کلاسیکی پشتو ادب کے تراجم

حسان خان

لائبریرین
السلام علیکم
میری آج کل پشتو کے گراں بہا کلاسیکی ادب میں دلچسپی جاگی ہوئی ہے، دراصل میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ فارسی کی روایات پشتو شاعری پر کس طرح اثر انداز ہوئی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، اجداد کی زبان ہونے کے باوجود، میری پشتو سے ایک فیصد بھی واقفیت نہیں ہے۔ اگر کوئی نیک دل پشتون بھائی بابائے پشتو خوشحال خان خٹک (رح) اور پشتو کے دیگر کلاسیکی شعرائے کرام کی کچھ نمائندہ غزلیں اور نعتیں وغیرہ اردو ترجمے کے ساتھ یہاں محفل پر پوسٹ کرے تو نہایت شکر گزار ہوں گا۔
 

غ۔ن۔غ

محفلین
السلام علیکم
میری آج کل پشتو کے گراں بہا کلاسیکی ادب میں دلچسپی جاگی ہوئی ہے، دراصل میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ فارسی کی روایات پشتو شاعری پر کس طرح اثر انداز ہوئی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، اجداد کی زبان ہونے کے باوجود، میری پشتو سے ایک فیصد بھی واقفیت نہیں ہے۔ اگر کوئی نیک دل پشتون بھائی بابائے پشتو خوشحال خان خٹک (رح) اور پشتو کے دیگر کلاسیکی شعرائے کرام کی کچھ نمائندہ غزلیں اور نعتیں وغیرہ اردو ترجمے کے ساتھ یہاں محفل پر پوسٹ کرے تو نہایت شکر گزار ہوں گا۔

حسان خان بھائی یہ تو بہت اچھی بات ہے اور آپ نے پشتو زبان و ادب کے حوالے سے ایک بہت مفید لڑی شروع کی ہے:)
یہاں چونکہ پشتو رسم الخط میں لکھا نہیں جا سکتا تو کیا آپ کے خیال میں اردو حروف کا استعمال مناسب رہے گا نیز اردو حروف کے استعمال سے کچھ تشنگی نہیں رہےگی؟
دوسرے یہ کہ آپ کو ترجمہ منظوم چاہیئے ؟
میں یہاں اس سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں لیکن میرے لیے منظوم ترجمہ لگانا ممکن نہیں ہوگا ہاں آسان اور رواں نثری ترجمے کے ساتھ میں یہاں پوسٹس کر سکتی ہوں لیکن جب آپ میری اس پوسٹ کی ریپلائی کر دیں اس کے بعد انشاءاللہ :battingeyelashes:
 

حسان خان

لائبریرین
حسان خان بھائی یہ تو بہت اچھی بات ہے اور آپ نے پشتو زبان و ادب کے حوالے سے ایک بہت مفید لڑی شروع کی ہے:)
یہاں چونکہ پشتو رسم الخط میں لکھا نہیں جا سکتا تو کیا آپ کے خیال میں اردو حروف کا استعمال مناسب رہے گا نیز اردو حروف کے استعمال سے کچھ تشنگی نہیں رہےگی؟
دوسرے یہ کہ آپ کو ترجمہ منظوم چاہیئے ؟
میں یہاں اس سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں لیکن میرے لیے منظوم ترجمہ لگانا ممکن نہیں ہوگا ہاں آسان اور رواں نثری ترجمے کے ساتھ میں یہاں پوسٹس کر سکتی ہوں لیکن جب آپ میری اس پوسٹ کی ریپلائی کر دیں اس کے بعد انشاءاللہ :battingeyelashes:

خواہرِ گرامی، فونٹ میں تبدیلی کر کے یہاں پشتو رسم الخط آسانی سے دکھایا جا سکتا ہے۔ :) بس آپ پشتو اقباس کو انتخاب کر کے اُس کا فونٹ times new roman کر دیجئے۔ مثلا:
ژوندى ځان په ځمکه ښخ کړه لکه تخم
که لويي غواړې د خاورو په مقام شه

نہیں نہیں، بس ترجمہ رواں نثر میں ہو جس سے مفہوم واضح ہو جائے۔ میں نے ایک ترکی غزل اردو ترجمے کے ساتھ اِدھر پوسٹ کی تھی، آپ اسے دیکھئے، اگر یہ طریقہ پسند آئے تو یوں ترجمہ کر سکتی ہیں۔ :)

آپ کا بہت شکریہ، دل سے دعائیں نکل رہی ہیں آپ کے لیے۔ :) :)
 

انجانا

محفلین
السلام علیکم
میری آج کل پشتو کے گراں بہا کلاسیکی ادب میں دلچسپی جاگی ہوئی ہے، دراصل میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ فارسی کی روایات پشتو شاعری پر کس طرح اثر انداز ہوئی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، اجداد کی زبان ہونے کے باوجود، میری پشتو سے ایک فیصد بھی واقفیت نہیں ہے۔ اگر کوئی نیک دل پشتون بھائی بابائے پشتو خوشحال خان خٹک (رح) اور پشتو کے دیگر کلاسیکی شعرائے کرام کی کچھ نمائندہ غزلیں اور نعتیں وغیرہ اردو ترجمے کے ساتھ یہاں محفل پر پوسٹ کرے تو نہایت شکر گزار ہوں گا۔
حسان خان آپ کی فرمائش پر خوشحال خان خٹک کی ایک شوخ غزل کا اردو نثری ترجمہ پیش خدمت ہے۔ امید ہے پسند آئے گا۔ آپ کی سہولت کے لئے پشتو متن کو اردو رسم الخط میں لکھا ہے



سو پہ باغ کے لا یؤ گل دَ نو بہار شتہ
دَ بلبلو د طوطیانو پرے چغار شتہ
جب تک باغ میں نو بہار کا ایک بھی پھول باقی ہے​
عنادل اور طوطوں کے چہچہے رہیں گے۔​
نن دے غم لہ ما نہ زان ساتی کہ خہ کا
چی پہ سیل د بہار را سرہ یار شتہ
آج غم مجھ سے دور ہی رہے تو اچھا ہے​
کہ سیرِ بہار کے وقت یار میرے پاس موجود ہے​
چی لہ یارہ سرہ مست د گلو گشت کڑم
محتسب کہ را نیزیدی شی پائے زار شتہ
اس عالم میں کہ یار کے سنگ محوِ گل گشت ہوں​
محتسب کے مار بھگانے کے لئے میرے پاس جوتا(دستیاب) ہے​
شیخ ملا دے زما غم پہ بہار نہ خوری
چی رباب اؤ سریندے غوندے غم خوار شتہ
شیخ و ملا کو وقتِ بہار میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں​
کیوں کہ رباب اور سارنگی جیسے غم خوار موجود ہیں​
نہ بہ زہ د میو جام کیگدم د لاسہ
نہ زما د پارسائیہ سرہ کار شتہ
نہ میں مے کا جام ہاتھ سے رکھوں گا​
اور نہ میرا پارسائی سے کچھ سرو کار ہے​
ما وَ خپلے پارسائی تہ رخصت ور کڑ
پہ دا نورو پارسایانو مے اوس ڈار شتہ
میں اپنی پارسائی کو رخصت دے چکا ہوں​
البتہ دیگر پرہیزگاروں (کے بہکنے کا میرے دل میں) اندیشہ ہے۔​
ساقی بیا زما د شہر خبر واخلہ
لا یؤ سو پہ کوسو پاتے پرہیز گار شتہ
ساقی میرے شہر کی پھر کچھ خبر لے​
کہ ابھی گلی کوچوں میں چند پرہیز گار باقی ہیں۔​
گل مل، ساز و سرود، ساقی سرے سترگے
لا بہ ڈیر عالَم رسوا کا چی دا چار شتہ
گل و نرگس، ساز و سرود، ساقی کی سرخ آنکھیں​
اگر یہی عالَم رہا تو بہت سے لوگ رسوا ہو جائیں گے​
چی پہ ہرہ پیالہ عقل زما زدوئی
د ساقی منت را باندے پہ بار بار شتہ
جب ہر جام کے ساتھ میرے عقل کو سلب کرتا ہے​
اسی خاطر میں ساقی کا ہمیشہ زیرِ احسان ر ہوں گا۔​
د گلونو پہ موسم کے خوار ہغہ دے
چی ئے نہ پیالہ پہ لاس نہ ئے نگار شتہ
فصلِ گل میں خوار و زار وہی شخص ہے​
جس کے ہاتھ میں نہ جام ہے نہ اس کا کوئی نگار ہے​
نن ہغہ شاہِ جہان د زمانے دے
چی دستہ ئے د گلونو پہ دستار شتہ
آج وہی ’شاہجہانِ عصر‘ ہے​
جس کے دستار پر گلدستہ ٹنگا ہے​
نن خوشحالہ! د زڑہ داد د عشرت ور کڑہ
دا سو ورزے غنیمت دی سو گلزار شتہ
آج اے خوشحالؔ دل سے داد عیش کر​
یہ چند دن غنیمت ہیں اگر گلزار پر بہار ہے​
 

مغزل

محفلین
دَ کعبہ پہ بزرگے کہ میں شک نشتہ
ولے خر بہ حجی نشی پہ طواف
رحمان بابا

ترجمہ: کعبہ کی برکتوں عظمتوں میں مجھے شک نہیں ہے لیکن گدھا طواف کرنے سے حاجی نہیں بن جاتا۔
 

مغزل

محفلین
آدمیت سہ بہ دولت نہ دے رحمانہ
بت کہ جوڑ شی د سرو زرو نہ انسان شہ
رحمان بابا
ترجمہ:
رحمان انسانیت دولت سے حاصل نہیں ہوتی بُت اگرسونے کا بھی ہو تب بھی وہ انسان نہیں بن سکتا
 

حسان خان

لائبریرین
دَ کعبہ پہ بزرگے کہ میں شک نشتہ
ولے خر بہ حجی نشی پہ طواف
رحمان بابا

ترجمہ: کعبہ کی برکتوں عظمتوں میں مجھے شک نہیں ہے لیکن گدھا طواف کرنے سے حاجی نہیں بن جاتا۔

شیخ سعدی رح گلستان میں فرماتے ہیں:

خرِ عیسیٰ گرش بہ مکہ برند
چوں بیاید ہنوز خر باشد

ترجمہ: اگر حضرت عیسیٰ کے گدھے کو بھی مکے لے جائیں تو وہ واپسی پر گدھے کا گدھا ہی رہے گا۔
 

مغزل

محفلین
کرد ګلونہ کړہ چی سیمہ دی گلزار شی
اغزی مہ کړہ پہ خپو کے بہ دے خار شی
رحمان بابا
ترجمہ:
پھولوں اگاؤ تاکہ راستے باغ بن جائیں کانٹے مت اگاؤ کہ پیروںمیں چبھ جائیں ۔
 

سید ذیشان

محفلین
پچھلی صدی میں پشتو کے ایک شاعر گزرے ہیں جن کا نام ہے غنی خان۔ یہ اے این پی والے باچا خان کے فرزند تھے۔ ان کا کلام اکثر پشتو گلوکار گاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک گانا انگریزی سب ٹائٹل کیساتھ موجود ہے جس کا نام ہے "ریدی گل" صحرا کا پھول۔ اور اس کو "یاسر اینڈ جواد" بینڈ نے گیا ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
السلام علیکم
میری آج کل پشتو کے گراں بہا کلاسیکی ادب میں دلچسپی جاگی ہوئی ہے، دراصل میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ فارسی کی روایات پشتو شاعری پر کس طرح اثر انداز ہوئی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، اجداد کی زبان ہونے کے باوجود، میری پشتو سے ایک فیصد بھی واقفیت نہیں ہے۔ اگر کوئی نیک دل پشتون بھائی بابائے پشتو خوشحال خان خٹک (رح) اور پشتو کے دیگر کلاسیکی شعرائے کرام کی کچھ نمائندہ غزلیں اور نعتیں وغیرہ اردو ترجمے کے ساتھ یہاں محفل پر پوسٹ کرے تو نہایت شکر گزار ہوں گا۔

حسان بھائی بہت اچھا دھاگا شروع کیا ہے۔ پشتو کا کلام عام طور پر نہایت دلچسپ اور معنی خیز ہوتا ہے۔ اور صرف اور صرف پیار محبت تک محدود نہیں ہوتا۔ میں نے پشتو شعرا کو زیادہ نہیں پڑھا۔ اگر نیٹ پر کچھ مل جائے (اور اگر وقت بھی میسر ہو :)) تو ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا۔
 

حسان خان

لائبریرین
پچھلی صدی میں پشتو کے ایک شاعر گزرے ہیں جن کا نام ہے غنی خان۔ یہ اے این پی والے باچا خان کے فرزند تھے۔ ان کا کلام اکثر پشتو گلوکار گاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک گانا انگریزی سب ٹائٹل کیساتھ موجود ہے جس کا نام ہے "ریدی گل" صحرا کا پھول۔ اور اس کو "یاسر اینڈ جواد" بینڈ نے گیا ہے۔

یوٹیوب کی سرکاری بندش یہاں پر بھی آڑے آ گئی۔ :)
 

حسان خان

لائبریرین
حسان بھائی بہت اچھا دھاگا شروع کیا ہے۔ پشتو کا کلام عام طور پر نہایت دلچسپ اور معنی خیز ہوتا ہے۔ اور صرف اور صرف پیار محبت تک محدود نہیں ہوتا۔ میں نے پشتو شعرا کو زیادہ نہیں پڑھا۔ اگر نیٹ پر کچھ مل جائے (اور اگر وقت بھی میسر ہو :)) تو ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا۔

یہاں کچھ ایسا تاثر ہے کہ جیسے پشتو میں صرف رزمیہ ادب یا علاقائی پیار محبت کے قصے ہی موجود ہیں۔ میرا بھی کچھ ایسا ہی خیال تھا۔ چند روز قبل اس ویب سائٹ پر خوشحال خان خٹک کا دیوان دیکھا تو پتا چلا کہ پشتو میں بھی دیگر بڑی مشرقی اسلامی زبانوں کی طرح دیوان کی روایت اور غزلیات، رباعیات، قصائد جیسی جملہ مشہور اصناف موجود ہیں۔ کچھ غزلیں اور قصائد دیکھے تو اُن میں فارسی کا اثر بھی صاف نظر آ رہا تھا۔ بس اُس وقت سے پشتو کے کلاسیکی ادب میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ :)
 

سید ذیشان

محفلین
یہاں کچھ ایسا تاثر ہے کہ جیسے پشتو میں صرف رزمیہ ادب یا علاقائی پیار محبت کے قصے ہی موجود ہیں۔ میرا بھی کچھ ایسا ہی خیال تھا۔ چند روز قبل اس ویب سائٹ پر خوشحال خان خٹک کا دیوان دیکھا تو پتا چلا کہ پشتو میں بھی دیگر بڑی مشرقی اسلامی زبانوں کی طرح دیوان کی روایت اور غزلیات، رباعیات، قصائد جیسی جملہ مشہور اصناف موجود ہیں۔ کچھ غزلیں اور قصائد دیکھے تو اُن میں فارسی کا اثر بھی صاف نظر آ رہا تھا۔ بس اُس وقت سے پشتو کے کلاسیکی ادب میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ :)

صرف یہی نہیں پشتو میں نوحوں اور مرثیوں کا بھی رواج رہا ہے۔ اور صوفیانہ کلام کی تو بہتات ہے۔
 

مغزل

محفلین
ته چې ماته وايې چې په څه کوې ژړا
نه درمعلومېږي دغه خپل جور و جفا
ته جور و جفا کړې زه ژړا کوم دلبره
ستا که دغه نه وى دا به هم نه وى زما
رحمان بابا
مقدور بھر ترجمہ: میرے محبوب تم نے میرے آنسوؤں کے بارے میں تو پوچھا ہے مگر تم نے اس کی حقیقتوں کو تسلیم نہیں کیا کہ میرے دل جس
میں تمھارے لیے حرفِ انکار ہے ہی نہیں اس نے اس محبت میں تگ و تاز کی کیا کیا وحشتیں سہی ہیں بس اب میرے آنسو بہنے ہی والے ہیں۔۔
 
Top