Hacking کیسے کی جاتی ہے ؟

آصف اثر

معطل
کم سے بھی کام چلے گا
آج کل قرعہ اندازی ہورہی ہے کیا پتہ نام اجاوے
حضرت اب بچارے کی جان چھوڑ بھی دیجیے۔ وہ آیا ہیکنگ سکھانے آپ نے پتا نہیں کن چکروں میں لگادیا۔
اسماعیل بھائی آپ ضرور اپنے تجربات شئیر کیجیے۔ یہ کوئی غیر قانونی نہیں۔ جو غلط استعمال کرے گا۔ پکڑا جائے گا۔ 0،1 کا کھیل ہے کوئی بچے گا نہیں۔آپ بسم اللہ کیجیے۔
 
حضرت اب بچارے کی جان چھوڑ بھی دیجیے۔ وہ آیا ہیکنگ سکھانے آپ نے پتا نہیں کن چکروں میں لگادیا۔
اسماعیل بھائی آپ ضرور اپنے تجربات شئیر کیجیے۔ یہ کوئی غیر قانونی نہیں۔ جو غلط استعمال کرے گا۔ پکڑا جائے گا۔ 0،1 کا کھیل ہے کوئی بچے گا نہیں۔آپ بسم اللہ کیجیے۔
میں تو بچارہا ہوں
توبہ حج عمرے پر ہی لگایا ہے۔ کیا برا کیا
 
حضرت اب بچارے کی جان چھوڑ بھی دیجیے۔ وہ آیا ہیکنگ سکھانے آپ نے پتا نہیں کن چکروں میں لگادیا۔
اسماعیل بھائی آپ ضرور اپنے تجربات شئیر کیجیے۔ یہ کوئی غیر قانونی نہیں۔ جو غلط استعمال کرے گا۔ پکڑا جائے گا۔ 0،1 کا کھیل ہے کوئی بچے گا نہیں۔آپ بسم اللہ کیجیے۔

ہاں یار ٹھیک ہی کہتے ہو!
چلیں اسماعیل بھائی شروع کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز!!!
 

محمد وارث

لائبریرین
میرے خیال میں جیسے کسی بھی قانون پر عمل درآمد کروانا ریاست اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے نہ کہ ہر کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا پھرے اسی طرح "جائز" ہیکنگ کی اجازت بھی صرف اور صرف ریاست اور اس کے اداروں کو ہونی چاہیے اور یہ بہت سے پہلوؤں سے انتہائی ضروری بھی ہے۔ فرد کی ہیکنگ چاہے وہ اسے بزعمِ خود "جائز" ہی سمجھتا ہو جائز نہیں ہونی چاہیے۔یہاں ہیک کرنے اور ہیکنگ کو سمجھنے میں فرق ہے۔ ہیکرز سے بچاؤ کے لیے کوئی فرد ہیکنگ سمجھ سکتا ہے اور مناسب حفاظتی اقدام اٹھا سکتا ہے لیکن ہیک کرنا بہر طور، ریاست، ریاستی اداروں یا ان کے معاونین کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور بھی صرف جائز معاملات میں۔
 

اکمل زیدی

محفلین
میرے خیال میں فن کے حساب سے جائز ناجائز کی بات نہیں۔ ہاں اس کے استعمال پر بات ہے۔ جیسے چاقو کے جائز ناجائز ہونے کا کوئی نہیں پوچھتا، ہاں یہ ضرور ہے کہ چاقو استعمال کہاں ہو رہا ہے، خربوزے پر یا گردن پر۔ رہی بات سیکھنے کی تو حضور آج کل جس کے پاس انٹرنیٹ کہ سہولت موجود ہے، اس کے پاس نہ سیکھنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ گوگل پر تلاش کیجیے بہت مواد مل جائے گا۔
:applause:
 

سعادت

تکنیکی معاون
عام طور پر (میڈیا یا روزمرہ بول چال میں) ’ہیکر‘ یا ’ہیکنگ‘ کو منفی معنوں میں لیا جاتا ہے، لیکن اصلاً ’ہیکر‘ کی اصطلاح ایک ایسے شخص کے لیے مخصوص ہے جو کسی بھی نظام (خصوصاً کمپیوٹرز اور کمپیوٹر نیٹ‌وَرکس) کی باریکیوں کو بخوبی سمجھتا ہو اور اس نظام کے مختلف مسائل یا چیلنجز کو حل کرنے کے لیے دلچسپ اور اچھوتے طریقوں کا استعمال کرتا ہو۔ ’ہیکر‘ کی اِس تعریف پر اصرار کرنے والے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر قانونی ہیکنگ (جیسے پاسورڈز یا دیگر ڈیجیٹل معلومات کی چوری) میں ملوث لوگوں کو ’کریکر‘ کہا جانا چاہیے، لیکن میڈیا کو ’ہیکر‘ ہی پسند ہے۔ :)
 

سید عمران

محفلین
شاہ زیب اسماعیل
محمد وارث صاحب کی رائے صحیح ہے۔۔۔
ہیکنگ سے متعلق اگر کوئی بین الاقوامی قانون یا ضابطۂ اخلاق ہے تو اس کی اتباع کریں۔۔۔
غیر قانونی و غیر اخلاقی ہیکنگ کبھی نہ کریں۔۔۔
آج کل جیسے حالات چل رہے ہیں ان میں کسی اور کا کیا کرایا آپ کے گلے بھی پڑ سکتا ہے۔۔۔
سیکھنے سیکھانے میں تو بالکل کوئی حرج نہیں۔۔۔
بلکہ جسے شوق ہو اسے ضرور سیکھنا چاہیے۔۔۔
البتہ دوسروں پر اطلاق کرنے میں ہوشیار رہیں۔۔۔
اب تک جو دوسروں کے اکاؤنٹ ہیک کیے تو مخلوق کو ایذا پہنچانے کا گناہ تو لازم آیا۔۔۔
اس کا کفارہ خدا سے سچے دل سے معافی مانگنا ہے۔۔۔
اور اگر ہوسکے تو حسب استطاعت کچھ رقم صدقہ کرکے اس کا ثواب ان تمام لوگوں کو پہنچایا جاسکتا ہے۔۔۔
ہر حال میں مخلوق سے معافی مانگنا درست نہیں۔۔۔
جیسے اگر کسی کی غیبت کی تو اگر اس کو اطلاع نہیں ملی تو اس سے معافی مانگنا درست نہیں۔۔۔
بس خدا سے معافی مانگیں اورکچھ صدقہ کرکے اس کا ثواب اسے پہنچادیں۔۔۔
کیوں کہ اگر اس سے کہو گے کہ میں نے تمہیں برا بھلا کہا تھا تو اس کو تکلیف بھی ہوگی اور تعلقات بھی خراب ہوں گے۔۔۔
ہاں اگر اس کو اطلاع ہوگئی تب اس سے معافی مانگنا ضروری ہے۔۔۔
البتہ جس کے سامنے غیبت کی اس سے ہر صورت میں اپنی غلطی کا اقرار کرنا ضروری ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی کہ اپنے بھائی کی برائی کی، میں اس پر نادم ہوں۔۔۔
 
آخری تدوین:

asakpke

محفلین
کامیابی اس حد تک ضرور ملی کہ کچھ کمزور پاسورڈز تک رسائی ملی ۔ لیکن اس سے زیادہ نہیں ۔ ویسے بھی بڑا صبر آزما کام ہے ۔ 24 سے 36 گھنٹے تک انتظار ۔ انتطار ۔ انتطار
وقت کچھ زیادہ نہیں بتا دیا؟ میرے تجربے میں تو 3 یا 4 گھنٹے لگے تھے، یا زیادہ سے زیادہ 8 گھنٹے. میں نے پی ٹی سی ایل راؤٹر پر تجربہ کیا تھا
 
شاہ زیب اسماعیل
محمد وارث صاحب کی رائے صحیح ہے۔۔۔
ہیکنگ سے متعلق اگر کوئی بین الاقوامی قانون یا ضابطۂ اخلاق ہے تو اس کی اتباع کریں۔۔۔
غیر قانونی و غیر اخلاقی ہیکنگ کبھی نہ کریں۔۔۔
آج کل جیسے حالات چل رہے ہیں ان میں کسی اور کا کیا کرایا آپ کے گلے بھی پڑ سکتا ہے۔۔۔
سیکھنے سیکھانے میں تو بالکل کوئی حرج نہیں۔۔۔
بلکہ جسے شوق ہو اسے ضرور سیکھنا چاہیے۔۔۔
البتہ دوسروں پر اطلاق کرنے میں ہوشیار رہیں۔۔۔
اب تک جو دوسروں کے اکاؤنٹ ہیک کیے تو مخلوق کو ایذا پہنچانے کا گناہ تو لازم آیا۔۔۔
اس کا کفارہ خدا سے سچے دل سے معافی مانگنا ہے۔۔۔
اور اگر ہوسکے تو حسب استطاعت کچھ رقم صدقہ کرکے اس کا ثواب ان تمام لوگوں کو پہنچایا جاسکتا ہے۔۔۔
ہر حال میں مخلوق سے معافی مانگنا درست نہیں۔۔۔
جیسے اگر کسی کی غیبت کی تو اگر اس کو اطلاع نہیں ملی تو اس سے معافی مانگنا درست نہیں۔۔۔
بس خدا سے معافی مانگیں اورکچھ صدقہ کرکے اس کا ثواب اسے پہنچادیں۔۔۔
کیوں کہ اگر اس سے کہو گے کہ میں نے تمہیں برا بھلا کہا تھا تو اس کو تکلیف بھی ہوگی اور تعلقات بھی خراب ہوں گے۔۔۔
ہاں اگر اس کو اطلاع ہوگئی تب اس سے معافی مانگنا ضروری ہے۔۔۔
البتہ جس کے سامنے غیبت کی اس سے ہر صورت میں اپنی غلطی کا اقرار کرنا ضروری ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی کہ اپنے بھائی کی برائی کی، میں اس پر نادم ہوں۔۔۔
رحم کریں، ہیکنگ کو غیبت پر قیاس کرنا "قیاس مع الفارق" ہے، کہ غیبت کا اثر تو ابھی مغتاب تک پہنچا ہی نہیں، اس کے برعکس ہیکنگ کا اثر براہ راست مغتاب تک پہنچ چکا ہے۔ کتبِ "اصول" دیکھیں گے تو بآسانی واضح ہوجائے گا۔
 
رحم کریں، ہیکنگ کو غیبت پر قیاس کرنا "قیاس مع الفارق" ہے، کہ غیبت کا اثر تو ابھی مغتاب تک پہنچا ہی نہیں، اس کے برعکس ہیکنگ کا اثر براہ راست مغتاب تک پہنچ چکا ہے۔ کتبِ "اصول" دیکھیں گے تو بآسانی واضح ہوجائے گا۔

انٹرنیٹ ملاوں سے اللہ بچائے۔
 

فرقان احمد

محفلین
اب تک جو دوسروں کے اکاؤنٹ ہیک کیے تو مخلوق کو ایذا پہنچانے کا گناہ تو لازم آیا۔۔۔
اس کا کفارہ خدا سے سچے دل سے معافی مانگنا ہے۔۔۔
اور اگر ہوسکے تو حسب استطاعت کچھ رقم صدقہ کرکے اس کا ثواب ان تمام لوگوں کو پہنچایا جاسکتا ہے۔۔۔
ہر حال میں مخلوق سے معافی مانگنا درست نہیں۔۔۔
جیسے اگر کسی کی غیبت کی تو اگر اس کو اطلاع نہیں ملی تو اس سے معافی مانگنا درست نہیں۔۔۔
بس خدا سے معافی مانگیں اورکچھ صدقہ کرکے اس کا ثواب اسے پہنچادیں۔۔۔
کیوں کہ اگر اس سے کہو گے کہ میں نے تمہیں برا بھلا کہا تھا تو اس کو تکلیف بھی ہوگی اور تعلقات بھی خراب ہوں گے۔۔۔
ہاں اگر اس کو اطلاع ہوگئی تب اس سے معافی مانگنا ضروری ہے۔۔۔
البتہ جس کے سامنے غیبت کی اس سے ہر صورت میں اپنی غلطی کا اقرار کرنا ضروری ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی کہ اپنے بھائی کی برائی کی، میں اس پر نادم ہوں۔۔۔
سنہرے الفاظ
 

سید عاطف علی

لائبریرین
میرے خیال میں فن کے حساب سے جائز ناجائز کی بات نہیں۔ ہاں اس کے استعمال پر بات ہے۔ جیسے چاقو کے جائز ناجائز ہونے کا کوئی نہیں پوچھتا، ہاں یہ ضرور ہے کہ چاقو استعمال کہاں ہو رہا ہے، خربوزے پر یا گردن پر۔ رہی بات سیکھنے کی تو حضور آج کل جس کے پاس انٹرنیٹ کہ سہولت موجود ہے، اس کے پاس نہ سیکھنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ گوگل پر تلاش کیجیے بہت مواد مل جائے گا۔
بھئی بہت سی گردنیں بھی اسی لائق ہوتی ہیں جن پر چاقو چلنا خربوزے پر چلنے کی طرح ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نفع آور۔مثلاََ دہشت گردوں کی گردن فسادیوں کی گردنیں اور حلال مویشیوں کی گردنیں وغیرہ۔
 
Top