔ بی اے کے امتحانات تھے، ابھی ایک پرچہ رہتا بھی ہے۔ گاؤں میں بندہ ایک ہفتہ رہے تو واپس آنے کو دل نہیں کرتا۔ ابھی بھی دل نہیں لگ رہا۔
اور ہاں ابوشامل اور وارث بھائی سے معذرت۔ میں اس ٹیگنگ کھیل سے بور ہو چکا ہوں، سو جوابات تحریر نہیں کر سکوں گا۔
بیس سال قبل کا زمانہ ہے ایک بیس سالہ جوان ریڑھی پر سبزی سجائے ہماری گلیوں میں”سبزی لے لو” کی آواز لگایا کرتا تھا۔ اس کا والد بھیڑ بکریاں چراتا اور ماں چرکھا کاتا کرتی تھی۔ وہ لوگ اس وقت چار مرلے کے مکان میں کرائے پر رہا کرتے تھے۔
اس کی آواز سن کر اگر کوئی باہر نہ نکلتا تو وہ سب کے دروازے کھٹکھٹانے شروع کردیتا اور اگر کوئی عورت کہتی کہ آج اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو وہ سبزی اس کی جھولی میں ڈال کر کہتا ماسی روپوں کی فقر نہ کرو وہ پھر لے لوں گا۔ اگر اس کی سزی نہ بکتی اور اس کے خراب ہونے کا خطرہ ہوتا …
میں 13 دسمبر 2005ء کو لکھ چکا ہوں کہ بیسویں صدی میں پوست کے پودے سے یورپی سائنسدانوں نے ہیروئین بنائی اور اس کے کارخانے افغانستان کے دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں لگائے ۔ اِن کارخانوں کی معمل [laboratories] یورپی ممالک سے بن کر آئے تھے ۔ مزید یہ کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ جب افغانستان پر مُلا عمر کا حُکم چلتا تھا تو ہیروئین کی افغانستان میں پیداوار صفر ہو گئی تھی ۔
چند ماہ سے امریکا اور اُس کے حواریوں کا شور و غُوغا ہے کہ طالبان ہیروئین کا وسیع پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں اور اس کی کمائی سے اسلحہ …
وقت اور حالات کے ساتھ انسان ضرور بدلتا ہے۔ اور انسان میں کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں وقت اور حالات سے سیکھ کر ان میں اچھی تبدیلیاں آتی ہیں، تو کچھ سیکھے بِنا ہی زندگی گزارتے جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان حالات و واقعات کا منفی اثر لیتے ہوئے اپنے آپ کو بدل لیتے ہیں۔
میں بدل گئی۔۔۔یہ سب کیسے اور کیوں ہوا۔۔۔ میری سمجھ سے باہر ہے۔ شاید عمر کا بھی تقاضا ہے،
کہ انسان میں عمر کے ساتھ ساتھ بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اب امی مجھے کہتی ہیں کہ جوں جوں یہ لڑکی بڑی ہوتی جا رہی ہے، اس کی …
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں تو یہی لگتا ہے کہ لوگ باعمل مسلمانی کی بجائے نام کی مسلمانی کی طرف سرکتے جا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر کوئی تبدیلی کو اسی نظر سے دیکھے گا جو جیسے ماحول میں رہ رہا ہو گا۔ مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے کو نمازیوں کی تعداد بڑھتی ہوئی نظر آئے گی۔ مسجد سے دور رہنے والے کو سب مسلمان صرف نام کے مسلمان ہی نظر آئیں گے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ماحول انسان کی تبدیلی میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ جس طرح کچھ عرصہ قبل طالبان کی قید میں برطانوی انگریز صحافی عورت نے اسلام …
میرا دماغ بھی عجیب ہے۔۔۔ اچھوتی اچھوتی باتوں کا سوچتا ہے اور پھر اس کے بعد اپنے ہی آپ کو چیلنج کہ میں یہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟ “نہیں” کیسے کہوں، جواب “ہاں” ہی میں ہوتا ہے اور پھر ثبوت۔۔۔!!!
میرے دفتر سے کچھ فاصلہ ہی پر مزارِ قائد ہے۔۔۔ عظیم رہنما، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تربت۔ گھر سے دفتر آنے اور دفتر سے گھر جانے کے دوران عموما اس کے سامنے ہی سے گزرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے دماغ پر ایک خیال سوار ہوگیا کہ میں نے گزرتے ہوئے قائد کو سلیوٹ کرنا ہے۔۔۔ اب آپ خود سوچیں، عین سڑک پر گزرتے ہوئے …
اردو محفل پر ایک موضوع پاکستانی معاشرہ کی تعریف کیجئے پر گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے میں نے بھی اپنے مبارک خیالات کا اظہار فرمایا۔
بیاض کے قارئین کے استفادے کے لیے پیش کرتا ہوں۔
ہر معاشرہ اور قوم میں خوبیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ اب اگر ہماری خامیاں بڑھ گئی ہیں تو اب کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم دور بیٹھ کر تنقید کرتے رہیں؟ ایک لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف تنقید کرنے تک محدود رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو تنقید کے بعد ایک قدم آگے بڑھ کر اصلاح کا فرض بھی نبھاتے ہیں۔ ہاں، ہمارے معاشرہ کی خامیاں کافی …
آج سلسلہ شناسائی میں ہمارے مہمان بلاگر سے اردو بلاگنگ میں نئے آنے والے شاید کم ہی متعارف ہوں۔ یہ اگرچہ زیادہ تر انگریزی میں بلاگ کرتے ہیں اور اردو میں کچھ کم لکھا ہے لیکن جتنا لکھا ہے، خوب لکھا ہے۔ اردو نثر کی پختگی اور سماجی حالات پر گہری نظر کا ثبوت ان کی تحریر “ایک بوڑھے آدمی کی سالگرہ” سے ملتا ہے۔
ہمارے آج کے مہمان بلاگر نے اپنے بلاگ کی پانچویں سالگرہ منائی اپریل میں منائی اور اس موقع پر لکھی جانے والی تحریر میں نہ صرف اپنی پانچ سالہ بلاگنگ کا جائزہ لیا بلکہ اپنے بلاگ کی ای۔بک بھی جاری …
امریکا جو کہ پسِ پردہ سوویٹ فوجوں کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کر رہا تھا کو اُس وقت پریشانی لاحق ہوئی جب اسلامی حکومت قائم کرنے کا نعرہ بلند کرنے والے افغان مجاہدین بظاہر کامیاب نظر آنے لگے ۔ اس وقت امریکا نے یکدم ہاتھ کھینچ لیا کہ کہیں مسلمانوں کی ایک اور حکومت قائم نہ ہو جائے ۔ 10 اپریل 1988ء کو ہونے والا مشہور اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا حادثہ جس میں مسلم لیگ نواز کے لیڈر اور منیجنگ ڈائریکٹر ایئر بلیو شاہد خاقان عباسی کے والد محمد خاقان عباسی سمیت بہت سے پاکستانی شہری ہلاک ہوئے امریکہ کی مہربانی …
وطنِ عزیز میں قسم قسم کے طوطے پائے جاتے ہیں ۔ طوطے کی بُنیادی طور پر دو قسمیں ہیں اور ان دو میں سے ہر ایک کی کئی کئی قسمیں ہیں ۔ ایک طوطا جسے ایک مصنف توتا لکھتے تھے ایک خوبصورت پرندہ ہے ۔ لیکن بات ہو گی دوسری قسم پر۔ دوسری قسم کے بچے تو سب طوطے ہی ہوتے ہیں کیونکہ وہ طوطوں کی طرح پیارے ہوتے ہیں اور طوطوں کی طرح ہی اپنے ادرگرد کے لوگوں کی نقل کر کے بولنا سیکھتے ہیں ۔
اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ان دوسری قسم کے طوطوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انہیں سوچنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے مگر اُن …