کیچڑ میں کنول

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میں عام طور پر کوئلے کے کاروبار سے دور ہی رہتا ہوں۔ لیکن کبھی کبھی نادانستگی میں کوئلوں کی دکان سے گذر ہو ہی جاتا ہے۔ کل کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں کتابوں کی دکان سمجھ کر داخل ہوا لیکن اندر جا کر معلوم ہوا کہ کوئلوں کا کاروبار ہورہا ہے۔ واپس پلٹنے ہی لگا تھا کہ ایک چمکدار شے نظر آئی۔ سن رکھا تھا کہ کبھی کبھی کوئلے کی کان سے ہیرے بھی نکل آتے ہیں۔ اٹھا کر دیکھا تو واقعی ہیرا تھا۔ روشنی دیتا ہوا ، چمکدار، بہت قیمتی! بہت ہی قیمتی !! کوہ نور!!!!!
آپ بھی دیکھئے!

" زمین پر لکیروں کی مدد سے کچھ خانے بنائیں اور ان کے کچھ نام رکھ دیں پھر اپنی جھولی میں چند پتھر ، کوئلے ،گوبر، پلاسٹ، سبزی، لوہے، سونا ، چاندی کے ٹکرے رکھ کر اچھال دیں ۔ سونا جس خانے میں بھی گرے سونا ہی ہوگا، چاندی چاندی ہی رہے گی، گوبر ہر خانے میں گوبر ہی رہے گا۔ یہی مثال انسانوں کی ہے ۔ نیک دل ، منکسرالمزاج، بلند اخلاق، اعلیٰ دماغ کے لوگ ، انسانوں کی ایک قسم ہے ، یہ کہیں بھی پیدا ہوں کسی ملک میں رہیں ، کسی شہر میں پلیں بڑھیں ، کوئی بھی زبان بولتے ہوں یہ ایک ہی جماعت ہیں۔ سادہ لو، عوامی مزاج ، عمومی عقل سمجھ کی ایک اور جماعت ہے یہ بھی ہر قریہء زمین پر مل جاتی ہے۔ اسی طرح کئی قسمیں ہیں اچھوں کی بھی بُروں کی بھی ۔ اچھائی یا بُرائی، بدی اور بھلائی کبھی خطہء زمین سے متعلق نہیں ہوتیں بلکہ سوچ ، فکر اور رجحان سے علاقہ رکھتی ہیں۔ "

نمعلوم کون ہے ، کس نے لکھا ہے ، کس کے دل کی آواز ہے۔ کون سخی ہے کہ جس نے یہ ہیرا تراش کر کوئلوں میں رکھ دیا۔ مجھے نہیں معلوم۔
ہے کوئی جو کوہ نور کی خبر لائے ؟!
 
آخری تدوین:
کیچڑ میں کنول اور کوئلوں میں ہیرا ۔ کیا بات ہے صاحب۔ بالکل اسی طرح جیسے حقیر کیڑوں کے منہ سے نکلا شہد اور ریشم، جیسے حقیر ماٹی کے پتلے کے سینے میں پُر نور دل۔
 
زمین پر لکیروں کی مدد سے کچھ خانے بنائیں اور ان کے کچھ نام رکھ دیں پھر اپنی جھولی میں چند پتھر ، کوئلے ،گوبر، پلاسٹ، سبزی، لوہے، سونا ، چاندی کے ٹکرے رکھ کر اچھال دیں ۔ سونا جس خانے میں بھی گرے سونا ہی ہوگا، چاندی چاندی ہی رہے گی، گوبر ہر خانے میں گوبر ہی رہے گا۔ یہی مثال انسانوں کی ہے ۔ نیک دل ، منکسرالمزاج، بلند اخلاق، اعلیٰ دماغ کے لوگ ، انسانوں کی ایک قسم ہے ، یہ کہیں بھی پیدا ہوں کسی ملک میں رہیں ، کسی شہر میں پلیں بڑھیں ، کوئی بھی زبان بولتے ہوں یہ ایک ہی جماعت ہیں۔ سادہ لو، عوامی مزاج ، عمومی عقل سمجھ کی ایک اور جماعت ہے یہ بھی ہر قریہء زمین پر مل جاتی ہے۔ اسی طرح کئی قسمیں ہیں اچھوں کی بھی بُروں کی بھی ۔ اچھائی یا بُرائی، بدی اور بھلائی کبھی خطہء زمین سے متعلق نہیں ہوتیں بلکہ سوچ ، فکر اور رجحان سے علاقہ رکھتی ہیں ۔
ایک عظیم آدمی کو دوسرے عظیم آدمی کا خراج تحسین! :redheart:
 
میں عام طور پر کوئلے کے کاروبار سے دور ہی رہتا ہوں۔ لیکن کبھی کبھی نادانستگی میں کوئلوں کی دکان سے گذر ہو ہی جاتا ہے۔ کل کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں کتابوں کی دکان سمجھ کر داخل ہوا لیکن اندر جا کر معلوم ہوا کہ کوئلوں کا کاروبار ہورہا ہے۔ واپس پلٹنے ہی لگا تھا کہ ایک چمکدار شے نظر آئی۔ سن رکھا تھا کہ کبھی کبھی کوئلے کی کان سے ہیرے بھی نکل آتے ہیں۔ اٹھا کر دیکھا تو واقعی ہیرا تھا۔ روشنی دیتا ہوا ، چمکدار، بہت قیمتی! بہت ہی قیمتی !! کوہ نور!!!!!
آپ بھی دیکھئے!

" زمین پر لکیروں کی مدد سے کچھ خانے بنائیں اور ان کے کچھ نام رکھ دیں پھر اپنی جھولی میں چند پتھر ، کوئلے ،گوبر، پلاسٹ، سبزی، لوہے، سونا ، چاندی کے ٹکرے رکھ کر اچھال دیں ۔ سونا جس خانے میں بھی گرے سونا ہی ہوگا، چاندی چاندی ہی رہے گی، گوبر ہر خانے میں گوبر ہی رہے گا۔ یہی مثال انسانوں کی ہے ۔ نیک دل ، منکسرالمزاج، بلند اخلاق، اعلیٰ دماغ کے لوگ ، انسانوں کی ایک قسم ہے ، یہ کہیں بھی پیدا ہوں کسی ملک میں رہیں ، کسی شہر میں پلیں بڑھیں ، کوئی بھی زبان بولتے ہوں یہ ایک ہی جماعت ہیں۔ سادہ لو، عوامی مزاج ، عمومی عقل سمجھ کی ایک اور جماعت ہے یہ بھی ہر قریہء زمین پر مل جاتی ہے۔ اسی طرح کئی قسمیں ہیں اچھوں کی بھی بُروں کی بھی ۔ اچھائی یا بُرائی، بدی اور بھلائی کبھی خطہء زمین سے متعلق نہیں ہوتیں بلکہ سوچ ، فکر اور رجحان سے علاقہ رکھتی ہیں۔ "

نمعلوم کون ہے ، کس نے لکھا ہے ، کس کے دل کی آواز ہے۔ کون سخی ہے کہ جس نے یہ ہیرا تراش کر کوئلوں میں رکھ دیا۔ مجھے نہیں معلوم۔
ہے کوئی جو کوہ نور کی خبر لائے ؟!

ظہیراحمدظہیر بھائی، یہ اس ناچیز کے چند جملے ہیں جو آپ ایسی علمی ہستی کی توجہ سے خود میرے لئے انمول ہوگئے ہیں.
 

با ادب

محفلین

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ان کے پیش کرنے کا انداز بتا رہا ہے کہ انہیں یہ اقتباس انٹرنیٹ پر اسی طرح بے نام ہی ملا۔ :)

تابش بھا ئی ، ادب دوست کا یہ مراسلہ انٹر نیٹ پر کہیں اور نہیں بلکہ اُسی لایعنی لڑائی میں پڑھا تھا کہ جس کا حوالہ راحیل فاروق نے اوپر دیا ہے ۔ جیسا کہ میں نے اوپر اپنے مراسلے میں عرض کیا میں نمعلوم کس رو میں یونہی اس لڑی میں چلا گیا تھاکہ شاید کوئی علم افزا بات ہو رہی ہو ۔ لیکن صاحب اس میں تو صرف اور صرف کوئلوں کی دلالی ہورہی تھی ۔ ادھر ادھر سرسری نظر ڈال کے واپس نکلنے ہی لگا تھا کہ ادب دوست کا مراسلہ نظر آیاا ور یوں اس عظیم الشان ادب پارے تک رسائی ہوئی ۔ اسے پڑھ کر تمام انقباض دور ہوگیا ۔ کلفت راحت میں بدل گئی ۔ تراشہ اس قدر اچھا ہے کہ اس میں اور لوگوں کو شریک کرنا ضرو ری جانا ۔ چنانچہ اسے بغیر کسی سیا ق و سباق کے یونہی ایک استعاراتی اور علامتی انداز میں آپ اچھے لوگوں کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کردیا ۔ حوالہ اس لئے نہیں دیا کہ میں قطعی نہیں چاہتا تھاکہ کوئی اس حوالے کے توسط سے اُس لایعنی اور نفرت انگیز لڑی تک پہنچے۔ جب میں خود ایسی فضول باتوں میں وقت اور توانائی ضائع نہیں کرنا چاہتا توکسی اور کا زیاں کیوں چاہوں ۔ یعنی ’’ میرے پتہ سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے‘‘ والا معاملہ تھا ۔

تابش بھا ئی ، میں بٹر فلائی ایفیکٹ ( Butterfly Effect)پر پختہ یقین رکھتا ہو ں کہ ہمارے دین کی بنیادی تعلیم ہی یہی ہے ۔ اچھی باتوں کی ترویج اور اشاعت ہونی چاہئے ۔ فضولیات اور خرافات کی تشہیر و اشاعت سے پرہیز ضروری ہے ۔ پبلک فورم پر کیا گیا کوئی بھی عمل انسان کے لئے یا تو خیر جاریہ بنے گا یا پھر شر جاریہ ۔ قلم ایک امانت ہے ۔ زبان کی طرح اس کی حفاظت بھی لازمی ہے ۔ اب بعض لوگ قلم کو بھی لاٹھی کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔ بس گھمائے ہی چلے جاتے ہیں ۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ زد کس کس طرف پڑ رہی ہے ۔ بعض دفعہ تو ان کے اپنے ہی سر پر آ لگتی ہے ۔ پھر بھی انہیں احساس نہیں ہوتا ۔ سو میرے خیال میں اس طرح کے غیر ضروری موضوعات پر کسی رائے کی تائید یا تردید بھی ذرا سوچ سمجھ کر کر نی چاہئے ۔
حق الیقیں بہم ہے تو پھر اس سے کیا غرض
لکھا ہے کیا فلاں نے فلانی کتاب میں​
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اگر یہ آپ.کی تحریر ہے تو اقتباس کا کیپشن ہونا چاہیئے تھا. لکھنے والے نے کوئی حوالہ نہیں دیا. اصل تحریر کا لنک دیجیئے.
کومے ڈال.کے اقتباس کی صورت دی گئی ہے لیکن انداز غیر واضح ہے ظہیر صاحب. معذرت

بھائی ، میں نے اس اقتباس کا حوالہ کسی خاص وجہ سے نہیں دیا ۔ تفصیل کے لئے تابش بھائی کے نام آج میرا جوابی مراسلہ دیکھ لیجئے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!
 
ظہیر بھائی، میں بھی اس لڑی سے دور ہی رہا. آپ کی اس پوسٹ میں راحیل بھائی کے کمنٹ کے ذریعے وہاں پہنچا. اور وہاں اس کمنٹ پر داد دینے کی غرض سے جواب لکھنے سے محض اس لیے رک گیا کہ وہ موضوع دوبارہ اوپر آ جاتا.
خیر بعد میں وہی ہوا. :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ایک عظیم آدمی کو دوسرے عظیم آدمی کا خراج تحسین! :redheart:

راحیل بھائی ، محبت ہے آپ کی کہ آپ نے ادب دوست کے ساتھ ساتھ مجھے بھی دیوارِ عظمت تلے لاکھڑا کیا ۔ ادب دوست کے ساتھ ظلم ہو گیا یہ تو ۔ آپ مجھے عظیم آدمی کی جگہ یتیم آدمی وغیرہ کہہ دیتے تو پھر چل جاتا ۔ حسبِ حال ، حسبِ زمانہ ، حسبِ روایت وغیرہ وغیرہ بھی ہوجاتا ۔ :):):)
یہ بتائیے کہ یہ آپ اپنی تحریر کے آخر میں پھڑپھڑاتا ہوا پان کا اِکّا کس طرح لگاتے ہیں ۔ :D
اور آپ ہیں کہاں ۔ آپ سے بات کئے زمانہ ہوگیا ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ظہیراحمدظہیر بھائی، یہ اس ناچیز کے چند جملے ہیں جو آپ ایسی علمی ہستی کی توجہ سے خود میرے لئے انمول ہوگئے ہیں.
ایڈی بھائی ، بیشک یہ شہ پارہ آپ ہی کے مراسلے سے لیا تھا ۔ بس میں نے بوجوہ حوالہ نہیں دیا اور کچھ علاماتی اور استعاراتی انداز میں اسے پیش کردیا ۔ جاننے والے تو جان ہی گئے ۔ آپکی یہ تحریر کسی سیاق و سباق کی محتاج نہیں ۔ اپنے پیغام میں مکمل ہے ۔ اللہ کریم آپ کو اس کے لئے اجر خیرعطا فرمائیں ۔ آپ کے قلمِ مصفا کو مصفا تر کریں اور اس کی روشنائی کو مقطر تر ! آمین ۔
 

با ادب

محفلین
بھائی ، میں نے اس اقتباس کا حوالہ کسی خاص وجہ سے نہیں دیا ۔ تفصیل کے لئے تابش بھائی کے نام آج میرا جوابی مراسلہ دیکھ لیجئے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!
بہت خوب. بس بھائی کہنے پہ اعتراض ہے مجھے. . . باجی کہہ لیں آپا کہہ لیں. . بس بھائی نہ کہیں. .
 
Top