گنے سے گڑ تک کا سفر

mfdarvesh

محفلین
چینی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں گڑ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور کاشتکار گنا شوگر ملوں کوفروخت کرنے کے بجائے اس سے گڑ بنانے کو ترجیج دیتے ہیں۔ گنے سے گڑ کی تیاری کے مراحل:

صوبہ خیبر پختونخوا کے کاشتکار گنے کی کاشت سے لے کر اس گڑ کی تیاری تک سخت مشقت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔
25tjnr9.jpg


گڑ کی تیاری میں سب سے پہلا مرحلہ گنے کی کھیتوں سے کٹائی اور اسے کھیتوں کے بیچوں بیچ بنائے گئے گڑ سازی کے کارخانے تک لانا ہوتا ہے۔
x3zp4w.jpg


یہاں گنے کو بیلنے میں سے گزار کر اس سے رس حاصل کیا جاتا ہے اور اس رس کو ایک بہت بڑے کڑاہ میں ڈال کر اس کے نیچے آگ جلائی جاتی ہے۔
n4e641.jpg


مسلسل کئی گھنٹے تک آگ پر پکنے کے بعد گنے کا رس گاڑھا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
t8olrp.jpg


پکنے کے اس عمل کے دوران گنے کے رس میں میٹھا سوڈا اور دیگر کیمیائی مواد ڈال اس میں سے مختلف کثافتوں کو الگ کیا جاتا ہے۔
verh5f.jpg


ایک ماہر گڑ ساز مسلسل اس کی سطع پر جمع ہونے والی جھاگ اور دیگر کثافتوں کو ایک چھلنے کی مدد سے باہر نکالتا رہتا ہے۔
2jfyr1c.jpg


گڑ کی تیاری کے اس عمل کے دوران کاشتکار اپنے عمر بھر کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
9v8fps.jpg


گنے کا رس مسلسل آگ پر پکنے کے بعد ایک لئی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
2qiy7av.jpg


اس مرحلہ پر اسے ٹھنڈا کرنے کی غرض سے ایک لکڑی کے بنے ہوئے کھلے برتن میں ڈالا جاتا ہے جسے کئی علاقوں میں ’آتھرا‘ کہتے ہیں۔
r04f1k.jpg


اسے ٹھنڈا کرنے کے عمل کے دوران مسلسل ہلایا جاتا ہے تاکہ یہ خستہ رہے۔
2jczfc7.jpg


جب اس کی اوپر کی سطع ٹھنڈا ہو کر سخت ہو جاتی ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ اب گڑ کی بھیلیاں بنانے کے لیے تیار ہے۔
5drnsi.jpg


یہ معلومات بی بی سی اردد کے اس لنک پر دستیاب ہیں
اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے راستے میں جا بجا اس طرح کے کارخانے نظر آتے ہیں، مگر ان کے کام کا انداز ابھی دیکھا ہے۔ ہمارے ہاں تو اس سادہ گڑ کے علاوہ دوسرا گڑ بھی ملتا ہے جس میں میوہ جات استعمال کیے جاتے ہیں،
مجھے شدید حیرت ہوئی ہے اس کو دیکھ کے کہ کوئی حفظان صحت کے اصول نہیں نظر آئے، یہ گڑ تو مضر صحت ہی کہا جاسکتا ہے
 

شمشاد

لائبریرین
یہ گُڑ بالکل بھی مضر صحت نہیں ہوتا اور میں تو ان شامل بھی رہا ہوں جب گُڑ بناتے ہیں۔
 

رانا

محفلین
بہت شکریہ جناب۔ مجھے بہت اشتیاق تھا یہ تمام پراسس پتہ کرنے کا۔ جزاک اللہ کہ آپ نے میری دیرینہ خواہش پوری کردی۔
 

شمشاد

لائبریرین
شروع کا مرحلہ تو بیان ہی نہیں ہوا۔ ہوتا یہ ہے کہ گنے کا رس نکالنے کا لیے ایک بیلنا لگایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تو اسے بیل کو جوت کر چلاتے ہیں۔ تین چار گنے اکٹھے لگاتے رہتے ہیں اور ان کو تین سے چار بار بیلنے سے گزارہ جاتا ہے تا کہ رس اچھی طرح نکل آئے۔ رس نکلنے کے بعد جو پھوک رہ جاتا ہے، اس کو سوکھا کر ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ یہ سردیوں کی فصل ہے اور ہمارے ہاں اکثر رات میں گُڑ بنانے کا کام ہوتا ہے جو کہ ایک کمرے میں کرتے ہیں۔ کمرے میں دھواں اتنا زیادہ بھرا ہوتا ہے کہ زمین سے صرف تین فٹ تک رہ جاتا ہے۔ سارا کام نیچے بیٹھ کر ہی ہوتا ہے۔

باقی کا سارا کام ویسے ہی ہے جو کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔
 
بڑا صبر آزما کام ہوتا ہے لیکن بیچ بیچ میں دلچسپیوں کا سامان بھی خوب ہوتا ہے۔ مثلاً رس کو پکاتے ہوئے اس میں دھاگے میں پرو کر آلو اور کچھ دوسری سبزیوں کی مالا ڈال دیتے ہیں جو تھوڑی دیر بعد نکال کر کھانے میں بہت لذیذ ہوتا ہے۔ اسی طرح گڑ کی تیاری کے آخری مرحلے یں جب وہ ہلکا گرم رہ جائے تو اسے کھانے میں بڑا مزا آتا ہے۔ :)
 

میم نون

محفلین
میں ایک دفعہ بچپن میں ابو کے ساتھ ان کے ننھیال گیا تو وہاں پر گڑ بنتے ہوئے دیکھا،
کافی دلچسپ منظر تھا، بہت سے لوگ کڑاہ کے گرد اکٹھے ہو کر خوب مزے سے بناتے ہیں اور کافی رونق ہوتی ہے اس وقت۔
 

شمشاد

لائبریرین
میں ایک دفعہ بچپن میں ابو کے ساتھ ان کے ننھیال گیا تو وہاں پر گڑ بنتے ہوئے دیکھا،
کافی دلچسپ منظر تھا، بہت سے لوگ کڑاہ کے گرد اکٹھے ہو کر خوب مزے سے بناتے ہیں اور کافی رونق ہوتی ہے اس وقت۔

کڑاہ کے گرد بیٹھ کر واقعی بہت مزہ آتا ہے اور خوب گپ شپ بھی ہوتی ہے۔
 

mfdarvesh

محفلین
بہت شکریہ، سب دوستوں کا،
شمشاد بھائی، آپ تو گڑباز ہوئے نا، میرے کہنے کا مطلب تو یہ تھا کہ صفائی ستھرائی کچھ خاص نہیں ہے،خالص تو بہرحال ہے
سعود بھائی، آپ نے تو کیا بات کی ہے، وہ میٹھے میٹھے کھانے میں واقعی بڑا مزہ آتا ہوگا
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
بڑا صبر آزما کام ہوتا ہے لیکن بیچ بیچ میں دلچسپیوں کا سامان بھی خوب ہوتا ہے۔ مثلاً رس کو پکاتے ہوئے اس میں دھاگے میں پرو کر آلو اور کچھ دوسری سبزیوں کی مالا ڈال دیتے ہیں جو تھوڑی دیر بعد نکال کر کھانے میں بہت لذیذ ہوتا ہے۔ اسی طرح گڑ کی تیاری کے آخری مرحلے یں جب وہ ہلکا گرم رہ جائے تو اسے کھانے میں بڑا مزا آتا ہے۔ :)

میرے دل کی بات بھی آپ نے ہی کہہ ڈالی۔ نانا جان کی زمینیں گھر سے کافی دور ہیں۔ جب ہم چھوٹے ہوتے زمینوں پہ جایا کرتے تھے تو واپسی پہ نانا جان گنے پہ لگا کے دیا کرتے تھے۔
اور ہم راستے میں وہ کھاتے ہوئے آتے اس طرح ٹائم اور راستہ جلدی کٹ جایا کرتا تھا اور یہ احسا س گھر جا کے ہی ہوا کرتا تھا کہ ہم تھک گئے ہیں۔:)
 

شمشاد

لائبریرین
گنے کی فصل جب تیار ہو جاتی ہے یعنی کہ جب گنا پانچ سے چھ فٹ لمبا ہو جاتا ہے، تو دوسری فصلوں کی طرح اس کو جڑ سے نہیں اکھاڑتے بلکہ اس کو زمین کے قریب سے ترچھا کاٹ لیتے ہیں۔ اس کے بعد گنا پھر سے اُسی بیج سے مزید اُگنا شروع ہو جاتا ہے اور جلد ہی پھر اُسی اُونچائی پر پہنچ جاتا ہے، ایکبار پھر اُسے زمین کے قریب سے کاٹ لیتے ہیں، پھر تیسری مرتبہ گنا اُسی بیج سے اُگنا شروع ہو جاتا ہے۔ تیسری مرتبہ اُسے زمین سے اُکھاڑ لیتے ہیں کہ اس وقت تک گنے کی کاشتکاری کا موسم بھی ختم ہو جاتا ہے۔
 

mfdarvesh

محفلین
جی عموما ٹوکے سے کاٹتے ہیں بہت مشکل کام ہے، مگر دوبارہ اگنے کا نہیں پتا، ایک دوست ہے زمیندار اس سے پوچھتا ہوں
 

میم نون

محفلین
جی بلکل ایسا ہی ہے، گنے کی عام طور سے تین بار کٹائی ہوتی ہے، میری نانی امی کے گھر کے ساتھ ہماری ایک چھوٹی سی حویلی تھی اور وہاں پر ہم نے ایک دفعہ گنے اُگائے تھے اور پھر دو تین دفعہ گنے کاٹے تھے وہاں سے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ چانٹ، چانٹے سے مماثل کوئی چیز تو نہیں ہے۔;) ویسے چانٹے، چماٹے اور طمانچےسے متعلق بھی کوئی دوست کچھ بتا سکے کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا بگڑا ہوا تو کوئی حرج نہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
لیکن گنے کو کوئی چانٹے کیسے لگا سکتا ہے، ہاں جو گنا چُوس رہا ہو، اس کا معاملہ دوسرا ہے۔
 
Top